مٹی کا قرض

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکمل کا تعلق پنجاب کے ایک دور دراز گاؤں سے تھا۔ اس کے گاؤں میں شہر جیسی سہولیات تو نہیں تھیں لیکن ہرے بھرے کھیت، دن چڑھتے ہی پرندوں کے چہچہانے کی آوازوں کے ساتھ ہی لوگوں کا صبح سویرے اٹھنا ایک سماں باندھ دیتا تھا۔ لوگ ذکرالٰہی سے فارغ ہونے کے بعد اپنے کاموں میں مگن ہو جاتے۔ گھروں کے چولہوں سے دھواں اٹھنے کے ساتھ ہی چائے اور پراٹھوں کی خوشبو ہر طرف پھیل جاتی۔ ناشتے میں پراٹھے کے ساتھ بے بے کے ہاتھ کے بنے تازہ مکھن کی تو بات ہی الگ تھی۔

پھر کسان اپنے ہل لیے گلیوں سے گزرتے ہوئے اپنے بیلوں کو ہانکتے تو گویا یہ اس بات کا اعلان ہوتا کہ اب روزی کمانے کے لیے جانے کا وقت ہو گیا ہے۔ اس زمانے میں گاؤں سے ایک بس شہر کے لیے نکلا کرتی تھی۔ سب ملازمت پیشہ لوگ اور شہر میں پڑھنے والے طالب علم بس کا پہلا ہارن سنتے ہی جلدی جلدی بس کی طرف بڑھتے۔ مزے کی بات یہ کہ بس کبھی کسی کو پیچھے چھوڑ کر نہیں جاتی تھی کیونکہ سب ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ جب کوئی سواری نہ پہنچتی تو مزید ہارن بجوائے جاتے۔ جب تک کہ پیچھے رہ جانے والا فرد یا اس سے متعلق خبر نہ پہنچ جاتی۔ یہ دستور زمانوں سے چلا آ رہا تھا۔

اس دن بھی ہارن کی آواز جب تیسری مرتبہ آئی تو اکمل نے سینے سے لگی، روتی ہوئی ماں کو نم آنکھوں سے الوداع کہا اور بیگ اٹھا کر بس کی طرف دوڑ لگا دی۔ بے بے دروازے میں کھڑی دور تک اسے جاتا دیکھتی رہی اور دوپٹے سے آنسو پونچھتی اس وقت واپس پلٹی جب بیٹا اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا اور پھر گاؤں کی نکر سے بس کے چلنے کی چنگھاڑتی ہوئی آواز کانوں میں پڑی۔

آج اس کا بیٹا اپنی قسمت آزمانے گاؤں چھوڑ کر شہر چلا گیا تھا۔ اس گاؤں میں ان کا خاندان کئی پشتوں سے آباد تھا۔ یہی وجہ تھی کہ گاؤں کے تمام لوگ ایک خاندان کی طرح رہتے تھے۔ دکھ سکھ میں سب اکٹھے ہوتے۔ مشکل میں کسی کو بھی اکیلا نہ چھوڑا جاتا تھا۔ جیسے کہ ماسی بھاگاں نے اماں کو دوپٹے سے آنسو صاف کرتے دور سے ہی دیکھ لیا تو اپنا کام چھوڑ کر اماں کے پاس چلی آئی اور بولی ”کیا بات ہے رحمتے؟ روتی کیوں ہے؟“

بے بے بولی ”آج میرا لاڈلا پتر مجھے چھوڑ کے شہر چلا گیا ہے۔ پتہ نہیں واپس آئے گا، یا رحیمے کمہار کے بیٹے کی طرح پلٹ کر کبھی نہیں دیکھے گا۔“ یہ سنتے ہی ماسی بھاگاں نے بے بے کو ہمت دی کہ ”ایسا نہیں کہو۔ تم ماں ہو بس اپنے پتر کی کامیابی کے لیے دعا کرو۔ ماں کی دعا تو عرش تک جاتی ہے۔“

اکمل نے شہر میں نوکری تو پہلے ہی تلاش کر لی تھی ، اس لیے آتے ہی اس نے نوکری پر حاضری دی۔ پھر اس کے ایک ساتھی نے اپنے گھر کا ایک کمرہ اسے کرائے پر دے دیا اور دو وقت کھانے کے ساتھ مناسب پیسوں میں اس کی رہائش اور کھانے کا مسئلہ حل ہو گیا۔ اب وہ پوری توجہ اور محنت سے کام کرنے لگا۔ اس کے مینیجر نے جب اس کی محنت اور قابلیت دیکھی تو اسے سپروائزر کے درجے پر ترقی دے دی۔ اکمل اپنی ترقی پر بہت خوش ہوا اور ماں کو یہ خبر دینے کے لیے خط لکھا۔ گاؤں میں اس کی ماں ہی تو تھی ورنہ باپ تو کئی سال پہلے اس دنیا سے چلا گیا تھا۔

کچھ عرصہ گزرا تو اسے اپنے کام میں مہارت ہو گئی۔ ایک دن کمپنی کے مینیجر کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تو اس کی غیر موجودگی میں ساری ذمہ داری اسے دے دی گئی۔ وہ مینیجر کی خیر خبر بھی رکھتا اور دیانت داری سے کام بھی کرتا۔ اس دوران کمپنی کا مالک اسے جو بھی کام سونپتا یہ فوراً کر دیتا۔ دن گزرتے گئے اور ایک دن اسے خبر ملی کہ مینیجر کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ بہت دکھی ہوا اور جنازے میں شرکت کر کے اپنے کمرے میں چلا گیا۔

آج اسے بے بے بہت یاد آ رہی تھی۔ اسی وقت اسے خبر ملی کہ کمپنی کے مالک نے اسے دفتر بلایا ہے۔ وہ جلدی جلدی دفتر پہنچا تو اسے خبر سنائی گئی کہ اسے مینیجر کے عہدے پر ترقی مل گئی ہے کیونکہ مالک نے پہلے ہی یہ فیصلہ کر رکھا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ دکھی ہو یا خوش لہٰذا اس نے ایک بار پھر بے بے کو خط میں سب لکھ ڈالا۔

وقت کا پہیہ ایسا گھوما کہ ایک امیر گھر کی لڑکی سے اس کی شادی ہو گئی اور وہ دو بچوں کا باپ بن گیا۔ اب اس کا شمار شہر کے مشہور اور امیر لوگوں میں ہوتا تھا۔ اگرچہ بالوں میں اب چاندی اتر آئی تھی لیکن وہ اب بھی بہت خوبصورت اور باوقار دکھتا تھا۔ اس دوران ایک دو بار ہی اس کا گاؤں کا چکر لگا جب اسے پتہ چلا کہ بے بے بہت بیمار ہو گئی ہے۔ اب جبکہ بے بے کو منا کر وہ اپنے پاس ہی لے آیا تھا تو گاؤں جانے کی ضرورت نہیں تھی۔

شہر میں سب گھر والوں کی اپنی مصروفیت تھی۔ رات کے کھانے پر ہی ایک دوسرے کی شکل نظر آتی تھی۔ اگر کوئی تنہائی کا شکار تھا تو وہ صرف بے بے تھی۔ بیٹا اب اپنا کاروبار کرتا تھا ، اس لیے وہاں چلا جاتا۔ بچے یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ بہو کا اپنا سوشل سرکل تھا۔ آئے دن کسی نہ کسی پارٹی یا نمائش کی تیاری ہوتی۔ بیٹا البتہ دن میں ایک مرتبہ ماں کو سلام کرنے کے لیے ضرور کمرے میں آتا۔ اب ماں بہت ضعیف ہو گئی تھیں۔ ایک روز اسے گھر سے ملازمہ کا فون آیا کہ اماں جی کی حالت اچانک خراب ہو گئی ہے۔

فوراً ہسپتال لے جانے کی ضرورت ہے۔ اکمل کے تو پیروں تلے سے زمین سرک گئی۔ اس نے فوراً ایمبیولینس بھجوائی اور خود بھی ہسپتال پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ اماں کے ساتھ صرف ملازمہ ہے۔ اس نے پوچھا کہ کیا گھر میں کوئی نہیں تھا تو وہ بولی کہ بی بی جی کو کسی پارٹی میں پہنچنے کی جلدی تھی ورنہ آپ سے پہلے تو میں ان کے پاس ہی گئی تھی۔

اب وہ آئی سی یو کے باہر سر جھکائے آنسو بہاتا اپنی بے بے کی زندگی کے لیے دعائیں مانگ رہا تھا۔ اس کے پاس کوئی کندھا نہیں تھا جس پر سر رکھ کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکے۔ وہ بھیڑ میں خود کو بالکل اکیلا محسوس کر رہا تھا۔ جب ڈاکٹر نے آ کر بتایا کہ اب بے بے کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ انھیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا لیکن وقت پر ہسپتال پہنچنے کی وجہ سے ان کی حالت سنبھل گئی ہے۔ وہ فوراً بے بے کے پاس پہنچا اور ان کے زرد چہرے اور کمزور وجود کو دیکھ کر افسردگی کے ساتھ ان کا ہاتھ تھام کر کرسی پر بیٹھ گیا۔

کب اس کی آنکھ لگ گئی، اسے پتہ ہی نہیں چلا۔ وہ ماں کا ہاتھ تھامے ان کے بستر پر سر رکھے سو رہا تھا۔ جب ماں کے ہاتھ میں جنبش ہوئی اور وہ ہاتھ بیٹے کے سر پر آ ٹھہرا۔ اکمل نے فوراً جاگ کر ماں کی طرف دیکھا تو وہ بولیں ”پتر سدا سکھی رہ، مجھے ایک بار گاؤں لے چل۔ جانے کتنی زندگی لکھی ہے۔“ اکمل نے فوراً ہامی بھر لی۔

جب اس کی گاڑی گاؤں میں داخل ہوئی تو اسے وہاں کافی تبدیلی نظر آئی۔ اب مکان پکے تھے اور آبادی بھی بہت بڑھ گئی تھی۔ سڑک کے ساتھ بازار بھی بن چکا تھا۔ بہت سے نئے چہرے نظر آ رہے تھے۔ جب وہ ماں بیٹا اپنے گھر میں داخل ہوئے تو اردگرد خبر پھیل گئی اور لوگ ملنے آنے لگے۔ کوئی پانی لیے آ رہا ہے تو کوئی کھانے کا سامان۔ ایک طرف خواتین بے بے سے گلے مل کر خوشی سے نہال ہو رہی تھیں تو دوسری طرف اس کے یار دوست ملنے آ رہے تھے۔

پھر سب خواتین نے مل کر گھر کی صفائی کی۔ بے بے میں تو جیسے جان آ گئی تھی۔ وہ ادھر سے ادھر پھرتی ہدایات دیتیں اور چیزوں کی ترتیب درست کرواتیں۔ اکمل اب سمجھ چکا تھا کہ بے بے کی بیماری کی وجہ ان کی تنہائی اور گھر والوں کی عدم توجہی تھی۔ اب وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ اپنی ماں کو ہر خوشی دے گا جس سے انھیں دلی سکون ملے۔ جب انہیں گاؤں گئے چند دن ہو گئے تو اس کی بیوی اور بچے بھی آ گئے۔ بے بے انہیں دیکھ کر کھل اٹھیں۔

ان کی خوب خاطر تواضع کی۔ گاؤں کے لوگ انھیں ملنے آئے۔ انہیں کھیتوں اور ٹیوب ویل کی سیر کروائی گئی۔ وہ یہ سب دیکھ کر بہت خوش اور حیران ہوئے۔ ان سب کو پہلی بار مل کر وقت گزارنے کا موقع ملا۔ تبھی انھوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ گاؤں میں ایک ہسپتال اور دست کاری سکول بنوائیں گے تاکہ لوگوں کو علاج کی سہولت ملے اور گھر کے قریب ہی روزگار کے مواقع ملیں۔

آخر کار اکمل یہ بات سمجھ چکا تھا کہ ترقی اور کامیابی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اصل سے رابطہ توڑ لیا جائے۔ جس سرزمین پر آپ پلے بڑھے ہیں اس کا آپ پر قرض ہوتا ہے جو آپ کو اپنی خدمات کی صورت میں لوٹانا ہوتا ہے تاکہ بعد کی نسلیں سنور جائیں۔ جن مشکلات سے آپ کو گزرنا پڑا وہ مشکلیں دوسروں کے لیے آسان کی دی جائیں تو مادی ترقی کے ساتھ ساتھ دلی سکون بھی نصیب ہوتا ہے۔

Latest posts by حنا ہمدانی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حنا ہمدانی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *