کرونا کے سائے میں آئی پی ایل کا جمعے سے آغاز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیائے کرکٹ کی سب سے بڑی لیگ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے 14 ویں ایڈیشن کا جمعے سے آغاز ہونے جا رہا ہے۔ تاہم ایونٹ کے آغاز سے قبل یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ بھارت میں عالمی وبا کی شدت کے دوران کیا ایونٹ مکمل ہو سکے گا؟

دفاعی چیمپئن ممبئی انڈینز لیگ کے افتتاحی میچ میں رائل چیلنجرز بنگلور کے مدِ مقابل ہو گی۔ چنئی میں یہ میچ ایسے موقع پر ہو گا جب بھارت میں کرونا وائرس کے نئے ریکارڈ بنتے جا رہے ہیں۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بھارت میں تین مرتبہ ایک لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ آئی پی ایل میں شریک مقامی و غیر ملکی کھلاڑیوں اور عملے کے بعض ارکان وائرس کے کرونا ٹیسٹ بھی مثبت آئے ہیں۔

​رائل چینلجرز بنگلور کے ڈینئل سیمز اور ڈیودت پڈیکل، دہلی کیپٹلز کے اسپنر ایگزر پٹیل، کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے نتیش رانا کرونا کا شکار ہونے والوں میں شامل ہیں۔ دفاعی چیمپئن ممبئی انڈینز کے کوچ کرن مور میں کرونا کی علامات پائی گئی تھیں جب کہ ممبئی کے واکھنڈے اسٹیڈیم کے عملے کے 10 ارکان کے ٹیسٹ بھی مثبت آ چکے ہیں۔

ایونٹ میں شریک تمام آٹھ ٹیموں کو سخت ‘بائیو ببل’ ماحول میں رکھا گیا ہے جہاں کھلاڑیوں کو ایک ہی مقام پر رہنا ہو گا اور کسی اجنبی سے رابطہ کرنے پر پابندی ہے۔ بھارتی بورڈ نے بائیو ببل پر عمل درآمد کے لیے ہر ٹیم کے لیے مینیجر بھی مقرر کر رکھے ہیں۔

عالمی وبا کی موجودگی میں ایونٹ کے ابتدائی میچز تماشائیوں کے بغیر ہی ہوں گے۔ تاہم لیگ شروع ہونے سے قبل کھلاڑیوں کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ایونٹ کے مستقبل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں لیکن انتظامیہ ایونٹ کے کامیاب آغاز اور اختتام کے لیے پرامید ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس کرونا وائرس کے باعث بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئی پی ایل کو متحدہ عرب امارات منتقل کر دیا تھا۔ تاہم اس بار ایونٹ کے تمام میچز بھارت میں ہی شیڈول ہیں اور ملک میں وبا کی لہر میں بھی شدت دیکھی جا رہی ہے۔

مارچ میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ میں شریک کھلاڑیوں اور عملے میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد ایونٹ کو غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیا تھا۔

بی سی سی آئی کو بھی ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے کرونا وائرس کا چیلنج درپیش ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ ایونٹ کے دوران سخت پروٹوکولز کا خیال رکھا جائے گا۔

بی سی سی آئی کے مطابق ایونٹ کے ابتدائی 56 لیگ میچز تماشائیوں کے بغیر کھیلے جائیں گے جب کہ دوسرے مرحلے میں کھیلے جانے والے 14 میچز میں تماشائیوں کو گراؤنڈ میں آنے کی اجازت دینے یا نہ دینے سے متعلق فیصلہ صورتِ حال کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

ایونٹ میں شامل تمام آٹھ ٹیموں کو لیگ میچز میں صرف تین بار ہی ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کیا جائے گا تاکہ کرونا کے خطرے کو کم سے کم کیا جائے۔

لیگ میچز میں ہر ٹیم چار مقامات پر میچز کھیلے گی۔ چنئی، ممبئی، کولکتہ اور بنگلورو میں 10، 10 جب کہ احمد آباد اور دہلی میں آٹھ میچز شیڈول ہیں۔ 51 روز تک جاری رہنے والے اس ایونٹ کا فائنل 30 مئی کو ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1938 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *