تبدیلی کیا ہے اور یہ کیسے رونما ہوتی ہے؟
اس تبدیلی کا تعلق ہرگز تحریک انصاف سے نہیں تو اس لیے آپ آگے بھی پڑھ سکتے ہیں۔ تبدیلی کی بحث پی ٹی آئی کی حکومت سے شروع نہیں ہوئی۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جو ہر دور میں زیر بحث آیا اور ہر کسی نے اس کو اپنے طریقے سے بیان کیا۔ کیوں کہ ہر زمانہ اپنے آپ کو گزرے ہوئے وقت سے جدید سمجھتا ہے۔ اس لیے پرانے زمانے کی روایات کو خیرباد کہنے کو بھی تبدیلی کا نام دیا جاتا ہے۔ فرد یا مجموعی طور پر ایک قوم کی ترقی میں رکاوٹ بننے والی ہر چیز کو ہٹا دینا تبدیلی کہلاتا ہے۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ مستحکم اور ترقی یافتہ قوم بننے کے لئے انقلاب اہم ہے ، لیکن ضروری سوال یہ ہے کہ تبدیلی کب کہاں اور کیسے؟
اگر ہم تاریخ کے اوراق کی چھان بین کریں تو یہ بات ہمیں واضح طور پر نظر آتی ہے کہ آزادی کا پھل بہت سے سپوتوں کے لہو کے خراج کے بعد حاصل ہوا۔ نہ جانے کتنی عصمتیں لٹیں تو پھر کہیں چمن میں دیدہ ور پیدا ہوا۔ لیکن کیا آزادی کی اس جہد مسلسل اور ان گنت قربانیوں کا مقصد صرف ایک خطۂ زمین کا حصول تھا؟ اس کا جواب کوئی بھی معمولی عقل کا حامل شخص بھی آپ کو یوں دے گا کہ نہیں اس جدوجہد کا مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا پرامن معاشرہ قائم کیا جائے جہاں لوگ اپنے عقائد کے مطابق خوشحال زندگی بسر کر سکیں ، حکومت ایک دیرپا نظام رائج کرے اور عوام کو انصاف فراہم کرے۔
سرزمین پاکستان کا باشندہ ہونے کی حیثیت سے یہ میرا فرض ہے کہ میں اپنے معاشرے کی سربلندی کے لئے ہر ممکن کوشش کروں کیونکہ اس سرزمین نے بھی آزادی کی وہ خون ریز جنگ دیکھی ہے جو کتنے ہی گھروں کے روشن چراغوں کو تاریک کر گئی۔ لیکن شاید ہم بھی ایک خطۂ زمین پر قناعت کر بیٹھے بلکہ شاید اس کی بھی حفاظت نہ کر سکے اور سقوط ڈھاکہ جیسے سنگین مناظر رونما ہوئے۔ کشمیر جسے ہم اپنی شہ رگ سمجھتے ہیں آج اس قدر خون رنگ ہے کہ بیان کرتے ہوئے زبان لڑکھڑاتی ہے اور لکھتے ہوئے ہاتھ کانپتے ہیں۔ ہر حکومت نے اپنے تئیں تبدیلی یا انقلاب کا نعرہ تو لگایا لیکن ایسا کچھ کم سے کم آج کے دن تک تو نہ ہو سکا۔ بلکہ ہم دن بہ دن اس دلدل میں اور نیچے دھنستے چلے جا رہے ہیں۔
میرے نزدیک معاشرے میں انقلاب کی امید حکومت سے لگانا ایک بہت ہی اوسط درجے کی سوچ ہے۔ میں نے کوشش کی لوگوں کی سوچ جاننے کی کہ وہ تبدیلی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ زیادہ تر کی یہی رائے تھی کہ تبدیلی کا آغاز تو خود سے ہوتا ہے۔ لوگوں کا یہ ردعمل دیکھ کر خوشی ہوئی کہ کم سے کم ہم نے تبدیلی کے اصل مطلب کو سمجھ لیا ہے۔ اور ”زمانہ خراب ہے“ کا پرچار کرنا چھوڑ دیا ہے۔ لیکن کیا صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہو گا یا اس کا کہیں سے آغاز بھی ہو گا؟ کہیں قوم اگلا قدم لینے میں پھر سے 73 سال تو نہیں لگا دے گی؟
دراصل ہمارے شعور میں یہ چیز راسخ کر دی گئی کہ ہمارے مسائل کا حل صرف اور صرف معیشت ہے اور جب تک اس معیشت کو مضبوط نہ بنایا گیا کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو گا۔ ہم یوں ہی دنیا کی نظروں میں ذلیل ہوتے رہیں گے۔ اس سوچ کا اثر رفتہ رفتہ ہمارے معمولات میں بھی دکھائی دینے لگا۔ کیونکہ جب حکومتوں اور سرکاری عہدیداران نے یہ تأثر دیا کہ اب معیشت کا سدباب ہی اس کشتی کو ڈوبنے سے بچا سکتا ہے تو عوام نے بھی یہ سمجھ لیا کہ اب پیسہ ہی مسئلے کا حل ہے۔ اور افسوس ہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھولتے چلے گئے کہ اخلاقی تربیت کسی قوم کی سربلندی کا پہلا اصول ہے۔
نتیجے میں کرپشن اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے لگی۔ آج پاکستان دنیا میں ایک سو بیسویں نمبر پر ہے جہاں کرپشن اپنے عروج پر ہے۔ آئیے شکر کریں اور اس کامیابی پر فخر کریں کہ وطن عزیز دنیا کا دوسرا آلودہ ترین ملک ہے۔ لیکن چھوڑیں آئیں اس بات پر آواز اٹھائیں کہ پاکستان میں ہم جنس پرستی کی قانونی اجازت ہو۔ ہم ارطغرل کے افسانوی کردار کو سراہتے رہیں اور اس بات پر فخر کرتے رہیں کہ ہماری تاریخ شاندار فتوحات سے لبریز ہے۔ لیکن جو چیز اس ڈرامے سے سیکھنی تھی وہ نہیں کر پائے اور ہماری حالت کچھ یوں ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا میں ایک سو چھٹے نمبر پر ہے جلد انصاف مہیا کرنے والے ممالک میں اور میں پہلے نمبر کا نہیں بتاؤں گا کیونکہ یہود ونصاریٰ کبھی ہمارے دوست نہیں ہو سکتے بس۔ کبھی یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ اس آیت کریمہ کا اصل مقصد کیا تھا۔ بلکہ ہم نے تو اس کتاب کو کسی طاق میں رکھ دیا ہے جو ہمارے لیے مشعل راہ بننی تھی۔
کچھ اور تعریف کریں پاکستان کی۔ ارض وطن ایک سو آٹھویں نمبر پر ہے ان ممالک میں جہاں جمہوریت مستحکم ہے یعنی گویا دنیا ہمیں ایک جمہوری ملک مانتی ہی نہیں کیونکہ ہم ایک ہائیبرڈ سسٹم کو کھینچتے چلے جا رہے ہیں۔ تعلیم پر نظر ڈالیں تو پانچ سے سولہ سال کے درمیان جو بچے ہیں ان میں سے چالیس فیصد ایسے ہیں جو کبھی سکول ہی نہیں گئے مطلب ہماری اپنی قوم کے بچے جو ہمارا مستقبل ہیں ، وہ بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ تو پھر معذرت کے ساتھ یہاں ممتاز قادری جیسے غازی ہی پیدا ہوں گے اور ہم اسی کے مستحق ہیں۔
سوشل سائنس کی ریسرچ جو لوگوں کے عقل و شعور کو بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں پاکستان پہلے پچاس ممالک میں کہیں بھی نہیں ہے اور دشمن کا بچہ پھر سے گیارہویں نمبر پر ہے۔ اب یا تو وہ عقل اور شعور میں ہم سے بہتر ہے یا پھر ہم تو سائنس کو مانتے ہی نہیں کیونکہ یہ یہود ونصاریٰ کی سازش ہے۔
یقین مانیے ایسے میں کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی چھتوں پر چڑھ کر اذان دینے سے کوئی معجزہ رونما ہو جائے گا یہ قوم اس کے قابل بھی نہیں۔ اب بڑی سلطنت بنانے وقت نہیں ہے ،ہم یہ خواب نہ ہی دیکھیں تو اچھا ہے۔ اب جنگ گھوڑوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ یہ اکیسویں صدی ہے اور ڈویلپمنٹ کا دور ہے ۔اسی سے ہم دنیا کو اپنی بات منوانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
میں کبھی اپنے لوگوں سے مایوس نہیں ہوں گا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ جب یہ قافلہ عزم اور یقین کے ساتھ قدم اٹھائے گا تو رستہ خود بہ خود بنتا چلا جائے گا۔ بس ضرورت ہے کہ اس ہجوم کو اخلاقی تربیت کے ساتھ ایک قوم بنایا جائے اور جدید دور کے تقاضوں کو سمجھا جائے تاکہ دنیا ہمارے آگے سرنگوں ہونے پر مجبور ہو جائے۔


