محبت مانگنے والے کشکول تھامے فقیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ہم لفظ ”بھکاری“ سنتے ہیں تو ذہن میں جو تصویر بنتی ہے وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کچھ لوگوں کی ہوتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ غریب ہونا فقط اتنے پیسے کی کمی ہے کہ بندہ ڈھنگ کی زندگی گزار سکے۔ ایسی چھت حاصل کر سکے کہ کوئی اسے باہر نہ نکال سکے، ایسی خوراک کھا سکے جو تسلی بخش ہو اور ایسا لباس کہ ناداری کا تأثر نہ دیتا ہو۔ یہ سب ہوں تو بندہ بھلا کیسے غریب ہو سکتا ہے۔

شاید ہمارا یہ خیال بہت ہی محدود ہے۔ ہماری آنکھیں اتنا محدود دیکھتی ہیں کہ بظاہر پھٹے کپڑے اور ہاتھ میں کشکول والا ہی غریب دکھتا ہے اور وہی قابل ترس معلوم ہوتا ہے۔

ہم خود کو سماجی جاندار (سوشل اینیمل) بھی کہتے ہیں مگر اپنا سوشل ہونا کاروباری مفادات یا طاقت کے حصول تک ہی رکھتے ہیں۔ ہم اپنے سماجی روابط کے انتہائی اہم رخ کی طرف پلٹتے ہی نہیں۔ ہم احساس اور محبت کی بات ہی نہیں کرتے۔ ہم قدرت کے راز جاننے کے لئے انسانوں کی کاوش پر، خلاء تک میں کیے جانے والے تجربات پر بہت بات کرتے ہیں، کامیابی ماپنے کے پیمانے پر صرف مادی اشیاء اور پیسے کے حصول کو رکھ کر دوسروں کی گریڈنگ بھی خوب کرتے ہیں، دوسروں کے اندر کے حالات سے بے خبر رہتے ہوئے ان کے ظاہر پر بے تکے موازنے بھی اچھی طرح کر لیتے ہیں، اپنی ہنسی اور قہقہوں کو کسی میں عیبوں کی نشاندہی سے منسوب کر دیتے ہیں اور خود کو کنفرم جنتی سمجھتے ہوئے دوسروں میں جہنم کے سرٹیفکیٹ بھی اچھی طرح بانٹ لیتے ہیں لیکن جو ہم نہیں کرتے وہ ہے احساس اور محبت!

اکثر والدین کا خیال ہوتا ہے کہ بچے کو پیدائش کے بعد اچھی غذا، کپڑے اور مناسب سکول بھیجنے تک ہی ان کے تمام فرائض مکمل ہو جاتے ہیں اور جہاں تک بات ہے ”محبت“ کی تو وہ یہی تو ہے کہ ہم یہ سب فراہم کر رہے ہیں۔ تعلیم کا شعبہ کوئی مقدس شعبہ ہونے سے زیادہ کسی کاروبار کی طرح کا ہو گیا ہے کہ اداروں کو ہرگز غرض نہیں کہ ان کے بچے کیسے انسان بنیں، اگر غرض ہے کسی چیز سے تو وہ ہیں نمبرز! اگر دوستوں کی بات کر لی جائے تو دوستیاں بھی عارضی قسم کی اور انتہائی محدود۔

فیس بک پر میمز میں ٹیگ کر دینا، ساتھ میں پیزا کھانے جانا، پارٹی کرنا اور ادھر ادھر کی پھینکنا ایک ہیپی فرینڈشپ کی تعریف ہے۔ ایسے تمام بظاہر اور کھوکھلے تعلقات میں انسان گہرائی کو کھو رہا ہے۔ ہر تعلق وقت کی ضرورت کے مطابق بناتا اور پھر روندتا جاتا ہے۔ پھر وقت کے تقاضوں کے تحت خود پر نت نئے غلاف چڑھاتا جاتا ہے اور یوں وہ مصنوعی ہوتا جا رہا ہے۔ پھر اس مصنوعی وجود کو اگر کوئی ٹھوکر لگے اور تکلیف پہنچے تو اپنے غلاف آنکھوں کے آگے اندھیرا کرنے لگتے ہی ہیں اور محبت کی تلاش میں یہ کشکول لیے ادھر ادھر بھٹکتا ہے۔ نہیں جانتا کہ کہاں پر محبت کا چندا ملے کیونکہ اوروں نے بھی تو غلاف چڑھا رکھے ہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *