گمان اور معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس طرح سوچنا انسانی فطرت ہے ، اسی طرح کسی شے کے بارے میں گمان کرنا بھی انسانی فطرت میں شامل ہے۔ گمان خیال کرنے کی ایک کیفیت ہے۔ کسی بھی کام کے واقع ہونے پر یا کسی دوسرے شخص کی بات پر ذہن میں کچھ نہ کچھ خیال پیدا ہوتے ہیں ۔ یہ خیالات ہی گمان تصور کیے جاتے ہیں۔ گمان ایک ایسا اندازہ ہوتا ہے جس کو آپ کسی وجہ سے محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ احساس مستند نہیں ہوتا۔ اگر آپ اس کو اپنے مشاہدے کا نتیجہ بھی سمجھیں تو غلط نہ ہو گا۔

انسان کی ہر خصوصیت یا پائی جانے والی ہر فطرت بغیر مقصد کے وجود نہیں رکھتی۔ خدا نے ہر خصوصیت کے اندر بے بہا راز اور انتہائی اعلیٰ مقاصد رکھے ہیں۔ کسی بھی خصوصیت یا فطرت انسانی کو بیکار نہیں کہا جا سکتا۔ ممکن ہی نہیں کہ خدا نے ایک خصوصیت رکھی ہو اور انسان نے کبھی اس کے فائدے کو محسوس نہ کیا ہو، ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ محسوس کر کے اس کے احساس سے فائدہ یا لذت نہ لی ہو۔ اس کے اندر پائے جانے والے لطف سے محروم رہنا انسان کی اپنی کمزوری ہے۔

فطرت سے لطف لینا اور اس سے لذت محسوس کرنا بھی انسان کے اختیار میں ہے۔ انسان اس پر قادر بنا دیا گیا ہے کہ کسی شے میں لذت تلاش کرے یا نہ کرے۔ گمان وہ فطرت ہے کہ جس سے لذت لینا یا نہ لینا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ خدا نے یہ فطرت خلق کی اور انسان کے حوالے کر دی۔ اس کے استعمال کا شعور بھی خلق کر دیا اور وہ شعور کو اختیار کرنے یا نہ کرنے کا اختیار بھی انسان کو بخشا۔

گمان کے دو پہلو وجود رکھتے ہیں، نیک گمان اور بد گمان۔ دونوں پہلو ایک خاص تاثیر رکھتے ہیں۔ آپ نے جس پہلو کو اختیار کیا اس کے اثرات نمایاں ہونے شروع ہو گئے۔ یہ اثرات ممکن ہے دیر پا ہوں مگر یہ مختصر عرصے تک محدود بھی ہو سکتے ہیں۔

اگر ہم نیک گمانی کا ذکر کریں تو یہ ایک ایسا عمل ہے جو آپ کے ماحول کو خوشگوار بنا سکتا ہے۔ آپ اپنے لحاظ سے، کسی حوالے سے مثبت رائے یا مثبت خیال پیدا کرتے ہیں تو آپ اعتماد سے بھری زندگی گزاریں گے اور تعلقات میں ہمیشہ رونق رہے گی۔ مثلاً آپ کسی شخص کے ساتھ ایک سادہ تعلق نبھا رہے ہیں اور اس ساتھ کو اچھی دوستی میں بدلنا چاہتے ہیں تو اس کے رویے بارے میں آپ اگر مثبت رائے قائم کریں گے تو ہی آپ ایک قدم آگے کی طرف بڑھ پائیں گے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خوش گمانی آپ کے حوصلے کو بڑھانے کا کام بھی سرانجام دیتی ہے۔ آپ کسی میدان میں پیچھے رہ گئے تو اگر آپ یہ خیال کریں گے کہ جو فیصلہ ہوا وہ درست تھا اور آگے جیت کے لیے مزید محنت کرنا ہو گی تو یقیناً آپ کا اگلا مقابلہ پچھلے سے کئی گنا بہتر ہو گا۔ نیک گمانی آپ کے اندر حوصلہ پیدا کرنے کا کام کرتی ہے اور ڈھارس بندھاتی ہے کہ مزید کرو جو کہ کسی بھی انسان کے لیے اتنا ہی ضروری ہے کہ جتنی خوراک۔ نیک گمانی بہت ساری معنوی بیماریوں کا علاج بھی ہے جیسے حسد یا منافقت۔ نیک گمانی کے ذریعے آپ خود کو اتنا محفوظ کر سکتے ہیں کہ حسد اور منافقت جیسی بیماریاں آپ سے کوسوں دور رہتی ہیں۔

ہاں، مگر خیال رہے کہ حقیقت پر نیک گمانی یا خوش گمانی کو غالب بھی نہیں آنے دیا جا سکتا۔ حقیقت کو نیک گمانی کو ساتھ بدلنا احمقانہ طرز عمل ہو گا۔ حقیقت اور حقیقت پسندی کی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے۔ اگر آپ حقیقت پر نیک گمانی کے نام پر کسی شے کو غلبہ دے گئے تو آپ اپنے عمل سے زندگی میں بگاڑ بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ مثلاً ایک ایسا خونخوار دو پایہ درندہ کہ جسے انسان کو قتل کر دینے میں راحت محسوس ہوتی ہو اسے آپ یہ گمان کر کے اسلحہ تھما دیں کہ یہ لوگوں کی حفاظت کرے گا تو یہ نیک گمانی نہیں بلکہ حماقت کا اعلیٰ درجہ ہے۔ لہٰذا نیک گمانی اور حقیقت میں فرق رکھنا لازم ہے۔

دوسری طرف بد گمانی ہے جو مکمل طور پر نیک گمانی کی مخالف سمت میں بہنے والی گنگا ہے۔ یہ منفی سوچ کی عکاس ہوتی ہے۔ بدگمانی کے نتائج کو کبھی بھی تعمیری تصور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ انسان میں کاہلی، مایوسی، نا امیدی، حسد اور منافقت جیسی بیماریوں کا سببب بن جاتی ہے اور اس قدر گہرا اثر کرتی ہے کہ علاج ممکن نہیں رہتا۔ مثلاً آپ نے کسی دوست کے بارے میں بدگمانی کی تو اس دوستی میں خلوص کا باب ختم اور منافقت کا باب شروع۔ بد گمانی انسان کے اندر خلوص کو مار دیتی ہے اور بلاوجہ کی رنجشیں پیدا کر دیتی ہے۔

اسلام میں بدگمانی کی شدید مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ گناہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ حکم ہے کہ جہاں تک نیک گمان کرنے کا جواز موجود ہو وہاں تک بدگمانی مت کرو۔ درحقیقت بدگمانی حوصلے پست کر دیتی ہے۔

خدا ہمیں نیک گمانی کی توفیق دے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *