توہین نسواں اور امت کی روایت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی کے اخبار ’ امت‘ نے عورت مارچ کرنے والی خواتین کو رنڈیاں کہا۔ اس اخبار سے اس سے زیادہ کی توقع کی جا سکتی ہے، کم کی نہیں۔ خواتین کو دی گئی اس غلیظ گالی سے اردو صحافت کی ’’روشن‘‘ تاریخ کے بہت سے واقعات میرے ذہن میں آئے۔ ’امت ‘اخبار اور اس کا ایڈیٹر کس شمار قطار میں ہیں۔ خواتین کی تضحیک کے معاملے میں بڑے بڑے جید صحافیوں کا نام آتا ہے۔ واقعات کے طومار میں سے صرف دو مثالیں حاضر ہیں۔

 مولانا ظفر علی خان کے ’زمیندار‘ سے کون واقف نہیں۔ مولانا غلام رسول مہر اور مولانا عبدالمجید سالک ’انقلاب‘ نکالنے سے پہلے اسی اخبار میں کام کرتے تھے۔ سالک اخبار میں ’ افکار و حوادث ‘کے عنوان سے کالم بھی لکھتے تھے۔ 1924میں انھوں نے معروف سیاست دان اور مسلم لیگ کے لیڈر سر محمد شفیع کے گھر کی خواتین کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کی۔ ایڈیٹر ظفر علی خان نے سالک کے خیالات سے اتفاق کیا بس ذرا انھیں ’انداز لعن و تعریض‘ پر اعتراض تھا۔

عبدالمجید سالک نے لکھا:

’’ قارئین کرام کو شاید معلوم نہ ہو کہ باغبانپورہ کے مشہور نائٹ سر محمد شفیع کی اہلیہ اور آپ کی صاحبزادیاں ہندوستانیوں سے تو پردہ کرتی ہیں لیکن انگریزی سوسائٹی میں ان کے طور طریقے، چال ڈھال، لباس اور گفتگو سب انگریزی سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوتے ہیں اورحکام سے پردہ کرنا خلاف تہذیب قرار دیا گیا ہے بلکہ بسا اوقات انھیں رقص تک میں بھی شریک ہونے سے باک نہیں۔ “

فاضل صحافی نے یہ بھی لکھا:

” مسلمانوں کی حکومت تو پہلے ہی چلی گئی تھی، اب عورتیں رہ گئی تھیں، وہ بھی جاتی رہیں“

 حیرت کی بات ہے انھی عبدالمجید سالک نے سر محمد شفیع کے انتقال پر انھیں مخلص، نیک نیت اور خوش عقیدہ مسلمان قرار دیا اور جی کھول کر ان کی تعریف کی۔

Sir-Mian-Muhammad-Shafi

 ’زمیندار‘ کا ذکر ہو رہا ہے تو لگے ہاتھوں یہ بتا دیں کہ یہ اخبار تنخواہ دینے کے معاملے میں کارکن صحافیوں کو بہت ذلیل کرتا تھا۔ مارچ 1927 میں کئی ماہ تنخواہ کے بغیر کام کرنے کے بعد کارکنوں کا صبر جواب دے گیا۔ جلتی پر تیل کا کام اس خبر نے کیا جس کے مطابق، سلطان عبدالعزیز (والی سعود) نے مولانا ظفر علی خان کو پیسے دیے تھے۔ ملازمین نے دفتر کے باہر زمین پر لیٹ کر مدیر محترم کے سامنے احتجاج کیا لیکن واجبات ادا کرنے کے بجائے وہ اسے مہر و سالک کی سازش سمجھے۔ ان دو صاحبان کو تنخواہ مل جاتی تھی لیکن قسطوں میں۔ کارکنوں نے تنخواہ کے لیے الٹی میٹم دینے کے لیے جب ایک درخواست تیار کی تو اس کا وزن بڑھانے کے لیے مہر و سالک سے اس پر دستخط کرنے کی استدعا کی جو مان لی گئی۔ اس سے معاملہ حل نہ ہوا۔ مہر و سالک نے ’زمیندار‘ سے استعفا دے دیا۔ باقی کے عملے نے بھی اخبار کو خیرباد کہہ دیا۔

 یہ تو تھا تقسیم سے پہلے کا واقعہ جو ہم نے محمد حمزہ فاروقی کی غلام رسول مہر کے بارے میں کتاب ” مہرِ درخشاں ‘کی مدد سے لکھ دیا۔ اب تقسیم کے بعد کی ایک بات جو ہم کو نامور ادیب اور صحافی مسعود اشعر صاحب نے کچھ یوں سنائی:

” میں زمیندار اخبار میں نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ ظفر علی خان ان دنوں بستر سے لگے تھے اور اخبار کے معاملات ان کے بیٹے اختر علی خان کے سپرد تھے۔ انھیں خیال سوجھا کہ اخبار کا دوسرا ایڈیشن نکلنا چاہیے۔ میرے ساتھ انھوں نے مشورہ کیا تو میں نے انھیں صاف صاف بتا دیا کہ موجودہ اسٹاف کے ساتھ ایسا ممکن نہیں ہو گا۔ کاتبوں کی کمی کے باعث اخبار پہلے ہی مشکل سے وقت پر تیار ہوتا ہے۔ ایسے میں نئے ایڈیشن کا ڈول ڈالنا اور بھی پریشانی کا باعث بنے گا۔ اختر علی خان کی عجیب عادت تھی کہ وہ سب کو تنخواہ اپنے ہاتھ سے دیتے۔ ان کا رویہ ایسا ہوتا، جیسے کسی پر احسان کر رہے ہیں۔

تنخواہ کی ادائیگی کے دن انھوں نے پھر سے نئے ایڈیشن کی بات چھیڑ دی۔ میں نے اپنا موقف دہرایا، تو وہ کہنے لگے، نہیں نہیں، تم بہت باصلاحیت ہو، تم کر لو گے۔ وہ اس طرح کی باتیں کرتے رہے، جن سے میں زچ ہو گیا اور وصول شدہ تنخواہ ان کے سامنے پھینک کر دفتر سے نکل آیا۔ “

ظفر علی خان کے ’زمیندار‘ سے اب ہم بڑھتے ہیں آغا شورش کاشمیری کے ’چٹان ‘ کی طرف جس نے ترقی پسندوں کی نفرت میں اردو کی دو ممتاز فکشن نگار بہنوں، ہاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور پر کیچڑ اچھالا۔ 1949 میں کل پاکستان انجمن ترقی پسند مصنفین کانفرنس، لاہور میں ہوئی تو ’چٹان ‘نے اپنے کارٹون میں فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی و دیگر کو سازندوں اور گویوں کے روپ میں جبکہ ہاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور کو پیروں میں گھنگرو باندھے رقص کرتے دکھایا۔ شورش تو خیر شورش تھے، ہاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور کے بارے میں ایک دفعہ ن م راشد نے بھی سوقیانہ جملہ کہہ دیا تھا جس پر احمد ندیم قاسمی کا جی تو چاہا تھا کہ راشد کو تھپڑ رسید کر دیں۔

 ’ٹھنڈا گوشت ‘پر فحاشی کا مقدمہ چلا تو افسانہ نگار کے خلاف شورش نے بھی گواہی دی جسے منٹو صاحب نے اپنے مضمون ’ زحمت مہرِ درخشاں ‘ میں محفوظ کر دیا ہے:

” …اب آغا شورش کاشمیری ولد آغا نظام الدین ایڈیٹر ہفتہ وار چٹان، مونچھوں کے اندر مسکراہٹیں بکھیرتے، تشریف لائے میری طرف دیکھ کر آپ کھل کر مسکرائے اور بیان دینا شروع کر دیا۔

آپ نے فرمایا:” جہاں تک میرے علم اور احساسات کا تعلق ہے، میں نے’’ ٹھنڈا گوشت‘‘ سے اچھے اچھے تاثرات فراہم نہیں کیے۔ جس سماج اور گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اس کے پیش نظر میں ایسا مضمون اپنے پرچے میں شائع نہیں کروں گا۔ میرا مدرسۂ فکر اسے گوارا نہیں کرتا۔ “

استغاثے کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آغا صاحب نے کہا :” اس سے اوباش قاری کو ترغیب ہوتی ہے، ان لوگوں کو جن کا رجحانِ طبیعت، خاص طور پر بدکاری کی طرف مائل ہو۔ “

 منٹو کے افسانے پر تو شورش نے یہ رائے ظاہر کی اور خود موصوف نے ’اس بازار میں‘ کتاب لکھی جس کے لیے، ان کے مطابق انھوں نے ساڑھے چار برس میں چھ سو لڑکیوں سے فحاشی کے اسباب کی چھان پھٹک کی۔ انھیں یہ کتاب لکھنے پر عبدالمجید سالک نے اکسایا اور پھر انھی نے اس کا تعارف لکھا۔

شورش نے اس کتاب میں طوائفوں کے بارے میں معلومات کے دریا بہا دیے ہیں۔ اورنگزیب عالمگیر کے معاشقے کی کہانی اس میں ہے۔ یہ بھی علم میں آتا ہے کہ برصغیر میں پہلا چکلا تغلق کے دور میں طرب آباد کے نام سے قائم ہوا۔ یہ خبر بھی ملتی ہے کہ چارلس نپیئر نے سندھ فتح کیا تو اس وقت کراچی میں زنانہ قحبہ خانوں کے علاوہ تیس اڈے عصمت فروش لڑکوں کے بھی تھے۔ یہ بھی لکھا’’ قریب نصف صدی پہلے انارکلی میں طوائفیں بیٹھا کرتی تھیں ‘‘اور بھی بہتیرا کچھ پڑھنے کو ہے۔ اس پر مستزاد طوائفوں کی تصاویر، چند ایک کے کیپشن ملاحظہ کرکے فاضل مصنف کی ذہنیت کا اندازہ لگائیں:

* نیلام گھر کی مصنوعات

*فروختنی قہقہ عریاں زاویہ

*رقص آغاز ہے گناہوں کا

*عناصر اربعہ کی بھول چوک

*عورت مر گئی اترن باقی ہے

*لاہور کا بازار معصیت

*کاشکے مادر نہ زادے

اس کتاب کے مصنف کی ایک ’’خوبی ‘‘ یہ بھی تھی کہ مالکان ’زمیندار‘ کی طرح تنخواہ دینے سے ان کی بھی جان جاتی تھی۔ معروف براڈ کاسٹر ابوالحسن نغمی نے اپنی کتاب ’داستان جاری ہے‘ میں لکھا ہے:

”تقرر کے وقت شورش نے مجھ سے کہا تھا کہ مولانا آپ کی تنخواہ سو روپے ماہوار ہو گی، لیکن جب تنخواہ دینے کا وقت آیا تو دس روپے کا نوٹ دے کر کہا۔ ” فی الحال دس کا یہ نوٹ رکھ لیجیے، باقی بعد میں دیکھا جائے گا۔ ‘‘ بس پھر یہی دھڑا چلتا رہا۔ کبھی دس روپے دے دیئے تو کبھی بیس روپے دے دیئے اور پھر یہ بھی کہا کرتے تھے کہ مولانا آپ بھول گئے ہیں۔ میں اب تک آپ کو چالیس روپے نہیں، پچاس روپے دے چکا ہوں۔ آپ گھر جا کر اپنی بیگم صاحبہ سے دریافت کیجئے، انھیں یقیناً یاد ہو گا کہ وہ اب تک کتنی رقم وصول کر چکی ہیں۔ “

 نغمی کو ملازمت سے فارغ کیا تو کہا کل تنخواہ وصول کر لینا۔ کئی دنوں تک یہ کل نہ آئی تو بات کِل کِل تک جا پہنچی۔ آجر سے اجیر بڑی مشکل سے یہ تنخواہ نکلوانے میں کامیاب ہوا لیکن یہ کڑی مہم سر کرنے سے پہلے اسے شورش سے سینے پر ایک گھونسا سہنا پڑا۔

تقسیم کے بعد الاٹمنٹوں کے نام پر جو ناجائز قبضے اور لوٹ مار شروع ہوئی اس سے شورش نے کتنا کچھ کمایا، اس کی کہانی بھی کبھی بیان کریں گے، جس کا عنوان ہو گا: شورش کے قبضے

اور ہاں ایک بات تو میں بھول ہی رہا ہوں کہ محنت کش صحافیوں کی تنخواہ دبانے کے معاملے میں ’امت‘ بھی ’زمیندار‘ اور ’چٹان ‘کی ’’عظیم روایت‘‘ پر عمل پیرا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *