سنتے جاؤ اور کانوں کو خوش کیے جاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بادشاہ کے دربار تک ملک کا غریب مگر بہت نامور مغنی رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ نام تو بادشاہ نے بھی سنا ہوا تھا لہٰذا جب مغنی نے کچھ سنانے کی خواہش کا اظہار کیا تو بادشاہ نے درخواست قبول کرتے ہوئے اسے اجازت عطا کر دی۔ مغنی نے دربار میں اپنی آواز کا ایسا جادو جگایا کہ بادشاہ سمیت سارے درباری جھوم جھوم اٹھے۔ بادشاہ نے مغنی کے لئے کچھ تحفے دینے کے اعلان کے ساتھ ہی مزید سننے کی خواہش کا اظہار کیا۔

بادشاہ فرمائش کرتا گیا اور مغنی جھوم جھوم کر سناتا گیا۔ ہر نغمے پر بادشاہ تحفے دینے کا اعلان بھی کرتا رہا۔ محفل ختم ہوئی تو مغنی کا خوشی کے مارے وہ حال تھا کہ پاؤں زمین پر ٹک کر نہیں دے رہے تھے۔ خوشی خوشی گھر پہنچا تو اپنے بیوی بچوں کو سانس لئے بغیر ساری تفصیل سے آگاہ کر دیا۔ بیوی بچے بہت خوش ہوئے۔ مغنی ہر روز بادشاہ کے اعلان کردہ تحفوں کا انتظار کیا کرتا لیکن اسے مایوسی کا سامنا ہی رہتا۔ بیوی بچے بھی پریشان ہوتے کہ بادشاہ نے اب تک اعلان کیے گئے انعامات کیوں نہیں بھجوائے۔

کافی دن گزر گئے تو مغنی نے فیصلہ کیا کہ وہ خود جا کر معلوم کرے کہ اس کے انعامات کا کیا ہوا۔ چنانچہ وہ ایک مرتبہ پھر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے بادشاہ کے محل تک جا پہنچا۔ خوش قسمتی سے مغنی کو حاضری کی اجازت بھی مل گئی۔ مغنی سر جھکا کر دربار میں بیٹھ گیا تو بادشاہ نے دریافت کیا کہ کہو کیسے آنا ہوا۔ کہنے لگا کہ کچھ دنوں پہلے میں نے آپ کو کچھ نغمے سنائے تھے جو آپ نے بہت پسند فرمائے تھے اور ہر نغمہ سننے کے بعد آپ میرے لئے انعامات کا اعلان بھی کرتے رہے تھے۔ حضور کافی دن ہو گئے ہیں لیکن میں اور میرے بچے ابھی تک انعامات کا انتظار کر رہے ہیں۔ بادشاہ اس کی بات سن کر بہت زور سے ہنسا اور کہنے لگا کہ کیسے انعامات، بھئی تم نغمے سنا سنا کر میرے کانوں کو خوش کرتے رہے اور میں انعامات پر انعامات کا اعلان کر کر کے تمہارے کانوں کو خوش کرتا رہا۔

کراچی ایک ایسا بدقسمت شہر ہے جس پر اپنا ہونے کا دعویٰ تو پورا پاکستان کرتا ہے لیکن اس کو اس کا حق دینے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ جب کراچی سے کچھ لینا ہوتا ہے تو یہ سب کا ہوتا ہے اور جب دینا ہوتا ہے تو یہ پاکستان سے الگ کوئی اور ملک بن جاتا ہے۔ اس کی تعلیم گاہوں اور کاروباری مراکز میں پورے پاکستان کے طالب علموں کا کوٹا اور کارخانوں میں ملازمت کرنے کی بندر بانٹ پر سب حق رکھتے ہیں لیکن کراچی کے طالب علموں یا مزدوروں کا پاکستان بھر میں کوئی کوٹا مقرر نہیں۔

یہاں کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے والوں کے لئے ملازمتوں کے دروازے پورے پاکستان کے لئے کھلے ہوئے ہی نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے ہیں لیکن وہ فارغ التحصیل طالب علم جس کا اوڑھنا بچھونا کراچی ہے، اس کے لئے ہر قسم کی مواقعوں کے در اسٹیٹ بینک میں نصب بڑے بڑے ”سیفوں“ سے بھی زیادہ مضبوط اور ایسے ہیں جن کو کھولا اور توڑا ہی نہیں جا سکتا ہو۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر وہ جماعت جو مسند اقتدار پر آ کر بیٹھتی رہی ہے وہ کراچی آ کر یا آئے بغیر کراچی کے لئے بڑے بڑے پیکجوں کا اعلان تو کرتی رہی ہے لیکن آج تک کراچی کے نصیب نے ان پیکجوں کو اپنی ظاہری آنکھوں سے آتے اور اعلان کردہ منصوبوں پر لگتے نہیں دیکھا۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے بھی کراچی کے اونٹ کے منہ میں بہت بڑا زیرہ دینے کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق کراچی کی ترقی کے لئے 11 سو ارب روپے ملنے تھے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی کراچی کے باسیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی لیکن آج تک کسی کو یہ خبر نہیں ہو سکی کہ وہ 11 سو ارب روپے جو اسلام آباد سے چل کر کراچی تک آنے تھے، کون سی کچھوا گاڑی کے ذریعے روانہ کیے گئے ہیں۔

ویسے لگتا ہے کہ پہلے ایسی طفل تسلی والا کام صرف کراچی ہی کے ساتھ کیا جاتا تھا لیکن اب احساس ہو رہا ہے کہ کراچی کی اس بیماری کی لپیٹ میں آہستہ آہستہ پورا پاکستان آتا جا رہا ہے اور پاکستان کا ہر صوبہ ”طفل تسلیوں“ سے بہلایا جا رہا ہے۔

کچھ دن قبل پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب بزدار صاحب نے پنجاب کے کئی شہروں کے لئے اربوں روپوں کے کئی بھاری پیکجوں کا اعلان کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کافی شہروں میں ہسپتال، کھیلوں کے میدان اور اعلیٰ تعلیمی ادارے تعمیر کرنے کی بھی خوش کن خبر سنائی ہے۔ ان اعلانات پر عمل کب سے شروع ہونا ہے اور منصوبوں کی تکمیل قیامت سے ایک دن قبل تک ہو جائے گی یا نہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اس اعلان اور خبر کو غلط کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔

پاکستان بھر میں یا تو کورونا کی وبا زمین سے پھوٹ پھوٹ کر باہر آ رہی ہے یا پیکج کے پیکج آسمان ایوان ہائے حکومت سے برسائے جا رہے ہیں۔ کراچی، بلوچستان، خیبر پختون خوا اور پنجاب میں ژالہ باری کی صورت پیکجوں کو برسانے کے بعد اب آسمان ایوان ہائے حکومت کا رخ گلگت بلتستان کی جانب موڑ دیا گیا ہے اور شنید ہے کہ پیکجوں بھری اس برسات کے بادلوں کو خود وزیراعظم پاکستان لے کر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پورے پاکستان کے لئے جن کھربوں روپوں کے پیکجز کا اعلان کیا گیا ہے اگر سب کو جمع کیا جائے تو 1947 سے لے کر اب تک کے جتنے بجٹ بنا کر خرچ کر دیے گئے ہیں، اعلان کردہ پیکجوں کی رقم ان سب سے زیادہ نکلے گی۔ اتنا بہت پیسہ آئے گا کہاں سے کا جو جواب ملا وہ یہ تھا کہ لوگو، کیا بادشاہ و مغنی کی کہانی نہیں سنی۔ جواب سن کر سننے والوں کے ہونٹوں پر ایسے تالے لگے کہ باوجود کوشش، لبوں سے آواز تک نہ نکل سکی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *