رمضان میں خیرات کا اصل مصرف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسجد میں سیمنٹ کی بوری تب دیں جب محلے میں آٹے کی بوری لینے والا کوئی شخص نہ ہو۔ یہ وہ منقول پوسٹ ہے جس کا تعلق اس آنے والے مہینے سے براہ راست بنتا ہے۔ اس مہینے خیرات، زکوٰة، صدقات اور فطرانہ کا سیزن ہوتا ہے۔ اور اسی مہینے یہ سیزنل بھکاری اور خیرات زکوٰة کے شکاری امڈ آتے ہیں۔

ہمارے ہاں یہ ایک عام رجحان ہے یا پھر ہمارے مولوی حضرات نے یہ بول بول کر لوگوں (مقتدیوں) کے ذہنوں میں یہ بات پختہ کی ہے یا پھر بڑے سلیقے یا طریقے سے ڈال دی گئی ہے کہ ان کے خیرات، زکوٰة، اور فطرانے کا اصل مصرف مساجد اور مدارس ہیں۔

رمضان کی آمد کے ساتھ ساتھ ہر مسجد و مدرسہ میں فطرانہ کی لسٹ لگا دی جاتی ہے اور اس مسجد اور مدرسہ کے عین وسط یا پھر کسی مخصوص جگہ پر خیرات زکوٰة کے عطیات لینے کے لئے مدرسہ کے طلبا بینرز لگی ہوئی میزوں کے پیچھے بٹھا دیے جاتے ہیں اور ان کے سامنے پڑی ہوئی رسیدوں کی کاپیاں اس بات کے ثبوت کے لیے ہوتی ہیں کہ آپ کا دیا ہوا عطیہ، پیسہ یا چندا غلط لوگوں یا غلط جگہ یا بغیر حساب کتاب کے نہیں جا رہا ہے۔

ہر نماز کے بعد عموماً امام مسجد عطیات کے لیے بعد از دعا یا قبل از دعا اور جمعے کے خطبہ میں خصوصاً تذکرہ کرتا رہتا ہے۔ جبکہ ہر جمعہ نماز سے پہلے جو چادر اور ڈبے چندے کے لئے صف در صف گھماٰئے جاتے ہیں، وہ تو انجیو ٹائپ آفسز کی پیٹی کیش کی طرح کسی کھاتے یا حساب کتاب میں نہیں ہوتا۔ عید کا دن تو ہوتا ہے زیادہ چندہ دینے کا اور اس دن امام مسجد یا خطیب کی عیدی کی چادر الگ ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ سالہا سال سے چلا آ رہا ہے اور عوام (مقتدی) اور امام و خطیب یہ چلن ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔

اب کی بار بھی رمضان آ ہی چکا ہے۔ مسجدوں میں نمازیوں کا رش لگ جائے گا، تین روزہ، پانچ روزہ، دس روزہ تراویح کے لئے ہر مسجد میں بینرز لگ جائیں گے اور یہ سنت ادا کرنے کے بعد کاروباری حضرات بقیہ رمضان اپنی حلال کمائی کے لئے چاند رات تک فارغ ہو جائیں گے۔

رمضان میں اگر ایک طرف نمازیوں سے مسجدیں بھر جاتی ہیں تو دوسری جانب مسجد کے اطراف اور احاطے بھی بھکاریوں سے  بھر جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اتنے پیسے اپنی جیب میں رکھتے ہیں کہ اگر گیٹ پر بھکاری کو دیں تو پھر اندر مسجد میں دینے کے لئے نہیں بچتے اور اگر اندر دینے کا سوچیں تو بھکاری رہ جاتے ہیں۔

کچھ ایسے بھی ہستیاں ہیں جو دونوں کو خوش کرتے یا رکھتے ہیں ، وہ حضرات تو مسجد میں ویسے بھی صف اول کے جانے پہچانے نمازی ہوتے ہیں ۔ بھکاری بھی ان کو دور سے پہچانتے ہیں اور ان کو دیکھتے ہی بھکاری ان پر ایک غول کی شکل میں جھپٹ پڑتے ہیں اور وہ جیسے پرندوں کو کوئی دانا ڈالتا ہو، ویسے ہی ایک ایک دس دس بیس بیس کا نوٹ جیب سے نکال کر ان کو فارغ کرتے ہیں، کوئی بھکاری تو دوسری بار بھی اپنی قسمت آزمائی کرتا ہے لیکن وہ ہاتھ میں پکڑے نوٹ سے ان کو نہ، نہ کا اشارہ کر کے ہٹا دیتا ہے پھر اس دوران دوسرا کوئی بھکاری اپنی باری دہرانے کی کوشش نہیں کرتا۔

بعض لوگ مسجد میں دیتے ہیں اور نہ بھکاریوں کو ، ان کا موقف ہوتا ہے کہ مسجد تو خود غنی ہوتی ہے اور کسی غنی پر صدقہ خیرات نہیں ہوتا ہے اور بھکاریوں کو اس لئے نہیں دیتے کہ وہ ان کو پروفیشنل سمجھتے ہیں اور پروفیشنل اس لئے کہ یہ لوگ اگر ہر نماز میں نہیں تو ہر جمعے ضرور مسجد کے گیٹ یا احاطے میں نظر آتے رہتے ہیں اور ان کے چہرے بھی ہر روز یا ہر ہفتے دکھنے سے شناسا سے ہو جاتے ہیں اور ان کو پروفیشنل سمجھنے کی وجہ سے پیسے یا دیگر عطیات نہیں دیتے۔

لیکن ایک دوسری قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں جو یہ سوچ رکھتے ہیں کہ اگر ہر روز یا جمعے کی وجہ سے یہ لوگ پروفیشنل ہیں تو پھر تو یہ بات مسجد اور مدرسہ پر بھی صادق آتی ہے۔ وہ بھی تو ہر جمعے چندے کی چادریں پھیلاتے رہتے ہیں اور پورا سال مسجد کے کسی کونے کو زیر تعمیر چھوڑا ہوا ہوتا یے اور مسجد کے باہر پورا سال مسجد زیر تعمیر ہے ، لکھا ہوا ہوتا ہے تو اس طرح  سالہا سال یہ بھی مانگتے رہتے ہیں تو وہ ان کو بھی نہیں دیتے او انہیں پروفیشنل ہی سمجھتے ہیں ۔ اس لیے وہ دیگر خیراتی اداروں کو چندہ دیتے ہیں۔

لیکن دیگر خیراتی ادارے بھی رمضان آتے ہی ریگولر میڈیا اور سوشل میڈیا پہ اشتہارات کے ساتھ ساتھ سڑکوں اور چوراہوں پر بینروں اور سائن بورڈز کے ساتھ سرگرم عمل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح یہ خود کو ایک دوسرے سے زیادہ مستحق سمجھتے ہیں۔ ان خیراتی اداروں کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اشتہار اس طرح لگائے جائیں کہ عوام کو صرف اور صرف ان پہ ترس آئے اور ان ہی کو قوم کا مسیحا سمجھیں۔

لیکن ایک بات جو مجھے اب تک بلکہ عوام کو بھی سمجھ نہیں آئی وہ یہ کہ، جو اتنے خیراتی ادارے اس مملکت خداداد میں سرگرم عمل ہیں اور ہر سال گزشتہ سالوں کا حساب کتاب اور اپنی کارکردگی پیش کرتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود ضرورت مندوں کی تعداد میں کمی کیوں نہیں آتی اور ان( این جی اوز والوں ) کے لائف اسٹائل میں کیوں تبدیلی نہیں آتی۔ ہر ادارے کا آفس شہر کے پوش علاقے میں کئی ملازمین کے ساتھ موجود ہو گا اور ان کی تنخواہیں ، پک اینڈ ڈراپ ان کے ادارے کی ذاتی گاڑیوں میں ہو گا اور اس ادارے کا کرتا دھرتا خود ایک لگژری گاڑی اور بڑے گھر میں ”بڑے لوگوں کے علاقے“ میں اپنی زندگی کے ایام بسر کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی عام ضرورت مند کی طرح جب ان کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تو انہوں نے اپنی گاڑی بیچ دی ہو یا اہنے اخراجات میں کمی کی ہو ۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ ان اداروں کی مالی شان و شوکت میں کمی آئی ہو۔ یہ اتنا پیسہ ان کے پاس آتا کہاں سے ہے؟

اب پھر رمضان آ رہا ہے ، صدقات اورخیرات سے ان کو نوازا جائے گا۔ مساجد میں افطاری کے وقت انواع و اقسام کے فروٹ، چٹ پٹی چیزیں، شربت اور کھانے موجود ہوں گے لیکن بھکاری سب مسجدوں کے دروازوں پر،  لوگوں کی نماز سے فارغ ہونے کے انتظار میں بیٹھے رہیں گے اور آتے جاتے ہر کوئی ان کو ڈانٹ ڈپٹ کرتا رہے گا۔

میرا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ہر مسجد، ہر مدرسہ، ہر امام، ہر خطیب یا ہر خیراتی ادارہ ایسا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ۔ سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ایک ہاتھ کی پانچوں انگلیاں بھی برابر نہیں ہوتی۔ لیکن یا سچے لوگوں کی پہچان ہمیں نہیں یا پھر وہ لوگ خود کو ظاہر نہیں کرتے۔

اس بار ہونا چاہیے کہ واقعی سچے لوگ سامنے آئیں تاکہ لوگوں کو بھی پتہ چلے کہ جن کو ہم عطیہ یا چندہ دے رہے ہیں وہ کام والے اور کام آنے والے ہیں۔ ورنہ ہر کسی کو پروفیشنل سمجھ کر ان کو ٹھکرا کر یا ان سے ٹکرا کر ہم بھی غلط عطیات اور چندہ دینے والے پروفیشنلز میں شامل ہو جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *