ویساکھی کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج 11 اپریل ہے۔ ویساکھی (اسے بیساکھی بھی کہا جاتا ہے ) کی آمد آمد ہے۔ ذہن کے دریچوں میں وہ دن جگمگانے لگے ہیں جب اپریل کے آغاز سے ہی ویساکھی کا انتظار شروع ہو جاتا تھا۔ ہماری زمینوں میں بھی گندم کی فصل اگائی جاتی تھی۔ رشتے داروں ہمسائیوں کو کٹائی کی دعوت دی جاتی۔

سورج نکلنے سے پہلے تمام لوگ کھیتوں میں پہنچ جاتے۔ کٹائی شروع ہو جاتی۔ پھر ویساکھی کی خاص الخاص چیز ”جلیبی“ منگوائی جاتی۔ جلیبی کا جو لطف کھیتوں میں بیٹھ کے کھانے کا ہے وہ شاید کسی اور جگہ نہیں۔ گندم کی کٹائی کے دنوں میں کھانا بھی کھیتوں میں کھایا جاتا۔ اور کھانے کا یہ لطف کسی بڑے سے بڑے ہوٹل میں بھی نہیں۔ ساتھ ساتھ دکھ سکھ کی باتیں ہوتیں۔ ہنسی خوشی کام نمٹ جاتا۔

اگر اس سے تھوڑا پیچھے جائیں تو ویساکھی کا تہوار بہت اہتمام سے منایا جاتا تھا۔ باقاعدہ ڈھول والے کا انتظام کیا جاتا۔ 13 اپریل یکم ویساکھ کو تمام لوگ کھیتوں میں پہنچ جاتے۔ گندم کی کٹائی ہوتی۔ ڈھول والا ڈھول پیٹتا جاتا۔ عورتیں ٹپے اور ماہیے گاتیں۔ جلیبیاں بیچنے والے ٹوکرے اٹھائے کھیتوں میں پہنچ جاتے۔ لوگ گندم کی ایک گٹھڑی کے بدلے جلیبی لے لیتے۔ جلیبی بیچنے والے کی سال بھر کی گندم جمع ہو جاتی۔ اور یہ روایت صدیوں تک چلتی رہی ہے۔

اس تہوار کو اب سکھوں سے منسوب کیا جانے لگا ہے۔ حالانکہ یہ سکھوں، ہندوؤں، مسلمانوں کا مشترکہ تہوار تھا۔ گرو امر داس سکھوں کے تیسرے گرو تھے۔ جنہوں نے سکھ ملت کے لئے تین تہواروں کا انتخاب کیا۔ جن میں سے ایک ویساکھی ہے۔ 1699ء میں سکھوں کے دسویں گرو گوبند رائے نے ویساکھی کے روز ہی خالصہ پنتھ ( اپنے پانچ پیاروں کو امرت پان کروا کر خالصہ بنایا۔ یعنی نسلی اور علاقائی امتیاز ختم کیا اور سب سکھوں کے لئے ”سنگھ“ کا خطاب جاری کیا، اسی دن پانچ ککے(کیس، کنگھا، کڑا، کچھا، کرپان۔ سکھ مذہب شامل علامتی اشیاء) کی بنیاد رکھی تھی۔ تب سے یہ تہوار باقاعدہ طور پر سکھوں کا تہوار بن گیا۔ سکھ یہ تہوار حسن ابدال کے گوردوارہ پنجہ صاحب میں مناتے ہیں۔ لوگ مقدس تالاب میں نہاتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ اس مقدس تالاب میں نہانے سے گناہ صاف ہو جاتے ہیں اور آئندہ برے اعمال سے توبہ کر لیتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل تک پاکستان کے بہت سے دیہاتوں میں یہ تہوار منایا جاتا ریا ہے لیکن اب یہ حسن ابدال تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور روایت دم توڑ رہی ہے۔ دیہاتوں میں لوگ بہرحال ویساکھی کے نام سے واقفیت رکھتے ہیں۔ 13 اپریل کو گھروں میں جلیبیاں منگوا کر لولی لنگڑی ویساکھی منائی جاتی ہے۔ لیکن شہروں میں نام تک سے واقفیت نہیں۔ ہم اپنی خوبصورت روایات اور ثقافت کو بھولتے جا رہے ہیں۔

تہوار کسی خاص مذہب سے تعلق نہیں رکھتے، یہ محبت کے، اپنائیت کے، خوشیوں کے، مل بیٹھنے کے تہوار ہیں اور ہم نے انہیں ایک خاص مذہب سے جوڑ کر ان کے ساتھ اور اپنے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔

یہ تہوار برصغیر کی ثقافت میں نگینوں کی صورت ہیں۔ جو اس کی خوبصورتی کا باعث ہیں۔ لیکن اب یہ خوبصورتی مانند پڑتی چلی جا رہی ہے۔ ہم ایک ایک کر کے یہ نگینے اتارتے اور پھینکتے چلے جا رہے ہیں۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمیں اس کا احساس بھی نہیں۔

خدارا! اپنی ثقافت و روایات کو زندہ رکھیں۔ اسی میں ہماری بقاء ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *