سکے سلیٹی دیاں مورتاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سکول کا دور بہت سادہ سا تھا۔ سپورٹس کا رجحان پورے قصبے میں بہت زیادہ تھا۔ کرکٹ، فٹ بال کھیلا جاتا۔ زمین پر لائنیں لگا کر ”باڈہ“ نامی کھیل بھی کھیلا جاتا تھا۔ شٹاپو اور پٹھو گول گرم بھی خوب کھیلا جاتا۔ ہمارے سکول میں ٹاٹ میسر تھے اور نہ ہی کلاس رومز۔ پرانی عمارت اور اس کی خستہ حالی کے سبب کمروں میں جانے کی اجازت نہ تھی۔

سکول کے صحن میں جنگلی کیکر کے چند ایک درخت تھے۔ ان کی چھاؤں میں کلاس روم سج جاتا۔ سکول میں کوئی خاکروب بھی میسر نہ تھا۔ ہر کلاس کے لیے جگہ مخصوص تھی اور اس کی صفائی کلاس کے لڑکوں کے ذمہ تھی۔ سکول لگنے سے پہلے منہ اندھیرے دو تین طلبا جن کی صفائی کی باری ہوتی ، وہ اپنے اپنے گھروں سے جھاڑو لیتے اور سکول کے صحن میں پہنچ جاتے۔ جھاڑو لگتا، پتے، کیکروں کی پیلی پھلیاں اور مٹی اکٹھی ہوتی اور پھر پانی کے چھڑکاؤ کے بعد اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے۔

سرعت سے تیار ہوتے اور بستہ اٹھا کر واپس سکول پہنچ جاتے۔ زیادہ تر لوگوں کے پاس کپڑے سے سلا تھیلا بطور بستہ ہوتا تھا۔ اس بستے میں کتب، کاپیاں، سکے، سلیٹیاں، قلم، دوات اور تختی ہوتے تھے۔ ان سب چیزوں کے ساتھ ایک سب سے اہم چیز بوری ہوتی تھی۔ یہ بوری کیا تھی؟ ہمارے زمین پر بیٹھنے کے لئے ہماری چٹائی۔

یہ تمام باتیں ہمارے پرائمری سکول کی ہیں۔ اسمبلی ہوتی۔ ہمارے بال اور ناخنوں کا معائنہ ہوتا۔ جس کے بال الجھے، بے ترتیب ہوتے اسے ہاتھ آگے کرنے کا کہا جاتا۔ پورے زور سے ہاتھوں پر ڈنڈے رسید کیے جاتے۔ ڈنڈا کھا کر موقع دیا جاتا کہ سنبھل لیں، سہلا لیں۔ ٹانگوں کے درمیاں ہاتھوں کو سہلا کر دوبارہ ”دست دراز“ کیا جاتا۔ ڈنڈا پھر پڑتا۔ کبھی کبھار انگلیاں نیلی ہو جاتیں۔ اگر ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کی جاتی تو ڈنڈا ہاتھ کی بجائے پچھواڑے پر رسید کیا جاتا۔ بچت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

اسمبلی کے بعد اپنی کلاس کی جگہ پہنچتے۔ اپنے اور کسی ساتھی کے لئے جگہ فوراً قبضہ میں لینے کی کوشش کی جاتی۔ ٹانگیں پھیلا کر جتنی جگہ ممکن ہو پاتی اسے قبضے میں لے لیا جاتا۔ جب تمام طلبا اپنے لیے جگہ ڈھونڈ لیتے تو بستے سے بوری نکال کر بچھائی جاتی۔ بوری بچھا کر فوراً آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتے اور پھر کلاس کے شروع ہونے کا انتظار کیا جاتا۔

بہت سے اساتذہ دوسرے گاؤں، شہروں سے آتے تھے۔ کبھی کبھار ان کے انتظار میں کلاس خالی ہوتی۔ میرے سب سے بڑے بھائی یوسف، ہائی سکول میں پہنچ چکے تھے۔ ان کی سائنس کی کتاب میں بہت سی رنگ برنگی تصاویر ہوتی تھیں۔ یہ تصاویر بہت سے طلبا کے لئے نئی ہوتی تھیں۔ ان کی ان کلاسز کی کتب تک رسائی نہیں ہوتی تھی۔ اسی طرح کوئی بڑی کلاس کی تصاویر والی کتاب ہاتھ لگ جاتی تو خوب گہما گہمی نظر آتی تھی۔ آواز گونجتی، ”سکے سلیٹی دیاں مورتاں“ ۔ خواہش مند طالب علم آواز لگانے والے کے پاس آ جاتا۔ اپنے بستے سے سلیٹی یا بیٹری سیل سے نکالا گیا ”کاربن سکہ“ مورتوں والے کے حوالے کر دیتا اور کتاب میں چھپی ”مورتیں“ دیکھ کر لطف اندوز ہوتا۔ ہمارے بچوں نے نہ ہی سکے دیکھے اور نہ ہی سلیٹی۔ لیڈ پنسل اور بورڈ مارکر کے ذریعے لکھنا پڑھنا آنا چاہیے۔

”لٹھے دی چادر، اتے سلیٹی رنگ ماہیا“ جیسے گانوں میں سلیٹی وہی پتھر ہوتا تھا جو لوہے کی سلیٹ پر لکھنے کے کام آتا تھا۔ اس سلیٹ پر لکھا مٹایا کیسے جاتا تھا،  اس کا جواب بھی ان احباب سے پوچھ سکتے ہیں جنہوں نے نوے کی دہائی میں اپنی تعلیم مکمل کی تھی۔ آج تعلیم، ڈگریاں نظام تعلیم سب بدل چکا ہے۔ اسی سکول کو گرا کر نیا بنایا جا چکا ہے۔ بہت سے پھول پودے اگ چکے ہیں۔ ہمیں وہ سکے سلیٹی دیاں مورتاں یاد ہیں۔ بہت سی مورتیں ذہن پر نقش ہیں۔دل پر کنندہ ہیں۔

ماسٹر رائے سلطان، انور بھٹی صاحب، ماسٹر بشیر صاحب، لطیف صاحب، سلیم صاحب، ماسٹر عنایت، رائے شہادت صاحب، ماسٹر گلزار مسیح صاحب، ماسٹر حفیظ صاحب اور عبدالرشید صاحب بھی یاد ہیں۔ وہ مورتیں سکے سلیٹی والی نہیں تعلیم پیار، تربیت اور پیشہ ورانہ لگن کی مٹی سے گندھی تھیں۔ ان کی کرسی اور میز پر نہ پانی ہوتا تھا اور نہ ہی چائے وغیرہ کی کوئی کینٹین، کیفے ٹیریا سکول میں موجود تھا۔ ہاں تفریح کے وقت جب ہم چنا چاٹ یا دہی بھلے کی ریڑھی کے گرد کھڑے ہوتے تو ریڑھی والے کے پلیٹ تیار کرنے سے اندازہ لگا لیتے تھے کہ یہ پلیٹ استاد جی کی ہے۔

کیسی کیسی مورتیں ہماری زندگی کے کینوس پر ابھرتی اور پینٹ ہوتی ہیں۔ یہ چاک اور ڈسٹر، سکے سلیٹی، تعلیم و تدریس کے چاک پر بنی وہ تخلیقات ہیں جنہیں محبت اور لگن کی بھٹی میں پکا کر سخت بنایا جاتا ہے۔ اسی لئے وقت کے تھپیڑے ہمیں زیادہ لہولہان نہیں کرتے۔ زندگی جینے اور گزارنے میں جو فرق ہے ناں، وہ انہی مورتوں نے ہمیں سکھایا ہے۔ یہ ساری مورتیں، ہماری زندگی کی نعمتیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *