کھیل جیت اور تشدد

یہ کافی سال پرانی بات رہی ہو گی۔ میں اپنے ددھیال کے گاؤں، گرمیوں کی تپتی دوپہر، پیپل کے درخت تلے رکھی چارپائی پر دراز تھا۔ چند بچے میرے ارد گرد کھیل رہے تھے۔ وہ دھریک کے درخت سے دھرکونے (کڑوے پھل) توڑ کر ”کلی جوٹا“ کھیل رہے تھے۔ مٹھی میں چار، پانچ، چھ گول پھل دباتے اور مقابل بیٹھے کھلاڑی سے پوچھتے کہ کلی یا جوٹا؟

Read more

پانی اور رشتے ایک جیسے ہیں

یاد رکھیں، اللہ دی گئی نعمت واپس بھی لے لیتا ہے۔ رزق اور پانی بھی اپنا راستہ بدل لیتے ہے۔ ناقدری بہت بڑا گناہ ہے۔ قدر نہ کریں تو نعمت چھن بھی جاتی ہیں۔ میں نے اپنے قصبے کے لوگوں سے پانی چھینتے دیکھا ہے۔ اسی کی دہائی میں ہمارے قصبے ”کالیکی منڈی“ میں پانی کی فراہمی کے لئے بہت بڑا منصوبہ ترتیب دیا گیا۔ گلیوں، سڑکوں کی کھدائی ہوئی۔ نئے پائپ ڈالے گئے۔ ہر کونے، محلے میں صاف پانی

Read more

یہ تو ہیجڑے ہیں

حافظ آباد سے رات بارہ بجے ایک کوچ اسلام آباد کے لئے روانہ ہوتی تھی۔ میں حافظ آباد سے سوار ہوا تو مجھے میرے قصبے کا ایک خواجہ سرا نظر آیا۔ میں نظریں چراتے ہوئے اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس خواجہ سرا کو ہم بچپن سے دیکھتے آ رہے تھے۔ یہ عمررسیدہ خواجہ سرا ہمارے پورے قصبے (کالیکی منڈی) کے غم، خوشی، پیدائش و ولادت سے باخبر ہوتا تھا۔ یہ ان تمام خواجہ سراؤں کا گرو تھا جو اپنے

Read more

خالی گھونسلے کی بیماری

گھونسلے کو پنجابی زبان میں ”آلنا“ کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آلنے سے گرا چڑیا کا بچہ (بوٹ) وہ چڑیا واپس اپنے گھونسلے میں نہیں رکھتی ”۔ شاید اسے چونچ سے اٹھانا اس کے بس میں نہیں ہوتا۔ اس کے نازک جسم پر ضرب یا تکلیف سے ڈرتی ہے۔ شاید اس بچے کا اپنی ماں سے معاہدہ ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنا ٹھکانا چھوڑ کر گیا تو واپس نہیں آ سکے گا۔ بالعموم جو لڑکیاں گھر چھوڑ

Read more

ماؤں کا عالمی دن نہیں، یہ عالم ہی ماؤں کا ہے

کیا ماؤں کا عالمی دن بھی ہوتا ہے؟ چند ماہ و سال سے یہ دن زیادہ زور و شور سے منایا جاتا ہے۔ ماں کی الگ یا اس کے ہمراہ اپنی اچھی سی تصویر ڈھونڈی جاتی ہے۔ ماں کے لئے موزوں جملہ جذبات کی حدت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور شاید پھر ہمارا فرض مکمل ہوا۔ شادی کے چند ماہ و سال کے بعد نازو نعم میں پلی نوجوان لڑکی ہم، آپ کے لئے اپنے آپ کو یکسر

Read more

ناڑے (ازاربند) اور پراندے

آئیے بچپن کی یادوں کو دہراتے ہیں۔ پرانے تحائف بھی باکمال ہوتے تھے۔ پنجاب کے گاؤں دیہاتوں میں نالے (ازار بند) اور پراندے، رومال، کڑھائی کیے گئے سرہانے، ڈھانپنے کے کور اور سلائیوں سے بنے سوئیٹر اور کروشیے سے بنی ٹوپیاں دینے کا رواج تھا۔ رومال پر کڑھائی کر کے بطور تحفہ دیا جاتا۔ دل بنا کر اس میں سے تیر گزارا جاتا۔ جس کی کڑھائی کرنے کی مہارت اچھی ہوتی وہ دل سے نکلتا ہوا لہو بھی بنا دیتا

Read more

ہماری چھت کا آرکیٹیکٹ

میں اپنے آبائی گھر میں ہوں۔ اگلے ہفتے بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ میں نے جوں ہی اپنے ایک دوست سے تذکرہ کیا۔ اس کے چہرے پر پریشانی و تفکرات کے سائے پھیل گئے۔ میں حیران ہوا کہ اسے کیا ہوا ہے۔ وہ بولا کہ گندم کی فصل پک چکی ہے۔ کٹائی زوروں پر ہے۔ بارش کی ہلکی چھینٹیں بھی فصل کا وزن، شکل، رنگ اور کوالٹی تبدیل کر دیں گیں۔ فصل گر گئی تو نقصان ہے۔ میرے

Read more

سکے سلیٹی دیاں مورتاں

یہ تمام باتیں ہمارے پرائمری سکول کی ہیں۔ اسمبلی ہوتی۔ ہمارے بال اور ناخنوں کا معائنہ ہوتا۔ جس کے بال الجھے، بے ترتیب ہوتے اسے ہاتھ آگے کرنے کا کہا جاتا۔ پورے زور سے ہاتھوں پر ڈنڈے رسید کیے جاتے۔ ڈنڈا کھا کر موقع دیا جاتا کہ سنبھل لیں، سہلا لیں۔ ٹانگوں کے درمیاں ہاتھوں کو سہلا کر دوبارہ ”دست دراز“ کیا جاتا۔ ڈنڈا پھر پڑتا۔ کبھی کبھار انگلیاں نیلی ہو جاتیں۔ اگر ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کی جاتی تو ڈنڈا ہاتھ کی بجائے پچھواڑے پر رسید کیا جاتا۔ بچت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

Read more

یادیں: میری ماں اور بھرے بھڑولے

بھڑولہ تقریباً ہر شخص کے لیے معلوم اور مقبول لفظ ہے۔ یہ مٹی یا جستی چادر سے بنا بڑے سائز کا ڈرم نما ذخیرہ ہے جس میں گندم یا چاول محفوظ کیے جاتے ہیں۔ آنے والے پورے سال کے لیے گندم اس میں محفوظ کر لی جاتی ہے۔ بھڑولہ سالانہ بنیادوں پر گندم کی اپنی ضرورت کے مطابق بھرا جاتا ہے۔ واصف علی واصف نے اپنی ایک کتاب بھی ”بھرے بھڑولے“ کے نام سے معنون کی تھی۔ اس کتاب میں

Read more

پاکستانی کسان اپنے بچے کو کسان کیوں نہیں بنانا چاہتا؟

گرمیوں کی شدت کے دن تھے۔ گھر سے باہر منہ نکالنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ میں اپنے ددھیال سے ملنے ظفروال چلا گیا۔ لو چلتی، آنکھوں میں لالی اتر آتی۔ یہ وہ لالی تھی جو اکثر کسانوں کی آنکھوں میں رہتی ہے۔ درخت کے سائے میں پناہ مل جائے تو اور بات وگرنہ سر پر چادر رکھے، جسے پنجابی میں بالعموم ”پرنا یا صافہ“ کہا جاتا ہے، یہ کسان سارا دن اسی پرنے کو اپنی ویدر شیلڈ بنا کر

Read more

قائد اعظم یونیورسٹی: مجید ہٹس کے مجید صاحب

ہم ہمیشہ توپ و تفنگ کے عقب، سینما و فلم کی چکاچوند روشنیوں اور کھیل کے میدان میں نازو انداز دکھاتے کھلاڑیوں میں ہیروز ڈھونڈتے ہیں۔ ہیروز تو وہ بھی ہیں جنہوں نے تمام عمر اس معاشرے کی گلیاں صاف کرنے میں گزار دیں۔ جنہوں نے علم بانٹا، معاشرے کی تربیت کی اور پھر مسکراتے چہرے کے ساتھ زندگی کی تلخیاں جھیلتے آنکھیں موند گئے۔ گزشتہ روز قائد اعظم یونیورسٹی کے مجید ہٹس کے روح رواں حاجی عبدالمجید صاحب کے

Read more

اپنی مٹی اور بارش کی پہلی بوندیں

بارش کی پہلی بوندیں زمین کا بوسہ لیتی ہیں تو ہر سو مٹی کی مہک پھیل جاتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل کوئی پوچھتا کہ آپ کی پسندیدہ خوشبو کیا ہے تو بہت سے لوگ جواب دیتے تھے کہ مٹی کی خوشبو۔ بارش کی پہلی بوندوں کے بعد مٹی کی خوشبو۔

Read more

آدمی غنیمت ہے

اخبار وہ واحد ذریعہ تھا جس سے خبر ملتی تھی۔ ٹیلی ویژن پر خبر نامہ دیکھنے کے لیے رات نو بجے کا انتظار کیا جاتا تھا۔ ریڈیو پر بی بی سی کی سگنیچر ٹون گونجتی تو ہر کسی کو فوراً متوجہ کر لیتی تھی۔ اخبار سب سے موزوں اور اہم ذریعہ ابلاغ تھا۔ اخبار بھی ہر گھر میں کہاں آتا تھا۔ حمام، کریانے کی دکانیں، ٹاؤن کمیٹی کی لائبریری، ڈاکٹر فضل قادر کے کلینک، گل شیر، ساقے (اسحاق) اور بابا

Read more

یہ مائیں کتنی جھوٹی ہیں

ہم سات بہن بھائی تھے۔ ابو نے بھی دفتر جانا ہوتا تھا۔ آٹھ لوگوں کا سکول، آفس، ٹرین سب آٹھ بجے ہی لگتا تھا۔ گندھا ہوا آٹا فریج میں نہیں رکھا جاتا تھا۔ نہ ہی فریج تھے اور نہ ہی فریج کا باسی کھانے کا رواج۔ اگر کچھ بچ جاتا تو صحن میں بندھی کپڑے سکھانے کی تار سے باندھ دیا جاتا، برتن میں پانی ڈال کر دوسرا برتن اس میں رکھ دیا جاتا یا پھر کولر میں بچ جانے

Read more

جھونگا: گاؤں کے بابا رتنا سے جدید کارپوریشن تک

اکنامکس کے اصولوں پر ایک کتاب میرے زیر مطالعہ تھی تو Persuasion اور Reciprocity جیسے دو الفاظ سے واسطہ پڑا۔ دونوں کا مطلب و معانی پڑھے تو اندازہ ہوا کہ بزنس اور مارکیٹنگ کے وہ اصول و ضوابط ہیں جن کے لحاظ سے گاہک کو اپنی اشیاء بیچنے کے لیے کیسے قائل کیا جائے اور اس چیز کو اس خریدار کی ضرورت بنایا جائے۔ صارف کو کیسے فائدہ پہنچایا جائے؟ ”چوہنگا“ کیسے دیا جائے؟

چوہنگا کا لفظ شاید کچھ اذہان کو یک لخت کسی چھوٹی سی دکان، ٹھیلے، کھوکھے یا گلی محلے کے کونے بنی کچی پکی چھت تلے اشیاء بیچنے والے کے پاس لے گیا ہو۔ جس نے بھی بچپن گزارا ہو گا، گاؤں محلے میں وقت بیتا ہو گا اسے دکاندار سے ملنے والا چوہنگا ضرور یاد آیا ہو گا۔

Read more

دیکھو ڈاکیا آنا چاہتا ہے

تین دہائیاں گزر گئیں۔ میں ریلوے لائن کے پاس دوستوں کے ہمراہ محو گفتگو تھا، یا شاید کچھ کھیل رہا تھا تو ڈاکیا میرے پاس آ کر رکا۔ خاکی رنگ کا ایک لفافہ مجھے تھمایا۔ اس پر سرکاری مہریں ثبت تھیں۔ یہ میرا کال لیٹر تھا۔ یہ کال لیٹر انگلش میں تھا۔ میں نے اس پر ”سیلیکٹڈ“ کے الفاظ کو بغور پڑھا اور خوشی سے گھر کی جانب چل دیا۔ یہ پہلی کامیابی تھی جو عملی زندگی کے آغاز کا

Read more

ہماری ماؤں کی سلائی مشین

ماؤں کی اس دولت و متاع جس کو وہ ہمیشہ سنبھالتی ہیں اس میں سے ایک سلائی مشین بھی ہوتی ہے۔ نسل نو کو اس بات کا اندازہ نہ ہو پائے گا مگر ہم جس دور سے گزرے ہیں سلائی مشین ہر گھر میں موجود ہوتی تھی، کونے میں پڑی ہوتی تھی اور اس پر کپڑا اوڑھا دیا جاتا تھا۔ اسے تیل دینے کے لئے ”کپی“ بھی مشین کے اندر یا الگ سے موجود ہوتی تھی۔

مائیں ان مشینوں کی مسلسل صفائی کرتی تھیں۔ اس کو تیل کے ساتھ رواں رکھا جاتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ سلائی مشین سے ہر شخص کی یادیں جڑی ہیں۔ بچپن میں راہ چلتے کپڑے پھاڑ یا ادھیڑ لینا تو عام سی بات ہوتی تھی۔ آسن، نیفا، بغل، پائنچہ تو بس ایسے ہی ادھڑ جاتا تھا۔ اماں بڑے چاؤ سے اسے سی دیتی تھیں۔ البتہ کبھی کبھار ہی یہ کہتے بھی سنا گیا کہ ”اس کے تو جسم پر کانٹے ابھرے ہوئے ہیں“ ۔

Read more

نیا برس اور تین لوگوں کے عہد

رشتے کے انتظار میں بیٹھی لڑکی کا عہد: میں اس سال کسی بھائی سے بھابھی کے سامنے کچھ نہیں مانگوں گی۔ میں ہمت دکھاؤں گی۔ میں اپنے اچھے مستقبل کا انتظار کروں گی۔ میں منڈی میں بکتے جانوروں کی بولی کا جانور نہیں ، اپنے آپ کو انسان سمجھوں گی۔ میں آنکھوں میں میرے جسم کو تولتی آنکھوں کو تحمل اور برداشت سے دیکھوں گی۔ میں بالکل بھی غصہ نہیں کروں گی۔ میں اس سال اپنی تصویر کی مزید بیس کاپیاں سال کے شروع میں ہی بنوا کر رکھ لوں گی۔

Read more

ریلوے اسٹیشن اور ٹرین سے جڑی یادیں

اپنے قصبے کے سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو کالج کے لئے حافظ آباد براستہ ٹرین جاتے تھے۔ ”ست والی گڈی“ کا مطلب علی الصبح گزرنے والی پہلی ٹرین تھا۔ کالیکی ریلوے اسٹیشن کے ہر حصے پر مخصوص عمر اور شعبہ کے افراد کا اکٹھ ہوتا۔ طالبات بتی گودام کے پاس سمٹی، چادروں میں لپٹی اور کنکھیوں سے نوجوان طلباء کو چکر کاٹتے دیکھتی تھیں۔ طلباء محض ایک یا دو کتب تھامے اسٹیشن کے ایک کونے سے دوسرے

Read more

بھاگ جاؤ بیٹا

بیٹا، بھاگو!
بھاگ جاؤ بیٹا!

یہ آواز آرمی پبلک سکول کے کاریڈورز میں گونج رہی تھی۔ بچے اس آواز سے مانوس تھے۔ اس آواز میں ہمیشہ شفقت اور محبت ہوتی تھی۔ آج اس آواز میں تڑپ اور احساس تھا۔

بیٹا بھاگو!
بھاگ جاؤ۔ رکو نہیں! بھاگ جاؤ!

یہ آواز آرمی پبلک سکول کی سینئر ٹیچر میڈم صائمہ زریں طارق کی تھی۔ وہ آڈیٹوریم کے ایک دروازے پر ڈھال بنے کھڑی تھیں۔ بطور ٹیچر وہ اس آڈیٹوریم سے بچوں کو کلاسز تک لانے یا آڈیٹوریم تک پہنچانے کا فرض متعدد بار نبھا چکی تھیں مگر آج صورتحال مختلف تھی۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں ان کی آواز اور چیخیں گونج رہی تھیں۔ بیٹا چھپ جاؤ!

Read more

یہ اماں ابا کی لڑائی کیسی؟

اماں ایک روز کے لئے کہیں رشتہ داروں کے ہاں جانا چاہیں تو ابا جی کی طرف سے تشویش اور پریشانی کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ عدم تحفظ و توجہی کا سراب انہیں گھیر لیتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کو اب کون سنبھالے گا؟ گھر میں موجود ہوں تو نوک جھونک اور ٹوک۔ بالعموم جب بچے جوان ہوں تو مرد حضرات اولاد کے سامنے اکثر ایسی باتیں اور حرکتیں دھراتے ہیں۔ میرا مشاہدہ یہی کہتا ہے کہ بزرگ

Read more

چیف جسٹس، دستخط شدہ فیصلہ اور فیس معافی

ہمارے ہاں لوگ سناروں، ٹھیکداروں اور آڑھتیوں سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتے تھے۔ ان کے بارے عمومی رائے تھی کہ ان کے پاس پیسے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ان سے جھگڑے کا مطلب تھا کسی لمبے کیس میں الجھنا، پولیس سے چھتر اور پیسے دے کر عدالتوں میں خواری۔ ہر شہر گاؤں میں ایسے پیسے والوں کو کوئی دھمکی لگاتا ہے اور نہ ہی ان سے کسی کیس میں الجھنا چاہتا ہے۔ حیران کن بات یہ کہ ان سب کے پاس تجوریاں ہوتی ہیں۔ سنار اور آڑھتی کی دوکان اور آڑھت پر آہنی تجوریاں رکھی ہوتی ہیں۔ ایک تنخواہ دار یا مزدور ان تجوریوں سے کیوں کر کیس لڑ سکتا ہے۔

میں ایک واٹس ایپ گروپ کا حصہ ہوں۔ اس گروپ کو والدین نے بنایا ہے۔ والدین تو ہم سب ہی ہیں مگر گروپ؟ جی ہاں۔ والدین کا گروپ۔ یہ سب اپنے بچوں کی تعلیم اور مہنگے سکولوں کے انتخاب پر پریشان ہیں۔ معاشرے کے سٹیٹس سمبل بن جانے والے سکولوں میں بچوں کو داخل تو کرا بیٹھے مگر اب ایک عجب مشکل کا شکار ہیں۔ علی الصبح بچوں کو تیار کر کے خوشی خوشی سکول بھیجتے ہیں اور پھر اس گروپ پر فیسوں، سکول کے مسائل اور سکول انتظامیہ کے رویے پر سیر حاصل بحث ہوتی ہے۔

Read more

نہر

”نصیباں“ تو اس بھینس کو لے جا اور اس کو نہلا دے۔ تیرا باپ کل سے شہر گیا ہے اور کسی نے بھی ان جانوروں کی خبر نہیں لی۔ اور ویسے بھی اس گھر میں تیرے میرے سوا ہے کون جو، ان بے زبانوں کو سنبھال سکے۔ نصیباں نے اپنے موٹی سی چوٹی کو ”پراندے“ میں مقید کرتے ہوئے سر کو گھما کر ماں کی طرف دیکھا۔ وہ اس بات سے بے نیاز باتیں کیے جارہی تھی کہ نصیباں ان باتوں کو سن بھی رہی ہے کہ نہیں۔ نصیباں نے آئینے کے ٹکڑے کو ایک طرف رکھا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ چارپائی کو اپنی کمر پر اٹھا کر دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ اس نے بھینس کا رسہ کھولا اور اس کو لیے گاؤں کے ساتھ بہتی نہر کی طرف بڑھ گئی۔

نصیباں رشید ے جٹ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اس کو ساری عمر یہ آرزو رہی تھی کہ کاش کوئی میرا بھی بھائی ہوتا۔ ان کا گاؤں ”سرحد“ کے بالکل ساتھ واقع تھا۔ نہر کی دوسری طرف ہندوستان تھا۔ اسے بچپن سے ہی یہی بات بتائی گئی تھی کہ اس نہر کو کسی بھی صورت پار نہیں کرنا۔ نہر کیا تھی ایک دریا تھا۔ نفرتوں اور ہر روز سنی جانے والی سازشوں کی نہر۔ اس نے ہمیشہ یہ دیکھا تھا کہ نہر کے دوسری سمت سکھنیاں انپی لمبی لمبی چوٹیاں کھولے کپڑے دھو رہی ہوتی تھیں یا پھر سکھ اپنے اپنے مویشیوں کو نہلا رہے ہوتے تھے۔ بچوں اور نوجوانوں کے گروپ نہر میں پہروں نہاتے رہے تھے۔

Read more

آنکھیں عالمی اردو کانفرنس کراچی میں چھوڑ آیا ہوں

مقامات و منازل کا حسن اس کے باسیوں سے ہوتا ہے۔ وہاں پر موجود نظاروں سے ہوتا ہے۔ ان مقامات سے جڑی یادوں سے ہوتا ہے۔ خزائیں، بہاریں، جلتی دھوپ، بلندیاں، سمندر کے کناروں کی اڑتی ریت یہ سب ، ہم سب کو کسی نہ کسی طرح پسند ہے۔ مجھے ہمیشہ سے کراچی اچھا نہیں لگتا تھا۔ کوئی مجھ سے پوچھتا کہ بھلا کیوں؟ میں جواب دیتا کہ کراچی میرے گھر سے بہت دور ہے۔ پھر میں کسی نہ کسی

Read more

جرمن سفیر کی ڈڈو کار اور ہمارا کردار

سادگی میں حسن ہے۔ ہمارا حسن گہنا سا گیا ہے۔ ہم سادگی بھول کر دکھاوے کی دوڑ میں بیچ دوراہے ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ کنفیوژڈ۔ نہ سمجھ آتا ہے کہ بچے کو مہنگے سکول سے نکال لیں اور نہ ہی فیسوں کا بوجھ اٹھا پا رہے ہیں۔ گھر کے بجلی، گیس، پانی کے بل دیکھ کر دل سنبھال لیتے ہیں۔ مہنگے ریستوران، شاپنگ سینٹر کسی سٹیٹس سمبل کے طور منتخب کرتے ہیں اور پھر کریڈٹ کارڈ کے بل کو

Read more

لڑکیاں کیا کیا برداشت کرتی ہیں؟

کچھ مجبوریوں کے سبب اپنا فیس بک اکاؤنٹ بند کرکے بیٹی کے نام پر اکاؤنٹ استعمال کرنا پڑا. کوئ خاص مقاصد نہ تھے. مگر یہ کیا؟ فیس بک ریکوسٹ کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ. پیغامات, کسی گروپ پر ایک لفظ لکھ دو اور پھر لائیکس کی ایک لمبی قطار. پسندیدگی ہی پسندیدگی. ڈی پی ایسی کہ میری بیٹی جس کے نام پر اکاؤنٹ تھا میری گود میں بیٹھی تھی. دس سالہ بچی کے وہم و گماں میں بھی نہیں

Read more

خان کا ڈھابہ

ڈھابہ۔ ہٹ۔ کھوکھا۔ چائے ہوٹل۔ چائے خانہ یہ سب ایسی جگہیں ہیں جہاں عام آدمی جاتا اور فرصت کے چند لمحے گزارتا ہے۔ آپ کو وہاں ایک کپ چائے کے ساتھ پراٹھا یا چپاتی کھاتے بہت سے لوگ نظر آئیں گے۔ ڈھابہ کی چائے کا نشہ ہر اس کے دل میں اتر جاتا ہے جسے کسی مجبوری کے تحت یہاں کھانے یا پینے کا موقع میسر آتا ہے۔ سادہ سے انداز، صفائی کی نفی کرتے ڈھابوں پر آنے والے لوگ

Read more

پرائیویٹ اسکولوں کا کاروبار اور تعلیمی خلفشار

تعلیم انسان کا بنیادی حق ہے۔ پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے ہمیشہ چشم پوشی کی گئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کے تمام ممالک کو اپنے جی ڈی پی کا چار فی صد تعلیم کے لئے مختص کرنا چاہیے۔ پاکستان میں یہ رقم ستر سالوں تک دو فی صد سے زیادہ مختص نہیں کی گئی تھی۔ ایسے میں ایک خواندہ کی تعریف کو بھی ہم نے توڑ مروڑ کر پیش کیا اور شرح خواندگی کو بڑھا چڑھا کر بیان

Read more