چیف جسٹس، دستخط شدہ فیصلہ اور فیس معافی

ہمارے ہاں لوگ سناروں، ٹھیکداروں اور آڑھتیوں سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتے تھے۔ ان کے بارے عمومی رائے تھی کہ ان کے پاس پیسے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ان سے جھگڑے کا مطلب تھا کسی لمبے کیس میں الجھنا، پولیس سے چھتر اور پیسے دے کر عدالتوں میں خواری۔ ہر شہر گاؤں میں ایسے پیسے والوں کو کوئی دھمکی لگاتا ہے اور نہ ہی ان سے کسی کیس میں الجھنا چاہتا ہے۔ حیران کن بات یہ کہ ان سب کے پاس تجوریاں ہوتی ہیں۔ سنار اور آڑھتی کی دوکان اور آڑھت پر آہنی تجوریاں رکھی ہوتی ہیں۔ ایک تنخواہ دار یا مزدور ان تجوریوں سے کیوں کر کیس لڑ سکتا ہے۔

میں ایک واٹس ایپ گروپ کا حصہ ہوں۔ اس گروپ کو والدین نے بنایا ہے۔ والدین تو ہم سب ہی ہیں مگر گروپ؟ جی ہاں۔ والدین کا گروپ۔ یہ سب اپنے بچوں کی تعلیم اور مہنگے سکولوں کے انتخاب پر پریشان ہیں۔ معاشرے کے سٹیٹس سمبل بن جانے والے سکولوں میں بچوں کو داخل تو کرا بیٹھے مگر اب ایک عجب مشکل کا شکار ہیں۔ علی الصبح بچوں کو تیار کر کے خوشی خوشی سکول بھیجتے ہیں اور پھر اس گروپ پر فیسوں، سکول کے مسائل اور سکول انتظامیہ کے رویے پر سیر حاصل بحث ہوتی ہے۔

Read more

نہر

”نصیباں“ تو اس بھینس کو لے جا اور اس کو نہلا دے۔ تیرا باپ کل سے شہر گیا ہے اور کسی نے بھی ان جانوروں کی خبر نہیں لی۔ اور ویسے بھی اس گھر میں تیرے میرے سوا ہے کون جو، ان بے زبانوں کو سنبھال سکے۔ نصیباں نے اپنے موٹی سی چوٹی کو ”پراندے“ میں مقید کرتے ہوئے سر کو گھما کر ماں کی طرف دیکھا۔ وہ اس بات سے بے نیاز باتیں کیے جارہی تھی کہ نصیباں ان باتوں کو سن بھی رہی ہے کہ نہیں۔ نصیباں نے آئینے کے ٹکڑے کو ایک طرف رکھا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ چارپائی کو اپنی کمر پر اٹھا کر دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ اس نے بھینس کا رسہ کھولا اور اس کو لیے گاؤں کے ساتھ بہتی نہر کی طرف بڑھ گئی۔

نصیباں رشید ے جٹ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اس کو ساری عمر یہ آرزو رہی تھی کہ کاش کوئی میرا بھی بھائی ہوتا۔ ان کا گاؤں ”سرحد“ کے بالکل ساتھ واقع تھا۔ نہر کی دوسری طرف ہندوستان تھا۔ اسے بچپن سے ہی یہی بات بتائی گئی تھی کہ اس نہر کو کسی بھی صورت پار نہیں کرنا۔ نہر کیا تھی ایک دریا تھا۔ نفرتوں اور ہر روز سنی جانے والی سازشوں کی نہر۔ اس نے ہمیشہ یہ دیکھا تھا کہ نہر کے دوسری سمت سکھنیاں انپی لمبی لمبی چوٹیاں کھولے کپڑے دھو رہی ہوتی تھیں یا پھر سکھ اپنے اپنے مویشیوں کو نہلا رہے ہوتے تھے۔ بچوں اور نوجوانوں کے گروپ نہر میں پہروں نہاتے رہے تھے۔

Read more

آنکھیں عالمی اردو کانفرنس کراچی میں چھوڑ آیا ہوں

مقامات و منازل کا حسن اس کے باسیوں سے ہوتا ہے۔ وہاں پر موجود نظاروں سے ہوتا ہے۔ ان مقامات سے جڑی یادوں سے ہوتا ہے۔ خزائیں، بہاریں، جلتی دھوپ، بلندیاں، سمندر کے کناروں کی اڑتی ریت یہ سب ، ہم سب کو کسی نہ کسی طرح پسند ہے۔ مجھے ہمیشہ سے کراچی اچھا نہیں…

Read more

جرمن سفیر کی ڈڈو کار اور ہمارا کردار

سادگی میں حسن ہے۔ ہمارا حسن گہنا سا گیا ہے۔ ہم سادگی بھول کر دکھاوے کی دوڑ میں بیچ دوراہے ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ کنفیوژڈ۔ نہ سمجھ آتا ہے کہ بچے کو مہنگے سکول سے نکال لیں اور نہ ہی فیسوں کا بوجھ اٹھا پا رہے ہیں۔ گھر کے بجلی، گیس، پانی کے بل…

Read more

لڑکیاں کیا کیا برداشت کرتی ہیں؟

کچھ مجبوریوں کے سبب اپنا فیس بک اکاؤنٹ بند کرکے بیٹی کے نام پر اکاؤنٹ استعمال کرنا پڑا. کوئ خاص مقاصد نہ تھے. مگر یہ کیا؟ فیس بک ریکوسٹ کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ. پیغامات, کسی گروپ پر ایک لفظ لکھ دو اور پھر لائیکس کی ایک لمبی قطار. پسندیدگی ہی پسندیدگی. ڈی پی…

Read more

خان کا ڈھابہ

ڈھابہ۔ ہٹ۔ کھوکھا۔ چائے ہوٹل۔ چائے خانہ یہ سب ایسی جگہیں ہیں جہاں عام آدمی جاتا اور فرصت کے چند لمحے گزارتا ہے۔ آپ کو وہاں ایک کپ چائے کے ساتھ پراٹھا یا چپاتی کھاتے بہت سے لوگ نظر آئیں گے۔ ڈھابہ کی چائے کا نشہ ہر اس کے دل میں اتر جاتا ہے جسے…

Read more

پرائیویٹ اسکولوں کا کاروبار اور تعلیمی خلفشار

تعلیم انسان کا بنیادی حق ہے۔ پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے ہمیشہ چشم پوشی کی گئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کے تمام ممالک کو اپنے جی ڈی پی کا چار فی صد تعلیم کے لئے مختص کرنا چاہیے۔ پاکستان میں یہ رقم ستر سالوں تک دو فی صد سے زیادہ مختص نہیں کی…

Read more