پاکستان ابوالکلام کی نظر میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں پڑھتے ہوئے ان کی پاکستان کے بارے میں کی گئی پیشگوئیاں نظر سے گزریں۔ ان میں سے تین اہم ترین میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔

1: پہلی پیشگوئی یہ تھی کہ تخلیق پاکستان مسلمانان ہند کو تین حصوں میں تقسیم کر دے گا۔ یعنی مسلمان جو ہندوستان میں رہ جائیں گے اور مشرقی اور مغربی پاکستان۔ پاکستان کے ان دو حصوں کا ساتھ رہنا تقریباً ناممکن ہے۔ پھر دنیا نے دیکھا کیسے صرف 24 سال کے اندر اندر صرف تین کرداروں کی چھوٹی چھوٹی غلطیاں اور طاقت کے نشے نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا۔ یہ گمان صرف 24 سال میں چکنا چور ہو گیا کہ پاکستان دونوں اطراف سے ہندوستان کو آڑے ہاتھوں لے گا۔

نوٹ:

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے مطابق جب تک جناح اور لیاقت علی خان جیسے لیڈر پاکستان کے پاس ہیں اسے کوئی نہیں توڑ سکتا۔

2: دوسری اہم ترین پیشین گوئی یہ تھی کہ پاکستانی اس مقصد کو بھول جائیں گے جس کی خاطر لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ جس کے حصول کے لیے پینسٹھ لاکھ لوگ سب کچھ بالائے طاق رکھ کر نئی سر زمین کی جانب چل پڑے۔ اور وہ مقصد تھا لا الہ الا اللہ لیکن آج ہم سب کچھ ہیں نہیں ہیں تو بس مسلمان نہیں ہیں۔ آج ہم فرقوں میں بٹ چکے ہیں اور سیکولر ازم ہمارے اندر سرایت کر چکی ہے۔

نوٹ:

یہاں میں پھر بتانا چاہوں گا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی یہ بھی سوچ تھی کہ جناح اور لیاقت علی خان جیسے لیڈروں کے ہوتے پاکستان کا مطلب کچھ اور نہیں ہو سکتا سوائے اسلام کے۔

3: تیسری پیشین گوئی یہ تھی کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی جوان نسل کو سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر استعمال کیا جائے گا اور وہ دو قومی نظریہ کو بھول جائیں گے۔ ان پر مایوسی کے اندھیرے چھا جائے گے اور وہ پاکستان چھوڑ جانے کو ترجیح دیں گے۔ اور حالات یہی دکھا رہے ہیں۔

نوٹ:
ایک بار پھر مولانا ابوالکلام آزاد جناح اور لیاقت علی خان کو بہت بڑے اور مخلص لیڈر سمجھتے تھے۔

میری رائے میں حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو جناح اور لیاقت علی خان کے بعد کوئی مخلص لیڈر نہیں ملا۔ ہر کوئی صرف اپنے ذاتی مفادات کے لیے اور طاقت کے حصول کی خاطر اس کو نقصان پہنچاتا رہا۔ چاہے پھر وہ کوئی سیاست دان ہو یا فوجی جرنیل اور آج ہم اس دوراہے پر ہیں کہ ہمیں یہ ہی نہیں معلوم کہ اس خطے کو بنانے کا مقصد کیا تھا، نظریہ کیا تھا۔ یہ مستقل نقصان ہمارے لیے سلو پوئزن ثابت ہوا۔

کامیابی کی راہ لبرل ہو جانا نہیں بلکہ صراط مستقیم ہے۔ علیحدہ وطن کا مطالبہ اس لیے کیا گیا تھا تاکہ مسلمان اقلیتوں کی سی زندگی نہ گزاریں اور اکثریت بن کر دنیا کو دکھائیں کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیسے کیا جاتا ہے مگر افسوس ہم اس راستے پہ نہیں ہیں۔ مذہب ایک کارڈ بن چکا ہے جسے ووٹ لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس پر بات کی جائے تو یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ یہ حساس موضوع ہے جبکہ اسلام ایک مکمل نظام زندگی سکھاتا ہے۔

مولانا ابوالکلام اپنے نام کی طرح میدان خطابت کے بادشاہ تھے ، ان کی شخصیت سے بہت کچھ سیکھنے کے بعد مجھے ان کی کچھ باتوں سے اختلاف بھی ہے۔ خیر وہ ان کی اپنی رائے تھی۔ مولانا کی ساری پیشین گوئیاں تو سچ ثابت نہیں ہوئیں لیکن ہم اس راہ پر ضرور ہیں اور قائد کے خواب سے کوسوں دور ہیں۔

اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے خصوصاً نوجوان نسل کے ہاتھوں میں ہے کہ وہ اس دور کے ابراہیم کی تلاش میں وقت برباد کرے گی یا اس ہجوم کو ایک قوم بنانے کے لئے کوئی اقدام کرے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *