ترین کے جہاز میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک تصویر گردش کر رہی تھی جس میں جہانگیر ترین کے ہمراہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران بیٹھے تھے جو جہانگیر ترین کی پیشی کے موقع پر اظہار یکجہتی کے لیے ان کے ہمراہ عدالت کے باہر پہنچے تھے۔ اس سے ایک رات قبل لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر جہانگیر ترین کی طرف سے دیے گئے عشائیے میں 30 سے زائد اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور مشیران نے شرکت کی۔

پی ٹی آئی اراکین اسمبلی اور جہانگیر ترین کا ایک ساتھ ہونا کوئی بڑی بات نہیں بلکہ یہی تو وہ دروازہ ہے جس سے داخل ہو کر بہت سے لوگ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے ترین کے گھر کا ڈنر ہو یا اس کے جہاز کی سیر جس جس نے بھی کی پھر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا بلکہ آگے بڑھتا گیا تحریک انصاف کی انتخابی مہم ہو یا پی ٹی آئی کی حکومت سازی اس میں ترین کے جہاز کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یار لوگ تو اسے اے ٹی ایم بھی قرار دیتے ہیں کہ چیئرمین کا ذاتی اور پارٹی خرچ ترین ہی کرتے رہے۔ خیر یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔

مگر ایک ایسے وقت میں جب ایف آئی اے اور بینکنگ کورٹ میں جہانگیر ترین کے خلاف چینی سیکنڈل اور بے نامی اکاؤنٹ کیسز زیر سماعت ہیں اور گزشتہ ایک سال سے انھوں نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی تھی جس کا اظہار جہانگیر ترین نے گزشتہ پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھی کیا کہ ”کیس شروع کیے بغیر ان کے سب اکاؤنٹ منجمد کر دیے گئے ۔ وہ ایک سال سے خاموش ہیں ، اس کے باوجود ان کی وفاداری کا کیا ثبوت چاہیے۔ وفاداری کا امتحان لیا جا رہا ہے ، میں خاموش ہوں ، میں چپ ہوں مگر تحریک انصاف سے انصاف کی امید رکھتا ہوں ۔ میں تو دوست تھا مجھے دشمنی کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ایسے لوگوں کو بے نقاب کرنا ضروری ہے جو انہیں عمران خان سے دور کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں، مجھے اس طرح الگ کرنے سے تحریک انصاف کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا“

اور پھر جہانگیر ترین نے اپنی حامیوں کا پاور شو کرنے کے لیے اراکین اسمبلی کو عشائیے پر بلایا جو ان سے اظہار یکجہتی کے لیے پیشی کے موقع پر بھی ان کے ہمراہ عدالت پہنچے ۔ ان تمام ممبران میں اکثریت ان اراکین اسمبلی کی تھی جو 2018 کے انتخابات میں آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے اور پھر جہانگیر ترین کے جہاز میں بیٹھ کر بنی گالا پہنچے۔ ان سے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں پنجاب کے صوبائی وزراء نعمان لنگڑیال، اجمل چیمہ صوبائی مشیران میں رفاقت گیلانی، عبد الحئی دستی، امیر محمد خان، فضل جبوانہ ممبران قومی اسمبلی میں راجہ ریاض، سمیع اللہ گیلانی، خواجہ شیراز، غلام بی بی بھروانہ مبین عالم انور وغیرہ اور ممبران صوبائی اسمبلی میں خرم لغاری، اسلم بھروانہ، طاہر رندھاوا، نذیر بلوچ افتخار گوندل وغیرہ شامل تھے۔

سیاست کے اسرار و رموز سمجھنے والے اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ 2018 کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے آزاد ممبران اسمبلی کے پاس جہانگیر ترین کا ہیلی کاپٹر پہنچا ہو اور وہ چھلانگ لگا کر اس میں بیٹھ گئے ہوں، یقیناً اس میں کچھ لے دے ہوا ہو گا،  کوئی گفت و شنید ہوئی ہو گی ، کوئی مک مکا ہوا ہو گا،  کوئی وعدے وعید ہوئے ہوں گے ، کوئی معاملات طے ہوئے ہوں گے ، کوئی ترقیاتی منصوبوں کے نام پر فنڈز کی بات ہوئی ہو گی،  کچھ انتخاب پر اٹھنے والے اخراجات سامنے رکھے گئے ہوں گے ۔ اس کے بعد ہی یہ جہاز دھڑا دھڑ مسافروں کو بھر کر بنی گالا پہنچاتا رہا ہو گا۔

یہی وجہ ہے 2018 کے انتخابات کے بعد اخبارات اور نیوز چینل کی ہیڈ لائن کچھ ایسی ہوا کرتی تھیں کہ آج جہانگیر ترین کا جہاز 10 آزاد اراکین کو لے کر بنی گالا پہنچ گیا اور آج 15 کو لے کر پہنچ گیا ۔ یہی وہ وقت تھا جب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے لے کر ایک عام کارکن تک سب جہانگیر ترین کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے ۔ اسے تحریک انصاف کا عظیم سرمایہ قرار دیا جا رہا تھا۔ نئے پاکستان، تبدیلی اور جمہوریت کے لیے ان کی خدمات کو شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کیا جا رہا تھا اور جہانگیر ترین کے اس جہاز، ہیلی کاپٹر کی تصاویر کو دھڑا دھڑ شیئر کیا جا رہا تھا جس میں وہ اراکین اسمبلی کو لاد لاد کر بنی گالا پہنچا رہے تھے۔

تصاویر آج بھی شیئر کی جا رہی ہیں ، بندے اکٹھے کرنے والا بندہ بھی وہی ہے اور اکٹھے ہونے والے بندے بھی وہی ہیں ، جہاز بھی وہی ہے ، ہیلی کاپٹر بھی وہی ہے مگر فرق یہ ہے کہ اس وقت بنی گالا پہنچایا جا رہا تھا، آج بظاہر بنی گالا سے کھینچا جا رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے اس وقت خراج تحسین پیش کیا جا رہا تھا اور اب گالیوں سے تواضع کی جا رہی ہے ۔ ضمیر فروش اور بکاؤ مال قرار دیا جا رہا ہے۔ سوال تو یہ بھی کہ بنی گالا جاتے وقت یہ لوگ کون سے حاجی سلتو تھے؟ جس کا ایک بار مول لگ جائے وہ انمول کیسے ہو سکتا ہے۔ جہانگیر ترین ٹھیک ہے یا غلط اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ ملک میں احتساب ہو رہا ہے یا انتقام اس کا فیصلہ وقت کرے گا مگر اصول اور اخلاقیات کے پیمانے الگ الگ کیوں؟

اگر جہانگیر ترین کے جہاز میں بیٹھ کر بنی گالا جانے والے پوتر ہو گئے تھے تو اب ترین کے ساتھ جانے سے بھرشٹ کیوں ہو گئے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ مفادات کے اس کوڑا دان میں ٹھیک اور غلط کچھ اس طرح گڈ مڈ ہوئے ہیں کہ نہ ٹھیک ٹھیک رہا اور نہ غلط غلط اور سچ تو یہ بھی ہے کہ عوام کے ووٹ کا تقدس پامال کرنے والے بنی گالا میں بیٹھے ہوں یا ترین کے جہاز میں رائے ونڈ میں بیٹھے ہوں یا بلاول ہاؤس میں جو غلط ہے وہ ہر جگہ غلط ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *