مقتول خاتون نے ہلاکت سے قبل مزاحمت کر کے قاتل کو بھاگنے نہ دیا

محمد کاظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والی خاتون ملک ناز کے قتل کے مقدمے میں جن دو ملزمان کو سزا ہوئی ان میں سے ایک کی گرفتاری اس لیے ممکن ہوئی کہ ہلاکت سے پہلے مقتول خاتون نے اس قدر مزاحمت کی کہ ملزم فرار نہ ہوسکا۔

تقریباً ایک سال قبل پیش آنے والے قتل اس واقعے میں عدالت نے دو ملزمان میں سے ایک کو سزائے موت اور دوسرے کو عمر قید کی سزا دی ہے جبکہ دو دیگر ملزمان کو بری کردیا ہے۔ اس واقعے میں ملک ناز کی کمسن بچی بھی گولی لگنے سے زخمی ہوئی تھی۔

واقعے میں ملوث ایک شخص کو مقتول خاتون نے وقت پر بھاگنے نہیں دیا تھا اور پولیس نے اسی ملزم کی نشاندہی پر دوسرے ملزمان کو پکڑا تھا۔

ملک ناز کے قتل کے خلاف نہ صرف کیچ میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا بلکہ اس واقعے کے خلاف کوئٹہ اور بلوچستان کے متعدد دیگر علاقوں میں بھی احتجاج کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کوئٹہ: جے یو آئی کوئٹہ کے سرپرستِ اعلیٰ قتل

صحافی انور جان کے مبینہ قتل پر بلوچستان میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیوں ہوا؟

بلوچستان: خضدار میں ایک ہندو تاجر کے قتل کے بعد احتجاج

حیات بلوچ کو قتل کرنے والے ایف سی اہلکار کو موت کی سزا

ملک ناز کون تھی اور ان کے قتل کا واقعہ کب اور کیسے پیش آیا تھا؟

ملک ناز ایک گھریلو خاتون تھیں جو ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت سے 25 کلومیٹر دور ڈھننوک کی رہائشی تھیں۔

ان کے قتل کا واقعہ 25 اور 26 مئی 2020 کی درمیان شب ان کے گھر میں پیش آیا تھا۔

ملک ناز کی کزن جاسم بلوچ کی جانب سے تربت کے سٹی پولیس سٹیشن میں جو ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی اس کے مطابق وہ اور ان کے خاندان کے دیگر افراد گھر کے احاطے میں سو رہے تھے کہ رات کے سوا دو بجے کے قریب انھوں نے گھر کے اندر لوگوں کے آنے کی آواز سنی۔

جاسم کے مطابق انھوں نے دیکھا کہ دو افراد ان کی طرف آ رہے تھے جن میں سے ایک کے ہاتھ میں کلاشنکوف اور دوسرے کے ہاتھ میں پستول تھا۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ وہ حکومتی اداروں کے لوگ ہیں اور گھر کی تلاشی لینے آئے ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق انھوں نے گھر والوں کو ایک کمرے میں بند کیا لیکن جاسم کو اس دوران گھر سے باہر نکلنے کا موقع ملا اور انھوں نے جا کر اپنے رشتہ داروں کو جگایا۔ جب وہ رشتہ داروں کو اپنے گھر کی طرف لا رہے تھے تو انھیں گھر سے فائرنگ کی آواز سنائی دی۔

انھوں نے بتایا کہ جب وہ قریب پہنچے تو گھر میں داخل ہونے والوں میں سے ایک شخص باہر کھڑی موٹر سائیکل کی جانب بھاگ کر جارہا تھا جس کو انھوں نے پکڑ لیا اور ان کے ساتھ آنے والے دوسرے لوگوں نے آ کر اسے قابو کیا۔

ان کے استفسار پر پکڑے جانے والے شخص نے اپنا نام الطاف بتایا جبکہ جس شخص کے پاس کلاشنکوف تھی وہ ان کے آنے سے پہلے فرار ہو گیا تھا۔

جاسم کے مطابق جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ مزاحمت پر ان کی خالہ زاد بہن ملک ناز کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا جبکہ ان کی بیٹی برمش زخمی تھی۔

جاسم کے بڑے بھائی رحمت بلوچ نے بتایا کہ ملک ناز ایک باہمت اور بہادر خاتون تھیں جس نے نہ صرف مزاحمت کی بلکہ ملزمان میں سے ایک الطاف کو پکڑ لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے دوسرے ساتھی نے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ملک ناز ہلاک ہوئی تھی جبکہ ان کی چار سالہ بیٹی زخمی ہوئی تھی۔

انھوں نے بتایا چونکہ ملک ناز کی مزاحمت کی وجہ سے الطاف کو گھر سے نکلنے اور فرار ہونے میں تاخیر ہوئی اس کے باعث باہر سے آنے والے لوگوں نے ان کو پکڑ لیا اور انھوں نے اپنے فرار ہونے والے ساتھی کے بارے میں بھی بتا دیا۔

رحمت بلوچ نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد اطلاع ملنے پر پولیس وہاں پہنچ چکی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس ملزم کو گھر سے باہر فرار ہونے کی کوشش کے دوران پکڑا گیا تھا انھوں نے اپنے فرار ہونے والے ساتھی باسط کے بارے میں بتایا تھا۔

اس کیس کے پراسیکوٹر ظفر علی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ پولیس نے خاتون اور بچی پر فائرنگ کرنے والے ملزم باسط کے علاوہ ان کو فرار میں مدد دینے کے الزام میں سیف اللہ نامی شخص کو گرفتار کیا تھا۔

سیف اللہ پر الزام تھا کہ انھوں نے گاڑی کے ذریعے باسط کو وہاں سے فرار کروایا۔

پولیس

Getty Images
واقعے میں ملوث ایک شخص کو مقتول خاتون نے وقت پر بھاگنے نہیں دیا تھا اور پولیس نے اسی ملزم کی نشاندہی پر دوسرے ملزمان کو پکڑا تھا۔

گرفتاری کے باوجود بڑے پیمانے پر احتجاج کیوں ہوئے تھے؟

جرائم کے دیگر واقعات میں احتجاج ملزمان کی گرفتاری کے لیے کیا جاتا ہے لیکن یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس میں گھر میں داخل ہونے والے دونوں ملزموں کی گرفتاری کے بعد بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا تھا۔

سب سے بڑا احتجاج ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت میں آل پارٹیز کیچ کے زیر اہتمام کیا گیا تھا۔

کیچ اور دیگر علاقوں میں احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کا یہ موقف تھا کہ نہ صرف پہلے پکڑے جانے والے ملزم نے یہ بتایا تھا کہ وہ سمیر سبزل نامی شخص کے لوگ ہیں بلکہ دوسرے ملزم نے بھی پولیس کے سامنے یہی بیان دیا تھا۔

بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے بی بی سی کو اس واقعے کے خلاف ہونے والی احتجاج کے دوران یہ بتایا تھا کہ ان وارداتوں کے پیچھے منظم گروہ ہیں جن کو طاقتور حلقوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی سمیت آل پارٹیز کا یہ مطالبہ ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث لوگوں کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

تاہم بعد میں پولیس نے سمیر سبزل کو بھی گرفتار کیا تھا جس پر آل پارٹیز کیچ کی جانب سے اس گرفتاری کو سراہا گیا تھا اور اسے عوامی تحریک کی پہلی کامیابی سے تعبیر کیا گیا تھا۔

عدالت سے کن ملزمان کو سزا ہوئی؟

اس مقدمے میں ملک ناز کے لواحقین کی پیروی جاڑین دشتی ایڈووکیٹ نے کی۔ انھوں نے بتایا کہ پولیس نے ملک ناز کو ہلاک اور ان کی بیٹی کو زخمی کرنے کے مقدمے کا چالان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تربت کی عدالت میں دائر کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سماعت مکمل ہونے پر عدالت کے جج محمد رفیق لانگو نے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا جس میں وقوعہ کے روز ملک ناز کے گھر میں داخل ہونے والے ملزمان باسط اور الطاف کو سزا سنائی جبکہ سمیر سبزل اورسیف اللہ کو بری کردیا۔

مقدمے کے پراسیکوٹر ظفر علی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ملک ناز کے قتل کے جرم میں باسط کو سزائے موت اور الطاف کو عمر قید کے علاوہ کلاشنکوف برآمد ہونے پر باسط کو پانچ سال اور پستول برآمد ہونے پر الطاف کو تین سال قید کی سزا دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ برمش کو زخمی کرنے پر دونوں ملزمان کو بیس بیس سال قید کی سزا ہوئی۔

سزا پر ملک ناز کے خاندان اور آل پارٹیز کیچ کارد عمل

ملک ناز کے کزن رحمت بلوچ نے بتایا کہ انہیں اصل اطمینان اس وقت ہوگا جب ملزمان کو ملنے والی سزا پر عملدرآمد ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں جو بھی اس واقعے میں ملوث ہیں ان سب کو سزا ہو۔

رابطہ کرنے پر آل پارٹیز کیچ کے موجودہ کنوینر غلام یاسین بلوچ نے بتایا کہ عدالت کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے لیکن جہاں تک لوگوں کی بات ہے وہ دو ملزمان کو بری کرنے کے فیصلے سے مطمئن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے وہ شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خاتون رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بتایا کہ جس گروہ کے کارندوں نے یہ کام کیا اس کے مبینہ سرغنہ سمیر سبزل کو سزا نہیں ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس فیصلے سے اس وقت مطمئن ہوتے جب گروہ کے سرغنہ کو سزا ملتی۔

تاہم مقدمے کے پراسیکیوٹر ظفرعلی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عدالت نے سمیر سبزل اور سیف اللہ کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا۔

‘والدہ نہیں رہی لیکن برمش مکمل صحت یاب ہے

برمش ملک ناز کی اکلوتی اولاد ہے۔ جب وہ ایک سال قبل حملے میں زخمی ہوئی تھی تو اس وقت ان کی عمر صرف چار سال تھی۔

فائرنگ سے زخمی ہونے سے پہلے ان کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال تربت منتقل کیا گیا جہاں سے ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد علاج کی غرض سے کراچی منتقل کیا گیا۔

رحمت بلوچ نے بتایا کہ بچی صحت یاب ہے اور وہ اپنی والدہ کو یاد کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18809 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp