شہر غریب کیسے ہوتے ہیں؟

پڑھنے والے گیان کے دیوتا ہیں۔ میں کم ہنر معافی چاہتا ہوں کہ آج کی نوحہ گری میں صیغہ متکلم کا عیب شامل ہو گا۔ اگر اخبار لفظوں کی بستی ہے تو کالم کو گلی سمجھنے میں کیا ہرج ہے۔ لکھنے والا ایک کے بعد دوسرے دروازے پر خبر پہنچاتا ہوا نکڑ پار کر جاتا ہے۔ خبر اہم ہے، نامہ بر کو تو بہرصورت گزر جانا ہے۔ بھلے ساقی امروہوی کا مصرع ہی زیر لب کیوں نہ ہو، ’چل رہے

Read more

لاوارث لاش، معلق شہری اور گم گشتہ ریاست

مولانا ابوالکلام آزاد فروری 1922 میں بغاوت کے الزام میں کلکتہ کی عدالت میں پیش کیے گئے۔ انگریز مجسٹریٹ کے روبرو بیان دیتے ہوئے ایک ایسا تراشیدہ اور ٹھکا ہوا جملہ کہا کہ قول فیصل قرار پایا۔ ’’تاریخ عالم کی سب سے بڑی نا انصافیاں میدان جنگ کے بعد عدالت کے ایوانوں ہی میں ہوئی ہیں۔‘‘ مولانا واقعتاً مرد آزاد تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ظلم کا ہزار پا مطلق العنانی کی دلدل میں پلتا ہے اور نا انصافی کا

Read more

حیات بلوچ کے نام

ستم ظریفی ہے؟ انتہائے ظلم ہے؟ جبر ہے؟ یا شاید یہ الفاظ بھی بلوچستان کے دور ماندہ حصے میں اس گزرے واقع کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ دوسروں کی حیات کو اس طرح بے دردی اور سر عام ختم کرنے کے اختیاری گھمنڈ والی رسم کوئی نئی نہیں ہے۔ یہ دہائیوں سے چلی آ رہی ایک ذہنیت کا نام ہے۔ جسے سماجی و تہذیبی دائرے میں لانے کے لیے فلاحی ریاستوں کا تصور پیش کیا جاتا ہے۔ ریاست

Read more

ریاست پاکستان کی کوششوں کے باوجود بلوچ نوجوان عسکریت پسندی کی جانب مائل کیوں ہو رہے ہیں؟

پاکستان کی حکومت اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے صوبہ بلوچستان میں شورش کے خاتمے اور عسکریت پسند گروہوں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے نوجوانوں کی سوچ کو تبدیل کرنے اور انھیں مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے جاتے رہے ہیں۔ مگر یہ کوششیں ناکافی کیوں ثابت ہوئی؟

Read more

کراچی یونیورسٹی خودکش حملہ: چھیپا سرد خانے میں موجود شاری بلوچ کے اعضا اور ناخنوں پر لگی گہری گلابی نیل پالش

کراچی یونیورسٹی میں خود کش حملہ کرنے والی شری کے جسمانی اعضا اور چینی شہریوں کی لاشیں تاحال چھیپا کے سرد خانے میں موجود ہیں، پولیس اور دیگر اداروں نے دو فلیٹس پر چھاپے مارے ہیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہے وہاں خودکش بمبار شاری رہتی تھیں۔

Read more

ایک دہشت گرد کی وال سے

پھول، پرندے، کتابیں، شاعری، موسیقی، فلسفہ، محبت اور مزاحمت وہ موضوعات ہیں جو شاری بلوچ عرف برمش کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا تجزیہ کرنے پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ خودکش حملہ کرنے سے ایک دن پہلے شاری بلوچ نے اپنی ٹویٹر وال پر یہ ٹویٹ شیئر کیا تھا۔ ”انقلابی مسلح جدوجہد کو بہترین راستے کے طور پر نہیں چنتے، یہ وہ راستہ ہے جو ظالم مظلوم پر مسلط کرتا ہے“۔ فیڈل کاسترو اگر ہم شاری بلوچ عرف برمش کی ٹویٹر

Read more

شاری بلوچ کے اہلخانہ کو اب بھی لگتا ہے ’جیسے یہ کوئی بُرا خواب ہے‘

کراچی میں چینی شہریوں پر خودکش حملہ کرنے والے شاری بلوچ کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی اپنی بیٹی سے آخری ملاقات ڈیڑھ ماہ قبل ہوئی تھی جس میں شاری نے انھیں آگاہ کیا تھا کہ وہ جلد تربت آئے گی لیکن وہ تو نہیں آئی مگر خودکش حملے کی خبر آ گئی۔

Read more

بلوچستان: ضلع کیچ میں اپنے گھر میں قتل کیے جانے والے نوجوان کے لیے انصاف کا مطالبہ

ایران کی سرحد سے متصل بلوچستان کے دور دراز ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ کی رہائشی خاتون بی بی سعیدہ کے نوجوان بیٹے سراج بلوچ کو دو افراد نے گذشتہ ہفتے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

Read more

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے

ہمارے ہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ یہاں کسی بھی بڑے حادثہ کا ہونا یا کوئی بھی بڑا واقعہ کا رونما ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ہمارے ہاں اس ریاست میں حق اور سچ کی بات کہنا کسی گناہ سے کم نہیں سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اندھیرا ہے جہالت ہے لاقانونیت ہے یہاں جنگل کا قانون ہے۔ یہاں ہمیشہ حق کی آواز کو دبایا جاتا ہے۔ یہاں جو اپنے حق کیلئے آواز بلند کرتا ہے اس کو

Read more

زمانہ عدالت نہیں ہے

یہ عنوان بیسویں صدی میں اردو کے ایک بڑے شاعر مبارک احمد کی 1961ء میں لکھی نظم سے ماخوذ ہے۔ مبارک احمد کا کچھ ذکر رہے گا مگر اس سے پہلے صاف کہنا ہے کہ پچھلے کچھ دن بے کراں ذہنی انتشار، پژمردگی اور اعصابی دباؤ  میں گزرے۔ ملکی سیاست بدستور دگرگوں ہے اور میری نسل کے عرصہ حیات میں کسی بامعنی بہتری کے کوئی آثار نہیں۔ خیر یہ تین نسلوں کی رائیگانی کی حکایت ہے اور چوتھی نسل کے

Read more

سنہ 2020 میں انسانی حقوق کی صورتحال – اہم نکات

کوویڈ 19 کا بحران ● سال کے آخری دن تک 10,105 افراد وائرس کے باعث وفات پا چکے تھے، مصدقہ کیسز کی تعداد 479,715 ہو چکی تھی اور وائرس کی ایک نئی اور زیادہ متعدی قسم کے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ ● وبا کے دوران میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں فیکٹری اور نجی ملازمین اپنی ملازمتیں کھو بیٹھے اور سب سے زیادہ نقصان دیہاڑی دار مزدوروں کا ہوا۔ ● زیادہ تر جیلوں میں گنجائش

Read more

انسانی حقوق کی صورت حال پر ایچ آر سی پی کی رپورٹ: سنہ 2020 معاشی مسائل اور اظہار رائے پر پابندیوں کا سال

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے 2020 میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق رپورٹ کے اجراء کا مقصد ریاست اور حکومت کو اس خود اطمینانی سے باہر نکالنا ہے کہ ایک نیولبرل اور متعصب نظام پاکستان کے عوام کو وہ حقوق اور آزادیاں دے سکتا ہے جن کے وہ قانونی اور آئینی طورپر مستحق ہیں۔ کوویڈ 19 بحران کا انسانی حقوق کے

Read more

مقتول خاتون نے ہلاکت سے قبل مزاحمت کر کے قاتل کو بھاگنے نہ دیا

ملک ناز کے قتل کے خلاف نہ صرف کیچ میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا بلکہ اس واقعے کے خلاف کوئٹہ اور بلوچستان کے متعدد دیگر علاقوں میں بھی احتجاج کیا گیا تھا۔

Read more

کریمہ بلوچ: تمپ تیری تربت ( قبر)۔

تحصیل تمپ بلوچستان کے ضلع کیچ کی ایک قدیم رقبے کے اعتبار سے خاصی بڑی تحصیل ہے جس میں کئی گاؤں اور دیہات آباد ہیں۔ یہ قیام پاکستان سے قبل اپنے محل وقوع کی وجہ سے اس خطے کا ہیڈ کوارٹر رہی ہے۔

تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں وقتاً فوقتاً مختلف طاقتیں حملہ آور اور قابض ہوئیں جس میں عرب، ایرانی، انگریز، پرتگالی اور منگول شامل ہیں۔ 1410 میں ایران اور وسط ایشیا سے منگول اقتدار کا خاتمہ ہوا اور یہاں کے حقیقی باشندے ( بلوچوں ) نے اپنی جداگانہ حیثیت منوا لی۔

Read more

طالب علم حیات بلوچ کو قتل کرنے والے ایف سی اہلکار کو موت کی سزا

صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت کے ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج نے طالب علم حیات بلوچ کے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم ایف سی اہلکار کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی ہے۔

Read more

بلوچستان: طالب علم حیات بلوچ کے قتل پر ایف سی اہلکار کو سزائے موت کا حکم

پاکستان کے رقبے کے لحاط سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کی ایک عدالت نے اگست 2020 میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے طالب علم حیات مرزا بلوچ کے قتل کیس میں ملزم کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

مکران کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج رفیق احمد لانگو نے کیس کا فیصلہ سنایا۔

ضلع کیچ کے علاقے تربت آبسر میں 13 اگست 2020 کو ایف سی کے ایک اہلکار کی فائرنگ سے حیات مرزا بلوچ کی موت ہوئی تھی۔ حیات مراز بلوچ کراچی یونیورسٹی کے ایک طالب علم تھے۔ جب کہ یونیورسٹی بند ہونے پر چھٹیاں گزارنے گاؤں آئے ہوئے تھے۔

Read more

دائیں بازو کے جذباتی لکھاری، بائیں بازو کے منطقی دانشور اور پانچ واقعات

پہلا واقعہ۔ 3 جنوری کی صبح بلوچستان کے علاقے مچھ میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے گیارہ مزدور اپنے جھونپڑی نما مکان میں سوئے رہے تھے کہ اچانک کچھ مسلح افراد نے ان پر دھاوا بول دیا۔ بندوق کی نوک پر ان بد حال مزدوروں کے ہاتھ پیر باندھے گئے، انہیں گولیاں ماری گئیں اور پھر انہیں کسی جانور کی طرح ذبح کر کے اس عمل کی ویڈیو بنا کر انٹر نیٹ پر چڑھا دی۔ قتل ہونے والے مظلوموں کا تعلق شیعہ ہزارہ برادری سے تھا جبکہ قتل کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔

دوسرا واقعہ۔ چند ہفتوں سے ٹی وی چینلز پر ایک اشتہار نشر کیا جا رہا تھا جس میں ایک پاکستانی مرد اداکار کسی قوت بخش وٹامن کی تشہیر کرتا ہوا کہتا تھا کہ یہ صرف مردوں کے لیے ہے۔ سنا ہے کہ اب سے چند گھنٹے پہلے پیمرا نے اس بیہودہ اور فحش اشتہار کے نشر کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ تیسرا واقعہ۔ 30 دسمبر کو خیبر پختونخوا کے ضلع کڑک میں انتہا پسندوں کے ایک ہجوم نے ہندوؤں کی ایک مقدس ہستی کی سمادھی اور اس میں واقع مندر کو تباہ کر کے آگ لگادی اور اسی جگہ پر واقع ہندو برادری کے ایک زیر تعمیر مکان کو بھی مسمار کر دیا۔

چیف جسٹس جناب گلزار احمد نے فوری طور پر واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے مندر کی از سر نو تعمیر کا حکم دیا ہے۔ کئی سال بعد تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے جب از خود نوٹس کے اختیار کا درست استعمال کیا گیا ہے۔ چوتھا واقعہ۔ 2 جنوری کو اسلام آباد میں اکیس سالہ نوجوان اسامہ ستی کو پولیس نے ناکے پر روکنے کی کوشش کی اور گاڑی نہ روکنے پر چاروں طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے موقع پر اس نوجوان کو ہلاک کر دیا۔ نوجوان کی جتنی عمر تھی اتنی ہی اسے گولیاں ماری گئیں۔

مقتول کے والد کے مطابق چند دن پہلے اسامہ کی پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی تھی اور پولیس نے اسے ’مزا چکھانے‘ کی دھمکی دی تھی۔ پانچواں واقعہ۔ 22 دسمبر کو بلوچستان سے تعلق رکھنے والی خاتون کریمہ بلوچ ٹورنٹو میں اچانک مردہ حالت میں پائی گئیں۔ مس بلوچ پانچ برس سے کینیڈا میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ ان کی موت کی خبر کے چند ہی گھنٹوں بعد ٹورنٹو پولیس نے بیان دیا کہ اس واقعے میں کسی قسم کے جرم کے شواہد نہیں ملے۔

یہ پانچ مختلف واقعات ہیں، ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، اسی لیے یہ واقعات لکھتے ہوئے میں نے کسی ترتیب کا خیال نہیں رکھا۔ بطور لکھاری یہ میری ’صوابدید‘ ہے کہ میں کس واقعے کو موضوع بناؤں اور کس زاویے سے اس پر لکھوں۔ لیکن جب بھی کوئی لکھاری اپنے صوابدیدی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے موضوع کا انتخاب کرتا ہے تو ساتھ ہی وہ قاری پر اپنی ترجیحات، نظریات اور انداز فکر بھی واضح کر دیتا ہے۔ پہلے واقعے سے شروع کرتے ہیں۔ شاید ہی کوئی کالم نگار ہو جس نے اس موضوع پر ماتم نہ کیا ہو، لیکن محض نوحہ لکھنا کافی نہیں، یہ زاویہ دکھانا بھی ضروری ہے کہ یہ داعش ہمارے

ملک میں کہاں سے آئی، اس کی ہمدرد اور ہم خیال تنظیمیں کون سی ہیں، یہ کون لوگ ہیں جو مذہب کے نام پر سفاکی سے قتل کو جائز سمجھتے ہیں اور کیوں ہمارے وہ دوست جنہیں ذرا سی بھی آزاد خیالی برداشت نہیں، اس مذہبی جنونیت پر منہ میں گھنگنیاں ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں اور اگر بولتے بھی ہیں تو یوں کہ داعش جیسی کسی تنظیم کی دل آزاری نہ ہو۔ کسی موضوع پر محض لکھنے سے حق ادا نہیں ہو جاتا بلکہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ لکھنے والے نے کیا لکھا ہے۔

میرے پاس بھی یہ اختیار موجود ہے کہ جس اشتہار پر پیمرا نے پابندی لگائی اس پر لکھوں اور کہوں کہ یہ پابندی ٹھیک لگی ہے، اس قسم کے اشتہارات ٹی وی پر نہیں چلنے چاہئیں کہ یہ اشتہارات تو مغربی ممالک میں بھی رات کو ایک مخصوص وقت کے بعد نشر کیے جاتے ہیں مگر پھر سوچا کہ کیا میری ترجیح یہ اشتہار ہے یا کڑک میں تباہ کیا گیا مندر جس نے میرے ملک کا تاثر برباد کر دیا! مندر کو آگ لگائی گئی، سمادھی جلا دی گئی، ایک ہم وطن ہندو کا گھر مسمار کر دیا گیا۔ کیا اس موضوع پر لکھنے کا ٹھیکہ صرف وجاہت مسعود کا ہے؟ مذہبی رجحان رکھنے والے ہمارے دوست اس پر کیوں نہیں لکھتے؟ انہیں اس ضمن میں کیا امر مانع ہے؟ کیوں اس موضوع پر ویسے ہی پھنکارتے ہوئے کالم نہیں آئے جیسے عورت مارچ کے پلے کارڈ پر درج نعروں کے خلاف آتے ہیں؟

چوتھے واقعے پر بھی میڈیا میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ یہ موضوع ایسا ہے جس پر مرد حر بننا قدرے آسان ہے کیونکہ مجرمان پولیس اہلکار ہیں۔ اس واقعے کی تفصیلات پڑھیں تو روح کانپ جاتی ہے کہ کیسے سفاک پولیس والوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے اس نوجوان کو چھلنی کر دیا۔ پولیس کی جاری کردہ پریس ریلیز اور بعد ازاں عدالت میں بیانات سے صاف لگتا ہے کہ کسی کو اپنے کیے پر پشیمانی نہیں۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ پہلا واقعہ ہے نا آخری۔

خروٹ آباد سے لے کر حیات بلوچ کے قتل تک اگر کسی کو سزا ہو جاتی تو شاید یہ پولیس والے گولیاں مارنے سے پہلے کچھ سوچتے۔ لیکن جس معاشرے میں سی سی پی او کی ذہنی پستی قابل رحم ہو وہاں گریڈ سات کے نیم خواندہ کانسٹیبل کے ہاتھ میں خود کار اسلحہ اسی قسم کے بہیمانہ قتل کے کام ہی آئے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے حالات میں بھی ریاست سے محبت غیر مشروط ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب اسامہ ستی کے والد، ہزارہ برادری کے پسماندگان اور ہندو ہم وطنوں سے لینا چاہیے، ہم لکھاری اس بات کا جواب نہیں دیں گے کیونکہ ہمارے پاس لکھنے کے لیے اور بہت سے ’اہم موضوعات‘ ہیں۔

اب کچھ بات پانچویں واقعے کی بھی ہو جائے۔ جس روز کریمہ بلوچ کی ’پراسرار‘ موت کی خبر آئی، ٹویٹر پر اس کا ٹرینڈ چل گیا اور بہت سے بائیں بازو کے لکھاریوں نے مس بلوچ کی موت کو قتل قرار دیا۔ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کس بنیاد پر انہوں نے یہ رائے قائم کی! ٹورنٹو پولیس نے دو ٹوک الفاظ میں ایسے کسی امکان کو رد کر دیا تھا مگر ہمارے یہ دانشور دوست مسلسل یہ تاثر دیتے رہے کہ مس بلوچ کو ان کے بلوچ قوم پرست خیالات کی پاداش میں یقیناً قتل ہی کیا گیا ہوگا۔ عام حالات میں یہ لوگ عقلی دلائل سے کام لیتے ہیں اور یہی بات انہیں دائیں بازو کے جذباتی لکھاریوں سے ممتاز کرتی ہے مگر اس معاملے میں انہوں نے جذبات سے کام لیا اور یہ نہیں سوچا کہ ہم جمال خشوگی قتل کے بعد کے

عہد میں ہیں، یہ ممکن نہیں کہ کینیڈا جیسے ملک میں جلا وطنی کی زندگی گزارتی ہوئی کسی عورت قتل کر دیا جائے اور ٹورنٹو پولیس اس کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کرے۔ آج سے دس سال پہلے لندن میں عمران فاروق کا قتل ہوا تھا، سکاٹ لینڈ یارڈ نے تفتیش کی اور بالآخر گزشتہ برس مجرمان کو سزا ہوئی۔ عرض صرف اتنی ہے کہ جس طرح مذہبی رجحان رکھنے والوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی اور جنونیت کی دوسرے لکھاریوں سے بڑھ کر مذمت کیا کریں اسی طرح بائیں بازو کے آزاد خیال دانشوروں پر بھی اتنی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے نظریات کے ہاتھوں یرغمال بننے کی بجائے حقائق کو پرکھا کریں اور درست بات کہنے سے نہ ہچکچایا کریں چاہے وہ بات ان کے نظریات سے میل نہ کھاتی ہو۔ کبھی کبھی بزم مے سے تشنہ کام آنے میں بھی کوئی حرج نہیں!

Read more

سوال غدار ہے!

ہم نے تو بچپن سے گریجویشن تک مطالعہ پاکستان کی کسی بھی کتاب میں یہ ’خرافاتی نظریہ‘ نہیں پڑھا کہ ریاست کا بنیادی فرض عوام کے جان، مال، عزت اور حقوق کا تحفظ ہے کیونکہ ہمیں تو یہی بتایا، رٹایا جاتا رہا ہے کہ ہم ہمیشہ سے ہی کتنی انوکھی مخلوق ہیں لہٰذا خصوصی طور پر ہمارے لیے یہ مقدس زمین حاصل کر کے ہم پہ جو عظیم احسان کیا گیا ہے اس کا حق یہی ہے کہ بجائے ہم ریاست سے اپنے حقوق کا سوال کر کے غداری کے مرتکب ہوں، اپنے اور اپنے عزیزوں کے خون کی بلی چڑھا کر ریاست کی لمبی عمر کی دعائیں کرنا ہی ہمارا دھرم ہونا چاہیے ۔

Read more

ریاست یا بے رحم ڈائن؟

سوچتا ہوں کیا ماں جیسی ریاست اس کو کہتے ہیں جو اپنے ہی بچوں کو کھا جائے؟ کیا ماں جیسی ریاست وہ ہوتی ہے کہ جس میں 135 بچوں کا قاتل احسان اللہ احسان ریاستی اہلکاروں کی حراست سے ”فرار“ ہو جائے؟ کیا ماں جیسی ریاست وہ ہوتی ہے جہاں شاہدرہ میں بچی کا ریپ کر کے قتل کر دیا جائے اور ورثا کو انصاف کے لیے روڈ بلاک کرنا پڑے مگر انصاف پھر نہ ملے۔ کیا ماں جیسی ریاست وہ ہوتی ہے جو معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین کو قتل کر دے؟ ساہیوال کے معصوم، حیات بلوچ کی بوڑھی والدہ، قتل ہونے والے اسامہ کا باپ چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کیا ایسی ہوتی ہے ماں جیسی ریاست؟

Read more

اگلے ریاستی قتل تک خُداحافِظ

پاکستان میں ہر کچھ عرصے بعد ایسا کوئی نہ کوئی سانحہ ہوتا ہے جس میں ریاست اپنے ہی بچوں کو مار دیتی ہے۔ اس میں سے کچھ سانحات میڈیا کی زینت بنتے ہیں اور بہت سے ایسے واقعات ہیں جو کہ میڈیا پر آتے ہی نہیں اور کچھ بے گناہ تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں، ان کی لاش کسی ویران، سنسان، سڑک پر یا کسی کھائی میں پڑی ملتی ہے۔ جو واقعات میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان پر چند دن سوشل اور الیکڑانک میڈیا پر شور مچتا ہے، کچھ اہلکار معطل ہوتے ہیں ان کے خلاف مقدمے درج ہوتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد جب معاملہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے میڈیا اور عوام کسی اور نئے سانحے کے پیچھے لگ جاتے ہیں تو یہ مجرم عدم ثبوت، کمزور شہادتوں اور جان بوجھ کر کمزور بنائے گئے کیس کی وجہ سے آرام سے چھوٹ کر کسی اور ماں کا لخت جگر چھیننے کے لئے اپنی ڈیوٹی پر واپس آ جاتے ہیں۔

Read more

یہ خون کے دھبے اس نئی ریاست مدینہ کے منہ پر طمانچہ ہیں

اس بار سوچا تھا کہ پچھلا سال اس قدر تکلیف دہ رہا تو اس سال کا آغاز کسی اچھے کالم کسی اچھے بلاگ کے ساتھ ایک نئی امید کے ساتھ کروں گی۔ لیکن شاید کچھ ارادے وہ خواب ہوتے ہیں جو ادھورے ہی رہتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہی ہے کہ اس ملک کا ایک عام آدمی پولیس تھانے کا نام سن کر ہی خوف سے کانپ جاتا ہے۔

پولیس کا کام عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے لیکن جہاں تھانیدار بھی بڑوں کی مرضی کے ہوں اور ان کی ڈیوٹی صرف مخالفین کو مزہ چکھانے کے لیے مخصوص ہو وہاں پر کسی قسم کے انصاف کی توجہ رکھنا تو شاید ایسا ہی ہے جیسا کسی پہاڑ کو کھود کر پانی کی نہر نکالنا۔ سوچ کر ہی ڈر لگتا ہے کہ گھر سے باہر اگر رات گئے اکیلی باہر نکلی تو انجام کیا ہوگا اگر عزت بچ جائے تو شاید جان نہ بچ پائے۔

Read more

جا اسامہ بیٹا سو جا، سکون تو صرف قبر میں ہی ہے

کئی تصویریں سامنے ہیں۔ ایک اکیس برس کا نوجوان۔ زندگی سے بھرپور۔ ایک تصویر میں وہ ایک پہاڑی پر ساز بجا کر زندگی کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ دوسری میں وہ ایک آبشار کے سامنے کھڑا ہے۔ تیسری میں وہ تحریک انصاف کی ٹوپی پہنے دوستوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ چوتھی میں وہ آئی ایس ایف کے کسی کارکن کے ساتھ بظاہر انتخابی پرچیاں بھر رہا ہے۔ بہتر زندگی کے خوابوں کے سوا کیا ہے ان تصویروں میں۔ جن کے بیٹے بھتیجے اٹھارہ بیس برس کے ہوں، وہ ان خوابوں کو جانتے ہیں۔ وہ ان میں اپنی جوانی دیکھتے ہیں۔ اور اپنا بڑھاپا بھی۔ بالکل ویسا ہی بچہ جیسا آپ کا اور ہمارا ہے۔

بیس اکیس برس کی عمر میں اس طالب علم کو ایک نئی نکور گاڑی ملی تھی۔ اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہو گا۔ جب مڈل کلاسیے بچے کو کالج جانے کے لیے موٹرسائیکل بھی ملے تو وہ خوشی سے بے حال ہو جاتا ہے۔ یہ تو پھر نئی گاڑی تھی۔ اس کا خاندان ظاہر ہے کہ بہت خوشحال نہیں تھا۔ بینک سے قسطوں پر لی گئی تھی اور غالباً قسط اتارنے کی ذمہ داری بھی اسامہ کو دی گئی تھی کہ وہ اوبر پر اس گاڑی کو چلاتا تھا۔ زندگی اور کتنی خوبصورت ہو سکتی ہے ایسے نوجوان کے لیے۔ پھر ایک اور تصویر سامنے آتی ہے۔ وہ گاڑی گولیوں سے چھلنی ہے۔ ایک اور تصویر سامنے ہے۔ زندگی سے بھرپور نوجوان اب ایک لاش بن چکا ہے۔ وہ گاڑی اس کا تابوت بن گئی ہے۔

Read more

کریمہ بلوچ کی والدہ جمیلہ سے خصوصی انٹرویو: ’میں بیٹی کی موت پر بھی نہیں روئی کیونکہ وہ یہ پسند نہ کرتی‘

جمیلہ بلوچ کا کرب ہر بخوبی ماں سمجھ سکتی ہے۔ ان کی بیٹی کریمہ کی کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ہلاکت کی خبر پوری دنیا میں زیر بحث ہے اور انسانی حقوق کے کارکنان ان کی موت کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لین جمیلہ اب تک اپنی بیٹی کے غم میں روئی نہیں ہیں۔

Read more

مقامی بلوچ گلوکار حنیف چمروک کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے، ان کو پہلے ’تنبیہہ‘ بھی کی جا چکی تھی

بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ کا دعویٰ ہے کہ مقتول کی بیٹی طیبہ بلوچ کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کی مہم میں شرکت پر حنیف چمروک کو ’تنبیہہ‘ کی گئی تھی۔

Read more

بلوچ ٹرک ڈرائیور کی بچیوں کے چار روپے اور انسانیت کا رشتہ

تین سال قبل گرمیوں میں تعلیمی اداروں کو چھٹیاں تھیں اور عید کے قریب میں عملے کو تنخواہیں دینے لاہور سے اوکاڑہ روانہ ہوا اوکاڑہ پہنچ کر بائی پاس سے اتر کر شہر کی طرف ڈرائیور نے کار موڑ دی جب ہم چوک پر پہنچے تو ایک تیز رفتار ٹرک نے بائیں طرف سے کار کو ٹکر ماری جس طرف سے میں بیٹھا تھا ٹکر اتنی شدید تھی کہ میں بیہوش ہو گیا اس چوک پر امرود اور کنو کے تازہ پھلوں کی دیہاڑی دار لوگوں کی چھابڑیاں اور چھوٹے چھوٹے کھوکھے ہیں چوک پر موجود ان لوگوں نے کار سے نکال کر مجھے بنچ پر لٹایا اور میرا موبائل نکال کر گھر والوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

جب کافی دیر بعد مجھے ہوش آیا تو آنکھیں کھلنے کے بعد جو پہلا خیال آیا وہ حضرت علی کا قول تھا کہ ”موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے“۔ میرے ارد گرد لوگ جمع تھے میں دیکھ سکتا تھا سن سکتا تھا تو مجھے خوشی ہوئی کہ زندگی بچ گئی ہے لیکن جب سر میں اور ٹانگوں میں درد کی شدت بڑی تو ان کا دوسرا قول ذہن میں آنے لگا کہ تم اتنے نادان ہو کہ بازار میں تمہارا کفن آ چکا ہے اور تمہیں خبر نہیں ہے۔

Read more

دیانت کی دھند اور کرپشن کا کہرا

وسطی یورپ میں چیک رپبلک نام کا ملک ساٹھ کی دہائی میں پیدا ہونے والی ہماری نسل کے لئے فکری حریت اور شہری آزادیوں کے استعارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ چاروں طرف سے آسٹریا، جرمنی اور پولینڈ جیسے ممالک میں گھرے ہونے کے باعث براہ راست بحری رسائی سے محروم یہ ملک دنیا کے نقشے پر جنوری 1993 میں نمودار ہوا۔ قبل ازیں یہ وارسا بلاک کے رکن ملک چیکوسلاواکیہ کا حصہ تھا۔ نومبر 1989 میں مشرقی یورپ کی آزادی

Read more

بلوچی غیرت اور بلوچ تاریخی روایات

مکران ( انتظامی لحاظ سے نہیں، تاریخی و جغرافیائی لحاظ سے ) کو بلوچستان کے دیگر علاقوں سے معتدل مزاج سمجھا جا تا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیگر علاقوں کی نسبت سخت قبائلی طرز معاشرت اور روایتی سرداری نظام سے کافی حد تک یہ آزاد تعلیم یافتہ ہے اور باقی علاقوں کے بڑے جاگیرداروں کی نسبت اس کی آبادی مختلف متوسط بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ کچھ عرصہ سے گوادر میں سی پیک اور مختلف نا خوشگوار واقعات و حالات کی وجہ سے ملکی میڈیا میں اس کا نام آتا رہتا ہے۔

چند مہینوں سے مکران کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اور بلوچستان کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک شہر تربت میں ڈکیتی کے دوران خواتین ( ملک ناز بلوچ اور کلثوم بلوچ ) کے قتل کے واقعات نے اہل علاقہ سمیت تمام بلوچوں کو ایک غیر معمولی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور نوجوان شہید حیات بلوچ کے ناحق قتل نے اس تشویش اور عوامی غیض و غضب میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ شہید حیات بلوچ کے واقعہ کی ابھی دھول بھی نہیں چھٹی تھی کہ 5 ستمبر کو تربت میں خاتون شاہینہ شاہین بلوچ کی قتل کا المناک واقعہ رونما ہوا ہے۔

Read more

نئے نظام کی تشکیل وقت کے ضرورت

ایک انگریزی محاورہ ہے کہ کائنات میں۔ تبدیلی ہی ایک ایسی شے ہے جو ناقابل تبدیل ہے۔ یہ کائنات مسلسل حرکت پذیر ہے ایک ایک زرہ ہمہ وقت تبدیل ہو رہا ہے یہاں جامد کوئی شے نہیں ہے انسانوں، خاندانوں سے لے کر حکومتوں اور نظاموں تک ہر چیز ہر وقت تبدیل ہو رہی ہے۔ تبدیلی کی رفتار کبھی تیز ہے اور کبھی سست لیکن یہ رکتی کبھی نہیں ہے۔

ایک وقت تھا کہ انسانوں کا آنا اور جانا بہت اہمیت رکھتا تھا۔ لوگ پیغمبروں کا انتظار کرتے اور رحمدل اور نیک حکمرانوں کا جو آ کر ان کی قسمتوں کو بدلیں اور بقول شاعر،

Read more

محسن داوڑ کو کوئٹہ ہوائی اڈے سے ’حفاظتی تحویل‘ میں لے لیا گیا

رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ کو آج کوئٹہ میں حکام نے ’حفاظتی تحویل‘ میں لے لیا ہے اوو انھیں شہر کے ایک سرکاری ریسٹ ہاﺅس میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

Read more

یزیدی نہیں، حسینی بن

کربلا محض ایک واقعہ ہی نہیں، ایک استعارہ ہے، ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا نام ہے، ایک حقیقت کا نام ہے، کربلا ایک خاموش طوفان کا نام ہے کہ جب وہ آتا ہے تو سب یزیدیوں کو بہا کر لے جاتا ہے۔ کربلا کیا ہے، سیاسی مزاحمت کی ایک عمدہ ترین مثال۔ کربلا اور حسینیت لازم وملزوم ہیں۔ جہاں جہاں کوئی ظالم یزید کربلا برپا کرے وہاں وہاں کوئی نہ کوئی حسین ضرور آجایا کرتاہے۔ کربلا محض سینکڑوں سال

Read more

غلام ہمدانی مصحفی سے امبرٹو ایکو تک

کچھ عجیب سے دن ہیں۔ کورونا وائرس کی آفت ابھی پوری طرح سے ختم نہیں ہوئی کہ ہمیں بارش نے آ لیا۔ کراچی تو ایک گہرے تالاب میں تبدیل ہو گیا۔ لاہور اور دوسرے شہروں میں بھی کچھ بہتر صورت حال نہیں۔ قصہ یہ ہے کہ ہم نے اس ملک میں اداروں، ضابطوں اور اقدار کے ساتھ جو کھلواڑ کی، شہری کو جس طرح بے وقعت کیا، انسانی ترقی کے بنیادی ہدف کو جس طرح نظر انداز کیا، عوام کے

Read more

یاد رکھیں! تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے

ہمارے ہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں کسی بھی بڑے حادثہ کا ہونا یا کوئی بھی بڑا واقعہ کا رونما ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ہمارے ہاں اس ریاست میں حق اور سچ کی بات کہنا کسی گناہ سے کم نہیں سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اندھیرا ہے جہالت ہے لاقانونیت ہے یہاں جنگل کا قانون ہے۔ یہاں ہمیشہ حق کی آواز کو دبایا جاتا ہے۔ یہاں جو اپنے حق کے لئے آواز بلند کرتا ہے

Read more

میرا شاگرد حیات بلوچ اور اگست کا جشن ماتم

چھ یا سات سال پہلے تربت کے ایک نجی اسکول میں دوران تدریس شہید حیات بلوچ سے واقفیت ہو گئی تھی۔ اپنے کئی سال کے تدریسی تجربہ کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ یہ ہم بلوچوں کی خوش قسمتی ہے (بد قسمتی بھی کہہ لیں ) کہ ہمارے بچوں کی اکثریت اپنی ذمہ داریوں اور حالات سے واقف ہے، اس لئے جسمانی بلوغت سے کچھ پہلے ہی ذہنی طور پر بالغ ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی ذمہ دار اور ذہنی طور پر بالغ طالب علموں میں سے ایک شہید محمد حیات بلوچ تھا۔

Read more

ہمارے بچوں کو جینے دیا جائے

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہوئے یہ لازم ہو چکا ہے۔ کہ آپ اپنی آنکھیں اور کان بند رکھیں۔ کچھ بھی ہو جائے۔ کسی سانحے کسی واقعے پہ آواز نہ اٹھائی جائے۔ ورنہ آپ کو کون کب کہاں لے جائے۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا۔ بطور پاکستان کی شہری میں بالکل چپ رہ سکتی ہوں۔ مگر میں کیا کروں۔ کہ میں ایک ماں بھی ہوں۔ ماں ہوں تو اولاد کے لیے فکر مندی شاید میری رگوں میں دوڑتی ہے۔ اولاد

Read more

قوم ہاتھ کا سرہانا بنا کر سو رہے، عمران خان جاگ رہا ہے

ملکی حالات اور معاملات کی اصلاح بظاہر ایک ٹویٹ، ایک پریس کانفرنس، ایک نقشے کا اجرا، ایک دعویٰ یا ایک یو ٹرن کی محتاج ہے۔ یہ سب کام تحریک انصاف کی حکومت بخوبی انجام دے رہی ہے۔ عمران خان کی ایک ٹویٹ ملکی معیشت کی بحالی کا پیغام دے چکی ہے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی تصنع آمیز پریس کانفرنس سعودی عرب کے ساتھ بگڑتے تعلقات کے بارے میں پھیلائی گئی ’افواہوں‘ کے غبارے سے ہوا نکال چکی

Read more

بلوچستان کی آہ۔۔۔

حیات بلوچ سے اس کی حیات جس بیدردی سے چھینی گئی اس بارے میں لکھنے کے لئے کئی دنوں سے سوچ رہا تھا لیکن مجھے حیات کی لاش پر نوحہ کناں اس کی اٹھی، لرزتی ہوئی اور اشکوں سے بھری کمزور آنکھیں جہنوں نے حیات کے لئے ایک کامیاب حیات کے خواب دیکھے تھے کو دیکھ کر لکھنے کے لئے الفاظ بڑی مشکل سے ملے۔ اور ان ریزہ ریزہ خوابوں کو سمیٹنے کے لئے حیات کے سرہانے بیٹھے حیات کے

Read more

حیات بلوچ کو انصاف کون دے گا؟

شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ مگر جب ریاست میں موجود خون آشام درندے خود ہی شہریوں کو لوٹنے کا باعث بنیں تو وہ ریاست رہنے کے قابل نہیں رہتی۔ آج آپ پاکستان بھر میں سروے کر لیں، حب الوطنی کا دعوی کرنے والے تو بہت مل جائیں گے لیکن اگر ان کو امریکہ، کینیڈا یا یورپ کے کسی ملک کا ویزہ مع مستقل رہائش مل جائے تو وہ یہاں

Read more

حیات بلوچ کے قتل کا ذمہ دار کون؟

ہم میں سے ہر فرد جو ملکی سلامتی کے نام پر چند اداروں پر تنقید پر ناگواری محسوس کرتا ہے، حیات بلوچ اور دیگر ماورائے عدالت ہونے والے بہیمانہ قتل اور گمشدگیوں میں شریک ہے۔ وہ تمام سیاسی قوتیں بھی اس قتل میں شریک ہیں جو اداروں کے غیر آئینی اقدامات کی خاموش رہ کر حمایت کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے۔ اس سانحے کی جو دلخراش تفصیل سامنے آئی ہے، ایسے واقعات اس سے قبل ہم مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کے مظلوم کشمیریوں سے ظالمانہ رویے کے بارے میں سنتے تھے اور شیئر کرتے تھے۔

Read more

کیا واقعی بحران ختم ہو چکے ہیں؟

پچھلے تین چار دنوں سے دو درجن بھر وزراء ہر روز ٹی وی پہ آکر گھنٹوں عوام کو یہ یقین دلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ ان کے کپتان اپنی دو سالہ مثالی حکومتی کارکردگی کے تسلسل کو نہ صرف جاری رکھیں گے بلکہ جو تھوڑی بہت مشکلات درپیش تھیں وہ بھی ختم ہو گئی ہیں اور اب کپتان لمبی انگ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔ لمبی انگ کھیلنے کی بونگی اس وزیر نے ماری جو کہ کپتان کی

Read more

حیات بلوچ کی ”حیاتی“ ماورائے عدالت چھین لی گئی

برسوں بڑے مان سمان سے پال پوس کر جوان کیے خواب دیکھتی آنکھوں کے سامنے بکھرتے دکھائی دیں تو جس اذیت، کرب اور درد سے واسطہ پڑتا ہے اسے لفظوں کا جامہ پہنانا بھلا کہاں ممکن ہے؟ ماں باپ کی آنکھوں کے سامنے جب بے گناہ جوان شیر ”دہشتگرد“ کہہ کر ”محافظ“ پھڑکا ڈالیں بتلائیے تب والدین کے دکھ کو بھلا قلم کی زبان سے بیان کیا جا سکتا ہے؟ ارادہ باندھ رکھا تھا کہ لکھنے لکھانے کا سلسلہ چند

Read more

حیات بلوچ قتل: قصہ ختم نہیں ہوا

نوجوان حیات بلوچ کی افسوسناک شہادت کے بعد ایک بار پھر باوردی اہلکاروں کے اختیارات اور ان کے احتساب کا طریقہ کار زیر بحث ہے۔ یہ واقعہ ہمیں اسی طرح کے ماضی کے واقعات کی یاد دلاتا ہے، ان واقعات پر بھی خوب شور مچاتھا، لیکن شور تھمنے اور توجہ ہٹنے کے بعد پس پردہ ان واقعات میں ملزمان کو تحفظ دینے کے لیے کیا گیا اس سے آج بھی اکثر لوگ بے خبر ہیں۔ حیات بلوچ کے معاملہ میں

Read more

حیات بلوچ: چراغٍ حیات کی لو مدہم تو نہیں ہوئی

13 اگست 2020ء کے دن گیارہ اور ساڑھے بارہ بجے کے درمیان کا وقت ہے۔ تربت کے نواحی علاقے آبسر میں سردار عبدالرحمن کے کھجور کے باغ میں مرزا بلوچ اس کی اہلیہ اور بڑا بیٹا تپتی دھوپ اور شدید گرمی میں درختوں سے کھجوریں اتارنے کا کام کر رہے ہیں۔ بنیادی طور پر مرزا بلوچ کولوہ کے رہنے والے تھے لیکن عرصہ ہوا تربت منتقل ہو چکے تھے۔ انتہائی غریب محنت کش اور مفلس مرزا بلوچ کے چار بچے

Read more

کاش حیات ہم میں زندہ رہے

ہمیں موت کا ادراک نہیں کہ اس کی وحشت دراصل ہوتی کیا ہے۔ موت کا ادراک ہوگا بھی کیسے جب اس کا مزہ چکھا نہیں اور جب چکھ لیا تو ادراک کی وقعت کیا رہ جائے گی؟ موت کا اندازہ شاید مر کر ہی لگایا جا سکتا ہے لیکن اس کا ستم ہی یہی ہے کہ ادراک کے باوجود کچھ کیا نہیں جا سکتا۔ زندگی کی اصل قیمت تو مر کر ہی معلوم ہوتی ہوگی۔ آپ ریاستی طاقت اور حب

Read more

حیات بلوچ کاقتل۔ یہ بربریت کب تک․․․؟

انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی یہ تصویر ایک بلوچ خوبرو نوجوان حیات بلوچ کی لاش کی تصویرہے جو کئی دنوں سے سوشل میڈیا پرزیر گردش ہے۔ تربت میں سڑک پر اوندھے منہ پڑی حیات بلوچ کی خون میں لت پت لاش کے پاس ایک طرف ان کابوڑھا باپ بیٹھا ہوا ہے اور دوسری طرف لاش کے پہلومیں بیٹھی ان کی بوڑھی ماں آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے گریہ کررہی ہیں۔ حیات کی اس بوڑھی ماں کو بھی

Read more

حیات بلوچ کے قتل کے ملزم ایف سی اہلکار کا ’اعترافِ جرم‘

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پولیس کا کہنا ہے کہ تربت میں نوجوان طالبعلم حیات بلوچ کو قتل کرنے والے نیم فوجی دستے فرنٹیئر کور کے اہلکار نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

Read more

بونوں کے شہر میں شعور کا قتل

گزشتہ دنوں تربت میں کڑیل جوان حیات بلوچ پر بوڑھے ماں باپ کے سامنے ایف سی اہلکار نے 8 گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ یہ حیات کا قتل نہیں بلکہ اس شعور کا قتل ہے جو علم اور بنیادی انسانی حقوق کا طالب ہے۔ وائرل ہوئی تصویر دیکھ رہے ہیں نا! ہمت ہے لکھنے کی تو لکھ کر دکھائیں اس تصویر کا کیپشن، میں اتنا بہادر نہیں کہ یہ لکھ سکوں کیونکہ معلوم ہے کہ یہ لکھا تو ”بھارت

Read more

حیات بلوچ کی اندوہ ناک موت کا نوحہ

کیسا روح فرسا، دل شکن اور جگر پاش و دلدوز منظر ہے۔ تپتی مظلوم زمین پر جوان بیٹے کا لہو لہو لاشہ پڑا ہے۔ جس کے ناتواں جسم میں آٹھ گولیاں پیوست کر دی گئی ہیں۔ حرماں نصیب باپ غم و اندوہ کی تصویر بنا بیٹھا ہے۔ ماں کی مامتا کی نظریں سوئے آسمان ہیں اور ہاتھ اللہ کے حضور اٹھے ہوئے ہیں اور سراپا سوال بنی زبان حال سے فریاد کناں ہے کہ اسے کس جرم میں مارا گیا

Read more

ہائے یہ بین کرتی مائیں مر کیوں نہیں جاتیں

بچپن میں ایک بار میرے گھر کے کونے پر ایک بلی اپنے پیدا ہوئے بچوں کے ساتھ دبکی رہتی تھی پتہ نہیں مجھے کیا سوجھی جب وہ ذرا ادھر ادھر ہوئی اس میں سے ایک بہت پیارا والا بلی کا بچہ میں اٹھا کر گھر لے آئی۔

اب سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کروں اس کو میں نے گھر کے اسٹور میں چھپا دیا تھا۔ چھوٹا سا بچہ آواز بھی نہیں نکل رہی تھی اس کی لیکن کچھ دیر میں ہی بلی میرے گھر کے گیٹ پر پاگلوں جیسے چکر کاٹ رہی تھی۔ اس کی میاؤں میاؤں سن کر میری دادی گیٹ پر اس بلی کو دیکھنے آئیں اور مجھ سے پوچھا اس نے تو ابھی ابھی بچے دیے ہیں یہ یہاں کیوں تڑپ رہی ہے؟

میں نے ڈرتے ڈرتے ان کو بتا دیا کہ اس کا ایک بچہ میں لائی ہوں اسٹور میں ہے۔ دادی نے مجھے ایک نظر دیکھا اور کہا جاؤ اس کا بچہ لاؤ میں چپ چاپ اسٹور سے وہ چھوٹا سا بچہ لے کر گیٹ پر آ گئی۔

آج بھی وہ منظر میری آنکھوں میں کہیں ٹھہر سا گیا ہے جب بلی اپنے بچے کو منہ میں دباکر بھاگی تھی اور آج بھی دادی کی بات مجھے یاد آتی ہے ماں ہے وہ کیا ہوا اگر جانور ہے۔ خدا کسی ماں کو اس کی اولاد کے چھن جانے کا غم نہ دے آئندہ ایسی حرکت مت کرنا۔

Read more