خوش آمدید رمضان المبارک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ پاک نے انسان کو پیدا کیا اور بے شمار نعمتیں عطا کیں۔ اپنے بندے کو اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا غرض یہ کہ ہر کام کرنے کا راستہ بتایا ، علم عطا کیا اور تمام مخلوقات کو حضرت انسان کی خدمت میں لگا دیا۔ انہی نعمتوں میں سے ایک نعمت رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔

بے شک آج سائنس اور جدید ٹیکنالوجی روزے اور رات کے قیام کے کئی فوائد ثابت کر چکی ہے لیکن مسلمان ہمیشہ اللہ پاک کی رضا کے لیے عبادت کرتا ہے اور پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتلائے ہوئے طریقوں پر عمل کرتا ہے، رمضان المبارک کا مبارک مہینہ اللہ پاک کی خصوصی عنایت ہے جس کے بارے میں پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا! انسان جو بھی نیک عمل کرتا ہے، اس کا اجر اسے دس گنا سے سات سو گنا تک ملتا ہے، لیکن روزے کی بابت اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ یہ عمل (چونکہ) خالص میرے لیے ہے، اس لیے میں ہی اس کی جزا دوں گا۔

(کیوں کہ) روزے دار صرف میری خاطر اپنی نفسانی خواہشات، کھانا اور پینا چھوڑتا ہے۔ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، ایک خوشی اسے روزہ افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اسے اس وقت حاصل ہو گی، جب وہ اپنے رب سے ملے گا اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے (بخاری و مسلم)

مسلمان جب روزہ رکھے تو اسے چاہیے کہ اس کے کانوں کا بھی روزہ ہو، اس کی آنکھ کا بھی روزہ ہو، اس کی زبان کا بھی روزہ ہو، اور اسی طرح اس کے دیگر اعضاء و جوارح کا بھی روزہ ہو، یعنی اس کا کوئی بھی عضو اور جزء اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال نہ ہو۔ اس کے روزے کی حالت اور غیر روزے کی حالت ایک جیسی نہ ہو، بلکہ ان دونوں حالتوں میں فرق و امتیاز نمایاں اور واضح ہو۔ روزے کا دوسرا بڑا سب سے زیادہ باعث اجر عمل قیام اللیل ہے۔

قیام اللیل کا مطلب ہے راتوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی بارگاہ میں عجز و نیاز کا اظہار کرنا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے عبادالرحمان (رحمٰن کے بندوں ) کی جو صفات بیان فرمائی ہیں، ان میں ایک یہ ہے :ترجمہ: ”ان کی راتیں اپنے رب کے سامنے قیام و سجود میں گزرتی ہیں“ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا

”جس نے رمضان (کی راتوں ) میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے قیام کیا، تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے“ ۔ (صحیح بخاری)

رمضان المبارک کا تیسرا بڑا عمل صدقہ و خیرات کرنا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم بھلائی کے کاموں میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے تھے، آپ کی سب سے زیادہ سخاوت رمضان کے مہینے میں ہوتی تھی۔ اس مہینے میں (قرآن مجید کا دور کرنے کے لیے ) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جبرائل امینؑ سے ملتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی سخاوت اتنی زیادہ اور عام ہوتی جیسے تیز ہوا ہوتی ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ (صحیح مسلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا:جس نے کسی روزے دار کا روزہ کھلوایا، تو اسے بھی روزے دار کی مثل اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ روزے دار کے اجر میں کوئی کمی کی جائے۔ (ترمذی) ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے :ترجمہ:جس نے کسی روزے دار کا روزہ کھلوایا، یا کسی مجاہد کو سامان حرب دے کر تیار کیا تو اس کے لیے بھی اس کی مثل اجر ہے۔ (شعب الایمان)

قرآن مجید کا نزول رمضان المبارک میں ہوا، اس لیے قرآن مجید کا نہایت گہرا تعلق رمضان المبارک سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ماہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جبرائل امین ؑکے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے، اور صحابہ کرامؓ بھی اس ماہ میں کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کیا کرتے تھے، ان میں سے کوئی دس دن میں، کوئی سات دن میں، اور کوئی تین دن میں قرآن مجید ختم کر لیا کرتا تھا۔ قرآن مجید کو پڑھتے اور سنتے وقت انسان پر خوف اور رقت کی کیفیت بھی طاری ہونی چاہیے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب پڑھنے اور سننے والے مطالب اور معانی سے بھی واقف ہوں۔

قرآن مجید کو محض قصص و تاریخ کی کتاب سمجھ کر نہیں پڑھنا چاہیے، بلکہ اسے کتاب ہدایت سمجھ کر پڑھا جائے۔ آیات وعد و عیداور انذار پر خوب غور کیا جائے۔ جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور اس کی بشارتوں و نعمتوں کا بیان ہے، وہاں اللہ تعالیٰ سے ان کا سوال کیا جائے اور جہاں اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب کا تذکرہ ہو، وہاں اللہ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے پناہ مانگنی چاہیے۔ کتنے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو پچھلے رمضان میں ہمارے ساتھ ہوتے ہیں لیکن پھر آنے والے رمضان میں وہ اس دنیا میں ہمارے ساتھ نہیں ہوتے، جب تک ہم دارالامتحان یعنی اس دنیا میں موجود ہیں، اس وقت تک اپنے آپ کو ہر وقت ایسا سمجھیں کہ میں دارالامتحان میں اپنا امتحان خود حل کر رہا ہوں اور بہت جلد اس کا نتیجہ میرے سامنے ہو گا۔

رمضان المبارک کے مہینے کی قدر کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت سے ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، رمضان المبارک کی قدردانی کی توفیق بخشے اور اس بابرکت مہینے کے اوقات کو صحیح طور پر صرف کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ (آمین ثم آمین یا رب العالمین)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *