افغان عبوری حکومت؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوحہ معاہدے کے بعد امریکی افواج کی واپسی اعصاب شکن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ افغانستان میں مستحکم امن، پاکستان سمیت کئی پڑوسی ممالک کے مفاد میں ہے۔ کابل انتظامیہ کو امریکا کی جانب سے دوٹوک پیغام بھی مل چکا کہ کسی پیشگی شرط کے بغیر عبوری حکومت کے قیام کو منظور کرنا ہو گا۔ عبوری حکومت کے قیام کی تجویز امریکا کی جانب سے دی گئی، جس کے بعد افغان اسٹیک ہولڈرز نئے نظام و انصرام پر بات چیت کے لئے آزاد ہوں گے۔

امریکی افواج کے مکمل انخلا اور عبوری حکومت کے قیام کو ناگزیر سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ جب افغان طالبان کے سامنے کوئی مزاحمت کرنے والا ہی نہیں ہو گا تو وہ کس کے خلاف جنگ کریں گے، افغان طالبان پر لازم ہو جائے گا کہ فائر بندی کریں۔ یہی وہ اہم نکتہ ہے جس پر عالمی برداری بھی غور کر رہی ہے کہ افغان طالبان اگر کسی بھی فریق کے خلاف جنگ کر رہے ہیں، تو اس کی جو وجوہ بیان کرتے ہیں، وہ وجہ جواز ہی ختم ہو جائے تو خطے میں امن کی راہ ہموار ہونے میں مدد ملے گی۔

کابل انتظامیہ کی جانب سے عبوری حکومت کے قیام کی تجویز پر اعتراض یا شکوک و شبہات کا اظہار اس وقت سامنے آیا تھا جب وزیراعظم عمران خان نے جون 2019 کو باجوڑ میں تقریر کے دوران کابل انتظامیہ کو الیکشن سے پہلے عبوری حکومت کے قیام کا مشورہ دیا تھا۔ وزیراعظم کی اس تجویز پر کابل انتظامیہ کی جانب سے شدید ردعمل بھی سامنے آیا، جس پر جمرود میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے وضاحت کی کہ ”میں نے تجربے کی بنیاد پر یہ بات کہی تھی، ان کا مزید کہنا تھا کہ نگران حکومت سے انتخابات کرانے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ الیکشن صاف و شفاف ہوتے ہیں، جس پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، اور یہ کہ انہوں نے یہ مشورہ اسی بنیاد پر دیا تھا“ ۔

کابل انتظامیہ کی جانب سے سازگار ماحول کو خراب کرنا وتیرہ بن چکا، یہی وجہ ہے کہ خطے میں امن کے کئی مواقع کابل انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ضائع ہوئے۔ اب چونکہ امریکی افواج کے انخلا کی حتمی تاریخ نزدیک آ چکی ہے، جس کے بعد یہ امریکی انتظامیہ پر منحصر ہو گا کہ وہ اپنے چند ہزار فوجیوں کے ساتھ ان افغان طالبان سے لڑنے کے لئے تیار ہیں، جنہیں 19 برسوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد فوجی ہونے کے باوجود شکست دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

امریکی تجویزپر افغان صدر اشرف غنی نے ایک بار پھر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ بادی النظر لگتا ہے کہ امریکا، افغانستان کی جنگ سے نکلنے کا مصمم ارادہ کر چکا، ذرائع کے مطابق افغان طالبان موجودہ حکومت کے خاتمے اور عبوری حکومت کے قیام پر متفق ہیں، عبوری حکومت میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو متناسب نمائندگی ملے گی۔ صدر غنی بھی اپنی ایک تجویز منظر عام پر لا چکے ہیں کہ وہ عبوری حکومت کے بجائے الیکشن کے ذریعے تبدیلی چاہتے ہیں، براہ راست عبوری حکومت کی تشکیل کے بجائے بیلٹ کے ذریعے صدارتی انتخاب کرائے جائیں تو وہ استعفیٰ دینے کو تیار ہیں۔

ان کی یہ تجویز ترکی کانفرنس میں لے جانے سے قبل ہی مختلف افغان دھڑوں نے مسترد کر دی۔ جس کے بعد امریکا، روس اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان عبوری حکومت پر متفق ہونے کے بعد ، افشا ہونے والی تجویز پر عمل درآمد کرانے کے لئے اشرف غنی پر دباؤ بڑھ چکا۔ دراصل افغان صدر نئے انتخابات کی آڑ میں ایک مرتبہ پھر غیر ملکی افواج کو امن کے نام پر نگرانی کے لئے مزید قیام دینے کی خواہش رکھتے ہیں، ان کی تجویز کے مطابق انتخابی مرحلے کی عالمی سطح پر نگرانی پر زور دیا گیا ہے، اس طرح غیر ملکی افواج کی موجودگی برقرار رہے گی۔

افغان طالبان، غیر ملکی افواج کی واپسی سے قبل کسی نئے صدارتی انتخابات یا بیلٹ کے ذریعے انتخابی مہم چلانے کی کسی تجویز کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں، عبوری حکومت کی تجویز پر اتفاق رائے کی وجہ سے امریکی حاشیہ بردار حکومت کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ گو کہ ماضی میں سوویت یونین کے انخلا کے بعد افغان دھڑوں پر مشتمل حکومت کا تجربہ ناکام رہا ہے، بدترین خانہ جنگی و انارکی کی وجہ سے ہی افغان طالبان کی تحریک وجود میں آئی، ملا عمر کی قیادت میں متحارب افغان دھڑوں کو بزور طاقت روک کر پسپا کیا گیا اور پانچ برس تک افغان طالبان کی حکومت رہی، ان کے حکومت کے دوران ہی نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا اور پھر اسامہ بن لادن کو حوالے نہ کرنے پر امریکا و نیٹو ممالک نے افغانستان پر چڑھائی کر دی۔

امریکا کی واپسی کی خبریں و اقدامات اوباما دور سے عالمی منظر پر موجود ہیں، اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انخلا کا فیصلہ اچانک کیا جا رہا ہے، یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ امریکا اپنے فروعی مفادات کے لئے افغانستان میں اپنی موجودگی کو ضروری بناتا رہا ہے، تاہم دوحہ معاہدے کے بعد اب امریکا کے پاس ایسا کوئی جواز نہیں رہا کہ وہ افغانستان میں مزید مسلط رہے۔ امریکا کی خفیہ ایجنسیوں کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر امریکا نے افغانستان کو اسی حالت میں چھوڑ دیا تو افغان طالبان مختصر عرصے میں پورے افغانستان پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ اس رپورٹ نے پینٹاگون کی نیندیں اڑا دیں اور وہ شش و پنج کا شکار ہیں۔

امریکا بند گلی میں پھنسا ہوا ہے، اسی مشکل سے نکالنے کے لئے ایک ایسا معاہدہ عمل میں لایا جا چکا ، جس کے بعد افغانستان میں قیام امن کی ذمہ داری افغان اسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری و فرض بنتی ہے، پاکستان اپنا موقف کئی بار دوہرا چکا ہے کہ وہ انتقال اقتدار پر افغان عوام کے فیصلے کا خیر مقدم کریں گے۔ لہٰذا ان حالات میں کہ چار دہائیوں سے جاری جنگ میں عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ کابل انتظامیہ و دیگر افغان اسٹیک ہولڈرز کو متفقہ معاہدے پر اپنی انا کو پس پشت ڈال کر افغان عوام کی منشا کے مطابق کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر فیصلہ سازی کرنا ہو گی۔

عبوری حکومت کا قیام تشدد کی کمی کی جانب اہم پیش قدمی قرار پا سکتا ہے کیونکہ امریکا اب افغانستان کی جنگ سے باہر آنا چاہتا ہے اور اپنا سیاسی و سفارتی کردار اس نئی حکومت سے بڑھانے کو ترجیح دے گا جو ایک قابل قبول افغان امن معاہدہ کی تکمیل کے بعد قائم ہو گی۔ افغانستان کے ماضی کے مقابلے میں روس، چین سے تعلقات میں بھی کافی وسعت آئی ہے اور ایران کے ساتھ مثبت تعلقات استوار ہوئے ہیں، پاکستان کے ساتھ تاریخی و ثقافتی تعلقات ہیں، لہٰذا امن کے اہم سنگ میل کو عبور کرنا سب کے حق میں بہتر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *