آئی اے رحمٰن اپنے پیچھے ترقی پسند ورثہ چھوڑ گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ شخص جس نے لوگوں کو اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کا راستہ دکھایا، بدترین حالات میں بھی اپنے ترقی پسند نظریات کے لئے جدوجہد کی وہ خاموشی سے اپنے پیچھے ترقی پسند ورثہ اور سول سوسائٹی میں بھرنے کے لئے اپنے پیچھے بڑا خلا چھوڑ گیا۔ یہی آئی اے رحمن کا مسلمہ دستور اور رواج رہا۔

ایک شخص جو پیشہ وارانہ مہارت کا حامل رہا جن کا سیکولرازم، سوشلزم اور جمہوریت سے گہرا تعلق رہا وہ تمام تر مظالم اور امتیازات کے خلاف بلا امتیاز نبرد آزما رہے۔ اپنے اخلاص کی بنیاد پر حامی اور مخالفین سب کی نگاہ میں وہ محترم رہے۔ ابن عبدالرحمن جو کالم نویس کے طور پر آئی اے رحمن کےنام سے معروف رہے۔ انہوں نے 1930ء میں ہریانہ میں ایک تعلیم یافتہ رند بلوچ گھرانے میں جنم لیا۔

انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن اور ایم ایس سی کرنے کے بعد پاکستان ہجرت کی۔ تقسیم پنجاب کے تلخ تجربے کے باوجود انہوں نے اپنے خاندان کو تکلیف اور ایذا میں مبتلا کرنے کا کبھی انتقام نہیں لیا اور نہ کوئی دشمنی ظاہر کی۔ مارکسٹ اور ترقی پسند جمہوری نظریات سے جلا پا کر وہ پاکستان میں انسانی حقوق کے چیمپئن بن گئے۔ انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز پاکستان ٹائمز کے فلمی نقاد اور سب ایڈیٹر کی حیثیت سے کیا۔

ایڈیٹر فیض احمد فیض کی سرپرستی میں انہوں نے اپنے زیر تربیت عرصے سے بھرپور اکتساب کیا۔ وہ باقاعدگی سے ڈان اور دیگر اخبارات کے لئے کالم لکھتے رہے۔ بعد از تقسیم ہند پروگریسو رائٹرز کی نمائندگی کرتے ہوئے رحمن صاحب نے بعد از نوآبادیاتی دور میں نظریات کی جنگ میں فیصلہ کن کردارادا کیا۔ ان کی نسل کے لوگ فوجی آمروں کے خلاف صف آراء رہے۔

پہلے فوجی آمر ایوب خان کے خلاف ان کی جدوجہد بڑی نمایاں رہی۔ وہ مغربی پاکستان سے ان چندافراد میں شامل تھے جو مشرقی پاکستان میں جنرل یحییٰ کے فوجی آپریشن کےخلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ پی ایف یو جے میں ان کےساتھی مشرقی پاکستان میں قتل ہوئے۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں انہیں صحافیوں کے حقوق اور آزادی صحافت کے لئے جدوجہد کی پاداش میں جیل میں ڈال دیا گیا۔ وہ صحافیوں اور سول سوسائٹی کارکنوں کے لئے ایک نمونہ رہے۔ آئی اے رحمن ہی نے پاکستان پیپلزفورم برائے امن و جمہوریت اور سائوتھ ایشیا ہیومن رائٹس کمیشن تشکیل دیا۔ انہوں نے فرنٹیئر پوسٹ کے ایڈیٹر عزیز صدیقی اور عاصمہ جہانگیر کے ساتھ مل کر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان تشکیل دیا۔

وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے کارڈ ہولڈر رہے۔ وہ ایک وسیع النظر شخص کی طرح دوسروں کا نقطہ نظر سننے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے۔ جس بات نے انہیں ہر دلعزیز بنایا وہ ان کا مشفقانہ رویہ اور برتائو تھا۔ ان کی ذاتی رنجشیں تھیں اور نہ ہی کسی سے عناد۔ وہ جادوئی کشش رکھتے تھے، ہر کوئی ان کا احترام کرتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امتیاز عالم

بشکریہ: روزنامہ جنگ

imtiaz-alam has 17 posts and counting.See all posts by imtiaz-alam

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *