سحری اور افطار میں کیا کھائیں اور کن اشیا سے پرہیز کریں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلمان کے مقدس مہینے رمضان میں جہاں خصوصی عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے وہیں اس ماہ سحری اور افطار کے لیے انواع و اقسام کے پکوان بھی تیار کیے جاتے ہیں۔

رمضان میں سحری اور افطار کرتے وقت عام طور پر ہم غذا کا انتخاب اس بنیاد پر کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں دن بھر زیادہ پیاس اور بھوک نہ لگے اور ایسے میں ہمیں صحت سے متعلق مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

روزہ رکھتے وقت ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ہو گا کہ سحری اور افطار میں ہم کس طرح کی خوراک کا استعمال کر رہے ہیں۔

صحت مند طریقے سے رمضان گزارنے اور بیماریوں سے بچنے کے لیے ہمیں ماہرِ غذائیت کے مشوروں پر عمل کرنا چاہیے۔

پاکستان کے شہر کراچی کے ضیاالدین اسپتال کی ماہر غذائیت آمنہ مجیب خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رمضان میں ہمیں اپنی ڈائٹ کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور ایسی خوراک کا استعمال کرنا چاہیے جو غذائیت سے بھرپور ہو اور با آسانی ہضم ہو سکے۔

ماہر غذائیت آمنہ مجیب خان نے بتایا کہ رمضان میں اگر آپ اپنی ڈائٹ کا خیال نہیں رکھیں گے تو اس سے سینے میں جلن، بد ہضمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

'پھینی' رمضان کی سوغات، لیکن اس کی تیاری آسان نہیں
‘پھینی’ رمضان کی سوغات، لیکن اس کی تیاری آسان نہیں

‘سحری کے لیے سب سے بہتر غذا’

ماہر غذائیت آمنہ مجیب خان کے مطابق رمضان میں اپنی صحت بہتر رکھنے کے لیے سحری میں آپ لال آٹے کی چپاتی یا ملٹی گرین (ایک سے زائد اناج جُو، گندم سے بننے والی ڈبل روٹی) بریڈ کا استعمال کریں۔

ان کے بقول سحری میں آپ لال آٹے کی چپاتی کے ساتھ حلیم یا دالوں کا انتخاب کر سکتے ہیں کیوں کہ یہ پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے سحری کے لیے جو کا دلیہ بھی ایک بہترین آپشن ہے کیوں کہ جُو آہستہ آہستہ ہضم ہوتا ہے اور اس سے آپ کا پیٹ دیر تک بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں سحری میں دہی کا استعمال کرنا بھی صحت کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر آمنہ مجیب کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنی ڈائٹ سے تین چیزوں کا استعمال کم کرنے کی ضرورت ہے جن میں معدہ، چینی اور چاول شامل ہیں۔

دوسری جانب سحری میں چائے کے استعمال سے گریز کریں کیوں کہ چائے میں ‘کیفین’ کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، اور سحری میں چائے پینے کی وجہ سے روزے کے دوران آپ کو سینے میں جلن، بہت زیادہ پیاس اور بد ہضمی جیسی کیفیت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

‘افطار کے لیے بہترین آپشنز کیا ہیں؟’

افطار کی تیاری کے لیے خواتین گھنٹوں پہلے کچن کا رخُ کر لیتی ہیں اور طرح طرح کے پکوان جیسے سموسے، پکوڑے، دہی بڑے بناتے ہیں۔ لیکن ہم ان اشیا کے استعمال میں توازن نہ رکھ پانے کے باعث صحت کے مسائل سے بھی دوچار ہو سکتے ہیں۔

ماہر غذائیت ڈاکٹر آمنہ کے مطابق افطار میں چنے کا استعمال صحت کے لیے بہترین ثابت ہو سکتا ہے کیوں کہ اس اس میں پروٹین وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔

ان کے بقول افطار میں پھلوں کا استعمال کرنا نہایت ہی ضروری ہے کیوں کہ اس سے آپ کا پیٹ دیر تک بھرا رہتا ہے جب کہ فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے قبض بھی نہیں ہوتی۔

رمضان میں تلی ہوئی اشیا اور زائد نمک والی غذا کے استعمال سے متعلق ماہرِ غذائیت کا کہنا کہ ہے اس سے بد ہضمی اور بہت زیادہ پیاس لگ سکتی ہے جب کہ تلی ہوئی چیزیں وزن میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہیں۔

ان کے بقول رمضان میں پکوڑے اور سموسے بھی ضرور کھائیں لیکن آپ کو اس کی مقدار پر دھیان رکھنا ہو گا۔

ڈاکٹر آمنہ کا کہنا تھا کہ کوشش کریں کہ خوراک کے لیے ہلکی غذا کا انتخاب کریں، گھر میں بنی سبزی، روٹی اور دال بھی افطار میں کھائی جا سکتی ہے جب کہ گرمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تاثیر میں ٹھنڈی غذا جیسے کھیرا، پیاز اور مولی کا استعمال کریں کیوں کہ یہ جسم کے درجہ حرارت کو معتدل رکھتے ہیں۔

رمضان میں سر درد کی شکایات اور اس کا حل

رمضان میں اکثر لوگ سر میں درد کی شکایت کرتے ہیں جس کی ایک بنیادی وجہ پانی کی کمی ہے۔

ماہر غذائیت ڈاکٹر آمنہ مجیب کا کہنا ہے کہ رمضان میں اکثر لوگوں کو پانی کی کمی کی وجہ سے سر درد کی شکایت ہو جاتی ہے۔

انہوں نے ہدایت کی روزہ کھولنے کے بعد وقفے وقفے سے کم از کم پانچ سے چھ گلاس پانی پیئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ناریل کا پانی، پانی کی کمی پوری کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

ڈاکٹر آمنہ مجیب نے بتایا کہ ناریل کے پانی میں موجود نمکیات جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور اسے افطار کے وقت میٹھے مشروبات کے بجائے استعمال کرنے سے آپ ترو تازہ محسوس کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1944 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *