EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بائیڈن کا رمضان کے موقع پر پیغام، کرونا کے خلاف امریکی مسلمانوں کی کوششوں کی تعریف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے ماہِ رمضان کے آغاز پر مسلمانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے امریکی مسلمانوں کی کرونا وائرس کے خلاف کوششوں کو سراہا ہے۔

خاتونِ اول ڈاکٹر جل بائیڈن اور اپنی طرف سے مسلمانوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ مسلمان اس مہینے کا آغاز ایک نئی امید کے ساتھ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ماہِ رمضان کے دوران مسلمان اپنے اعتقاد کے مطابق دوسروں کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے کا اعادہ کریں گے اور وہ خدا کی نعمتوں کا شکر بھی ادا کریں گے۔

لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کرونا کی عالمی وبا کے دوران ماہ صیام یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ عالمی وبا کے دوران یہ سال کتنا مشکل رہا ہے۔ ان کے بقول وبا کے دوران دوست اور رشتہ دار اجتماعات کی صورت میں اکٹھے ہو کر اس مہینے کو نہیں منا سکیں گے اور سحر اور افطار دونوں وقت لوگ اپنے پیاروں کی موجودگی کے بغیر ہی اس ماہ کی روایات کو پورا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی وبا کے دوران امریکی مسلمانوں نے ویکسین کی دریافت میں بنیادی کردار ادا کیا ہے اور اس برادری سے تعلق رکھنے والے صحتِ عامہ کے ورکرز اس مہلک وبا کے خلاف جنگ میں ہراول دستے میں شامل ہیں۔

مختلف شعبوں میں امریکی مسلمانوں کی نمایاں خدمات کا ذکر کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکی مسلمان روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں اور فرسٹ ریسپانڈرز کے رول میں اپنی جانوں کو مشکل میں ڈال کر کام کرتے ہیں، وہ اسکولوں میں اساتذہ کی خدمات انجام دیتے ہیں، ملک بھر میں پبلک سرونٹس کے طور پر اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں اور امریکہ میں نسلی مساوات اور سماجی انصاف کی جدوجہد میں رہنما کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان امریکہ کے قیام سے ہی ملک بنانے میں فعال کردار ادا کرتے آرہے ہیں اور متنوع اور فعال ہونے سے وہ امریکہ کی خوش حالی میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔

صدر بائیڈن نے مزید کہا کہ نمایاں کردار کے باوجود امریکی مسلمانوں کو تعصب، دھمکی آمیز رویے اور نفرت پر مبنی جرائم کا سامنا رہا ہے۔ ان کی حکومت تمام لوگوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے لیے ان تھک کوششیں کرے گی۔

ان کے بقول، "یہ تعصب اور حملے غلط اور ناقابل قبول ہیں اور انہیں فوراً بند ہونا چاہیے۔ امریکہ میں کسی بھی شخص کو اپنے مذہب کے اظہار کے سلسلے میں خوف کی کیفیت سے نہیں گزرنا نہیں چاہیے۔”

اس ضمن میں صدر بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے اپنی صدارت کے پہلے ہی روز مسلمانوں کے امریکہ آنے پر عائد شرمناک سفری پابندی کا خاتمہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ چین کے ایغور مسلمانوں اور برما کے روہنگیا سمیت دنیا کی تمام مسلمان برادریوں کے انسانی حقوق کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ برس رمضان سے اب تک ہونے والے جانی نقصان کی یاد کو وہ اپنے سامنے رکھتے ہوئے پر امید ہیں کہ آگے روشن دن آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن پاک کہتا ہے کہ خدا زمیں و آسمان کا نور ہے جو ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ رواں برس ماہِ رمضان کی وائٹ ہاؤس کی تقریب ورچوئل یعنی آن لائن ہو گی لیکن وہ پر امید ہیں کہ آئندہ برس انشا اللہ وائٹ ہاؤس عید کی تقریب کو روایتی طور پر ذاتی شرکت کے ساتھ منانے کا سلسلہ پھر سے بحال کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2643 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے