کپتان کے خلاف ترین کی بغاوت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جہانگیر ترین، وزیراعظم عمران کے خلاف آگے یوں بڑھ رہے ہیں کہ ایک طرف ان سے انصاف مانگ رہے ہیں تو دوسری طرف ان کی حکومت پر یہ بھی الزامات لگا رہے ہیں کہ انتقامی کارروائی کر رہی ہے۔ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں۔ ان کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ پھر ساتھ اس بات کی دھمکی بھی دے رہے ہیں کہ ان کو دوست ہی رہنے دیا جائے ، دشمنی پر مجبور نہ کیا جائے۔ ادھر ان کے کیمپ سے یہ آوازیں بھی آ رہی ہیں کہ جہانگیر ترین کو دبایا گیا تو پھر ترین عمران خان چھوڑیں، بھٹو اور شیخ مجیب بن سکتے ہیں۔

اب تک صورتحال اس با ت کا پتہ دے رہی ہے کہ جہانگیر ترین کی انتہائی چالاکی اور ہوشیاری کے ساتھ سیاسی چالیں چل رہے ہیں۔ ایک طرف سید یوسف رضا گیلانی اور حفیظ شیخ کے الیکشن میں موصوف گیلانی کے الیکشن کے لئے کارروائی ڈال کر وزیراعظم عمران خان کے امیدوار کو اپنے ہی ارکان اسمبلی کے بل بوتے پر شکت سے دوچار کروا دیا۔ سینٹ کے الیکشن میں ترین نے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو اتنا بڑا جھٹکا دیا کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس ایوان سے پھر اعتماد کا ووٹ لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

وزیراعظم عمران خان کے وزیر خزانہ کی شکت کوئی معمولی واقعہ یوں نہیں تھا کہ تحریک حکومت کی اصلیت عوام کے سامنے آ گئی تھی کہ اس کے پاس تو اپنے ارکان اسمبلی کی اکثریت نہیں ہے، مطلب تحریک انصاف کے سولہ ارکان اسمبلی گیلانی کو ووٹ دے کر اپنی ہی حکومت کو چونا لگا گئے۔ پھر دلچسپ صورتحال یوں بنی حفیظ شیخ کی بدترین شکست کے بعد بقول راجہ ریاض اعتماد کے ووٹ کے لئے جہانگیر ترین کو اپنے آبائی گھر لودھراں سے اسلام آباد بلوایا گیا اور اس سے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو فون کروائے گئے۔ پھر کہیں جا کر وزیراعظم عمران خان کو ایوان میں اعتماد کے لئے مطلوبہ ووٹ ملے۔

راجہ ریاض کی بات مان لی جائے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اگر جہانگیر ترین وزیراعظم عمران کے ووٹ کے لیے متحرک نہ ہوتا اور فون کالز نہ کرتا تو شاید وہ سولہ ارکان اسمبلی جن کی طرف سے حفیظ شیخ کو سینیٹ الیکشن میں ووٹ نہیں دیا گیا تھا، وہ وزیراعظم عمران خان کو اعتماد کا ووٹ نہ دیتے اور کپتان کے اقتدار کا مکمل صفحہ پھٹ جاتا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم عمران خان جو کہ ریاست مدینہ کے داعی ہیں، وہ ابھی تک ان سولہ ارکان قومی اسمبلی کا نام تک زبان تک نہیں لا سکے جو کہ ان کے امیدوار حفیظ شیخ کو ووٹ نہ دے کر ان کو اعتماد کا ووٹ لینے تک کی نوبت تک لے گئے تھے۔ یاد رہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف سینٹ الیکشن کے دوران فیڈرل انوسٹی گیشن نے ہاتھ ہولا رکھا ہوا تھا لیکن جونہی وزیراعظم عمران خان نے اعتماد کا ووٹ لے لیا اور بات آگے بڑھی تو صرف ترین کے خلاف ہی بلکہ اس کے بیٹے اور اب تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیٹیوں کے خلاف بھی مقدمات درج کر لیے گئے۔

اب وزیراعظم عمران خان اپنی طاقت دکھانے کے موڈ میں تھے کہ جہانگیر ترین اگر ان کی حکومت کے لئے جگ ہنسائی کا ساماں پیدا کر سکتا ہے تو حکومت بھی اس کے علاوہ پورے خاندان کو منی لارڈنگ سمیت دیگر وارداتوں مطلب چینی سیکنڈل پر جواب دہ کر کے حساب برابر کر سکتی ہے۔ ادھر ترین جیسے اس بات پر مجبور ہوا کہ اب مقدمات کے اندراج کے بعد اپنے بیٹے سمیت عبوری ضمانتوں کی طرف جائے تو وہ اب اس صورتحال میں وہ پتے شو کرنے پر سامنے آیا، جو کہ اس نے وزیراعظم عمران خان کے دوست کی حیثیت کے وقت سے سنبھال کر رکھے ہوئے تھے۔ مطلب وہ ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی، وزراء اور مشیر جن کو پارٹی میں شامل کروایا اور پھر ان کو وزراتیں دلوائی تھیں یا پھر ان کی چونچ گیلی کروائی تھی، یوں عبوری ضمانت پر راجہ ریاض سمیت دیگر ارکان قومی اسمبلی نے جہانگیر ترین کی آواز پر لیبک کا نعرہ لگا کر وزیراعظم عمران خان کی مرضی کے برخلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا جو کہ واضح پیغام تھا کہ اب خاموشی توڑی دی ہے۔

یہاں جہانگیر ترین نے اور کہانی یوں ڈالی کہ کپتان کی حکومت کو اس کے اپنے ہی ارکان اسمبلی سے بھاشن دلوانے کی باریک واردات یوں کی گئی کہ وہ الزامات جو کہ ایک وقت میں نواز لیگی قیادت بالخصوص مریم نواز، پاکستان پیپلز پارٹی بالخصوص آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر لگاتے تھے کہ یک طرفہ کارروائی کر رہے ہیں، وہی راجہ ریاض نے دہرا دیے۔ مطلب ریاست مدینہ کے داعی عمران کے خلاف چارج شیٹ جاری کر دی۔

جہانگیر ترین کے ناشتوں اور دعوتوں میں شریک تحریک انصاف کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی سمیت وزیروں مشیروں کی بڑھتی تعداد خطرے کی گھنٹی یوں بجا رہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب کی اپنی ہی پارٹی کے ارکان اسمبلی اور وزیر ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ ادھر ترین بڑی نے چالاکی کے ساتھ گیلانی اور احمد محمود کے ساتھ رابطوں کی معرفت پیپلز پارٹی سے رابطے کر لیے اور ساتھ تردید بھی کر دی ہے۔ مطلب یہی تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو آگاہ رکھا جائے کہ وہ تیاری کر کے بیٹھے ہیں۔

جہانگیر ترین پر جو مقدمات قائم ہوئے ہیں، ان کی سچائی کو اس بنیاد پر نہیں جھٹلایا جا سکتا ہے کہ موصوف کی گواہی راجہ ریاض یا پھر دیگر تحریک انصاف کے وزیر اور مشیر دے رہے ہیں۔  س بات کا فیصلہ بہرحال عدالتوں نے کرنا ہے۔ یہ ترین کوئی پہلا کاروباری سیاست دان نہیں ہے جو اس بات کا واویلا کر رہا ہے کہ اس کے خلاف مقدمات انتقامی کارروائی ہیں، اور فون کالز پر مقدمات قائم کیے گئے ہیں، بلکہ نواز شریف، آصف علی زرداری سے لے کر جن کو وزیراعظم عمران خان پنجاب کے بڑے ڈاکو قرار دیتا تھا مطلب چودھری، جب ان کے کاروبار اور منی لارڈنگ کے بارے میں سوالات اٹھائے جائیں تو وہ بھی کہتے ہیں، اور کہتے تھے کہ یہ سب انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہے۔

یہ پاکستان کی سیاست میں فیشن ہے کہ مال کھاؤ اور پھر اکڑ جاؤ، جہانگیر ترین نے تحریک انصاف پر مال خرچ کیا اور اپوزیشن جماعتوں نے موصوف کو وزیراعظم عمران خان کی اے ٹی ایم کا نام دیا، چینی مافیا کا نام دیا، چینی چور کا نام دیا، پھر بہ مطابق درج مقدمات کے،  جہانگیر ترین نے لمبا ہاتھا مارا اور عوام کی چیخیں یوں نکلوا دیں کہ بس۔ ہمارے خیال میں وزیراعظم عمران خان بری طرح اپنے ایجنڈے میں ناکام ہوئے ہیں۔ انہوں نے جہانگیر ترین جیسے لوگوں کو اپنے اردگرد بٹھا کر ان کو اس بات کا موقع فراہم کیا کہ وہ عوام کی کھال ادھیڑیں۔

اب وہی جہانگیر ترین وزیراعظم عمران خان کو اپنے ہی ارکان اسمبلی کو لے کر بلیک میل کر رہا ہے۔ اب تو عبوری ضمانتوں میں توسیع کے دن راجہ ریاض جو کہ وزیراعظم عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ہیں،  نے جہانگیر ترین کو پاکستان تحریک انصاف کا قائد قرار دے کر ایک اور پیغام دے دیا ہے جو کہ پارٹی توڑنے کی طرف پہلی آواز ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *