داخلی محاذ کا بڑا سیاسی چیلنج
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پچھلے دنوں دو اہم باتیں کیں جو قابل توجہ ہیں۔
اول ہمیں سیاسی، سماجی اور معاشی استحکام کے لیے سب سے پہلے اپنا گھر درست کرنا ہو گا اور اس کے بعد دوسرے ممالک سے بہتری کی توقعات وابستہ کرنی ہوں گی ۔
دوم اسی امن و ترقی کی بنیاد پرہمیں بھارت سمیت اپنے اردگرد کے ممالک سے اپنے تعلقات کو بہتر بنانا ہو گا۔ ان کے بقول ہمارا قومی سطح پر بیانیہ میں داخلی و خارجی سطح پر امن کی بحالی، دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے میں ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ، ہمسایوں اور خطہ کے معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے گریز، خطہ میں تجارت اور آمد و رفت کا فروغ، سرمایہ کاری اور اقتصادی مراکز کا قیام، پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کو اپنی قومی سطح پر ایک بڑی ترجیح کے طور پر اختیار کرنا ہو گا۔
سیاست میں ایک بنیادی تھیوری یہ ہی پیش کی جاتی ہے کہ اگر آپ خارجی سطح کے معاملات سے مؤثر انداز میں نمٹنا چاہتے ہیں تو اس کی بڑی کنجی آپ کے داخلی استحکام سے جڑی ہوتی ہے۔ اسی طرح معاشی استحکام کی بنیاد بھی سیاسی استحکام سے جڑا ہوتا ہے اور بغیر سیاسی استحکام کو بنیاد بنائے ہوئے ہم معاشی ترقی یا اس کے اہداف بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ تھیوری ظاہر کرتی ہے کہ وہی ممالک جو داخلی محاذ پر مضبوط ہوں گے وہی خارجی سطح کے معاملات سے مضبوطی سے نمٹ سکیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہماری داخلی استحکام سے کیا مراد ہے۔ یقینی طور پر داخلی استحکام سیاسی، سماجی، قانونی، انتظامی و معاشی استحکام سے جڑا ہوتا ہے۔ خارجہ پالیسی کی مضبوطی کی بنیاد بھی آپ کا داخلی استحکام ہوتا ہے اور زیادہ جرأت کے ساتھ وہ بات بھی کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں جو عمومی طور پر آپ اپنی کمزوری کے باعث نہیں کر پاتے۔ جو بات فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی ہے ، وہ اہمیت بھی رکھتی ہے اور اس نکتہ پر ہر سطح پر بحث ہونی چاہیے کہ کیسے ہم اپنے گھر سے جڑے مسائل کا حل تلاش کر کے اسے قومی ترجیحات کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر ہمیں دہشت گردی یا انتہا پسندی کے حوالے سے کافی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ریاستی و حکومتی سطح پر ہم نے دہشت گردی کے مسائل کو کافی حد تک قابو پالیا ہے۔ آج ہماری ملکی صورتحال دہشت گردی کے تناظر میں ماضی سے بہت بہتر ہے۔ دہشت گردوں او رانتہا پسند وں سے نمٹنے یا ان کے خاتمہ میں ہم نے کافی مضبوط کمٹمنٹ پیش کی ہے۔ اس بات کا اعتراف عالمی سطح پر بھی موجود ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی سے نمٹنے میں جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ کافی حد تک درست سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
البتہ انتہا پسندی کے معاملات جو مذہبی انتہا پسندی سے ہی نہیں بلکہ لسانی، علاقائیٔ فرقہ واریت اور سیاسی معاملات سے بھی جڑے ہوئے ہیں ان پر ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بیس نکات پر مشتمل نیشنل ایکشن پلان، فرقہ واریت کے خاتمہ کے لیے پیغام پاکستان، عورتوں کی اس جنگ میں شمولیت کے لیے دختران پاکستان، نیشنل سیکورٹی پالیسی، سائبر پالیسی، پولیس اور انٹیلی جنس کے نظام سے جڑی اصلاحات، اینٹی دہشت گردی فورس کا قیام، نیکٹا جیسے ادارے کو فعال بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔
انتظامی بنیادوں پر ہماری فوج، پولیس اور اس سے جڑے اداروں سمیت عام شہریوں نے دہشت گردی کے خاتمہ میں نہ صرف بڑی جنگ لڑی ہے بلکہ اپنی جانوں کا بھی نذرانہ دیا ہے۔ لیکن سیاسی اور سماجی سطح پر جو جنگ ہمیں نیشنل ایکشن پلان یا پیغام پاکستان یا سائبر پالیسی کی بنیاد پر لڑنی ہے اس میں اب بھی بہت سی خامیاں ہیں اور ان پر بہت زیادہ توجہ اور مؤثر حکمت عملی درکار ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی سطح پر جو 27 نکات ہیں اور جن پر پاکستان کی مسلسل نگرانی ہو رہی ہے ، اس میں 24 کے قریب نکات پر ہماری کارکردگی کو عالمی سطح سمیت ایف اے ٹی ایف کی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
ففتھ جنریشن وار کی سطح پر بھی ہمیں ایک بڑی جنگ کا سامنا ہے اور جو مخالفانہ ایجنڈا پاکستان مخالف قوتوں کا ہے ، اس پر ہمیں قومی سطح پر اپنا متبادل بیانیہ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس ففتھ جنریشن وار نے ہمیں سیاسی، سماجی اور مذہبی، علاقائی، لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کر دیا ہے جس کا علاج ہمیں تلاش کرنا ہو گا۔
ایک بڑی لڑائی ہمیں داخلی محاذ پر سیاسی اور معاشی استحکام کی بنیاد پر لڑنی ہے۔ کیونکہ سیاست اور معاشیات کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے اور اس میں استحکام پیدا کیے بغیر ہمیں علاقائی یا خارجی محاذ پر جنگ نہیں جیت سکیں گے۔ بدقسمتی سے ہم سیاسی طور پر کمزور ہیں اور جمہوری عمل جو چل رہا ہے اس میں بہت کچھ بدلنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان جو بڑی سیاسی خلیج ہے ، اس میں رواداری اور ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول کر کے باہمی تعاون کے امکانات کو بڑھانا ہو گا۔
سیاسی اختلافات کو سیاسی دشمنی میں تبدیل کرنے کی جو روش ہم نے اختیار کی ہوئی ہے اسے ختم کرنا ہو گا۔ معاشی استحکام کے لیے یقینی طور پر حکومت، حزب اختلاف اور کاروباری طبقات کی سطح پر ایک بڑا میثاق معیشت درکار ہے جہاں ایک دوسرے کے تعاون کے ساتھ معاشی استحکام کو پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہو گی۔ داخلی محاذ پر اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کی بات کو سیاسی اور معاشی استحکام کے ساتھ بھی جوڑ کر دیکھا جانا چاہیے۔
اصولی طور پر ہماری ریاستی، حکومتی اور سیکورٹی اداروں کی سطح پر اپنے داخلی سیکورٹی سے جڑے معاملات پر مشترکہ بیانیہ اور حکمت عملی درکار ہے اور جو بھی غلطیاں یا مشکلات ہیں ان کا مشترکہ علاج تلاش کر کے زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت کرنا ہو گا۔ کیونکہ ہمیں خود کو بھی اور دنیا کو بھی یہ باور کروانا ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے نکل کر مستقبل کی طرف پیش قدمی کرنا چاہتے ہیں۔ مستقبل کی پیش قدمی میں ہم داخلی اور خارجی سطح پر باہمی تعاون، تنازعات کا حل اور امن سمیت معاشی استحکام کی کوششوں کا حصہ بننا ہے۔
اس کے لیے ہمیں علاقائی یا عالمی محاذ پر ایک بڑی جنگ سفارت کاری یا ڈپلومیسی کے محاذ پر لڑنی ہے اور دنیا کو یہ واضح طور پر پیغام دینا ہے کہ ہم امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور ہماری پالیسی میں ٹکراؤ، جنگ یا تنازعات کو پیدا کرنا یا ان میں ابھار پیدا کرنا نہیں۔ اس کا ایک بڑا حل علاقائی سطح پر زیادہ سے زیادہ تعاون اور تنازعات کو ختم کرنے کی جانب توجہ ہے جس میں بھارت کے ساتھ بھی بہتر تعلقات ہماری ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔
یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ داخلی محاذ پر ایسے مسائل جن پر دنیا کی نظریں ہیں یا وہ ہم پر تحفظات رکھتے ہیں، ان کو دور کرنے کو اپنی ترجیحی سیاست کا حصہ بنائے اور دنیا کو یہ پیغام دے کہ ہم درست سمت پر گامزن ہیں۔ دنیا کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ پاکستان ماضی سے باہر نکل کر مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے اور ہمیں ماضی کی تلخیوں کی بجائے مستقبل کی عینک سے دیکھا جائے۔
ہمارے سامنے ایک طرف سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے مواقعوں کو پیدا کرنے کا چیلنج ہے تو دوسری طرف علاقائی ممالک کے ساتھ باہمی تنازعات کا خاتمہ اور معاشی تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانا بھی بڑا چیلنج ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے ریاستی، حکومتی، ادارہ جاتی اور سیاسی سمیت رائے عامہ تشکیل دینے والے افراد اور اداروں کے درمیان ایک بڑا باہمی مشاورت پر مبنی روڈ میپ درکار ہے اور اس روڈ میپ کی بنیاد امن، ترقی اور سیاسی و معاشی استحکام ہو۔ یہ ہماری قومی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔


