مرحباً بکم رمضان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اللہ عزوجل کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ماہ رمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا۔ مسلمان اس نعمت عظمیٰ سے فائدہ اٹھانے کے لئے اس مہینے میں عبادت کا زیادہ اہتمام کرتے، روزے رکھتے، تراویح، اعتکاف اور صدقۂ فطر وغیرہ جیسی عبادات بجا لاتے ہیں۔

پاکستان میں رمضان آتے ہی ٹی وی چینلز الگ ہی منظر پیش کرتے ہیں، گویا ’رمضان اسپیشلسٹ‘ ہو گئے ہیں۔ چاند کا اعلان ہوتے ہی تقریباً تمام ٹی وی چینلز ”رمضان کریم“ ، ”رمضان مبارک“ ، ”ماہ صیام“ جیسے ”ٹیگز“ لگا لیتے ہے۔ جہاں باریش مرد اور خوبصورت انداز میں سر کو ڈھانپے خواتین اینکرز ٹی وی اسکرینز سنبھال کر درس دینا شروع کر دیتے ہیں۔

ٹی وی پروگراموں کے نام تک رمضان سے جڑ جاتے ہیں۔ مثلاً ”شہر رمضان“ ، ”فیضان رمضان“ ، ”رمضان پہچان“ ، ”رونق رمضان“ ، رمضان کی لذت ”وغیرہ وغیرہ۔ میوزک کا تو جیسے سب نے بائیکاٹ کر دیا ہو۔ اب ہر ٹی وی حمد، نعتیں اور منقبت پیش کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ سینکڑوں نئی نعتوں اور قوالیوں کی بہار آ جاتی ہے۔ کلام پاک اور احادیث پڑھی جاتی ہیں۔ دینی مفکروں، دانشوروں، مفتی حضرات اور قاریوں کی مصروفیات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کون سا ٹی وی ہے جو انہیں اپنی اسکرین کی زینت نہ بنانا چاہتا ہو۔

مگر یہ سب رمضان تک محدود ہوتا ہے کہ آخری روزے کے ساتھ ہی اشتہاری مہمات عید کیمپین میں بدل جاتی ہیں۔ اور اس وقت یہ چینلز ایک قلابازی کھا کر عید کے خصوصی پروگرام دکھانے لگیں گے اور رمضان میں کی گئی ساری نیکیوں کی کسر گویا ایک دن یعنی عید پر نکال دیں گے، تفریح کے نام پر ہلڑ بازی، کھانے میں بد احتیاطی اور ناچ گانے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جو میوزک سے لے کر فلموں تک بغیر کسی وقفے کے چلانا گویا فرض ہو اور پھر اگلے چند روز میں سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا۔

یہ تو میڈیا کی بات تھی جہاں رمضان عروج پر نظر آتا ہے مگر پاکستان کے بازاروں میں اشیائے خور و نوش کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ آج ہی میں ٹی وی پر دیکھ رہی تھی کہ ابھی رمضان شروع بھی نہیں ہوا اور چیزوں کی قلت شروع ہو گئی ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ مصنوعی قلت پیدا کر کے من چاہی قیمتیں وصول کی جا سکیں اور قیمتوں کو چیک کرنے والی اتھارٹیز عوام کو کبھی ٹماٹر اور کبھی چینی کے بغیر گزارہ کرنے کی تبلیغ کرتی نظر آئیں۔

سعودی عرب کی سرزمین پر بیٹھ کر اپنے ملک کی یہ چیزیں دیکھ کر مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ یہاں تو تقریباً دو مہینہ پہلے ہی ’نورنا رمضان‘ کے بینرز کے نیچے اشیائے خور و نوش کے اسٹالز گویا شاپنگ مال کی چھت کو چھونے لگتے ہیں، رمضان پیکج میں قیمتیں آدھے سے بھی کم اور کوئی افراتفری بھی نہیں ہوتی۔ اوسط طبقہ کے افراد رمضان کی آفر کا فائدہ اٹھا کر نہ صرف ماہ رمضان بلکہ مزید چند ماہ کے لیے یہ اشیاء خرید کر رکھ لیتے ہیں۔

ماہ رمضان میں بھی اشیاء کی قیمتوں پر کافی حد تک کنٹرول رہتا ہے۔ سعودی عرب میں پھلوں کی پیداوار کم ہوتی ہے، لیکن اللہ کے فضل و کرم سے دنیا کا ہر پھل آسانی سے مناسب دام پر دستیاب ہو جاتا ہے۔ بجلی کا تو مسئلہ ہی نہیں ہے، بجلی سالوں بعد  صرف اسی وقت چند لمحوں کے لیے جاتی ہے جب نیٹ ورک میں کوئی خرابی آ جائے۔ کھانے پینے کی چیزوں میں عمومی طور پر ملاوٹ نہیں ہوتی ہے۔ کسی طرح کا خوف نہیں ہے، رات میں بھی کسی وقت اکیلے اپنی گاڑی سے سینکڑوں میل کے سفر پر نکل سکتے ہیں۔

غرض کہ وہ سہولیات اور آرام جو بر صغیر میں اعلیٰ طبقہ کو بھی نہیں ملتیں وہ یہاں عام لوگوں کو میسر ہیں۔ کس قدر فیض ہے اس دھرتی پر میرے رسول ﷺ کا۔ آپ کو کوئی گلہ پھاڑ پھاڑ کر مساجد کے سپیکر میں یہ نہیں بتاتا کہ رمضان آ گیا ہے اور اب سے جھوٹ، رشوت خوری، ملاوٹ اور ایسی کئی برائیاں حرام ہو گئی ہیں اور نماز، سچ بولنا، تلاوت قرآن پاک فرض ہو گئی ہیں۔ بلکہ افطاری کے وقت اگر آپ گاڑی میں ہوں یا کسی مسجد میں ہوں تو زم زم، کھجور، جوس اور لسی کا پیک آپ کے ہاتھ میں من و سلویٰ کی طرح آ جاتے ہیں۔

حرم شریف کے مناظر تو اس قدر دیدنی ہوتے ہیں کہ شاید بیان میں لانا ہی ممکن نہیں، شام سے لوگ احرام میں ملبوس اپنی گاڑیوں میں ڈرائیو کرتے نظر آتے ہیں، حرم شریف میں طواف صرف نمازوں کے وقت رکتا ہے، جیسے ہی مغرب کی اذان ہوتی ہے، اردگرد بسنے والے لوگ کھجور اور قہوہ کے ساتھ ڈسپوز ایبل برتن بھی ساتھ لاتے ہیں، سرکاری سطح پر بھی افطاری کے لئے بڑے بڑے تھیلے اٹھائے انتظامی اہلکار آ جاتے ہیں اور ان اشیاء کو بے حد نفاست سے نمازیوں کے سامنے لگا دیا جاتا ہے اور جماعت کھڑے ہونے تک یہ سب کچھ دوبارہ اس طرح سمیٹ لیا جاتا ہے جیسے کھانے پینے کی کوئی چیز کبھی یہاں تھی ہی نہیں۔

گرمی کے موسم میں درجۂ حرارت کم و بیش چالیس پینتالیس ڈگری رہتا ہے، کبھی کبھی پچاس ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ مگر معیار زندگی کے بہتر ہونے کی وجہ سے پیاس اور بھوک کا زیادہ احساس نہیں ہوتا۔ رمضان میں عموماً اسکولوں کی چھٹی کر دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے راتوں میں شاہراہوں اور شاپنگ سینٹروں میں جم غفیر نظر آتا ہے۔ مغرب سے سحری تک تمام ہوٹل اور دکانیں کھلی رہتی ہیں، غرض کہ خرید و فروخت عموماً رات میں ہی ہوتی ہے۔ لیکن سحری کے بعد سے کوئی بھی ریسٹورنٹ حتیٰ کہ چائے کا ہوٹل بھی نہیں کھلتا ہے۔ سحری کھا کر نماز فجر کی ادائیگی کے بعد عام طور پر لوگ سو جاتے ہیں۔

سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے رمضان میں ڈیوٹی کے اوقات 2 گھنٹے کم کر دیے جاتے ہیں۔ مرد حضرات عموماً 10 بجے دفتر جاتے ہیں، جبکہ خواتین عمومی طور پر ظہر تک سوتی ہیں۔ مرد حضرات اول وقت میں نماز عصر کی ادائیگی کے بعد سو کر اپنی نیند مکمل کرتے ہیں جبکہ خواتین مطبخ کے کام کاج میں مصروف رہتی ہیں، خواتین قرآن کی تلاوت کرتی ہیں۔ ذائقہ دار چاٹ کے بجائے مختلف قسم کے پھل افطار کے لیے دسترخوان پر موجود ہوتے ہیں، سعودی معاشرہ ہمارے روایتی سموسوں اور پکوڑوں سے ناواقف ہے البتہ چکن، مٹن اور پنیر کے سموسوں اور لسی کا استعمال خوب ہوتا ہے۔

کھجوروں کے ساتھ مختلف قسم کے شربت اور کھانے والا زیتون موجود رہتا ہے۔ سلاد کے ساتھ چنا پیس کر اس پر زیتون ڈال کر ’حمص‘ نام کی ڈش بھی تیار کی جاتی ہے۔ دلیہ کو گوشت کے ساتھ ملا کر ’جریش‘ نامی ڈش کافی پسند کی جاتی ہے جو صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ بریانی کی طرح مرغی اور چاول سے بنائی گئی خاص ڈش خوب کھائی جاتی ہے۔ بکرے کے گوشت کے ساتھ باسمتی چاول سے بنائی گئی ڈش ’مندی‘ اور ”کبسہ ’سعودی عرب کی مرغوب غذائیں ہیں۔

بہت بڑے تھال میں چاول اور اس کے چاروں اطراف مغزیات ہوتے ہیں اور درمیان میں آگ پر بھنا ہوا پورا بکرا کھوپڑی کے ساتھ رکھا ہوا ہوتا ہے، لوگ اسی بڑے تھال میں سے بکرے کا گوشت خوب مزے لے لے کر کھاتے ہیں۔ مغرب اور عشاء کے درمیان عموماً لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہیں۔

سعودی عرب کے ہر بڑے شہر میں ایسے مخصوص علاقے ہیں جہاں ہندوستانی، پاکستانی اور بنگلادیشی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ ان علاقوں کے ہوٹلوں میں ماہ مبارک میں ہر وہ چیز آسانی سے مل جاتی ہے جو برصغیر کے لوگ افطار یا سحری میں کھاتے ہیں۔ برصغیر کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو افطار کی دعوت دے کر اپنی سماجی زندگی کو باقی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بارگاہ الٰہی میں دعا ہے کہ ہمیں قرآن و حدیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور رمضان کی فیوض و برکات سے بہرہ مند فرمائے۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *