مظلوم کا ضیا شاہد چلا گیا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلاشبہ محترم ضیا شاہد بہت بڑے قلم کار اور مدیر تھے۔ ان کا طرۂ امتیاز یہ تھا کہ وہ بلا امتیاز ”صحافتی ضیاء“ کو پھیلانے پر یقین رکھتے تھے۔ ایک طرف وہ عوام کے نبض شناس تھے اور جانتے تھے کہ عوام کیا پڑھنا چاہتی ہے اور دوسری طرف وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اپنے ماتحتوں سے کس طرح کام لینا ہے اور ”لشکر صحافت“ میں شامل کس سپاہی کو کس محاذ پر کھڑا کرنا ہے۔ میاں نواز شریف کے ایک جلسے کی کوریج کے لئے جاتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید اور مرحوم خلیل ملک سے میں نے ذاتی طور پر سنا کہ ضیاء شاہد سے بڑا منصوبہ ساز کوئی نہیں ہو سکتا ، انہیں علم ہے کہ اخبار میں کیا ہونا چاہیے تاکہ عوام اس کو اپنا ترجمان سمجھے۔

محترم ضیا شاہد نے بیک وقت دو محاذوں پر جنگ شروع کی اور دونوں کو فتح کیا۔ ایک طرف ضیا شاہد نے اخبارات کی دنیا میں اجارہ داری کو توڑا اور یونیورسٹیوں سے صحافت کی تعلیم مکمل کرنے والے سینکڑوں نوجوانوں کو پلیٹ فارم مہیا کیا۔ نوجوان پڑھے لکھے طبقے کے اندر موجود ”صحافتی جراثیم“ کو بہترین طریقے سے استعمال کرنے کے لئے وہ صحافت کو بڑے شہروں سے نکال کر یونین کونسل کی سطح تک لے گئے۔ یقینی طور پر جناب ضیا شاہد اگر سیاست میں ہوتے تو وہ اس شعبے میں بھی حقیقی معنوں میں نچلے طبقے کے بہترین سیاست دان تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ اور دوسری طرف وہ ”صحافت“ کو ڈرائنگ روم سے نکال کر گلیوں بازاروں میں لے آئے اور اسے پسے ہوئے طبقے کو مؤثر آواز بنا دیا۔

اللہ تعالیٰ نے جناب ضیاء شاہد کی نہ صرف تقریروں بلکہ تحریروں میں اس سے بھی زیادہ تاثیر رکھی ہوئی تھی۔ انہوں نے جب لاہور سے روزنامہ پاکستان نکالا تو صفحہ اول پر 1992ء میں میں نے ان کا مقالۂ خصوصی پڑھا اور یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں شدید مایوسیوں سے لڑ رہا تھا۔ محترم ضیا شاہد کا یہ مقالہ خصوصی جسے اللہ تعالیٰ نے میرے لئے ہی لکھوایا تھا۔ اس مقالہ خصوصی کے چند الفاظ مجھے آج بھی یاد ہیں جس میں انہوں نے لکھا کہ ”مر تو تم ویسے بھی رہے ہو لیکن اپنے حقوق کے لئے لڑ کر مرو تاکہ اللہ کی عدالت میں کم از کم اس حد تک سرخرو ہو جاؤ کہ تم نے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کی تھی“ ۔

یہی میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا اور میں نے گاؤں مانگٹ چھوڑ کر اسلام آباد میں جدوجہد شروع کی اور پھر ”لشکر ضیا شاہد“ میں شریک ہو گیا اور اسلام آباد میں ہمارے صحافتی کور کمانڈر جناب خوشنود علی خان تھے۔

ایک بار ضیا شاہد نے مجھ سے سوال بھی کیا کہ آپ نے صحافت کا شعبہ کیوں اختیار کیا؟ تو میں نے جواب دیا کہ یہ بھی آپ کی تحریر کا ہی کمال ہے اور سچ پوچھیں تو میں آپ کی اس تحریر کا بھی احسان نہیں چکا سکتا۔ محترم ضیا شاہد نے اس وقت محبت بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔

جناب ضیا شاہد جب بھی میٹنگ شروع کرتے تو آئیڈیاز کا انبار لگ جاتا، اگر وہ رپورٹنگ کی میٹنگ میں سربراہی کر رہے ہوتے تو آئیڈیاز ایک جھرنے کی طرح ان کے منہ سے نکل رہے ہوتے۔ محترم ضیا شاہد کی صحافت 40 فیصد قومی اور بین الاقوامی خبروں سے متعلق ہوا کرتی تھی جبکہ اپنی صحافت کا 60 فیصد حصہ انہوں نے غریب اور محکوم طبقے کے لئے مقرر کر رکھا تھا۔ اسی وجہ سے ’جہاں ظلم وہاں خبریں‘ کا نعرہ مشہور ہوا ۔ عوام کی جنگ لڑنے کے لئے انہوں نے لاہور، اسلام آباد، ملتان، کراچی میں انسپکشن ٹیمیں مقرر کر رکھی تھیں۔

روزانہ کی بنیاد پر جناب ضیا شاہد ان درخواستوں پر نام کے ساتھ ڈیوٹیاں مقرر کرتے اور ہر علاقے کی ٹیم خبریں کی گاڑی لے کر متاثرین کے پاس پہنچ جایا کرتی ، اس طرح اگلے روز روزنامہ خبریں میں مظلومین کی خبریں شائع ہوتیں اور حکومتی ادارے ان پر کارروائی بھی کرتے، یہ ضیا شاہد کا ہی کمال تھا کہ انہوں نے پہلی بار رسہ گیروں، جواریوں اور نوسربازوں کو للکارا، اسی طرح انہیں زراعت سے بہت دلچسپی تھی ، اخبار کا ایک صفحہ انہوں نے شعبۂ زراعت کے لئے مختص کر رکھا تھا اور پی ٹی وی سے کسان ٹائم کے نام پر ایک گھنٹہ بھی خریدا ہوا تھا۔

اس طرح وہ ملک بھر کے کسانوں کی بھی آواز بلند کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔ محترم ضیا شاہد سے میں نے تین چیزیں سیکھیں اور انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا۔ اول وہ کہا کرتے تھے کہ بطور صحافی ہم وہ دروازے کھول سکتے ہیں جو ہمارے دوست، احباب اور عزیز واقارب نہیں کھول سکتے ، اس لئے ہمیں لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں، اس طرح صحافت ایک عبادت بن سکتی ہے ۔ دوم وہ کہا کرتے تھے کہ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کے ساتھ ڈٹ جاؤ ، اللہ ضرور مدد کو آئے گا اور میں نے ایسا کئی بار دیکھا ہے۔

سوم ان کا اس بات پر بھی اصرار ہوتا تھا کہ جو بات آپ صحیح سمجھتے ہیں اور آپ کا ایڈیٹر یا چیف ایڈیٹر اس کو درست نہیں سمجھتا ہے تو آپ اظہار خیال ضرور کر دو تاکہ وقت آنے پر یہ بات ثابت ہو کہ آپ درست تھے۔ مؤخر الذکر بات میں نے جناب ضیا شاہد سے سیکھی مگر اس کا نقصان مجھے کئی بار بے روزگاری کی شکل میں اٹھانا پڑا۔ جن لوگوں نے جناب ضیا شاہد کے ساتھ کام کیا انہیں علم ہے کہ وہ کتنے بڑے صحافی اور مدیر تھے اور جنہوں نے ان کے ساتھ کام نہیں کیا، انہیں شاید علم ہی نہ ہو کہ صحافت کی دنیا کتنے بڑے نام سے محروم ہو گئی ہے۔

ایک بار جناب حامد میر نے مجھے محفل میں رسمی طور پر پوچھا کہ آج کل کہاں کام کر رہے ہیں تو میں نے بتایا کہ روزنامہ خبریں کے ساتھ ہوں تو حامد میر صاحب کا کہنا تھا کہ جناب ضیا شاہد سے بڑا صحافتی سکول اور کالج کوئی نہیں ہے۔ اس لئے موقع ہے جتنا سیکھ سکتے ہو سیکھ لو۔ مگر افسوس وہ چراغ ہی بجھ گیا جس کی روشنی سے صحافت کی دنیا میں نئے نئے راستے دریافت ہوئے۔ صحافت کو ایک اور ضیا شاہد کی شدید ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 100 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *