افغانستان میں امن امکانات اور خطے کا استحکام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغانستان کا تنازع مختلف ادوار میں مختلف پہلوئوں سے زیر بحث رہا ہے۔حالیہ دنوں طے ہوتے تنازع پر ایک بار پھر دھند امنڈنے لگی ہے جسے بہرحال ایک دن چھٹ جانا ہے۔ سوویت قبضے کے دوران کمیونزم‘ سرد جنگ اور جہاد افغان بحث کے نکات تھے۔ سوویت انہدام کے بعد نئے وسط ایشیا کی تشکیل‘ افغانستان کی خانہ جنگی اور امریکی لاتعلقی کے موضوعات افغانستان کے معاملے کو چمکائے رکھتے۔

پھر ملا عمر اور طالبان کا ستارہ چمکا۔ اسامہ بن لادن‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ افغانستان کی تعمیر نو اور اب افغانستان سے امریکی انخلا کے اثرات اس تباہ حال ملک پر بات کرنے والوں کی توجہ کا محور بنے ہوئے ہیں۔ نائن الیون کے بعد امریکہ دوبارہ افغانستان آ گیا‘ اس بار وہ دوست نہیں تھا۔ امریکی موجودگی کو 19 برس ہونے کو آئے۔ ان 19 برسوں میں امریکہ نے افغانستان پر کتنا خرچ کیا؟ دو سال پہلے برائون یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ 2019ء کے اختتام تک 6 کھرب ڈالر اس اندھے غار میں جھونک چکا ہے۔

نائن الیون کے بعد امریکہ‘ عراق‘ افغانستان اور پاکستان میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 80 سے 5 لاکھ 7 ہزار افراد تک جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ جنگی نقصانات کاتخمینہ لگانے کے دوران معلوم ہوا کہ 7 ہزار امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ضمن میں امریکہ 76 ممالک میں انسداد دہشت گردی کے آپریشن کر رہا ہے۔ امریکہ اور خطے کے ممالک کے ساتھ مذاکرات اور معاہدوں کے باوجود ابھی تک افغانستان میں امن کا قیام ممکن نہیں ہورہا۔ افغان جنگ امریکی بجٹ کو متاثر کر رہی ہے۔

جنگ سے متعلقہ اخراجات کا حجم بڑھ رہا ہے‘ ریٹائر ہونے والے فوجیوں کی بہبود اور دہشت گردی کے انسداد کے پروگراموں پر بھاری اخراجات ہو رہے ہیں۔ افغانستان میں لڑائی اگر 2023ء تک جاری رہی تو امریکہ پر اضافی 808 ارب ڈالر کے اخراجات کا بوجھ پڑ سکتا ہے۔ امریکی حکام جانتے ہیں کہ بھاری اخراجات کے باوجود وہ افغانستان کے نہتے لوگوں سے ہار چکے ہیں۔ پینٹاگان سمجھتا ہے کہ روس‘ چین اور پاکستان کے ذریعے افغان عسکریت پسندوں پر ڈلوایا گیا دبائو امن مذاکرات کو کامیاب کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے اور ان کی ہلاکتوں نے ثابت کیا ہے کہ امریکی حکام معمولی باتیں منوانے کے لیے افغان شہریوں کی زندگی کو خطرات کا شکار بنا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ امریکی انخلا کے لیے اسی وجہ سے بے تاب تھے اور اپنے 27 سالہ ذاتی معاون سے بھی دفاعی معاملات پر مشورہ کے طلبگار رہتے تھے۔ Cost of the war project کے مطابق امریکہ کے زیادہ تر اخراجات انسداد دہشت گردی آپریشنوں‘ امریکی دستوں کی خوراک‘ لباس‘ طبی ضروریات‘ خصوصی مراعات و تنخواہ پر ہوئے۔

امریکہ کا سرکاری ڈیٹا بتاتا ہے کہ افغانستان کی تعمیر نو کے منصوبوں پر 140 ارب ڈالر سے زائد خرچ ہوئے ہیں۔ افغانستان کی حالت دیکھیں تو کابل شہر کی چند شاہرائوں اور مخصوص علاقوں کے سوا کہیں تعمیر نو کے آثار نہیں۔ 86 ارب ڈالر سے افغان فوج کو منظم کیا گیا۔یہ ایسی فوج ہے جو کسی وقت بھی اپنی وفاداری بدل سکتی ہے ۔ اس کی تربیت کے کام میں بھارت کا تعاون حاصل کیا گیا۔ اس تعاون کے بدلے کچھ رقم بھی فراہم کی گئی۔ امریکہ نے اوسطاً ڈیڑھ ملین ڈالر روزانہ افغانستان میں خرچ کئے ہیں۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں امریکہ نے اپنے فوجی دستے افغانستان سے واپس بلا لئے ہیں تاہم 2020ء کے اختتام تک دس ہزار کے لگ بھگ فوجی یہاں موجود تھے۔ 11 ہزار سویلین امریکی یہاں مختلف طرح کے کنٹریکٹر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس صورتحال میں سکیورٹی کے معاملات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ وہ 2014ء میں صدر بنے‘ تب سے اب تک افغان سکیورٹی فورسز کے 45 ہزار جوان مارے جا چکے ہیں۔

ایک ہفتہ پہلے افغان طالبان نے خوست کے پرانے ہوائی اڈے پر غیر ملکی افواج کی مرکزی بیس پر میزائل حملہ کیا۔ قطر معاہدے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان نے غیر ملکی افواج کو نشانہ بنایا۔ اس بیس پر امریکی فوجی موجود ہیں۔ یہ حملہ سی آئی اے کی تربیت یافتہ خوست پروٹیکشن فورس کی جانب سے ایک کارروائی میں 20 شہریوں کی ہلاکت کا ردعمل بتایا جارہا ہے۔ افغان طالبان نے صدر جوبائیڈن کو انتباہ کر رکھا ہے کہ طے شدہ تاریخ پر امریکہ نے افغانستان سے اپنے تمام فوجی نہ نکالے تو اسے قطر معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور اس کے بعد افغان حریت پسند اپنا جہاد جاری رکھیں گے۔

امریکہ کے انٹیلی جنس ادارے افغان صورت حال پر تشویش زدہ ہیں۔ خفیہ اداروں نے بائیڈن انتظامیہ کو خبر دار کیا ہے کہ امریکی فوج فریقین میں شراکت اقتدار کے معاہدے کے بغیر واپس چلی گئی تو طالبان دو تین برس میں ملک کا انتظام سنبھال لیں گے۔ اب صدر بائیڈن نے فیصلہ کرنا ہے کہ یکم مئی 2021ء تک افغانستان میں موجود 3500 فوجیوں کو واپس بلایا جائے یا نہیں۔ ان حالات میں ہمارے دوست شاہد خان کی یہ اطلاع بڑی اہم ہے کہ طالبان نے افغانستان کے مختلف علاقوں کے لیے عسکری کمانڈروں کی تعیناتیاں کر دی ہیں۔

امریکہ اور اشرف غنی حکومت معاہدے سے انحراف کرتے ہیں تو افغانستان میں ایسی لڑائی شروع ہو سکتی ہے جو خانہ جنگی میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ سوویت یونین افغانستان میں سالانہ 2 ارب ڈالر خرچ کر رہا تھا۔ امریکہ کھربوں ڈالر خرچ کرکے اگر جنگ کو امن کی شکل میں ڈھال نہ سکا تو اس کے جنگی دانشوروں اور اداروں کی ناکامی ہوگی۔دوسری صورت میں یہ خطہ اپنی سلامتی و استحکام کو تحفظ دینے کے لیئے دوسری قوتوں کی طرف مائل ہو نے کا عمل تیز کر دے گا۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *