ایک درویش صفت عورت کی کہانی ( 2 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ آج فارغ ہیں تو اردو لغت نکالیں اور اس میں درویش، صوفی اور سالک کا مطلب تلاش کریں اور پھر اسے میری کیوری کی زندگی پر منطبق کر کے دیکھیں، ان الفاظ کے معنی خود بخود آشکار ہو جائیں گے۔ مادام کیوری وہ عورت تھی جو اگر چاہتی تو اپنی سائنسی دریافت کے ذریعے جائز طریقے سے کروڑوں ڈالر کما سکتی تھی مگر اس نے ایسا نہیں کیا، الٹا جو انعامی رقم اسے زندگی میں ملی وہ فلاحی کاموں میں خرچ کر دی اور اپنی جمع پونجی سائنس کی راہ میں لٹا دی۔

درویشی کا عالم یہ تھا کہ نمود و نمایش اور شہرت سے دور بھاگتی تھی، کبھی کوئی پہچان لیتا تو کہتی کہ میں کیوری نہیں ہوں۔ ہم اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ مغربی ممالک نے پہلے ایک مثالی نظام حکومت قائم کیا اور پھر وہاں سائنسی علوم کی سرپرستی شروع ہوئی۔ یہ دلیل شاید درست نہیں۔ جس قسم کی مشکلات میری کیوری کو اپنی سائنسی تحقیق کے دوران پیش آئیں ان کی نوعیت بالکل ویسی تھی جیسی کسی عورت کو پسماندہ ملک میں پیش آتیں۔

اپنے شوہر کے ساتھ جب اسے پہلی مرتبہ نوبل انعام ملا تو لوگوں نے کہا کہ اصل کام تو مرد نے کیا ہوگا جبکہ حقیقت یہ تھی کہ دونوں میاں بیوی جب لیبارٹری میں کام کرتے تو مشترکہ نوٹس لیتے اور لکھتے کہ ’آج ہم نے یہ دیکھا‘ یا ’آج ہم میں سے ایک نے یہ دریافت کیا‘ ! سائنس ان کا عشق تھا اور وہ دونوں ایک دوسرے کے عاشق تھے۔

میری کیوری نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر ایک گودام نما لیبارٹری میں تحقیق شروع کی اور دو نئے عناصر دریافت کیے۔ ایک کا نام، اپنے وطن کی پولینڈ کی نسبت سے، ’پلونیئم‘ رکھا اور دوسرے کا نام ’ریڈیم‘ ۔ 1903 میں پیآ کیوری کو لندن کے رائل انسٹیٹیوٹ میں ریڈیم کے موضوع پر لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا۔ بیسویں صدی کے لندن کا یہ حال تھا کہ کسی عورت کو مردوں کے درمیان بیٹھ کر لیکچر نہیں سننے کی اجازت نہیں تھی اور عورت کے خطاب کرنے کا تو خیر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

مگر مصیبت یہ تھی کہ میری نے ریڈیم دریافت کیا تھا اس لیے مجبوراً رائل انسٹیٹیوٹ کو میری کو اجازت دینی پڑی اور یوں تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی عورت نے وہاں بیٹھ کر لیکچر سنا۔ 1903 ہی وہ سال تھا جب میری کو اپنے شوہر اور معاون سائنس دان کے ساتھ نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔ بدقسمتی سے اس سال کیوریز اپنا انعام وصول کرنے نہ جا سکے کیونکہ ریڈیم کی تحقیق کے دوران ہونے والے تابکاری کے اثرات نے انہیں بیمار کر دیا تھا۔ 1906 میں ایک حادثے میں میری کے شوہر کی جان چلی گئی، اس بات نے میری کو ہلا کر رکھ دیا۔ فرانس کی حکومت نے میری کو وظیفے کی پیشکش کی مگر میری نے کہا کہ ’میں ابھی اتنی جوان ہوں کہ اپنے اور اپنے بچوں کو خود کما کر کھلا سکتی ہوں۔‘ پھر میری کو ایک اور دریا کا سامنا پڑا۔

برطانیہ کے سائنس دان لارڈ کیلون نے لندن ٹائمز میں مضمون لکھا جس میں اس نے دعوی کیا کہ ریڈیم کوئی عنصر نہیں ہے، بالآخر چار برس کی محنت شاقہ کے بعد 1910 میں مادام کیوری نے خالص ریڈیم کو دنیا کے سامنے ثابت کر دیا۔ لارڈ کیلون غلط تھا مگر اسے فوت ہوئے اب تین برس ہو چکے تھے۔ 1911 میں پیرس کے اخبارات نے میری کا سکینڈل شائع کیا جس میں الزام لگایا کہ اس کا ایک شادی شدہ شخص کے ساتھ معاشقہ ہے۔

ان خبروں نے میری کے خلاف ایک فضا بنا دی، لوگ اس کے گھر کے باہر کھڑے ہو کر نفرت انگیز نعرے لگاتے اور کہتے کہ ’اس غیر ملکی عورت کو باہر نکالو۔‘ میری نے مگر کسی الزام کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ اس دوران 7 نومبر 1911 کو میری کو ایک ٹیلی گرام موصول ہوا جس میں یہ خوشخبری تھی کہ اسے دوسری مرتبہ کیمسٹری کے شعبے میں نوبل انعام دیا جا رہا ہے۔ بد قسمتی سے میری کا یہ کارنامہ اس کے سکینڈل کے نیچے دب گیا۔ ’کون سی رات زمانے میں گئی جس میں میر، سینہ چاک سے میں دست و گریباں نہ ہوا۔‘

میری کیوری نے انسانیت کے لیے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جس کے لیے شاید وہ امن کے نوبل انعام کی بھی حقدار تھی۔ پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو میری نے انعام میں ملنے والی رقم سے جنگ کے بانڈ خرید لیے حالانکہ اسے اچھی طرح علم تھا کہ جنگ کے بعد ان کی قدر ایک ٹکے کی بھی نہیں ہوگی۔ اس نے اپنے تمام طلائی تمغے بھی حکومت کو عطیہ کر دیے مگر حکومت نے وہ قبول نہیں کیے۔ میری کو پھر بھی چین نہیں آیا۔ اس نے سوچا کہ جنگ کے دوران زیادہ تر اموات بر وقت ایکس رے نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں تو کیوں نہ ایکس رے مشینیں بنائی جائیں۔

پہلے اس نے خود ایکس رے کرنا سیکھا اور پھر دوسروں کو سکھایا، اپنی سترہ برس کی بیٹی کو بھی۔ اس بیٹی نے بعد ازاں اپنے شوہر کے ساتھ ایک اور نوبل انعام جیتا۔ جنگ کے دوران میری کیوری نے ہلال احمر کی مدد سے ایک ٹرک کو موبائل ایکس رے یونٹ میں تبدیل کیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ کہیں بھی جھڑپ ہو تو وہ اپنا موبائل یونٹ لے کر قریبی اسپتال میں پہنچ جاتی جہاں زخمی لائے جاتے اور پھر تیس منٹ کے اندر اندر ایکس رے روم بنا کر پہلے مریض کا ایکس رے کرنے کے لیے تیار ہو جاتی۔

میری نے بہت جلد ان اسپتالوں میں ایکس رے یونٹ بنا دیے بلکہ دو سو لوگوں کی تربیت بھی کر دی تاکہ وہ میری کی مدد کے بغیر یہ ایکس رے یونٹ چلا سکیں۔ یوں میری نے بیس ایکس رے یونٹ بنائے۔ جنگ ختم ہوئی تو پتا چلا کہ میری کیوری کے تیار کردہ موبائل ایکس رے یونٹ اور اسپتالوں میں اس کے تربیت یافتہ لوگوں نے قریباً دس لاکھ زخمیوں کا ایکس رے کیا اور قیمتی جانیں بچائیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اللہ، جو اس کائنات کا سب سے بڑا منصف ہے، میری کیوری کو اپنے تمام نیک کاموں سمیت محض اس وجہ سے جہنم میں ڈال دے گا کہ وہ کلمہ نہیں پڑھ سکی تھی؟ اور کیا وہ شخص جنت میں جائے گا جو ظاہری حلیے سے مسلمان ہے مگر چار چار برس کی بچیوں کا ریپ کرتا ہے؟ قرآن سے دلیل ملتی ہے کہ ایسا نہیں ہے۔

نوٹ: اس کالم میں بیان کیے گئے تمام واقعات اور حقائق Carla Killough کی کتاب Something out
of Nothingسے لیے گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 191 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *