زندہ رہنے کے خوف میں مبتلا اقلیتی شہری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں سول ہسپتال فیصل آباد میں دوران ڈیوٹی دو نرسوں مریم لعل اور نیہوش عروج پر توہین رسالت اور توہین مذہب کا الزام عائد کر کے ایم ایس کی مدعیت میں سول لائن تھانہ میں ایف آئی درج کر لی گئی۔ قانونی حوالے سے دیکھیں تو توہین مذہب اور توہین انبیاء دیگر جرائم کی طرح تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 A، B، C کے تحت جرم ہے بالکل اسی طرح جیسے دفعہ 302 یا دفعہ 420 ہے جس نے ثابت عدالت میں جا کر ہونا ہوتا ہے اور اس کے بعد نامزد ملزم کو قانون کے مطابق سزا یا جزا ملتی ہے۔

مگر جس طرح حسب روایت اس کیس میں کیا گیا کہ ایک وارڈ بوائے نے چھری لی اور نکل پڑا اپنا عشق ثابت کرنے اور جاتے ہی وار کر دیا مریم لعل پر۔ جس کا بڑے فخریہ انداز میں اقرار بھی کر رہا ہے۔ بھئی ہم مذہبی اقلیتں تو پہلے ہی ایک انجانے خوف میں زندگیاں بسر کر رہی ہیں ہم تو یہاں ایک مسلمان کی توہین کرنے سے ڈرتے ہیں اور نبی کی تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ہمارے ملک میں اندازاً 60۔ 70 کیسز 295 A، B، Cکے ہوتے ہیں اور زیادہ تر کیسز میں مسلم لوگ شامل ہوتے ہیں جو کہ کیسز اندراج ہونے کے بعد مناسب طریقے سے اپنے کیسز عدالتوں میں لڑتے ہیں۔ مگر اگر کبھی کوئی مقدمہ کسی غیر مسلم کے خلاف درج ہو جائے تو اس کا فیصلہ اسی وقت سڑک پر ہو گا، عدالت کے اندر ہو گا، احاطہ کچہری میں ہو گا یا کسی ایک پر الزام کی سزا مسیحیوں کے پورے علاقے کو ملتی ہے۔ اور سرکار کی رٹ ایسی کہ لوگوں کے اقبال جرم پڑے ہیں کہ ہم نے فلاں پر حملہ کیا مگر مجال ہے کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی سزا ملی ہو یا اس سے اس بابت پوچھا ہی گیا ہو۔

ہم غیر مسلم تو رہتے ہی خوف میں ہیں ۔ آگے بڑھنے کا خوف، کاروبار کا خوف، بہتر تعلیم کا خوف، تحریر کا خوف، تقریر کا خوف، بہتر رہن سہن کا خوف، عبادت گاہوں کا خوف، جوان بچیوں کا خوف، بہتر ملازمت کا خوف، کام والی جگہ کا خوف، اچھے منصب کا خوف ، غرض کہ زندہ رہنے کا خوف ، جس کے تحت ہم مذہبی اقلیتیں زندگی گزار رہی ہیں۔ مارے خوف کے ہم تو اپنے بچوں کے نام اپنی پسند کی بجائے ملکی آئین کے آرٹیکل 2 کے مطابق رکھتے ہیں کہ کہیں کوئی گستاخی نہ ہو جائے۔ اور ایسے میں آئے روز کسی بہن پر ، کسی بیٹی پر ، کسی بھائی پر توہین رسالت توہین مذہب کا مقدمہ۔ اور مقدمہ بھی ایسا کہ  جس کا فیصلہ پہلے ہی ہو جاتا ہے اور الزام بعد میں لگتا ہے کہ اس شخص نے یا عورت نے یہ گناہ کیا ہے۔

ہمارے ایک دوست جاوید صاحب جو سچے عاشق رسول ہیں ، ان سے اس بابت میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھ لیا کہ آج کی نسل اس قدر مذہب کے نام پر تشدد پسند کیوں ہے؟ حالانکہ جو اسلام اور محمد ﷺ کی تعلیمات بذریعہ قرآن و حدیث ہم نے پڑھی ہیں ، وہ تو تشدد پسند مسلمان کا تصور پیش نہیں کرتیں۔ جاوید صاحب کچھ اس طرح مخاطب ہوئے کہ مجھے یہ لگتا ہے کہ آج کے دور میں عشق رسول ثابت کرنا بہت آسان ہے اور نبی کی سنت پوری کرنا مشکل ہے اور ازل سے انسان آسانی کا راستہ ہی اپناتا آیا ہے۔ ہمارے علماء اپنے لوگوں کو نبی کی سنت کی بجائے ناموس رسالت کی تعلیم پر زیادہ زور دیتے ہیں، اس لئے مومنین بھی سنت پوری کرنے کی بجائے عشق کو ثابت کرنے پر زیادہ زور دیتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے ملک میں آسان ہے ، یہاں ریاست کمزور ہے۔

مجھے ایک دن ایک ایسے ملزم سے ملنے کا اتفاق ہوا جو توہین مذہب کی نامعلوم ایف آئی آر میں تفتیش کے لئے بلایا گیا تھا اور وہ دوران تفتیش بے گناہ بھی ثابت ہو گیا تھا مگر تفتیش میں بلانے سے لے کر بے گناہ ہونے تک جس خوف سے وہ گزرا، اس کے مطابق اس کا کہنا تھا کہ اس سے اچھا تو تھا کہ میں مر جاتا تاکہ یہ خوف تو ختم ہوتا کیونکہ مجھے لگ رہا تھا کہ میری زندگی نہ صرف میرے لئے بلکہ میرے خاندان کے لئے بھی مستقل خطرہ ہے۔ مجھے لگا کہ کسی بھی وقت مجھ پر یا میرے خاندان پر حملہ ہو سکتا ہے۔

اسی طرح ایک خاندان کو میں جانتا ہوں جس کے دو افراد اس الزام میں مارے گئے تھے اور اسی الزام کے خوف کی وجہ سے ان کی بہن سے آج تک کسی نے شادی نہیں کی اور ان کی ماں اپنے بچوں کے قتل سے زیادہ اپنی بیٹے کے زندہ قتل پر روز مرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس سے اچھا تھا کہ قاتل ہمارے بیٹوں کے ساتھ مجھے اور میری بیٹی کو بھی قتل کر دیتے تاکہ ہم اس زندہ رہنے کے خوف سے آزاد ہو جاتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *