تحریک لبیک: کل اور آج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آج سے چند سال پہلے جب تحریک لبیک نے گزشتہ حکومت کے ایک وفاقی وزیر کے خلاف الیکٹورل اوتھ کے مسئلہ کو لے کر ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا تو اس وقت کی اپوزیشن پاکستان تحریک انصاف اور ان کے حامیوں نے نہ صرف اس تحریک (جو شدید جلاؤ گھیراؤ پر مشتمل تھی) سے بھرپور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی بلکہ عمران خان اس میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار بھی کرتے پائے گئے۔

آج کے وزیرداخلہ شیخ رشید اس تحریک پر اپنا تن من دھن قربان کرنے کو بے چین نظر آتے تھے ، اس وقت کا سو کالڈ آزاد میڈیا لمحے لمحے کی خبر دیتا دکھائی دیا، کہاں شیلنگ ہو رہی ہے، کہاں پولیس ابھی نہیں پہنچی، وزیر داخلہ ابھی اپنے گھر میں موجود ہیں، حکومت کن کن جگہوں پر ناکام نظر آ رہی ہے اور کتنی نا اہل ہے، آرمی کتنی عاشق رسول ہے اور کیوں خاموش ہے وغیرہ وغیرہ ۔ غرض کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر پل پل کی مخصوص خبریں پہنچ رہی تھیں۔

اس مہم کا فائدہ کس کو ہوا یہ الگ بحث ہے لیکن اس نے یقیناً جلتی پر تیل کا کام کیا۔

اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر (جو ٹویٹر کا بلاوجہ بھی استعمال کیا کرتے تھے ) پریس کانفرنسز مین تحفظات کا اظہار کرتے پائے گئے، اور بڑے اداروں کی طرف سے حکومت کو تنبیہہ کی جاتی رہی کہ طاقت کا استعمال نہ کیا جائے وغیرہ۔ ایک وائرل ویڈیو میں تو ایک بڑے آرمی افسر احتجاج کرنے والوں میں پیسے بانٹتے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ چند موقعوں پر تو ادارے صرف تماش بین محسوس ہوئے۔ بہت سے صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار آخری عمر میں اپنی عاقبت سنوارنے کے چکر میں اس تحریک کو رحمت اور اس کے رہنما کو ولی بنانے پر تل گئے۔

اب یہاں کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔

کیا یہ سب کچھ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا؟ کیا کچھ طاقتوں نے اپنے مخصوص مقاصد کے لیے اس چنگاری کو شعلے میں بدلہ؟ کیا موجودہ حکمران اور حکومت اس وقت اس منصوبے کا حصہ تھی؟ آج اگر انہیں یہ سب کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تو گزشتہ حکومت میں یہ جائز کیوں کر تھا؟ کیا آج بھی یہ سب کچھ کسی منصوبے کے تحت ہی ہو رہا ہے؟ یہ سب ایسے سوال ہیں جن کا جواب پاکستان جیسی ریاستوں میں فوراً تو شاید نہ مل پائے لیکن یاد رکھیے تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔

پاکستان جہاں کل آبادی کا 97 فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہو اور جو رہی سہی آٹے میں نمک کے برابر اقلیتیں ہیں، ایک ایسے ملک میں رہتے ہوئے نہ صرف اسلامی شعائر کا احترام کرنا سیکھ گئی ہوں بلکہ اسلامی تہواروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیتی ہوں ، وہاں ایسی تحریکوں کا جنم لینا اور اس حد تک پرتشدد ہو جانا اپنے آپ میں ایک بہت بڑا سوال ہے۔

تحریک لبیک اب یقیناً ایک سیاسی طاقت بھی بن چکی ہے ۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں ہم نے مختلف وجوہات کی بناء پر جس طرح کی معاشرت قائم کر دی ہے ، اس کو ذہن میں رکھیں تو ہمارے غریب، لوئر مڈل اور مڈل کلاس طبقات مذہبی بنیادوں پر ووٹ کا حق استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کسی زمانے میں یہ سب جماعت اسلامی یا اور رائٹ ونگ کی پارٹیاں جن میں مسلم لیگ بھی شامل تھی کی طرف مائل ہوتے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے تھنک ٹینک نے اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے گزشتہ دونوں الیکشنز میں اپنی کیمپینز چلائیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز اور جماعت اسلامی کا بہت سا مذہبی ووٹ بینک تحریک انصاف کی جھولی میں آ گرا، لیکن موجودہ حکومت کی شدید ناکامی اور نااہلی کی وجہ سے یہ ناراض مذہبی ووٹ اب آسانی سے کسی بھی ایسی جماعت کا حصہ بن سکتا ہے جن کا اولین نعرہ مذہب کی بنیاد پر ہو گا۔ اب موجودہ حکومت کے اقدامات کس قدر کارگر ثابت ہوں گے خواہ اس پارٹی پر پابندی لگانا ہی کیوں نہ ہو، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *