سستا گھر ہاؤسنگ اسکیم کس کے لیے ہے؟


وزیراعظم سستا گھر ہاؤسنگ اسکیم کے تحت حضرو میں 600 سستے پلاٹ فراہم کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق 400 کنال پر مشتمل اسکیم میں 3 مرلے کے 400 پلاٹ بے گھر لوگوں کو دیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سستا گھر اسکیم میں بے گھر لوگوں کو 5 مرلے کے 200 پلاٹ بھی فراہم کیے جائیں گے۔ عرب نیوز کے مطابق حکومت پاکستان نے فنانسنگ سکیم کی معاونت کے لیے کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹ قائم کر دیا ہے جس کا انتظام پی ایم آر سی کے پاس ہو گا۔

مرکزی بینک کمپنی کی معاونت کرے گا جب کہ عالمی بینک فنڈز فراہم کرے گا۔ مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر جمیل احمد نے پیر کو کراچی میں معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ سٹیٹ بینک نے وزارت خزانہ اور عالمی بینک کے ساتھ مل کرپی ایم آر سی کی شکل میں سرمائے کی فراہمی کا منصوبہ شروع کیا ہے تاکہ مورگیج کے ذریعے سرمایہ فراہم کرنے والے بنیادی اداروں کو سرمایہ فراہم کیا جا سکے جس سے وہ اثاثوں اور ذمہ داری کے میچورٹی پروفائل کی مطابقت کا انتظام بخوبی کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا اس قدم سے ہائبرڈ مورگیج ماڈلز کی تیاری اور پاکستان میں سرمائے کی مارکیٹوں کے قیام میں بھی مدد ملے گی۔ قرضے گارنٹی کے معاہدے پر دستخط کرنے والے بینکوں میں فیصل بینک، میزان بینک، بینک اسلامی، حبیب بینک، جے ایس بینک اور سونیری بینک شامل ہیں۔

مذکورہ اسکیم بادی النظر میں بہت پرکشش دکھائی دیتی ہے لیکن کیا یہ اسکیم واقعی ایسے غریبوں کے لئے ہے جو حقیقتاً گھر کی چھتوں سے محروم ہیں۔ یہ ہے وہ بنیادی سوال جس کا جواب کم از کم کوئی ذی شعور بصد مشکل ہی دے سکے تو دے سکے۔

مہنگائی اور بے روزگاری کے اس دور میں اس اسکیم کو ”سستا“ تو مانا جا سکتا ہے لیکن یہ بھی صرف ان گھرانوں کے لئے ”سستی“ اسکیم کہی جا سکتی ہے جن کی پہنچ میں ایسا کرنا ممکن ہو۔

یہ گھر ”حقیقی“ بے گھروں کے لئے نہیں البتہ ایسے گھرانوں کے لئے ضرور ہیں جو ان معنوں میں بے چھت ہیں کہ یک مشت کوئی گھر خرید لینے کی حیثیت میں نہیں البتہ قرض لے کر اپنے گھر کے مالک ضرور بن سکتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہو گا کہ قرض دینے والے بینک کیا کسی گھر کے ایسے سربراہ کو قرض دینے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں جس کی حیثیت قرض ادا کرنے کی نہ ہو۔ بینک کبھی کسی ایسے فرد کو گھر بنانے یا بنے بنائے گھر کے لئے قرضہ دینے کے لئے تیار ہو ہی نہیں سکتا جو بینک کی قسطیں ادا کرنے کے بعد اپنے گھر کے دیگر اخراجات پورے ہی نہ کر سکتا ہو۔

سستے سے سستا گھر بھی فی زمانہ زمین سمیت 50 سے 60 لاکھ روپے سے کم تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔ فرض کر لیا جائے کہ سب سے چھوٹے گھر کے لئے کوئی بینک 20 لاکھ تک قرض دینے کے لئے تیار ہو بھی جائے تو باقی 40 لاکھ روپے زمین کی قیمت، دیگر ترقیاتی اخراجات اور کاغذات کی تیاری کے لئے تو بہرصورت اس فرد کو لازماً فراہم کرنا ہوں گے ۔ کیا 40 لاکھ رقم حقیقی معنوں میں کسی ”بے چھت“ والے کے پاس ہو سکتی ہے۔ اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ ایسا ممکن ہے، تب بھی کیا 20 لاکھ روپے کا بینک لون کم رقم ہے۔

اگر یہ لون 10 سال کے لئے بالکل بلاسود بھی مان لیا جائے تب بھی اس کی 120 قسطیں بنتی ہیں۔ اس حساب سے ہر ماہ 16700 روپے گھر لینے والے کو ادا کرنے ہوں گے ۔ یاد رہے کہ قرض کی یہ رقم بلا سود نہیں البتہ سود میں نرمی ضرور کی گئی ہے اس لئے محتاط اندازے کے مطابق ہر ماہ کی قسط 20 ہزار سے زیادہ ہی کی بنے گی۔ پہلے مرحلہ پر کسی بھی حقیقی بے گھر کے پاس 40 لاکھ کا ہونا ہی ناممکن ہے اور اگر ممکن سمجھ بھی لیا جائے تب بھی ہر ماہ 20 ہزار سے زائد کی ادائیگی کے لئے بینک کو اس بات کا یقین دلانا ہو گا کہ وہ اپنے گھر میں ہر ماہ کم از کم 1 لاکھ روپے لے کر آتا ہے۔ کیا ایسا فرد ”بے چھت“ کہلائے جانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔

تھوڑی دیر کے لئے یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ حکومت کسی بھی بے گھر فرد کو پورا گھر، جس کی کم از کم مالیت 60 لاکھ بنتی ہو، بنا کچھ ایڈوانس رقم لئے دے کر اس کی 120 قسطیں کرائے کی مدد میں لینے کا اعلان کرتی ہے تو ہر ماہ کی قسط بشمول آسان سود، کم از کم 55 ہزار کی بنتی ہے۔ اس سرسری جائزے کے بعد ہر فرد بآسانی اس بات کا جائزہ لے سکتا ہے کہ ”سستا گھر اسکیم“ بے شک کتنی ہی خوش کن سہی لیکن یہ کہنا کہ اس اسکیم کا تعلق حقیقی بے چھت والے کے لیے ہے، کسی طور درست نہیں ہو سکتا۔

پاکستان بھر میں نہ جانے کتنی وسیع و عریض زمینیں حکومت کی اپنی تحویل میں ہیں۔ ایک ایسی حکومت جو واقعی مخلصانہ طور پر بے گھروں کو گھر جیسی سہولت دینا چاہے تو ایسا کرنا کوئی ایسا کام نہیں جس کو کیا نہ جا سکے۔ ہم پورے ملک کو چھوڑ کر صرف کراچی ہی کی مثال لے لیتے ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں ایسے گھر موجود ہیں جو نہ صرف بلا اجازت بنے ہوئے ہیں بلکہ وہ سرکاری و نجی زمینوں پر قبضے کے بعد تعمیر کیے گئے ہیں۔ گویا اگر ایسے غریبوں کو جو قرضہ بھی نہ لے سکتے ہوں، باقاعدہ پلاٹنگ کر کے زمینیں الاٹ کر دی جائیں تو وہ اپنی اپنی آمدنیوں میں سے، برسوں میں ہی سہی، تھوڑی تھوڑی بچت کر کے اپنے لئے چھتوں کا اہتمام کر سکتے ہیں۔

لہٰذا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کسی غریب کو قرض اور سود جیسی لعنت میں ڈالنے کی بجائے، زمینیں الاٹ کر دی جائیں۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ حکومت کو کوئی پائی دھیلہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑے گا اور حقیقی بے چھتوں کو چھت جیسی نعمت بھی مل جائے گی۔ امید کی جا سکتی ہے کہ حکومت بے گھروں کی آباد کاری کے لئے اس نقطے پر بھی ضرور غور کرے گی۔

Facebook Comments HS