خوشی کی تلاش چھوڑیں،غم کو گلے نہ لگائیں

ہم خوشی کی تتلی پکڑتے ہوئے غم سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ ہم حاصل کرنے کو خوشی سمجھتے ہیں جب کہ خوشی ترک کرنے میں ہے۔ خوشی پکڑنے میں نہیں ہے بلکہ خوشی تو چھوڑ دینے میں ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ جہاز کے کپتانوں کی دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک قسم بوڑھے کپتانوں پر مشتمل ہوتی ہے جب کہ دوسری قسم نڈر کپتانوں کی ہوتی ہے۔ البتہ بوڑھے اور بے خوف کپتانوں کی کوئی تیسری قسم دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ سمجھ بوجھ رکھنے والے احتیاط پسند کپتان پرواز سے قبل موسم کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، جہاز کی ٹینکی میں پٹرول پورا کرتے ہیں، نیند پوری کر کے اپنے آپ کو پرواز سے قبل تازہ دم کرتے ہیں، جہاز کے باطنی نظام کی صحت کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرتے ہیں اور پھر عازم سفر ہوتے ہیں۔
ان احتیاط پسند بوڑھے کپتانوں کو بھی پہاڑوں کے اوپر سفید مسحور کن بادلوں میں محو پرواز ہونا محبوب ہوتا ہے لیکن وہ محبوب کے گھر تک پہچنے کے لئے وہ راستہ اختیار کرتے ہیں جو محفوظ ہوتا ہے اور خطروں سے پاک ہوتا ہے۔ وہ محبوب کو آشنا بنا کے اس کے ساتھ فرار نہیں ہوتے ہیں بلکہ برسرروزگار ہونے کے بعد محبوب کے گھر اپنے والدین کو اس کا ہاتھ مانگنے کے لیے بھیجتے ہیں۔
خوشی کی تعریف کیا ہے اور اس کے حصول کا کوئی آزمودہ راستہ موجود ہے، اس بارے میں نفسیاتی حکماء متفق نہیں ہیں۔ البتہ تمام ماہرین نفسیات ان کانٹوں بھرے راستوں کو جانتے ہیں جن پر سفر کرنے سے جی کا زیاں ہوتا ہے اور زندگی درد کی تصویر بن جاتی ہے۔ خواہش جب لالچ کی صورت اختیار کر لیتی ہے تو انسانی زندگی اضطراب کا شکار ہو جاتی ہے۔ اخراجات جب وسائل سے بڑھ جاتے ہیں تو انسان مغموم ہو جاتا ہے۔ جذبات کی سرخ آندھی جب عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے تو لمحوں کی خطاؤں کی صدیوں تک سزا ملتی ہے۔ بے روزگاری، حسد، ذہنی دباؤ، استحصال کرنے والے تعلقات، تھکا دینے والے سفر، دوسروں سے لیے ہوئے قرضے، اپنی چادر سے باہر پیروں کو لے کر جانا، اپنے آپ کو بے بس سمجھنا، درحقیقت یہ سارے وہ اقدامات ہیں جن سے انسان غم کو گلے کا ہار بنا لیتا ہے۔
اسی لیے سیانے اصرار کرتے ہیں کہ خوشی کے تعاقب کی جگہ غم سے اجتناب کی تدابیر اختیار کرنے کی طرف توجہ دو۔ اس حکمت عملی سے ہو سکتا ہے خوشی کی نیلم پری ہاتھ نہ آئے لیکن اس مجرب نسخے سے غم آپ کو جن جپھا ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ جون ایلیا پھر یاد آئے۔
حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی
شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی
عربی زبان میں متقی اس شخص کو کہتے ہیں جو متوازن شخصیت کا حامل ہوتا ہے اور احتیاط کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتا ہے۔ اہل عرب لمبے لمبے چوغے زیب تن کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور جب وہ کسی کانٹوں بھرے راستے سے گزرتے ہیں تو اپنے دامن کو سمیٹ لیتے ہیں تاکہ ان کا دامن کانٹوں میں الجھ نہ جائے۔ ایسے لوگوں کو متقی کہا جاتا ہے جو میانہ روی کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور انتہاؤں کا جھولا جھولنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ہمیں کانٹوں بھرے راستوں کو ترک کرنا ہو گا ورنہ کانٹوں بھرے راستوں میں کانٹا چبھنے کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
محنت ضرور کریں اور اسباب کی اس دنیا میں اپنی کامیابی کے لیے تمام جائز اور قانونی طور طریقے ضرور اختیار کریں لیکن پھر بھی اگر من پسند نتیجہ نہ ملے تو اداس نہ ہو کیونکہ سب گزر جانا ہے۔ اس نکتے کی وضاحت میں جون ایلیا نے لکھا تھا کہ ”ہم حسین ترین، امیر ترین اور زندگی میں ہر حوالے سے بہترین ہو کر بھی بالآخر مر ہی جائیں گے“ ۔ امجد اسلام امجد بھی یہی کہتے ہیں کہ
دل کے دریا کو کسی روز اتر جانا ہے
اتنا بے سمت نہ چل لوٹ کہ گھر جانا ہے
من کی موج میں زندگی گزارتے ہوئے ہم اپنے دامن کو دکھوں سے بھر لیتے ہیں۔ آئیے آج عہد کریں کہ ہم جذبات پر عقل سلیم کی روشنی میں عمل کریں گے اور عقل سلیم پر وحی خداوندی کی فوقیت کو تسلیم کریں گے کیونکہ وحی خداوندی کے نور میں ہی عقل خود بیں عقل جہاں بیں بنتی ہے۔

