کبھی پاگل خانے گئے ہیں آپ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی پاگل خانے گئے ہیں آپ؟وہاں موجود پاگلوں کی گفتگو سننے یا کسی فلم میں دیکھنے کا موقع ملا ہو تو آپ نے ایک چیز جو نوٹ کی ہو گی اور جو تقریباً ہر دوسرے پاگل میں بدرجۂ اتم موجود ہوتی ہے ، وہ فینٹیسی (Fantasy) میں رہنا ہے۔ ذہنی امراض میں سے ایک ہر وقت فینٹیسی میں رہنا اور اس سے ایک درجہ آگے یہ کہ گردوپیش کے حقائق کو یکسر نظر انداز کر دینا اور اپنی فینٹسی کو ہی حقیقی دنیا سمجھنا ہے۔

اس مرض کو سائیکالوجسٹس اور میڈیکل سائنس Fantasy prone personality کا نام دیتے ہیں۔ یہ باقاعدہ ایک مرض ہے جس کا علاج تربیت اور ٹریننگ سے ممکن ہے۔

مثلاً کوئی پاگل آپ کو پوری سنجیدگی اور تیقن کی آخری منزل پر کھڑا ہر دوسرے شخص سے یہ کہتا نظر آئے گا میرا ولیمہ برج الخلیفہ دبئی میں ہے ، جس میں آصف علی زرداری پچاس ٹرک مچھلیوں کے بھیج رہا ہے اور آپ نے اس میں ضرور شرکت کرنی ہے۔

اسی طرح کوئی پاگل یہ کہتا ملے گا کہ میری باراک اوبامہ صاحب سے نو بجے میٹنگ تھی اور یہ لوگ (مینٹل ہاسپٹل کا عملہ) مجھے وہاں جانے نہیں دے رہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

یہ لوگ پہلے صرف ذہنی امراض کے اسپتالوں یا پاگل خانوں میں ملتے تھے ، اب جابجا نظر آتے ہیں۔ یہ مرض شاید کورونا وائرس سے بھی زیادہ تیز رفتار ہے۔

یہ علامات اب ہمیں معاشرے کے ہر دوسرے شخص میں مختلف تبدیلیوں کے ساتھ دکھائی دے رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے کے تقریباً نوے فیصد لوگ فینٹسی کا شکار ہیں اور اپنی اپنی تخیلاتی دنیاؤں سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ یہ ہمیں ہر روز پاگلوں کی طرح کہانیاں گھڑتے اور انہیں بے دریغ و بلا تصدیق نشر کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر کوئی ان کی نفی کرنے کی جرأت کر بیٹھے تو لٹھ لے کر اس پر چڑھ دوڑتے ہیں۔

کچھ کہانیاں بڑی سرکار نے بچپن سے رٹوائی ہیں۔ کچھ کہانیاں چھوٹی سرکاروں نے۔
کچھ والدین اور اساتذہ نے اور کچھ معاشرے کے دیگر پاگلوں نے۔
ہر شخص ان کہانیوں کی پوری پوری جلدیں اٹھائے پھرتا ہے۔
کچھ زبان زد عام کہانیاں یہ ہیں۔

امریکی سازش، یہودی سازش، غیر ملکی سازش، سعودی و ایرانی سازش (ہر دو طبقات کے پاگل) ، فلاں پہلے اسلام میں داخل ہو پھر اس دکان میں، ہم نمبر ون، پاکستانی مردوں کا دنیا کے خوبصورت ترین مردوں کی فہرست میں پہلا نمبر جن کی ایک جھلک دیکھنے کو گوریاں ”بھیگی“ جا رہی ہیں، قائداعظم کی فرمائش پر فلاں سمگلر ریاست جوناگڑھ سے اڑتالیس من سونا لے آیا تھا، عورتوں میں شہوت کا مردوں سے چالیس گنا زیادہ ہونا۔

فلاں کام نہ کرنے والا اسلام سے خارج، فلاں کام کرنے سے نکاح کا ٹوٹ جانا، آنا فلاں جنگ میں سبز پوش بابوں کا دشمن کے توپ اور ٹینک کے گولے کیچ کر کے واپس انہیں دشمن پر برسانا، یورپ ہو یا آسٹریلیا اور امریکہ ہو یا کینیڈا غرض پورا مغرب فٹ پاتھوں، چوک چوراہوں، سپر مارکیٹس، گھروں، غسل خانوں، کچن اور کھیتوں میں سیکس کر رہا ہے اور ہر وقت کر رہا ہے۔ فیملی کا کانسیپٹ یورپ میں ان کے نزدیک فقط انسیسٹ سیکس تک محدود ہے جو انہوں نے پورن فلموں میں دیکھا ہے۔

ہر گورا اور گوری ہمہ وقت شراب پی رہے ہیں اور ٹن ہیں۔ دنیا کے تمام مذاہب اور تصورات جھوٹے اور فقط ان کے عقائد درست ہیں۔ پاکستان اور اس کی عوام دنیا کے لئے اس قدر اہم ہے کہ وہ ہر وقت بس اسی ٹاپک پر سوچ رہے ہیں اور انہیں زیر کرنے کے خواہاں ہیں مبادا یہ سپر پاور بن جائیں۔ دنیا میں صحیح معنوں میں اسلامی ملک فقط پاکستان ہے۔

اور اس کے علاوہ ان کہانیوں کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ اگر لکھنے بیٹھوں تو شاید کتابوں کی ایک الماری میں بھی نہ سمائیں۔

ایسا کیوں ہے؟
اس جہالت کے کئی اسباب ہیں جن میں کنویں کا مینڈک بن کر ایک ہی قصبے یا شہر میں عمر گزار دینا۔

اخلاقی تربیت کا نہ ہونا۔ اپنے آباء و اجداد اور پیر استاد کے نظریات پر جامد ہو جانا۔ خود احتسابی اور دعوت فکر کی کمی۔ مطالعہ کا فقدان یا زیادہ سے زیادہ ماہنامہ عبقری (جو شاید کسی مجذوب صاحب کی تصنیف ہے) کا مطالعہ، سطحی ذہنیت اور سب سے اہم خامی سفر نہ کرنا۔

جب آپ دنیا دیکھیں گے ہی نہیں تو آپ کو جو مرضی جیسی مرضی تصویر دکھائے اور دو ایک اپنے حواریوں سے تصدیق کروا دے تو آپ نے اس پر ایمان ہی لانا ہے۔

براعظم یورپ میں پچاس ملک ہیں۔ پچاس کے پچاس رقبے اور آبادی میں صوبہ پنجاب سے چھوٹے ہیں۔ انہوں نے پانچ سو سال ایک دوسرے کی گردنیں کاٹی ہیں۔ لیکن پچھلے دو اڑھائی سو سال سے انہیں ایسی عقل آئی کہ اب دنیا کا خوشحال ترین خطہ وہ ہے۔ انہوں نے بارڈر ایک دوسرے کے لئے کھول دیے۔ پرامن ہو گئے۔ ایک ملک و نسل کے باشندوں کو جب دنیا دیکھنے کا موقع میسر آیا تو حقائق کا سامنا بھی ہوا۔ اب وہاں جرمنی میں کوئی کسی کو نہیں ورغلا سکتا کہ اٹلی میں تو یہ ہوتا ہے۔

کیونکہ ہر ایک کی رسائی دوسرے ہمسایہ ممالک تک ہے۔ بصیرت اور بصارت دونوں کشادہ ہو گئیں۔ مذہب کو انسان اور خدا کا انتہائی ذاتی اور نجی معاملہ قرار دے کر معاشرے کو پرسکون اور امن و آشتی کا گہوارہ بنا دیا گیا۔ اب وہاں کوئی صلیب مسیح پر بحث نہیں کرتا۔ نہ کوئی پروٹسٹنٹ کسی رومن کیتھولک کا سر تن سے جدا کرنے کا فتویٰ صادر کرتا ہے۔

آپ کہیں گے وہاں بھی ہم جیسے پاگل موجود ہیں تو صاحبو یہاں اکثریت کی بات ہو رہی ہے۔ وہاں ان چغد حضرات کا وہی تناسب ہے جو ہمارے ہاں اہل دانش کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *