انتہاپسندی


انتہا پسندی ایک ایسا لفظ ہے جو کہ اکثر و بیشتر ہم سب نے کہیں نہ کہیں سنا ہو گا اور یہ فعل ہمارے معاشرے میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے لیکن کیا آپ نے کبھی یہ سوچا کہ وہ کون سے عوامل ہیں کہ جن کی وجہ سے انتہاپسندی دن بہ دن بام عروج کو پہنچ رہی ہے۔ سب نے سوچا ہو گا ضرور سوچا ہو گا کیونکہ ہمارا پالا اکثر اس سوچ سے پڑتا ہے۔ میں نے بھی سوچا کہ کیوں یہ انتہا پسندی کا کینسر ہمارے معاشرے میں بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

ہمارے ہاں انتہاپسندی بہت سی صورتوں میں پائی جاتی ہے جن کو گنا کر میں آپ کا اور اپنا وقت کھوٹی نہیں کروں گا۔ لیکن اس کی وجوہات جاننا بھی تو ضروری ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ جان لیجیے کہ کوئی بھی عقل کل نہیں انسان سے غلطی ہونا ممکن ہے لہذا میری تحریر سے آپ کا اختلاف ہونا جائز ہے اور تنقید کیجئے کھل کے کیجئے گویا تنقید ہی سوچ کی پرتوں کو کھولتی ہے اور ایک نئے بیانیہ سے روشناس کراتی ہے۔

سب سے پہلی وجہ جو انتہا پسندی کو بڑھاوا دیتی ہے وہ، ’دولت کی غیر منصفانہ تقسیم؛ ہو سکتی ہے۔ مطلب معاشی نظام انتہاپسندی کی آگ کو سلگاتا ہے۔ لیکن کیسے؟ جی وہ ایسے کہ محروم طبقہ مراعات یافتہ طبقہ کے بارے میں ہمیشہ منفی سوچتا ہے اور انتہا کا سوچتا ہے۔ اب یہ سوچ اس طبقہ کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلتی ہے یہ یقینی امر ہے۔

دوسری وجہ جو میری سمجھ میں آتی ہے وہ ہیں ؛ نظریات؛ جی ہاں ہمیں شروع سے ہی انتہاپسند نظریات پڑھائے اور سمجھائے جاتے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو ہمارا سلیبس دیکھیں حضور جس میں ان نظریات کی بھرمار ہے۔ تو جب آپ ایک بچے کو انتہاپسند سوچ دیں گے تو آپ اس بچے سے کیا امید کرتے ہیں کہ وہ مستقبل میں کیا کرے گا۔

تیسری وجہ ؛ سیاسی نظام؛ ہے جو کہ عوام کو انتہاپسندی کی طرف مائل کرتا وہ عوام کو مجبور کرتا ہے کہ لوگ سڑک پر آ کر اپنے مطالبات کے حق میں جلاؤ گھیراؤ کریں اور اپنی آواز کو ایوان بالا تک پہنچائیں۔ تو گویا ہمارے ہاں ایسا کوئی نظام سرے سے رائج ہی نہیں جس کے توسط سے اپنی آواز اور مطالبات کا پرچار کیا جائے۔

قارئین یہ کچھ ایسی بنیادی وجوہات ہیں جن کے باعث ایک معاشرہ انتہاپسندی کی طرف مائل ہوتا ہے اور ہمیں آئے روز سڑکوں پر اس کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی عوامل ہوں گے لیکن میری ناقص سوچ میں جو آیا میں نے لکھ دیا۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس کہ علاوہ اور بھی وجوہات ہیں تو خدارا آپ بھی لکھیے اور اس انتہاپسند سوچ کا رد کیجئے۔

Facebook Comments HS