آئی اے رحمان: کرو کج جبیں پہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئی اے رحمان صاحب بھی رخصت ہوئے تقریباً نوے سال کی عمر پائی اور اس عمر کا ایک ایک لمحہ مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے میں گزارا۔

عجیب انسان تھے نہ اپنا کوئی مفاد دیکھتے اور نہ کسی سے خوفزدہ۔ سچی بات منہ پر کہنے والے۔ درست کو درست اور غلط کو غلط کہنے والے انسان۔ مظلوموں کی تائید کرنے والے اور خود کو بڑا سمجھنے والے چھوٹے قد کے بونوں کو ناراض کردینے والی شخصیت۔

جب بھی ایچ آر سی پی کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا ان سے ملاقات ایک معمول بن گئی۔ سیڑھیاں چڑھ کر دوسری منزل پر سیڑھیوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں کتابوں میں گھرے ہوئے بیٹھے ہوتے۔ دیکھ کر اپنی ذہین اور مسکراتی ہوئی آنکھوں سے خوش آمدید کہتے۔ جو کچھ تحریر کر رہے ہوتے اسے چھوڑ کر پوری طرح متوجہ ہو جاتے حالات حاضرہ اور ہمارے معاشرے میں اکثریت کی طرف سے ہونے والے مظالم پر سیر حاصل گفتگو فرماتے اور احمدیوں پر ہونے والی زیادتیوں پر اظہار ہمدردی کرتے۔

ایچ آر سی پی کی ماہانہ میٹنگ میں آپ تشریف لاتے، نہ کوئی کروفر نہ اپنی ذات کو اہمیت دینے والی کوئی بات۔ سادگی سے جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے اور سب کی گفتگو سن کر مختصر الفاظ میں معاملہ کی تہہ تک پہنچ جاتے۔

ایک دفعہ میری اہلیہ بھی میٹنگ میں بیٹھی تھیں آخر میں رحمان صاحب کے تجزیے کو سن کر کہنے لگیں کہ عجیب شخص ہے ساری بحث کا خلاصہ چند الفاظ میں سمیٹ دیا ہے۔

ایک دفعہ کسی ہوٹل میں کھانے پر بیٹھے تھے ایک شخص اپنی فیملی کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ رحمان صاحب کو دیکھ کر ایکسائٹمنٹ میں ان کے پاس آیا اور درخواست کی کہ وہ اپنی فیملی کی ان کے ساتھ تصویر بنوانا چاہتا ہے۔ رحمان صاحب نہایت محبت اور سادگی سے اٹھے۔ تصاویر بنوائیں اور واپس بیٹھ گئے۔ اس شخص کی حالت دیدنی تھی بہت دیر تک فیملی کی رحمان صاحب کے بارے میں بتاتا رہا کہ کتنی بڑی شخصیت ہیں۔

مختصر الفاظ میں دھیمے لہجے میں گفتگو کرنا آپ کا خاصہ تھا۔ چہرے پر کوئی خشونت جسم میں کوئی تھرتھراہٹ اور پیشانی پر کوئی تیوری نہ ہوتی۔ دلیل میں منطق اور سچائی ہوتی جو ہر سمجھدار شخص کے دل پر اثر کرتی۔

فیض صاحب نے شاید ایسے لوگوں کے بارے میں ہی کہا تھا

کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گمان نہ ہو
کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *