تحریک لبیک کا پولیس اہلکاروں پر تشدد ۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رحمت سید ﷺ لولاک پہ کامل ایمان
امت سید ﷺ لولاک سے خوف آتا ہے

پچھلے ہفتے ایک بار پھر تحریک لبیک کے جتھوں نے ناموس رسالت کے نام پر اسلام آباد کا گھیراؤ کیا اور پورے ملک میں تشدد اور بد امنی کا بدترین مظاہرہ کیا۔ اس دوران ان ”عاشقان رسول“ نے پولیس اہلکاروں پر بہیمانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں کئی اہلکار جاں بحق ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ یہی نہیں ان جنونیوں نے پورے ملک میں ٹریفک مفلوج کر دیا نتیجتاً بے شمار مریض ہسپتال نہیں پہنچ پائے۔ ایمبولنس کے سائرن بجتے رہے اور لوگ طبی امداد نہ ملنے اور آکسیجن کی عدل دستیابی کی بنا پر سسک سسک کر مرتے رہے لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ افسوس تو اس بات کا کہ جس آقا کے نام پر یہ تشدد اور بدامنی پھیلائی گئی وہ تو سراسر رحمت العالمین تھے انہوں نے تو طائف کی بستی میں پتھر کھائے اور لہولہان ہو گئے لیکن زخمی کرنے والوں کو بد دعا نہیں دی بلکہ ان کے لیے دعا فرمائی۔

” ریاست مدینہ“ کے علمبرداروں اور ان سے اوپر والوں سے پوچھا جائے کہ کون اس صورتحال کا ذمہ دار ہے۔ اگر یہ انارکی نہیں تو اور کیا ہے۔ کہاں ہے حکومت اور اس کی رٹ۔ کون ہے جو ان جنونی گروہوں کو جب چاہے ایکٹی ویٹ کر دیتا ہے اور پھر لفافے دے کر رخصت بھی کر دیتا ہے۔ کیا ان جنونیوں پر کسی قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔

خانصاحب دوسرے ملکوں کی مثالیں تو بہت دیتے ہیں کیا وہاں ایسی کسی صورتحال پر صاحب اقدار شخص اور انتظامیہ مستعفی نہیں ہوجاتی۔

کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ایک مرتبہ فیصلہ کر لیا جائے کہ ملک کو کون چلائے گا۔ کون عوام کی جان و مال کی حفاظت کا ذمہ دار ہو گا کون ہماری خارجہ پالیسی بنائے گا۔ اگر ان بے لگام جتھوں سے نہیں نمٹ جا سکتا اور حکومت نے ان کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں تو ان کو ہی اقتدار سونپ دیں تاکہ کسی طور عوام آئے دن کے عذاب سے تو نکلے اور کوئی ایک سمت تو طے ہو جائے گا کہ ہم نے جانا کہاں ہے ترقی اور استحکام کی طرف یا پھر پتھر کے دور میں۔

اس ہنگامی آرائی اور افراتفری کی عالم میں ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کا کردار انتہائی افسوسناک رہا وہ اپنے بڑوں پر لگے الزامات کی وکالت اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے۔ جبکہ حکمراں جماعت نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر عوام کو مایوس کیا۔ وزیر اعظم کا کوئی بیان یا ٹویٹ پولیس اہلکاروں پر تشدد اور مظاہرین کی مذمت میں کئی دن تک نہیں آیا۔ ملک میں امن و امان کے ذمہ دار وزیر داخلہ کا انتہائی مضحکہ خیز ٹی وی پر دیا کہ ”مظاہرین ہم سے زیادہ آرگنائز تھے اور ان کے مقاصد اسلام آباد پر لشکر کشی تھا“ جو ان کی نا اہلیت کا کھلا اعتراف تھا۔ وہیں مذہبی سیاسی جماعتوں کی مجرمانہ خاموشی بھی باعث حیرت ہی۔ چند علما اور مشائخ کی جانب سے ایک پھسپھسا سا بیان آیا ضرور لیکن وہ بہت ناکافی تھا۔

کئی روز کی ہنگامہ آرائی کے بعد وزیر داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کردی لیکن اس سے کچھ ہونے والا نہیں ہے کل یہی لوگ کسی دوسرے نام سے دوبارہ آ جائیں گے۔ ماضی میں بھی ایس ہی ہوتا آیا ہے۔

اس پورے منظر نامے میں ایک پولیس ہی تھی جو ڈنڈے اور سوٹی کے بل پر ان بلوائیوں کے آگے ڈٹی رہی اور بد ترین تشدد کا نشانہ بنے جس کے نتیجے میں کئی اہلکار جاں بحق ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیوں نہتی پولیس کو ان بلوائیوں کے سامنے لا پھینکا گیا۔ کیا مقاصد تھے پولیس کو اس طرح بے توقیر کرنے کے پیچھے۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دکھائے جانے والے کلپس میں پولیس اہلکاروں کی بے بسی اور تحریک لبیک کے کارکنوں کی بربریت پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

کیا اس ذلت کے بعد کبھی یہ اہلکار اپنے خاندان اور اولاد سے نظر ملا پائیں گے۔ کیا ان کا رویہ کبھی نارمل ہو پائے گا۔ کیا عوام کبھی پولیس پر اعتماد کر سکے گی اور یہ سوچنے پر مجبور نہیں ہوگی کہ

جب پولیس اپنا دفاع نہیں کر سکتی تو ہماری حفاظت کیا کرے گی۔ یہ سوچ پیدا کرنے کے آخر مقاصد کیا ہیں۔ کہ سویلین سسٹم ہی سے عام آدمی کا اعتماد اٹھ جائے۔

کیا یہ ایک حقیقت نہیں کہ پولیس جس کو کوئی مراعات نہیں اور ملعون بھی وہی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے باوجود وہ مشکل اور نا مساعد حالات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی ہے۔ ان کی ڈیوٹی اور چھٹی کا کوئی وقت مقرر نہیں اس کے باوجود وہ اپنے فرائض بھی کسی طور ادا کرتے ہیں اور گالیاں بھی کھاتے ہیں۔ معاشرہ بھی انہیں کوئی باعزت مقام بھی نہیں دیتا بلکہ پولیس کو نفرت اور برائی کے استعارے کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ پولیس کی اکثریت رشوت لیتی اور جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی بھی کرتی ہے۔

میں پولیس کے ان ناپسندیدہ کاموں کا دفاع بالکل نہیں کر رہا لیکن اتنا ضرور پوچھنا چاہتا ہوں کیا ہم ان کو وہی سہولیات فراہم کر رہے ہیں جو فوج کے ایک سپاہی یا افسر کو میسر ہیں۔ کیا ایک پولیس مین کے بچوں کی تعلیم۔ علاج اور رہائش فراہم کی جاتی ہیں اور تو اور کیا معاشرہ ان کو یا ان کے اہل خانہ کو ایک باعزت مقام دیتا ہے جو عدلیہ اور فوج کو دیا جاتا ہے۔ اگر یہ سہولیات پولیس کو بھی مہیا کردی جائیں اور پھر وہ رشوت خوری کریں تو یقیناً انہیں سخت سزائیں دی جائیں۔

میرا ماننا ہے کہ کوئی بھی شخص جس کا ذرا بھی ضمیر زندہ ہو وہ حرام کمانا پسند نہیں کرتا یہ مجبوریاں ہوتی ہیں انسان کو ایسا کرنے پر اکساتی ہیں اور پھر وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رشوت خوری۔ کرپشن اور اسی قسم کے دوسرے گھناؤنے جرائم سسٹم کا ایک حصہ بن چکے ہیں اور ہر شخص اپنی اپنی بساط کے مطابق ان برائیوں میں ملوث ہے۔ صرف ایک پولیس کو مورد الزام ٹھرانا زیادتی ہوگی۔

میری خان صاحب سے مودبانہ درخواست ہے کہ کچھ کریں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ اس آئے دن اٹھائے جانے والے فتنے کو ختم کیا جائے ورنہ وہ دن دور نہیں کہ یہ گلیوں کوچوں میں پھیل جائیں گے اور ایک خانہ جنگی کی کیفیت سے ملک عزیز کو دوچار کردیں گے۔ کیا یہ حکومت وقت کی کمزوری نہیں کہ چند ہزار جنونی جب چاہیں دارالحکومت کو یرغمال بنا لیں اور عوام کی زندگی اجیرن کردیں۔ کون ہے جو انہیں مخصوص مفادات حاصل کرنے کے لیے ایکٹیویٹ کرتا ہے۔

کیا رحمت العالمین کا یہی پیغام تھا۔ کیا یہ گروہ اب ہماری خارجہ پالیسی ڈکٹیٹ کریں گے۔ آج پولیس کے ساتھ یہ ناروا اور ہتک آمیز سلوک ہو ان کی وردیاں تار تار ہوئیں اور کوئی آواز نہیں اٹھی کل یہ کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ ان شر پسند عناصر کی بیج کنی کی جائے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

جو آج میں زد پہ ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *