پی ایچ ڈی کی تختی اور جہاندار شاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حال ہی میں ایک خبر سے دل کو بڑی راحت ملی۔ خبر تھی کہ ایچ ای سی کو وفاقی وزارت تعلیم کے ماتحت کر دیا گیا ہے اور اس کی خود مختاری ختم کر دی گئی ہے۔ دیر آید درست آید۔ خس کم جہاں پاک! ایچ ای سی دراصل ہمارے ملک کا ایک خوفناک ناسور ہے کہ جس نے تعلیم کی روح کو اس ملک میں ہلاک کر دیا ہے۔ میں ایچ ای سی پر اس سے پہلے بھی میں تبریٰ کر چکا ہوں ، اس لیے اپنی باتیں دہراوں گا نہیں۔ بس میں خوش ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جب ایچ ای سی کی باگ ڈور پروفیسروں کے ہاتھوں سے نکل کر وفاقی وزارت تعلیم کے بیوروکریٹس کے ہاتھ میں جائے گی تو وہ دوسرے پروفیسروں کے ساتھ اتنے تعصب کا مظاہرہ نہیں کریں گے جو کہ اب تک ایچ ای سی کا خاصہ رہا ہے۔

مگر اس اچھی خبر کے ملنے کے ساتھ ہی مجھے پنجاب یونیورسٹی کی دو عدد ’ویڈیوز‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ میرے منہ کا مزہ خراب ہو گیا۔ ایک ویڈیو دسمبر 2019ء اور دوسری فروری 2020ء کی ہے۔ یہ ویڈیوز پنجاب یونیورسٹی کے ادارہ برائے اطلاقی نفسیات (Institute of Applied Psychology) کی ہیں۔ اول ویڈیو میں شعبے کی ایک اسسٹنٹ پروفیسر ایک دفتر پر لگی تختی اکھاڑ کر ایک دوسری اسسٹنٹ پروفیسر صاحبہ کو پیش کرتی ہیں اور وہ کمال نفرت سے تختی کو زمین پر پٹخ دیتی ہیں۔تختی اکھاڑنے والی خاتون زمین سے وہ تختی اٹھاتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔

دوسری ویڈیو بھی اسی جگہ کی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ تختی دیوار پر اسکروز کی مدد سے لگی ہے۔ اب کی بار ’تختی اکھاڑ‘ میڈم صاحبہ اپنی سابقہ ویڈیو کی ہم جولی کے ساتھ کوریڈور میں اپنے ہاتھ میں ’اسکرو ڈراؤر‘ لئے آتی ہیں اور کسی ماہر ’کارپینٹر‘ کی طرح ’اسکرو‘ کھول کر تختی نکال لے جاتی ہیں۔ ان حسین مناظر کو دیکھنے کے لیے دونوں مرتبہ ادارے میں طلبہ اور دفتری عملے کے افراد موجود ہیں۔

ان ویڈیوز کو دیکھ کر میرے اندر تجسس پیدا ہوا کہ آخر ایک تختی سے اتنی نفرت کیوں؟ تختی ہے یا کسی مخالف سیاسی جماعت کا پوسٹر؟ نکالنے والیاں علم نفسیات کی استانیاں ہیں یا ’اٹالین مافیا‘ کی کارکن؟ اس جلال و غصے کی وجہ کیا ہے؟ اور کرنے والوں کی نفسیاتی سطح اتنی پست کیوں؟

معلوم ہوا کہ یہ جو بیچاری تختیاں بار بار ادارے کی ایک اسسٹنٹ پروفیسر کے بھدے ہاتھوں کا نشانہ بنتی ہیں، ان کی ایک سینئر اسسٹنٹ پروفیسر شازیہ قیوم صاحبہ کی ہیں۔ شازیہ قیوم برسوں سے اپنی ’پی ایچ ڈی‘ کی ڈگری کو ایچ ای سی سے منوانے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ ’ایچ ای سی‘ ان کی ’پی ایچ ڈی‘ کی ڈگری کو کیوں نہیں تسلیم کر رہا یہ تو اوپر مذکورہ واہیات ویڈیوز سے صاف ظاہر ہے۔ ’ایچ ای سی‘ کی مثال آج کی تاریخ میں جہاندار شاہ کی مملکت سے کچھ خاص مختلف نہیں جہاں پر ایک منظور نظر کے اشاروں پر کشتیاں ڈبوا دی جاتی تھیں کہ اس نے کبھی ڈوبتی کشتی کا نظارہ نہیں دیکھا۔

تختی اکھاڑنے کی وجہ یہ کہ شازیہ قیوم نے اپنے نام کے ساتھ ’ڈاکٹر‘ کیوں لکھا؟ وہ ڈاکٹر نہ لکھیں اس لیے کہ انہوں نے پی ایچ ڈی ’نکاراگوا‘ کی وفاقی یونیورسٹی سے پنجاب یونیورسٹی کی اسکالر شپ پر کیا ہے؟ وہی پنجاب یونیورسٹی جہاں وہ اس وقت بھی ملازم تھیں جب یہ اسکالر شپ ان کو ملی؟ اور اسکالر شپ دینے والی کمیٹی میں پنجاب یونیورسٹی کے کئی اکابر پروفیسر شامل تھے؟

مگر ’ایچ ای سی‘ کو شازیہ قیوم کی ’پی ایچ ڈی‘ کی ڈگری قبول نہیں۔ کیوں قبول نہیں؟ اس لیے کہ شازیہ قیوم کے اشارے پر ’ایچ ای سی‘ کے ’جہاندار شاہ‘ کشتیاں ڈبوانے کے حکم جاری نہیں کرتے۔ یہ حکم جن کی فرمائش پر جاری ہوتے ہیں غالباً وہ وہی ہیں جو کہ کسی پرانے نفسیاتی ”کمپلشن“ کی طرح بار بار خود کو ڈاکٹر شازیہ قیوم کے نام کی تختی اکھاڑنے پر مجبور پاتے ہیں۔

اگر ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ’یونیورسٹی آف نکارا گوا‘ کی پی ایچ ڈی کی ڈگری پر اعتراض ہے تو سوال یہ ہے کہ جب پنجاب یونیورسٹی یہ اسکالرشپ عطا کر رہی تھی تب کیا ایچ ای سی کے طرم خان اور ’کوالٹی انہانسمنٹ سیل‘ میں بیٹھ کر مکھی کے عین اوپر مکھی مارنے والے ’ایچ ای سی‘ کے ’زیزیڈنٹ بہادر‘ بھنگ پی کر سو رہے تھے؟ وہ کہاں تھے جب اسی ’پی ایچ ڈی‘ کی تحقیق سے 3 عدد مقالے ’ایچ ای سی‘ سے منظور شدہ جریدوں میں شائع ہوئے؟

آخر پورا ’پی ایچ ڈی‘ کر لینے کے بعد ہی یہ مژدہ شازیہ قیوم کو کیوں سنایا گیا؟ اگر سوال ’کورس ورک‘ کے آج کی اصطلاح میں ’آن لائن‘ ہونے پر ہے تو ’ایچ ای سی‘ کو چاہیے کہ پچھلے سال اور اس سال کی تمام ہی ڈگریز کی تصدیق نہ کرے ، اس لیے کہ ہر جگہ ہی ’کورونا‘ کی وجہ سے ’آن لائن‘ یا ’ہائبرڈ ماڈل‘ پر پڑھائی ہوئی ہے اور ’ایچ ای سی‘ کو چاہیے کہ فوراً علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ’ورچوئل‘ یونیورسٹی بھی بند کروائے۔ یہ ’آن لائن‘ ، ’ڈسٹنس‘ اور ’ہائبریڈ‘ ماڈل ایک ڈگری میں قبول ہے تو پی ایچ ڈی میں اعتراض کیوں؟ پی ایچ ڈی میں قبول نہیں تو باقی جگہوں پر کیوں قابل قبول ہے؟

مگر ظاہر سی بات ہے کہ ایچ ای سی کے اعتراضات ’ٹیکنیکل‘ ہیں، اتنے ٹیکنیکل کہ جب ڈاکٹر شازیہ ہائی کورٹ گئیں تو ایچ ای سی کے وکیل صاحب بھی جج کو نہ سمجھا سکے۔ ہائی کورٹ نے یہ معاملہ پھر ایچ ای سی کے ہی سپرد کر دیا گیا۔ یعنی جس سے شکایت تھی فیصلہ بھی اسی کو کرنے کو دے دیا گیا۔ ایچ ای سی نے پھر اپنے خاص متکبرانہ انداز میں اپنا جاہلانہ فیصلہ صادر کیا اور شازیہ قیوم کی پی ایچ ڈی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اللہ اکبر! جہاندار شاہ کی حکمرانی میں کشتیاں ڈبوئی جاتی ہیں، اس لیے کہ شاہ کی منظور نظر کو ڈوبتی کشتی کا نظارہ کرنا ہے۔

مگر میرا سوال ایک اور بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ’ایچ ای سی‘ کو ڈاکٹر شازیہ قیوم کا ’ڈاکٹر‘ ہونا منظور نہیں، نہ ہو۔ اس بنیاد پر پنجاب یونیورسٹی ان کو ترقی نہ دینا چاہے، چلو اس کی مرضی، مگر، اگر وہ اپنے دفتر کے باہر تختی پر ہی ’ڈاکٹر‘ لکھ لیں گی تو اس سے ایسی چڑ اور کد کیوں؟ اتنی نفرت کہ تختی اکھاڑ پھینکی جائے؟ ایک تختی کسی کا کیا بگاڑ سکتی یا سنوار سکتی ہے؟ ایچ ای سی اگر واقعی میں کوئی ادارہ ہے تو اس نیچ پن پر اسے تختی اکھاڑنے والوں کی پی ایچ ڈی کی ڈگری منسوخ کرنی چاہیے تھی۔ پنجاب یونیورسٹی اگر کوئی جامعہ ہے تو تختی اکھاڑنے والوں کو نوکریوں سے برخاست کرنا چاہیے تھا۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔

لوگ اکثر سوال پوچھتے ہیں کہ مفتی عبدالقوی اپنی بدکاریوں کے بعد مفتی رہ گئے یا نہیں، میرا سوال یہ ہے کہ ایسی حرکات کرنے والی یہ خواتین نفسیات کی پی ایچ ڈی یا پروفیسر ہیں یا نہیں؟ ایسے گرے ہوئے لوگ نفسیاتی صحت پر لیکچر دیتے ہیں۔ افسوس صد افسوس!

میں سمجھتا تھا کہ کراچی اور لاہور میں بہت فاصلہ ہے مگر تختی اکھاڑنے کی ویڈیوز دیکھ کر معلوم ہوا کہ کم ظرفی اور گھٹیا پن کی کرنسی سارے ملک کی جامعات میں ایک ہی ایکسچینج ریٹ پر چلتی ہے۔ میں سات سال سے جامعہ کراچی میں ملازم ہوں مگر آج تک تختی نہیں لگوائی کہ نہ جانے کون اپنی نفرت میری تختی پر اتار لے۔ تختی اکھاڑنا تو چھوٹی بات ہے میری جامعہ میں تو اس دو ٹکے کی مسابقت نے کئی افراد کی جان بھی لے لی۔ ہمارے یہاں تو ایک نفسیات کے ادارے میں ایک ڈائریکٹر صاحبہ کے ریٹائر ہونے کے بعد ان کی تصویر کو زمین پر گرا کر اس پر جوتے مارے گئے تھے۔ ایسے ہیں ہمارے ملک کے ماہرین نفسیات۔

کم ظرف لوگ جب مدرس بن جائیں تو بے جان تختیوں کی بے حرمتی ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ میری دعائیں اپنی مظلوم بہن ’ڈاکٹر‘ شازیہ قیوم کے ساتھ ہیں۔ اللہ ان کو جلد ان کا جائز حق دلوائے۔ ان کی پی ایچ ڈی نے ان کے ادارے کے دیگر لوگوں کی تعلیم کی حقیقت بھی کھول دی ہے۔ ایچ ای سی کے ’جہانداروں‘ اور ان کو اپنے اشارۂ ابرو پر نچانے والیوں کو واضح کر دیا ہے۔ ان میں اور اپنے دشمنوں کے سر کاٹ کر ان سے فٹبال کھیلنے والوں میں صرف فرق طاقت کا ہے۔ خدا نے ان کے ہاتھ میں تلوار یا بندوق دی نہیں ورنہ یہ کیا کرتے یہ واضح ہے۔ اگر تختی اکھاڑنے والی خواتین پی ایچ ڈی ہیں تو پھر پی ایچ ڈی نہ ہونا ہی زیادہ بہتر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *