ناسا کی مریخ تک پرواز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج جب دنیا کورونا اور مختلف مسائل سے دوچار ہے ہر طرف کورونا سے ہونے والی ہلاکتیں اور دنیا کے غیر محفوظ ہو جانے کا شور مچ رہا ہے وہیں امریکن خلا باز ادارہ ناسا کے ذریعے نئی دنیائیں دریافت کرنے میں لگے ہیں۔ یہی نہیں امریکہ نے ناسا سے ہیلی کاپٹر کو پہلی بار مریخ تک بھیجنے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ جہاں اب دنیا کو غیر محفوظ تصور کیا جا رہا ہے وہاں امریکہ کی مریخ تک رسائی کی دوڑ مزید تیز ہو گئی ہے۔ انسان اپنی عقل اور شعور استعمال کر کے ان راہوں کا مسافر بن گیا ہے جس کا تصور ہی انسانی سوچ کو حیران کر دے۔

اب اس وقت جب تمام دنیا عالمی وبا کورونا سے لڑ رہی ہے تو کبھی ٹڈی دل یا جنگ جیسے حالات کا سامنا کر رہی ہے وہی امریکن خلائی کمپنی ناسا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کی بجائے مریخ کو فتح کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ یہ دعوی تو امریکن خلا بازوں نے بہت پہلے کر دیا تھا کہ مریخ وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی کے آثار موجود ہیں۔ کائنات کی تحقیق کے دوران امریکی خلابازوں نے اپنی تحقیق سے بہت پہلے ہی یہ پتا لگا لیا تھا کہ مریخ پر پانی دریافت ہوا ہے۔

یہی نہیں مریخ وہ سیارہ ہے جہاں آکسیجن کی مقدار کے دریافت ہونے کے بھی آثار موجود ہیں۔ ان تمام باتوں کو اگر سامنے رکھتے ہوئے ناسا کے اس نئے تجربے پر غور کیا جائے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ نئی دنیاوں کی کھوج لگانے کی طرف ایک قدم ہے جو امریکہ کی جانب سے اٹھایا گیا ہے۔ آج جب تمام دنیا کے ممالک اپنی اپنی پریشانیوں میں گھرے ہیں اور مختلف نوعیت کے حالات کا سامنا کر رہے ہیں وہی امریکہ اپنے لوگوں کو کیسے محفوظ رکھا جائے اور کون سی نئی راہیں نکالی جائیں اس پر تحقیق کر رہا ہے بلکہ وہ صرف تحقیق نہیں کر رہے بلکہ انہوں نے اپنی ناسا سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے مریخ تک کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس مسلے میں انتہائی سنجیدہ ہیں اور ایک دن کوئی نئی راہیں دریافت کر کے رہیں گے۔ ایک وہ وقت تھا جب چاند پر قدم رکھنا ہی انسانی سوچ کے لئے بہت بڑی بات تھی مگر اب تو اس پڑاؤ کو پار کرنے کے بعد نئی راہوں کا تعین کیا جا رہا ہے ناسا کی موجودہ کارکردگی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ہمت اور کوشش کی جائے تو کوئی بھی ناممکن سے نا ممکن ترین راستوں کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا اور امریکہ نے نئی دنیا دریافت کرلی تو یہ اسٹرولوجی کی تاریخ کا بڑا انقلاب ہوگا۔

انسان کی کوشش وہ واحد راستہ ہے جو اللہ کو بھی انتہائی پسند ہے اگر انسان سچی لگن رکھتا ہو تو نئی راہوں کی طرف رہنمائی میں قدرت بھی مددگار ثابت ہوتی ہے مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہر مقام پر کامیابی کی سب سے بڑی کھوج لگانے کی ذمہ داری کیا صرف امریکہ کے سائنسدانوں کے کاندھوں پر ہے باقی دنیا خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہے جب دنیا بیدار ہوگی امریکہ ایک نئی منزل کا مسافر بن چکا ہوگا۔ ناسا آج سے نہیں، بہت پہلے سے خلا میں قدرت کی نئی رونما ہونے والی تبدیلیوں کی کھوج لگا رہا ہے۔

اب ناسا کی ایک اور کامیابی باقی تمام دنیا کو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ان کو تبدیل کرنے کا حوصلہ اور کامیابی کی طرف بڑھنے کی لگن ہی انسان کو جینے اور مزید ترقی کرنے کی سوچ کو اجاگر کرتی ہے۔ ہم ابھی تک اس دوڑ میں ایک پڑائو بھی مکمل نہیں کر سکے اور دنیا نئے سے نئی ایجادات اور تجربات کر کے انقلاب برپا کرنے کی تیاریاں کر چکی ہے۔ اس سمت سوچنے کے لئے ہمیں بھی اپنے ارادوں میں مضبوط اور کارآمد ہونا پڑے گا تاکہ ہم بھی نئے راستے دریافت کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *