کیا نظریے کی حمایت میں ہتھیار اٹھانا چاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


”کیا کسی کو اپنے نظریے کی حمایت ہتھیار اٹھانا چاہیے؟“
کچھ سوال بظاہر سیدھے سادے ہوتے ہیں، لیکن ان کا جواب سادہ نہیں ہوتے۔
”یہ تو ڈپینڈ کرتا ہے، کہ نظریہ کیا ہے۔ دیکھنا ہو گا، کہ اس ’نظریہ‘ میں ہتھیار اٹھانے کی اجازت ہے؟“

میجر شہزاد نیر خوب صورت دل کے مالک ہیں؛ شاعر ہیں؛ عاشق ہیں اور صابر بھی۔ جہاں تک میں انھیں سمجھا ہوں، وہ انسانی معراج کے سفر کے مطالعے میں دل چسپی رکھتے ہیں، اور انسانیت کی معراج کو امن سے مشروط کرتے ہیں۔ ہر نیک دل آدمی ’انسان اور انسانیت‘ کی بہ تری اور بقا کا سوچتا ہے؛ اس کا راستہ امن ہے۔

میجر صاحب نے اپنا سوال دُہرایا: ”نظریہ کیسا ہے، اس پر بات نہیں کرتے؛ سوال اتنا ہے، کہ کیا کسی کو اپنے نظریے کے لیے ہتھیار اٹھانا چاہیے؟“

میں متذبذب ہوا، کہ آدمی منکر نکیر ہوتے ہیں۔ ”کوئی اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھا سکتا ہے۔“
”ٹھیک ہے۔ لیکن! اگر دفاع کی بات نہ ہو؛ کسی کو نظریے کی خاطر ہتھیار اٹھانا چاہیے؟“
”اٹھانا چاہیے۔“ میں نے تیقن سے کہا۔

مجھے محسوس ہوا، کہ شہزاد نیر کے چہرے پر تشویش کا ہلکا سا سایہ لہرا کے گزر گیا ہے۔ شہزاد نیر ہی کیا، مجھے خود اپنے جواب پر حیرت ہوئی تھی۔ شہزاد اور میں، ہم دونوں اس ’اجنبی‘ سے ایک ساتھ متعارف ہوئے۔

شہزاد نیر نے یقین کر لینے کے لیے، پوچھا۔ ”اٹھانا چاہیے؟“
”جی“ ! سامنے منکر نکیر بھی ہوتا، تو بھی میں رد عمل کے لیے تیار تھا۔
”کیوں؟“ شہزاد کا اگلا سوال تھا۔

”دیکھیے! وطن کے لیے بھی تو ہتھیار اٹھایا جاتا ہے۔ آپ وردی پہنتے ہیں، کہ مجھے کاز کے لیے جان دینا پڑی، تو دوں گا۔ ایسا ہی احوال دنیا میں امن کا قائم کرنے کا نعرہ دینے والوں کا ہے۔ آپ چاہتے ہیں، ظلم کا خاتمہ ہو، استحصالی قوتیں کیا رضا کارانہ طور پر آپ کی بات مان لیں گی؟ نہیں ناں؟ ایسی صورت میں بھی ہتھیار اٹھانا درست ہے۔ اسی طرح کی ڈھیروں مثالیں ہیں۔“

دنیا میں نہ جانے کتنے نظریے ہیں، یہ کوئی محقق ہی بتا سکتا ہے۔ ہر ایک کی نظر میں اس کا نظریہ راست نظریہ ہے۔ نظریوں کو پرکھنے کے لیے ہم ریاستی آئین کا سہارا بھی لیتے ہیں۔ آئین کے بغیر کسی ریاست کا وجود ممکن نہیں۔ افراد، قبیلے، گروہ، اقوام؛ امن سے رہنے کے لیے آپس میں ایک معاہدہ کرتے ہیں، اس میں سب کے حقوق واضح کیے جاتے ہیں۔ اس معاہدے کو آئین کہتے ہیں۔ آئین سے بغاوت امن کا انکار تصور ہوتا ہے۔ آئین کے تحت سب اداروں کا قیام عمل میں آتا ہے، اور آئین ان اداروں کی حدود متعین کرتا ہے۔

ایک عام شہری، ریاستی نمایندے، آئین و قوانین سے انحراف کرتا ہے، تو اسے آئین کے تحت قائم عدلیہ کو جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ عدلیہ آئین و قوانین کو مد نظر رکھتے اپنے فیصلے سناتی ہے۔ عدل یہ ہے کہ آئین و قوانین ہی مقدم ہوں، نیتوں یا خواہشوں کے مطابق فیصلے نہ دیے جائیں۔

آئین کے تحت ہر شہری کو پر امن احتجاج کا حق حاصل ہے۔ کوئی فرد، گروہ، ریاستی ادارہ یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ کسی شہری، کسی گروہ، کسی یونین، یا سیاسی جماعت کو اس کے حق سے محروم رکھے، یا محروم کرنے کی کوشش کرے؛ وہ شخص، گروہ، ادارہ، خواہ صداقت، دیانت، امانت کی کسی بھی معراج پر ہو؛ ولایت کی کسی بھی منزل پر ہو۔

ریاست کے نمایندے یا ادارے؛ جب شہری کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کی کوشش میں مصروف ہو جائیں، تو شہری پر یہ شرط کیوں کر لاگو ہو گی، کہ وہ آئین و قوانین کی تابع فرمانی کرتا پھرے؟ ڈرائنگ روم یا ٹیلے ویژن چینلوں کے معتدل حرارت والے اسٹوڈیو میں بیٹھ کر، ہم ”جتنی بھی ذہنی “مشق زنی” کر لیں؛ کسی بھی نظریے کے پرچارک بن کر کے مکالمہ کریں، انارکی کا بیج بویا جا چکا ہوتا ہے۔ نا فرمانی کی تحریکیں جنم لے کے رہتی ہیں۔ معاہدہ ختم ہو جاتا ہے؛ ہتھیار اٹھا لیے جاتے ہیں۔ دانش مند اقوام انارکی، جنگ و جندل سے بچنے کے لیے معاہدوں (آئین) کی پاس داری پر یقین رکھتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 319 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *