پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن: ٹریننگ سینٹر میں پہلا دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی شہر میں جنوری کے مہینے ٹھنڈ تو ہوتی ہے لیکن لاہور کے مقابلے میں بہت کم۔ ہمارا قیام منوڑہ جزیرے میں قائم نیوی کے سیلرز ٹریننگ سینٹر میں تھا۔ خالد ڈویژن کی بیرک سے سمندر کا کنارا سو فٹ کی دوری پر ہے۔ سمندر کے کنارے اور ہماری بیرک کے درمیان بڑے بڑے بلاکس رکھ کر بیرکوں کو محفوظ کیا گیا تھا۔ لیکن سمندر کی لہروں کے ساتھ ہر وقت ہوا آتی رہتی جو گرمیوں سردیوں ہر موسم میں ٹھنڈی رہتی تھی۔

رات کو بستر پر لیٹتے ہی گہری نیند میں گم ہو گئے۔ صبح صبح پانچ بجے سیٹیاں بجنی شروع ہو گئیں۔ جس سے آنکھ تو کھل گئی لیکن بستر سے نکلنے کا دل نہیں کر رہا تھا اسی کشمکش میں سات بج گئے۔ جو بھی جگانے آتا اس کو یہی کہتا کہ رات کو دو بجے تو سویا ہوں سونے دو۔ دل پر جبر کر کے اٹھا اور شیونگ کا سامان لیا اور واش روم کی راہ لی شیو بنائی غسل کیا اور بیرک میں آ کر انتظار کرنے لگا کہ کوئی آئے گا ہمیں بتانے کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے۔ تقریباً پونے آٹھ بجے خالد ڈویژن کے پیٹی افسر صاحب آئے اور ہمیں لے کر پریڈ گراؤنڈ کی طرف چلے ہم نے کہا کہ ہم نے ابھی ناشتہ نہیں ہمیں ناشتہ کروائیں تو کہنے لگے اب دیر ہو رہی ہے پریڈ کا وقت ہو رہا ہے۔ پریڈ کے بعد ناشتہ کریں گے۔

پریڈ گراؤنڈ میں تمام انڈر ٹریننگ ڈویژن، پروفیشنل سکولز اور اسٹاف میں آنے والا ڈویژن اپنی اپنی فارمیشن کی ترتیب سے گراؤنڈ میں کھڑے تھے۔ گارڈ اور بینڈ علیحدہ جگہ پر کھڑے تھے۔ نئے آنے والوں کو جنہوں نے ابھی یونیفارم نہیں پہنی تھی پریڈ گراؤنڈ سے باہر ایک طرف فارمیشن میں کھڑا کر دیا گیا۔ گارڈز پریڈ کرتے اور بینڈ ان کے پیچھے پریڈ کرتے اور دھن بجاتے ہوئے کوارٹر ڈیک کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔ جب وقت پورے آٹھ بج گئے تو بگل بجا اور قومی پرچم لہرانا، گارڈز نے جنرل سلامی دینا اور بینڈ نے قومی ترانہ بجانا شروع کر دیا گیا۔

قومی پرچم لہرانے کے بعد کواٹر ڈیک پر کھڑے افسر صاحب کو روزانہ کی حاضری رپورٹ پیش کی گئی۔ اس کے بعد کوارٹر ڈیک پر کھڑے افسر صاحب نے باری باری سب کو جانے کی اجازت دینا شروع کیا جب کوارٹر ڈیک کے سامنے کھڑے ڈویژنز کو جانے کی اجازت دی تو بینڈ نے دھن بجانی شروع کر دی اور گارڈز آگے اور پیچھے پیچھے تمام ڈویژنز اپنے کھڑے ہونے کی ترتیب سے پریڈ کرتے ہوئے کوارٹر ڈیک کے اوپر کھڑے افسر صاحب کو سلامی دیتے ہوئے ڈسپرس ہونا شروع ہو گئے۔

اس کے بعد انہی پیٹی افسر صاحب کے ساتھ بیرک میں آئے اور ں اشتہ کے لئے پلیٹ اور مگ لئے اور کچن کی طرف چل دیے۔ نیوی میں کچن کو گئیلی کہتے ہیں۔ گئیلی پہنچنے کے بعد لائن لگا کر ناشتہ کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اپنی باری پر کاؤنٹر پر پلیٹ اور مگ باورچی کی طرف بڑھایا تو باورچی نے پلیٹ میں دال ڈال دی اور ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا پکڑا دیا اور مگ میں چائے بھر دی۔ اب دو ہاتھ اور چیزیں تین کیسے اٹھاؤں۔ پیٹی آفسیر صاحب سب کو ناشتہ پکڑنے کا طریقہ سمجھانے لگے۔ ایک ہاتھ میں پلیٹ اور اسی ہاتھ کے شہادت والی انگلی اور انگوٹھے کے ساتھ ڈبل روٹی کا ٹکڑا پکڑیں اور ایک ہاتھ میں مگ پکڑیں تو جناب اب آپ اپنے ذہن میں خیال کریں کہ ناشتہ کیسے پکڑا ہو گا اور ڈائننگ ہال کی طرف چل پڑے۔

دو بڑے ڈائننگ ہال تھے جو کہ انڈر ٹریننگ نیو اینٹری کے لئے مخصوص تھے۔ جن میں بڑے بڑے ٹیبل اور کرسیوں کے ساتھ بینچ بھی تھے۔ یہ ٹیبلز ہر ڈویژن کی ہر کلاس میں بنے گروپس کے لئے مخصوص میسیز کے لئے تھے۔ ناشتہ تو ہم نے ایک جگہ بیٹھ کر کر لیا۔ بعد میں میس گروپ کا بتا دیا گیا۔ میس کا طریقہ یہ تھا کہ ایک ہی لڑکا گئیلی سے کھانا لے کر میس میں لائے گا اور گروپ میں تقسیم کرے گا اور برتن دھو کر رکھے گا اس طرح باری باری اپنی ڈیوٹی کھانے کے معاملے میں ادا کرنی ہے۔ ناشتہ کر کے ہم سب نیو اینٹری اپنی بیرک میں انتظار کرنے کے لئے بھیج دیے گے۔

کچھ دیر بعد ہمارے خالد ڈویژن کے چیف انچارج چیف پیٹی افسر ریاض حسین شاہ صاحب جن کا نام آج بھی یاد ہے اپنے اسٹاف کے ساتھ تشریف لائے۔ اپنا اور خالد ڈویژن کے اسٹاف کا تعارف کرایا۔ ڈویژن افسر سب لیفٹیننٹ اظہر شمیم زیدی صاحب کا بتایا جو ان کے ساتھ تو نہیں تھے۔ ان کے ساتھ جونئیر اسٹاف دو پیٹی افسر صاحبان تھے۔ ان کے ہاتھ میں کاغذات کے پلندے تھے جن کو پر کرنا تھا جس میں ہر نیو اینٹری کے لڑکوں کی پوری تفصیل درج کرنی تھی۔

چیف صاحب نے لڑکوں کو گروپس میں تقسیم کیا اور کام سمجھایا کہ جس میں سب سے پہلا کام اپنی اپنی پتلونیں اور نیکریں لے جائیں درزی کے پاس اور اپنے سائز کے مطابق فٹ کرانے کے لئے دیں۔ دوسرا کام اپنے بوٹ موچی کے پاس لے کر جائیں اور بوٹ کے نیچے لوہے کی نعل لگوائیں تا کہ بوٹ جلدی خراب نہ ہو۔ تیسرا کام حجام کے پاس جا کر سر کے بال کٹوائیں اور مونچھوں کو صاف کرائیں۔ چوتھا کام اپنے فارمز فل کروائیں۔

میں نے چیف صاحب سے اجازت لی کیونکہ فارم فل کروانے کی ابھی باری نہیں آئی تھی۔ اپنی پتلونیں اور لانگ بوٹ اٹھائے اور ٹیلر شاپ کی طرف چل دیا۔ ٹیلر کو پتلونیں دیں اور کمر کا سائز دیا۔ ٹیلر نے اگلے دن واپس کرنے کا وقت دیا۔ وہاں سے نکلا تو باربر شاپ کی جانب بڑھا تو وہاں لڑکوں کی ایک طویل قطار لگی ہوئی تھی۔ چار حجام لڑکوں کی حجامت بنانے میں مصروف تھے۔ (جاری ہے ) ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *