کورونا، مفلوج معیشت اور ویکسین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیر سردار شاہ پبی میں نام ہے نصابی کتابوں اور سٹیشنری کے ایک کاروبار کا۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے پبی میں پیر سردار شاہ کی دکان کا سنتے آئے ہیں۔ پیر صاحب جن کے نام سے یہ دکان پچھلے پچاس سال سے فعال ہے، دنیا سے کئی سال پہلے کوچ کر چکے، کاروبار پیر صاحب کے بیٹے اور پوتے چلا رہے ہیں۔ تیس سے پچاس سال کے درمیان یہ لوگ تہذیب اور شائستگی کا نمونہ ہیں۔ کم گوئی اور عاجزی ان کی شخصیت کا حصہ ہے۔

عرصے سے ان کی دکان پر آنا جانا ہے لیکن کبھی بھی ان کی دکان پر انہیں کسی سے الجھتے نہیں دیکھا۔ چھوٹی سی اس دکان سے ہزاروں لوگوں کی یادیں وابستہ ہیں۔ اگر آپ پبی کے گردونواح میں کسی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ کو اپنی اور اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات کے سلسلے میں پیر سردار شاہ کی دکان سے ضرور واسطہ پڑا ہو گا۔

پچھلے دنوں اس دکان کے مالک جناب سہیل صاحب سکول تشریف لائے۔ مختلف موضوعات زیر بحث آئے۔ کورونا کے باعث سکولوں کی بندش کے متعلق انہوں نے ایک عجیب بات کی۔ کہنے لگے کہ ہمارا تو براہ راست تعلق سکولوں سے ہیں، اس لئے سکولوں کی بندش سے کاروبار مکمل طور پر ٹھپ پڑا ہے۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے لیکن پیر صاحب نے ایک نرالی بات یہ کی کہ سکولوں کی بندش سے تمام چھوٹے کاروبار بری طرح متأثر ہوئے ہیں۔ میں نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ سکولز میں جاب کرنے والے لوگ، گاڑیوں کے ڈرائیورز اور مالکان اور سکول کینٹین سے منسلک لوکوں کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔

پیر صاحب نے کہا کہ ان افراد کے علاوہ جو لوگ براہ راست سکولوں سے منسلک نہیں بھی ہیں، ان تک بھی سکولوں کی بندش کی تپش پہنچ رہی ہے۔ میری حیرانی بھانپتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ جب بچے سکول جاتے ہیں تو والدین اپنے بچوں کی تعلیمی کامیابیوں سے خوش ہوتے ہیں، اس لئے بچوں کے لئے کپڑے، جوتے، کھلونے، غیر نصابی کتابیں اور دیگر اشیاء بھی خریدتے ہیں۔ انہیں باہر گھمانے کے لئے لے جاتے ہیں، ہوٹلوں کا رخ کرتے ہیں۔

ان تمام سرگرمیوں سے چھوٹے کاروباروں کا پہیہ چلتا رہتا ہے اور معاشی سرگرمی جنم لیتی ہے۔ سکولز بند ہوں تو بچے گھر پر رہتے ہیں۔ زیادہ تر والدین غم روزگار میں اتنے پھنسے ہوتے ہیں کہ سکولوں کی بندش کے دوران بچوں کی تعلیم سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ کورونا کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار لوگ چڑچڑے ہو گئے ہیں، بچوں کی شرارتوں سے تنگ والدین بچوں پر ہی غصہ نکالتے ہیں جس سے مجموعی طور معاشرے کی کام کرنے کی استعداد کم ہوئی ہے۔

پیر سہیل صاحب کی باتوں کو میں نے خود پر اپلائی کیا تو مجھے حیرت انگیز طور پر ان کی باتوں میں وزن محسوس ہوا۔ کورونا نے دنیا کی تمام معیشتوں کو متاثر کیا ہے لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں کروڑوں لوگوں کے لئے زندگی کا مطلب پیٹ بھر کر کھانا ہے، حالات انتہائی سنگین ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر روزانہ کے حساب سے ایسے درجنوں لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، جنہیں خوارک کی قلت کا سامنا ہے۔ صبح سے لے کر شام تک خواتین گھر آتی ہیں، جن کے لبوں پر ایک ہی فریاد ہوتی ہے، ’گھر میں بھوک کا راج ہے ، راشن چاہیے‘ ۔ روزانہ کئی فون آتے ہیں، بعض لوگوں کے فون تو مجھے شدید حیرت اور صدمے میں مبتلا کر دیتے ہیں، ایسے لوگ جو آپ کو بہ ظاہر خوشحال نظر آتے ہیں، بھوک اور افلاس کے نرغے میں ہیں۔

کورونا ویکسین دنیا کے خوشحال ممالک میں آباد لوگوں کے لئے عرصہ حیات کو طول دینے اور بے وقت موت مرنے سے بچاؤ کا نام ہے لیکن پاکستان میں یہ سانسوں کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ یہاں لوگ کچھ کریں گے تو کھائیں گے۔ پاکستان کے بیشتر لوگ جو کماتے ہیں، شام کو وہ سب دکاندار کے پاس چھوڑ کر گھر چلے جاتے ہیں۔ آپ دیہات میں آباد لوگوں کا سروے کر کے دیکھ لیں، پانچ میں سے چار بندے آپ کو کسی نہ کسی کے مقروض ملیں گے۔

پاکستان کی حکومت اور سیاسی جماعتیں اس ملک کے ساتھ مخلص ہوتیں تو تمام سیاسی اختلافات بھلا کر سر جوڑ کر بیٹھتے اور اس ناگفتہ بہ صورتحال سے نکلنے کی کوئی سبیل کرتے۔

میری نظر میں اس تمام صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ ملک بھر میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی ہے۔ ہم طویل لاک ڈوان کے متحمل نہیں ہو سکتے اور کورونا کی وبا جس تیزی سے بڑھ رہی ہے، اسے دیکھ کر نہیں لگتا کہ ہم مستقبل قریب میں اس سے چھٹکارا حاصل کر سکیں گے۔

حل اگرچہ آسان نہیں لیکن اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ملک بھر کی آبادی کو ہنگامی بنیادوں پر ویکسین فراہم کی جائے۔ اس سلسلے میں حکومت الخدمت، ایدھی اور اخوت فاؤنڈیشن جیسی تنظیموں کی خدمات حاصل کر کے کامیابی سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *