علامہ اقبال اور تصور پاکستان (چند عمومی مغالطے)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عظیم فلسفی کارل پوپر نے سائنس کے مورخین کے بارے میں گلہ کیا تھا کہ وہ بالعموم بہت خراب قاری ہوتے ہیں۔ مجھے اس بات سے صرف اتنا اختلاف ہے کہ بری خواندگی کو سائنس کے مورخین تک محدود کر دینا شاید درست نہ ہو کیونکہ یہ بیماری کافی ہمہ گیر ہے۔ تاریخی متون کو درست پڑھنا شاید اس لیے ممکن نہیں رہتا کہ ہم نے پہلے سے بہت سے تصورات وضع کر رکھے ہوتے ہیں اور جب ان کی روشنی میں متن کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس کا درست مفہوم سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ کبھی اندھی عقیدت، کبھی بے جا تعصب اور عداوت رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

پاکستان میں یہ بات ایک سرکاری عقیدے کا درجہ حاصل کر چکی ہے کہ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں پاکستان کا تصور پیش کیاتھا۔ ایک بار نظریہ پاکستان کے علم بردار اخبار کے ایڈیٹوریل میں یہ جملہ پڑھنے کا اتفاق ہوا کہ ”پاکستان علامہ اقبال کے تصور اور قائد اعظم کی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہوا“۔ ایک بزرگ کالم نویس نے تو یہ لکھ کر حد ہی کر دی کہ قائد اعظم نے علامہ اقبال کے حکم پر پاکستان بنانے کی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ تاریخ میں شاید کوئی اور ایسا واقعہ نہ ہوا ہو جب کسی جماعت کا ایک صوبائی صدر مرکزی صدر کو حکم دے رہا ہو۔ خامہ بگوش کے الفاظ میں یہ تاریخ نویسی نہیں بلکہ ٹلہ نویسی ہے۔

میں اس مضمون میں علامہ اقبال کی نثری تحریروں کا جائزہ لے کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ انھوں نے تقسیم ہند کا کوئی نظریہ پیش نہیں کیا تھا اور نہ تصور پاکستان کے وہ خالق تھے، کجا یہ کہ تنہا خالق۔ یہ کام اقبال کے بعض الفاظ کو غلط اور من مانے معنی پہنا کر کیا گیا ہے۔ اقبال کے سر پر اس دستار کو سجانے کے کیا اسباب تھے، ان کا بھی کچھ تذکرہ کروں گا۔

علامہ اقبال کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ قیام پاکستان کے بعد ان کی تشریح و تفسیر کا کام ان لوگوں نے سنبھال لیا جو قیام پاکستان سے قبل کانگرس اور احرار سے وابستہ تھے۔ انہوں نے اقبال کے چند مخصوص اشعار کا انتخاب کر کے ان کی نثری تحریروں کو یک سر نظر انداز کر دیا یا ان کی من مانی تاویلیں شروع کر دیں۔ بہت چالاکی سے کام لیتے ہوئے اقبال کی نثر کو اس کے شعر کے تابع کردیا۔ حالانکہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ شعر کو علمی اور منطقی دلیل کی جگہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ رشید احمد صدیقی صاحب نے ایک مرتبہ قوم کی بدمذاقی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ دلیل کی جگہ شعر پڑھ کر ایسا سمجھتے ہیں کہ بڑا علمی کارنامہ سرانجام دے دیا ہے۔ اگر علم اور خبر کی بات ہو گی تو نثر میں کہی ہوئی بات کو شعر پر ترجیح حاصل ہو گی۔

تصور پاکستان کی بحث میں علامہ اقبال کا خطبہ الہٰ آباد اور اقبال کے خطوط بنام جناح خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کے مشمولات کے تجزیہ و تحلیل سے پہلے کچھ دیگرامورکا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اقبال کے خطبہ الہٰ آباد کی کس طرح معنوی تراش خراش کا سب سے زیادہ عبرت ناک مظاہرہ اقبال کے خطبہ الہ آباد میں استعمال ہونے والی ایک ترکیب کے فہم میں دیکھنے کو ملتاہے۔ اقبال نے جہاں شمال مغربی ہندوستان کو ایک مربوط صوبہ بنانے کے لیے بہت سے سیاسی دلائل دیے اور کہا کہ ہندوئوں کو اس سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے وہاں اس صوبے کے قیام کے حق میں ایک اور دلیل بھی دی ہے۔ فرماتے ہیں :

”میں صرف ہندوستان اور اسلام کے فلاح و بہبود کے خیال سے ایک منظم اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کر رہا ہوں۔ اس سے ہندوستان کے اندر توازن قوت کی بدولت امن و امان قائم ہو جائے گا۔ اور اسلام کو اس امر کا موقع ملے گا کہ وہ ان اثرات سے آزاد ہو کر جو عربی شہنشاہیت کی وجہ سے اب تک اس پر قائم ہیں، اس جمود کو توڑ ڈالے جو اس کی تہذیب و تمدن، شریعت اور تعلیم پر صدیوں سے طاری ہے۔ اس سے نہ صرف ان کے صحیح معانی کی تجدید ہو سکتے گی بلکہ وہ زمانہ حال کی روح سے بھی قریب تر ہو جائیں گے۔ (خطبہ الہ آباد۔ اردو ترجمہ از سید نذیر نیازی)

اس عبارت میں سید نذیر نیازی صاحب نے ”عربی شہنشاہیت“ کی ترکیب اقبال کے الفاظ ”عرب امپیریل ازم“ کے ترجمے کے طور پر استعمال کی ہے۔ ڈاکٹر ندیم شفیق ملک صاحب نے بھی یہی ترکیب استعمال کی ہے مگر جب اقبال ”برٹش امپیریل ازم“ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو ندیم شفیق ملک صاحب اس کا ترجمہ برطانوی سامراج کرتے ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک ہی لفظ کے یہ دو متفاوت معنی کس طرح مراد لیے جا سکتے ہیں۔ اقبال نے جب ”عرب امپیریل ازم“ کے الفاظ استعمال کیے تو یقینا وہ ان کے مضمرات سے بھی واقف ہوں گے۔ اقبال نثر لکھ رہے تھے اس لیے شعر کی طرح وزن کی کوئی مجبوری حائل نہ ہو سکتی تھی۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ اقبال نے بے دھیانی میں یہ الفاظ استعمال کر لیے ہوں۔ اس خطبے سے کوئی ایک دہائی پیشتر وہ نکلسن کے نام اپنے خط میں مسلم تاریخ کے متعلق اپنے نقطہ نظر کو واشگاف انداز میں بیان کر چکے تھے:

”مجھے اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مسلمان بھی دوسری قوموں کی طرح جنگ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے فتوحات بھی کی ہیں۔ مجھے اس امر کا بھی اعتراف ہے کہ ان کے بعض قافلہ سالار ذاتی خواہشات کو دین و مذہب کے لباس میں جلوہ گر کرتے رہے ہیں لیکن مجھے پوری طرح یقین ہے کہ کشور کشائی اور ملک گیری ابتداً اسلام کے مقاصد میں داخل نہیں تھی۔

’اسلام کو جہاں ستانی اور کشور کشائی میں جو کامیابی حاصل ہوئی ہے میرے نزدیک وہ اس کے مقاصد کے حق میں بے حد مضر تھی۔ اس طرح وہ اقتصادی اور جمہوری اصول نشو و نما نہ پا سکے جن کا ذکر قرآن کریم اور احادیث نبوی میں جابجا آیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مسلمانوں نے عظیم الشان سلطنت قائم کر لی لیکن اس کے ساتھ ہی ان کے سیاسی نصب العین پر غیر اسلامی رنگ چڑھ گیا اور انہوں نے اس حقیقت کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں کہ اسلامی اصولوں کی گیرائی کا دائرہ کس قدر وسیع ہے۔ “ (اردو ترجمہ از چراغ حسن حسرت)

مندرجہ بالا اقتباس یہ بات واضح کر دیتا ہے کہ اقبال نے وہ لفظ خوب سوچ سمجھ کر استعمال کیا تھا مگر ہماری حساسیت اس لفظ اور اس کے مضمرات کو قبول کرنے سے انکاری ہے اور ترجمے میں اس کا دف مار دیا جاتا ہے۔ خود حسرت صاحب نے جن الفاظ کا یہ ترجمہ ”ان کے سیاسی نصب العین پر غیر اسلامی رنگ چڑھ گیا“ کیا ہے اصل میں یہ ہیں : they largely repaganized their political ideals

 گویا اقبال یہ کہہ رہے ہیں کہ ملوکیت دور جاہلیت کی طرف رجعت کا نام ہے۔ چنانچہ مسلمانوں میں خلافت کے نام پر جس ملوکیت نے رواج پایا تھا اقبال اس کے سخت خلاف تھے۔ خطبہ الہ آباد کے تقریبا سات برس بعد پنڈت نہرو کے جواب میں اقبال نے اتاترک کے تنسیخ خلافت کے فیصلے کی ان الفاظ میں تائید کی تھی:

”کیا تنسیخ خلافت یا مذہب و سلطنت کی علیحدگی منافی اسلام ہے؟ اسلام اپنی اصلی روح کے لحاظ سے شہنشاہیت نہیں ہے۔ اس خلافت کی تنسیخ میں جو بنو امیہ کے زمانہ سے عملًا ایک سلطنت بن گئی تھی اسلام کی روح اتاترک کے ذریعے کارفرما ہو رہی ہے۔ “ (ترجمہ میر حسن الدین)

خطبہ الہ آباد میں ایک اور لفظ کی معنوی تبدیلی بہت دوررس اثرات کی حامل ہے۔ اس خطبہ میں انہوں نے صرف دو جگہ اسلامک کا لفظ استعمال کیا ہے (Islamic principle of solidarity ,Islamic solidarity) لیکن انہوں نے کسی جگہ سٹیٹ یا ریاست کے لیے یہ لفظ استعمال نہیں کیا۔ مگر سید نذیر نیازی صاحب نے ترجمے میں جہاں بھی مسلم کا لفظ استعمال ہوا ہے اسے اسلامی سے ترجمہ کیا ہے۔ خطبہ میں ایک ذیلی عنوان ہے: [Muslim India within India ] نیازی صاحب نے اور ندیم ملک صاحب نے بھی اس کا ترجمہ کیا ہے ”ہندوستان کے اندر ایک اسلامی ہندوستان“۔ جہاں جہاں اقبال نے مسلم سٹیٹ یا سٹیٹس کا لفظ استعمال کیا ہے اسے نیازی صاحب نے اسلامی ریاست یا ریاستوں سے ہی ادا کیا ہے۔ یہی وہ مغالطہ آفرینی ہے جس نے تحریک پاکستان میں راہ پائی اور مسلمانوں کے سیاسی اور دستوری مطالبات کو اسلامی مطالبات بنا دیا۔ تحریک پاکستان کے دنوں میں مذہبی مخالفین بالخصوص جماعت اسلامی کا یہی موقف تھا کہ مسلم لیگ کے مطالبات قومی مطالبات ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں مگر پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد یہی لوگ تھے جنہوں نے یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا ہے اس لیے اسے اسلامی ریاست بنایا جائے۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ مسلم ریاست سے اسلامی ریاست کی طرف سفر خبط معنی کا نتیجہ ہے یا اس میں کچھ نیتوں کے فتور کو بھی دخل ہے؟

اقبال نے اگر چہ کہا تھا:

الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا

غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے

تاہم کبھی الفاظ بھی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ مفہوم و مطلب ادا کرنے کا ہمارے پاس یہی وسیلہ ہے۔ الفاظ کے درست مفہوم کا تعین نہ کرنے کا نتیجہ یہ مقبول عام تصور ہے کہ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں پاکستان کا تصور پیش کیا تھا۔

 ایک متن کو درست طور پر پڑھنا ضرروری ہے تاکہ مصنف کے اصل مدعا کی بازیافت کی جا سکے۔ اس کے ساتھ اختلاف و اتفاق بعد کی بات ہے۔ چنانچہ ہم خطبہ الہٰ آباد کے استدلال کو سمجھنے، متن کی نادرست خواندگی اور استدلال کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی سعی کرتے ہیں۔

 علامہ اقبال کا خطبہ کسی شاعر کا لکھا ہوا کوئی ادبی مضون نہیں بلکہ دستوری اور قانونی امور کا بہت اچھا فہم رکھنے والے بیرسٹر اور ایک عملی سیاست دان کا ہندوستان کو درپیش دستوری اور قانونی مسائل کا تجزیہ ہے۔ یہ خطبہ چونکہ مطبوعہ صورت میں موجود ہے اس لیے بہتر یہی ہو گا کہ اسی سے رجوع کیا جائے اور یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ وہ اس میں کیا ارشاد فرما رہے ہیں۔

مولوی حضرات ایک بات کا بہت کا ذکر کیا کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو لا تقربوا الصلوٰة پڑھ کر ہی رک جاتے ہیں اور اس کو مفید مطلب حکم سمجھ لیتے ہیں۔ مولوی صاحبان کی بات کو تو شاید ایک لطیفہ سمجھا جائے مگر اقبال کے ساتھ تو واقعی یہ سلوک کیا گیا ہے کہ یار لوگ ایک جملہ پڑھ کر ہی فرط جذبات میں دھمال ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔ پورے خطبے میں انہیں صرف یہ جملہ پسند آیا ہے:

میری خواہش ہے کہ پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان کوملا کر ایک ریاست بنا دیا جائے۔ مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ کم از کم ہندوستان کے شمال مغرب میں ایک مربوط ہندوستانی مسلم ریاست، خواہ یہ ریاست سلطنت برطانیہ کے اندر حکومت خود اختیاری حاصل کرے، یا اس کے باہر، ہندوستان کے شمال مغربی مسلمانوں کا آخر کار مقدر ہے۔ (اردو ترجمہ از ڈاکٹر ندیم شفیق ملک۔ علامہ اقبال کا خطبہ الہٰ آباد 1930ئ۔ ص 111)

اس جملے سے دو اہم نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ پہلایہ کہ اس میں اقبال نے ایک آزاد اور خود مختار مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جسے بعد میں پاکستان کا نام دیا گیا۔ دوسرا نتیجہ یہ نکالا گیا کہ اقبال نے خطبہ الہٰ آباد میں بنگال کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ چنانچہ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد مغربی حصے کے دانشوروں نے دھڑا دھڑ اخباری مضامین لکھے تھے جن کا لب لباب یہ تھا کہ چونکہ اقبال نے بنگال کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا اور قرارداد لاہور میں بھی ریاستوں کا ذکر تھا اس لیے مشرقی پاکستان کو الگ کرکے اس تاریخی غلطی کو درست کر دیا گیا ہے۔

کیا اقبال کے اس خطبے سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ وہ ہندوستان کو تقسیم کرکے ایک آزاد اور خود مختار مملکت کے قیام کا مطالبہ کر رہے تھے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پیشتر یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مندرجات کا سرسری سا جائزہ لے لیا جائے اور اس پس منظر پر بھی غور کر لیا جائے جو اس خطبے کا محرک بنا۔

یہ خطبہ تعارفی کلمات کے بعد ان ذیلی عنوانات پر مشتمل ہے:

اسلام اور قومیت

ہندوستانی قوم کا اتحاد

ہندوستان کے اندر ایک مسلم ہندوستان

فیڈرل ریاستیں

سائمن رپورٹ اور فیڈریشن

فیڈرل اسکیم اور رائونڈ ٹیبل کانفرنس

مسئلہ دفاع

 متبادل تجویز

 رائونڈ ٹیبل کانفرنس

(یہاں ضمناً اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ شریف الدین پیرزادہ کی مرتب کردہ کتاب Foundations of Pakistan اور ڈاکٹر ندیم شفیق ملک صاحب نے اولین اشاعت کا جو عکس دیا ہے، اس میں بعض ذیلی عنوانات میں فرق ہے۔ تاہم یہ کوئی قابل لحاظ فرق نہیں ہے۔)

اس خطبے کا پس منظر یہ ہے کہ اس زمانے میں کانگرس اس بات کی کوشش کر رہی تھی کہ ہندوستان کے لیے متفقہ دستوری سفارشات مرتب کی جائیں اور اس مقصد کے لیے پنڈت موتی لال نہرو کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو نہرو کمیٹی کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کمیٹی نے جو رپورٹ مرتب کی اسے نہرو رپورٹ کہا گیا۔ اس رپورٹ میں سوائے ایک بات کے مسلمانوں کے سبھی مطالبات کو رد کر دیا گیا۔ جو مطالبہ تسلیم کیا گیا وہ صوبوں کی از سر نو تشکیل کا تھا۔ لیکن جب 1930ء میں لاہور میں کانگرس کا سیشن ہوا اور پنڈت جواہر لال نہرو کو صدر منتخب کیا گیا تو کانگرس نے خود ہی اس رپورٹ کو دریا برد کر دیا۔ اس کے جواب میں نومبر سن 1930ء میں اپر انڈیا مسلم کانفرنس ہوئی اور 19 دسمبر کو اس کانفرنس کی جانب سے اہلِ فکر مسلمانوں کے نام ایک اپیل شائع کی گئی۔ گول میز کانفرنس سے قبل مسلمان چاہتے تھے:

1۔ ہندوستان کا نظام حکومت فیڈرل ہو۔

2۔ بلوچستان، سرحد اور سندھ کے مسلمان صوبوں کو مکمل اصلاحات ملیں۔

3۔ وزارتوں اور ملازمتوں میں مسلمانوں کا حصہ بروئے دستور اساسی محفوظ کر دیا جائے۔

4۔ شریعت حقہ، تمدن اسلام، تعلیم اسلام اور مسلمانوں کا انفرادی قانون غیر مسلم دسترس سے بروئے دستور اساسی محفوظ کر دیا جائے۔

5۔ غیر مصرحہ اختیارات (residuary) صوبہ جات کے قبضہ میں رہیں اور

6۔ مرکز کی مجالس آئین ساز اور وزارت میں ہمارا حصہ ایک تہائی ہو۔ [میں اس کا حوالہ کھو چکا ہوں۔ ]

اس میں یہ بات لائقِ توجہ ہے کہ ان میں جداگانہ انتخاب کا مطالبہ شامل نہیں ہے حالانکہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس معاملے پر بہت زیادہ حساس تھی مگر کانگرس کسی صورت بھی اس مطالبے کو تسلیم کرنے پر تیار نہ تھی۔ پنڈت نہرو اپنی اقتصادی قومیت کے نشے میں فرقہ وارانہ مسئلے کا وجود ہی تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔ پنڈت جی کے بارے سبھی لوگوں کی تقریباً ایک ہی رائے ہے کہ وہ آدرش وادی تھے اور زمینی حقائق سے کم ہی سروکار رکھتے تھے۔ اب اگر ایک مسئلہ موجود ہے تو آپ کے آنکھیں بند کر لینے سے وہ معدوم نہیں ہو جائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان ایک متنوع سماج تھا جس میں نسلوں، زبانوں اور مذاہب کا بہت زیادہ اختلاف تھا چنانچہ ایسے سماج کا یک رنگ قومیت کو قبول کرنے کا کوئی امکان تھا ہی نہیں۔

علامہ اقبال نے ہندو مسلم اتحاد کی راہ میں حائل رکاوٹ کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا تھا:

”یہ امر کس قدر افسوسناک ہے کہ اب تک ہم نے باہمی تعاون و اشتراک کی جس قدر کوششیں کی ہیں سب ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہماری ناکامی کا باعث کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شاید ہمیں ایک دوسرے کی نیتوں پر اعتماد نہیں اور باطناً ہم تغلب و اقتدار کے خواہش مند ہیں۔۔۔ لیکن ہماری ناکامی کے اسباب کچھ بھی ہوں میرا دل اب بھی امید سے لبریز ہے۔ واقعات کا رجحان بہرکیف ہمارے داخلی اتحاد اور اندرونی ہم آہنگی ہی کی جانب نظر آتا ہے اور جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے مجھے یہ اعلان کرنے میں مطلق تامل نہیں اگر فرقہ وارانہ امور کے ایک مستقل اور پائدار تصفیے کے اس بنیادی اصول کو تسلیم کر لیا جائے کہ مسلمانان ہندوستان کو اپنی روایات و تمدن کے ماتحت اس ملک میں آزادانہ نشو و نما کا حق حاصل ہے تو وہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے بڑی سے بڑی قربانی بھی دریغ نہیں کریں گے“۔ (اردو ترجمہ سید نذیر نیازی۔ میں نیازی صاحب کے ترجمے کے نوٹس پہلے بنا چکا تھا اور ڈاکٹر ندیم شفیق ملک صاحب کا ترجمہ بعد میں میرے علم میں آیا۔ اس لیے حوالے ملے جلے ہی ہوں گے۔)

اقبال کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ہندوستان میں پائیدار وحدت اسی صورت جنم لے سکتی ہے جب اختلاف اور تنوع کو تسلیم کیا جائے ”ہندوستان ایک براعظم ہے جس میں مختلف نسلوں، مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف مذاہب کے پیروکار آباد ہیں۔۔۔ [اس لیے] ہندوستان میں یورپی جمہوریت کے اصول کا اطلاق مذہبی فرقوں کے وجود کو تسلیم کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کا یہ مطالبہ کہ ہندوستان کے اندر ایک مسلم ہندوستان قائم کیا جائے، بالکل حق بجانب ہے“۔

چنانچہ ان کے مندرجہ بالا جملے میں ہندوستان کے اندر ایک مسلم اکثریتی صوبے کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ صوبے کے لیے ریاست کے لفظ کا استعمال کوئی انہونی بات نہیں۔ فیڈریشن کی اکائیوں کو بالعموم ریاست ہی کہا جاتا ہے۔ اس جملے کے فوراً بعد یہ جملہ آتا ہے:

”اس تجویز کو نہرو کمیٹی میں بھی پیش کیا گیا تھا لیکن اراکین مجلس نے اسے اس بنا پر رد کر دیا کہ اگر اس قسم کی کوئی ریاست قائم ہوئی تو اس کا رقبہ اس قدر وسیع ہو گا کہ اس کا انتظام کرنا مشکل ہو جائے گا۔ بے شک اگر رقبے کا لحاظ کیا جائے تو اراکین مجلس کا یہ خیال صحیح ہے۔ لیکن اگر آبادی پر نظر کی جائے تو اس ریاست کے باشندوں کی تعداد اس وقت کے بعض ہندوستانی صوبوں سے بھی کم ہو گی۔ “

اب یہ بات ظاہر ہے کہ نہرو کمیٹی کے سامنے ہندوستان کو تقسیم کرنے کی تجویز پیش نہیں کی گئی تھی۔ اس صوبے کے قیام کا مقصد اقبال کے نزدیک یہ ہے کہ اس طرح موجود دستوری ڈیڈلاک سے نکلنے کا راستہ نکل آئے گا۔ چنانچہ کہتے ہیں : ”صوبوں کی مناسب تقسیم سے مخلوط اور جداگانہ انتخاب کا مسئلہ ہندوستان کے آئین کے بارے میں نزاع کو خود بخود ختم کر دے گا۔ اس نزاع کا باعث بڑی حد تک صوبوں کی موجودہ تقسیم ہے۔۔۔ اگر صوبوں کی تقسیم اس طور پر ہو جائے کہ ہر صوبے میں کم و بیش ایسے گروہ بستے ہوں جن میں لسانی، نسلی، تمدنی، اور مذہبی اتحاد پایا جاتا ہو تو مسلمانوں کو علاقہ وارانہ انتخاب پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا“۔ اس بات سے اقبالیات کے بڑے بڑے ماہرین کے اس دعوی کی تردید ہو جاتی ہے کہ اقبال زندگی کے کسی بھی مرحلے پر جداگانہ انتخاب سے دست برداری پر آمادہ نہیں ہوئے تھے۔ اقبال کی اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں کہ جداگانہ انتخاب مذہبی نہیں، سیاسی مسئلہ تھا۔

ہندوستان میں کانگرس اور مسلم لیگ میں اصل اختلاف اور نزاع حکومت کی دستوری ہیئت کا تھا۔ مسلم لیگ کا مطالبہ تھا کہ ہندوستان کا دستور وفاقی ہو جس میں وفاقی اکائیوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری حاصل ہو۔ کانگرس مضبوط مرکز کے ساتھ وحدانی طرز حکومت کے حق میں تھی۔ چنانچہ اقبال بھی مسلمانوں کے اسی نقطہ نظر کے حامی ہیں : ”میں خود مختار ہندوستان میں وحدانی حکومت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جنہیں ’باقی ماندہ اختیارات‘ کہا جاتا ہے وہ خود مختار ریاستوں کو ملنے چاہییں۔ مرکزی وفاقی ریاست کے پاس صرف ایسے اختیارات ہونے چاہییں جو وفاق تشکیل کرنے والی ریاستیں اپنی رضامندی سے واضح طور پر اس کے سپرد کریں۔ میں ہندوستان کے مسلمانوں کو کبھی یہ مشورہ نہیں دوں گا کہ کسی ایسے نظام حکومت پر خواہ وہ برطانوی ہو یا ہندوستان میں وضع کیا گیا ہو، اظہار رضامندی کریں جو حقیقی وفاق کے اصول کی نفی کرے یا ان کے جداگانہ سیاسی وجود کو تسلیم نہ کرے۔ “

اس لیے اس خطبے میں بہت قابل غور وہ سیکشن ہے جس میں ہندوستان کے دفاع کے مسئلے کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس مسئلے کو زیر بحث لانے کا سبب یہ ہے کہ اس زمانے میں پان اسلام ازم کی تحریک کا بھی چرچا تھا اور ہندوئوں کو خدشہ تھا کہ مسلمان افغانستان اور وسطی ایشیا سے اپنا تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں اور ہندوستان پر کہیں ایک بار پھر ادھر سے حملوں کا سلسلہ نہ شروع ہو جائے۔ اقبال نے خطبے میں مسٹر سری نواس شاستری کے حوالے سے بیان کیا ہے” کہ ’[ان] کا خیال ہے کہ مسلمانوں کا مطالبہ کہ شمال مغربی سرحد کے ساتھ خود مختار اسلامی ریاستیں قائم کی جائیں، ان کی اس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئے تو تو حکومت ہند پر زور ڈالا جا سکے۔ ‘ میں یہ عرض کروں گا کہ مسلمانان ہندوستان کے دل میں اس قسم کا کوئی جذبہ موجود نہیں۔ ان کا مدعا صرف اس قدر ہے کہ وہ اپنی ترقی کی راہ میں آزادی کے ساتھ قدم بڑھائیں لیکن یہ اس مرکزی حکومت کے تحت ممکن نہ ہوگا جسے قوم پسند ہندو ارباب سیاست محض اس لیے قائم کرنا چاہتے ہیں کہ ان کو دوسری ملتوں پر ہمیشہ کے لیے غلبہ ہو جائے“۔

اس کے ساتھ ہی لالہ لاجپت رائے کے سی آر داس کے نام اس خط کو بھی سامنے رکھا جائے جو شاید 1925ء میں لکھا گیا تھا اور 1940ء میں منظر عام پر آیا تھا جس کا قائد اعظم نے اس برس کے سالانہ اجلاس کے صدارتی خطاب میں حوالہ بھی دیا تھا۔ لالہ لاجپت رائے کے خط کا ایک جملہ قابل غور ہے جس میں وہ کہتے ہیں :

”میں سات کروڑ مسلمانوں سے نہیں ڈرتا بلکہ یہ سوچتا ہوں کہ ہندوستان کے سات کروڑ مسلمانوں کے ساتھ افغانستان، وسط ایشیا، عرب، عراق اور ترکی کے مسلح غول ایسے ہوں گے جن کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا“۔ یہ درست ہے کہ یہ خط اقبال کی وفات کے بعد منظر عام پر آیا مگر اس سے اتنا پتہ ضرور چل جاتا ہے کہ اس زمانے میں یہ ہندوئوں کا عام احساس تھا۔ اس لیے اس خطبے میں اقبال باربار مسلمانوں کی حب الوطنی کا تذکرہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے اس جذبے پر شک نہ کیا جائے تاہم حب الوطنی کا یہ جذبہ برابری کے سلوک کے ساتھ مشروط ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں :

: ” مجھے یقین ہے کہ اگر فیڈرل ریاست قائم ہو گئی تو مسلم فیڈرل ریاستیں ہندوستان کے تحفظ کی خاطر ایک غیر جانب دار ہندوستانی فوج کے قیا م کے لیے جو خشکی اور سمندر دونوں پر متعین ہو، ہر قسم کی مدد دینے پر آمادہ ہوں گی۔ مغلوں کے زمانے میں اس قسم کے غیر جانب دار عساکر واقعتا موجود تھے بلکہ اکبر کے زمانے میں تو ان تمام سرحدی افواج کے افسر ہندو ہی تھے۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر فیڈرل نظام حکومت میں ایک غیر جانب دار ہندوستانی لشکر قائم ہوا تو اس سے مسلمانوں کے جذبات حب الوطنی اور زیادہ قوی ہو جائیں گے۔ اور اس بدگمانی کا بھی ازالہ ہو جائے گا کہ اگر باہر سے حملہ ہوا تو مسلمانان ہندوستان اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ مل جائیں گے۔ “

اس خطبے میں اقبال نے دستوری مسئلے کے دو حل تجویز کیے ہیں۔ پہلا حل یہ ہے کہ” فرقہ وارانہ مسئلے کے مستقل تصفیے کے لیے برطانوی ہندوستان کی از سرنو تقسیم کی جائے“۔ اور اگریہ قبول نہیں تو پھر میں نہایت شدومد سے مسلمانوں کے ان مطالبات کی تائید کروں گا جس پر آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا مسلم کانفرنس نے بار بار زور دیا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان کبھی ایسی دستوری تبدیلی پر رضامند نہیں ہوں گے جس سے پنجاب اور بنگال میں ان کے اکثریتی حقوق پر اثر پڑے جو جداگانہ انتخاب کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے یا مرکزی اسمبلی میں ان کی 33 فی صد نمائندگی کی ضمانت نہ دی جائے۔۔۔ اور ہندوستان کے مسلمان کسی ایسی تبدیلی پر رضامند نہیں ہوں گے جس کے تحت سندھ کو علیحدہ صوبہ نہ بنا یا جائے اور شمال مغربی سرحدی صوبہ کو سیاسی حیثیت سے کم تر درجہ دیا جائے۔ میرے خیال میں کوئی وجہ نہیں کہ سندھ کو بلوچستان سے ملا کر کیوں نہ ایک صوبہ بنا دیا جائے۔ “

اب یہاں ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ اقبال بنگال کا بھی ذکر کر رہے ہیں۔ اس وقت بنگال اور پنجاب کے مسلمانوں کی تمائندگی کی شرح کم کر کے اقلیتی صوبوں کی نمائندگی میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کی تفصیل ڈاکٹر ندیم شفیق ملک صاحب کی کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یعنی بنگال اور پنجاب میں مسلمانوں کو ان کی آبادی کے حساب سے نمائندگی دی جائے جس کے نتیجے میں وہ واضح مسلم اکثریت والے صوبے بن جائیں گے اور حکومت سازی میں غیر مسلموں کے محتاج نہیں رہیں گے۔

اس تمام گفتگو کا خلاصہ یہی ہے کہ اقبال نے خطبہ الہٰ آباد میں نہ تقسیم ہند کا کوئی تصور دیا اور نہ کسی آزاد خود مختار مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا۔ اس پر قولِ فیصل خود علامہ اقبال کا خطبہ الہ آباد کے دس ماہ بعد 10 اکتوبر 1931ء کو لنڈن ٹائمز کے ایڈیٹر کے نام خط ہے جس میں ٹامسن کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں : کیا میں ڈاکٹر ٹامسن سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے برطانوی سلطنت سے باہر ایک مسلم مملکت کا مطالبہ پیش نہیں کیا ہے بلکہ دھندلے مستقبل میں ان زبردست قوتوں کی امکانی کارفرمائی کے متعلق یہ ایک تخمینہ ہے، جو برصغیر ہند کے مقدر کی اس وقت صورت گری کر رہی ہیں۔ کوئی ہندوستانی مسلمان جو عقل کا ادنیٰ سا شائبہ رکھتا ہے، عملی سیاست کے ایک منصوبہ ساز کی حیثیت سے برطانوی دولت عامہ سے باہر شمال مغربی ہند میں ایک مسلم مملکت یا مملکتوں کے سلسلہ کو قائم کرنے کا خیال نہیں کر رہا ہے۔۔۔ میں ہندوستان کی ایسے صوبہ جات میں ازسرنو تقسیم کا قائل ہوں، جس میں کسی ایک فرقہ کی اکثریت ہو، جس کی وکالت نہرو رپورٹ اور سائمن رپورٹ نے بھی کی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مسلم صوبوں کے متعلق میری تجویز اسی تخیل کو آگے بڑھاتی ہے، ہندوستان کی شمال مغربی سرحد پر مطمئن اور منظم صوبوں کاایک سلسلہ، سطح مرتفع ایشیا کی بھوکی نسلوں کے خلاف ہندوستان کے لیے، اور برطانوی سلطنت کے لیے ایک فصیل ثابت ہو گا۔ (زندہ رود، جلد سوم، ص 415)

 اب تک ہم اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں تقسیم ہند کا کوئی نظریہ پیش نہیں کیا تھا۔ ان کے جس جملے سے یہ مطلب نکالا جا رہا ہے وہ صرف سٹیٹ کے لفظ کے معنی کو درست طور پر نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ اس جملے میں اقبال نے سٹیٹ کا لفظ صوبے کے مفہوم میں استعمال کیا ہے۔ یہ رائے کوئی میری نہیں بلکہ بہت سے لوگ اس کا اظہار کر چکے ہیں تاہم ان میں سے بھی بعض لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ دراصل اقبال نے جناح کے نام خطوط میں الگ آزاد اور خود مختار مملکت کا تصور پیش کیا تھا۔ اس لیے لازم ہو جاتا ہے کہ ان خطوط کا بھی جائزہ لے کر جانا جائے کہ یہ موقف کہاں تک درست ہے۔

اقبال کے جناح کے نام کل تیرہ خطوط ہیں جن میں زیادہ تر مسلم لیگ کے داخلی معاملات، پنجاب میں یونینسٹ پارٹی کے ساتھ معاملات اور سکندر جناح پیکٹ کے حوالے سے ہیں۔ ان خطوط سے واضح ہو جاتا ہے کہ اقبال اتحاد پارٹی کی سیاست کو سخت ناپسند کرتے تھے اور سکندر جناح پیکٹ کے متعلق ان کے شدید تحفظات تھے۔ ان تیرہ خطوط کی داخلی شہادت سے پتہ چلتا ہے کہ پہلا خط جناح کے خط کے جواب میں لکھا گیا ہے اور اس کے بعد جناح نے صرف دو خطوط کا جواب دیا ہے، لیکن سکندر جناح پیکٹ کے بارے میں لکھے گئے کسی خط کا جواب نہیں دیا گیا۔ اس مضمون میں زیر بحث مسئلے کے بارے میں تین خطوط بہت اہم ہیں۔ لیکن ان خطوط کا جائزہ لینے سے پیشتر یہ مناسب ہو گا کہ ان کے پس منظر کا ایک طائرانہ جائزہ لے لیا جائے۔

اقبال کے خطبہ الہ آباد کے بعد ہندوستان کی سیاست میں جوہری تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں۔ 1935 کے ایکٹ کا نفاذ ہو چکا تھا جو مسلمانوں کے نقطہ نظر سے مایوس کن تھا۔ اس ایکٹ کے تحت صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات بھی منعقد ہو چکے تھے جن میں کانگرس نے شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ مسلم لیگ کی کارکردگی اقلیتی صوبوں میں تو بری نہ تھی مگر اکثریتی صوبوں میں بہت خراب رہی تھی۔ صوبوں میں کانگرسی حکومتوں کے قیام کے بعد ہندووں کا رویہ بہت جارحانہ ہو چکا تھا۔ حتی کہ مسلم اکثریتی صوبوں میں مسلمانوں کے خلاف ان کی سرگرمیاں شدت اختیار کرتی جا رہی تھیں۔ اقبال کے خیال میں وہ مسلمانوں کو دہشت زدہ کر دینا چاہتے تھے۔ مسلمانوں کے بارے میں کانگرس کا رویہ منیر نیازی کے الفاظ میں یہ تھا کہ

لوگوں کو ان کے گھر میں ڈرا دینا چاہیے۔

کانگرس نے 19مارچ 1937ء کو دہلی میں ایک کل ہند قومی کنونشن کا انعقاد کیا جس میں صوبائی اسمبلیوں کے آٹھ سو کانگرسی ارکان نے شرکت کی تھی۔ پنڈت نہرو نے اس کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مسلم عوام سے رابطہ کرنے کی مہم چلانے کا اعلان کیا۔ پنڈت جی کو اعتراف تھا کہ اس وقت تک کانگرس مسلم عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ ان کے نزدیک اس ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ کانگرس اب تک فرقہ پرست رہنمائوں سے بات چیت کرتی رہی ہے۔ اب وقت آ گیا تھا کہ مسلمانوں سے براہ راست رابطہ کرے انہیں کانگرس میں شامل ہونے پر آمادہ کیا جائے۔ اس تقریر میں انہوں نے فرمایا:

” تعجب ہے کہ ابھی تک ایسے لوگ موجود ہیں جو مسلمانوں کو ایک الگ گروہ تصور کرکے ہندوئوں سے سمجھوتہ کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ انداز فکر قرونِ وسطیٰ میں رائج ہو تو ہو، موجودہ زمانے میں اسے کوئی نہیں پوچھتا۔ آج کل ہر چیز پر اقتصادی نقطہ نظر سے غور کیا جاتا ہے۔ جہاں تک افلاس، بے کاری اور قومی آزادی کا سوال ہے، ہندوئوں، مسلمانوں، سکھوں اور مسیحیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ چوٹی کے فرقہ پرست لیڈر ہر وقت حصے بخرے کرنے اور بٹوارے کی باتیں کرتے رہتے ہیں کہ ان کی قوم کو ملازمتوں میں کتنا حصہ ملے گا اور اسمبلی میں کتنی نشستیں حاصل ہوں گی۔ ان لیڈروں کو چھوڑ کر جب ہم عوام سے براہ راست ملتے ہیں تو ہمیں وہی مشترکہ مسائل کارفرما نظر آتے ہیں، جن کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے، یعنی افلاس، بے کاری اور قومی آزادی کی لگن۔“ (بحوالہ اقبال کا سیاسی کارنامہ از محمد احمد خان، ص 456۔ خطوط کے ترجمے کے لیے میں نے اسی کتاب پر انحصار کیا ہے البتہ چند مقامات پر الفاظ کو تبدیل کیا ہے۔)

پنڈت نہرو کے اس اعلان کے اگلے ہی دن (20 مارچ 1937) اقبال نے جناح کو یہ خط تحریر کیا:

”مائی ڈیر مسٹر جناح! آپ نے پنڈت جواہر لال نہرو کے اس خطبہ کو پڑھا ہو گا، جو انہوں نے آل انڈیا نیشنل کنونشن میں دیا تھا اور یہ کہ آپ نے اس پالیسی کا پوری طرح اندازہ کر لیا ہو گا، جو مسلمانوں کے متعلق اس خطبے میں بیان کی گئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اس امر سے پوری طرح باخبر ہیں کہ نئے دستور نے کم از کم مسلمانان ہند کو ان سیاسی تغیرات کے پیش نظر، جو مستقبل میں ہندوستان اور مسلم ایشیا میں رونما ہونے والے ہیں، اپنے آپ کو منظم کرنے کا ایک انوکھا موقع فراہم کیا ہے۔ ہم ملک کی دوسری ترقی پسند جماعتوں سے بے شک تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم ہمیں یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ ایک اخلاقی اور سیاسی طاقت کی حیثیت سے اسلام کے پورے مستقبل کا انحصار بڑی حد تک مسلمانان ہند کی مکمل تنظیم پر ہے۔ لہٰذا میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ آل انڈیا نیشنل کنونشن کا ایک موثر جواب دیا جائے۔

آپ کو چاہیے کہ دہلی میں جلد از جلد ایک آل انڈیا مسلم کنونشن منعقد کریں، جس میں نئی صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے علاوہ دوسرے ممتاز مسلم رہنمائوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے۔ آپ کو چاہیے کہ اس کنونشن کی طرف سے پوری قوت اور قطعی وضاحت کے ساتھ ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک ممیز، جداگانہ سیاسی وحدت کا بطور نصب العین اعلان کر دیں۔ یہ امر قطعاً ناگزیر ہے کہ ہندوستان اور بیرون ہندوستان کی دنیا کو صاف صاف بتا دیا جائے کہ ہندوستان کا حل طلب مسئلہ صرف معاشی مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ مسلم نقطہ نظر سے ثقافت اور تہذیب کا مسئلہ نسبتاً زیادہ دور رس نتائج کا حامل اور بہر نوع کسی طرح معاشی مسئلہ سے کم اہم نہیں ہے۔ اگر آپ ایسا کنونشن منعقد کر سکیں تو ان مسلم ارکانِ مجالسِ قانون ساز کی حیثیت کا پول کھل جائے گا، جنہوں نے مسلمانانِ ہند کی خواہشوں اور تمنائوں کے خلاف اپنی جداگانہ جماعتیں قائم کر لی ہیں۔ مزید برآں اس کنونشن سے ہندووں پر بھی عیاں ہو جائے گا کہ کوئی سیاسی چال، خواہ وہ کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو، ہندی مسلمانوں کو اپنی ثقافتی وحدت سے غافل نہیں کر سکتی۔ “

 اقبال نے 28 مئی کو جناح کے نام ایک اور طویل خط بصیغہ راز تحریر کیا جس میں ہمارے زیر بحث موضوع کے متعلق اقبال نے دو اہم باتیں کی ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کو درپیش مسائل کا حل ”ایک یا ایک سے زاید آزاد مسلم ریاستوں کے بغیر ممکن نہیں۔ کئی سال سے یہ میرا ایماندارانہ ایقان رہا ہے اور میں اب بھی مسلمانوں کی روٹی کا مسئلہ حل کرنے کا اور ایک پرامن ہندوستان حاصل کرنے کا اسی کو واحد طریقہ سمجھتا ہوں۔۔۔ ان مسائل [اقتصادی اور معاشرتی جمہوریت] کو مسلم ہندوستان میں حل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملک کو از سر نو تقسیم کیا جائے اور ایک یا ایک سے زاید ایسی مسلم ریاستیں قائم کی جائیں، جہاں (مسلمانوں کی ) اکثریت قطعی ہو، کیا آپ کی رائے میں اس مطالبہ کا وقت نہیں آن پہنچا ہے؟“ ( ایضاً۔ ص 474-5)

اس خط میں ملک کی از سر نو تقسیم کی جو تجویز پیش کی گئی ہے اس کا مطلب صوبوں کی نئی حد بندی ہے تاکہ مسلم اکثریتی صوبوں میں مسلمانوں کو واضح اکثریت حاصل ہو اور وہ موثر حکومت تشکیل دے سکیں جو اپنے وجود کے لیے غیر مسلموں کی حمایت کی محتاج نہ ہو۔ کیونکہ اقبال کے خیال میں ”ایک پرامن ہندوستان حاصل کرنے کا“ یہی واحد راستہ ہے۔ وہ تقسیم ہند کا کوئی فارمولا پیش نہیں کر رہے۔

اس خط کا جواب موصول ہونے پر اقبال نے 21 جون کو ایک اور طویل خط بصیغہ راز لکھا جو اس سلسلے کا شاید اہم ترین خط ہے جس میں اقبال نے ایک قدم اور آگے بڑھایا ہے۔

” مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ دستور جدید ہندووں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ ہندو اکثریت کے صوبوں میں ہندووں کو قطعی اکثریت حاصل ہے اور وہ وہاں مسلمانوں کو بالکلیہ نظر انداز کر سکتے ہیں۔ برخلاف اس کے مسلم اکثریت کے صوبوں میں مسلمانوں کو ہندووں کا دست نگر رکھا گیا ہے۔ مجھے اس امر میں شک و شبہ کی گنجائش نظر نہیں آتی کہ موجودہ دستور ہندی مسلمانوں کے لیے زہر قاتل کا حکم رکھتا ہے۔ مزید براں یہ دستور تو اس معاشی تنگ دستی کا جو مسلمانوں میں شدید تر ہوتی جا رہی ہے، کوئی علاج ہی نہیں ہے۔ فرقہ وارانہ فیصلہ (communal award) ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی ہستی کو تسلیم تو کرتا ہے لیکن کسی قوم کی ایسی سیاسی ہستی کا اعتراف، جو اس کی معاشی پس ماندگی کا کوئی حل تجویز نہ کرتا ہو اور نہ کر سکے، اس کے لیے بے سود ہے۔

کانگرس کے صدر نے تو غیر مبہم الفاظ میں مسلمانوں کی جداگانہ سیاسی حیثیت ہی سے انکار کر دیا ہے۔ ہندووں کی دوسری سیاسی جماعت ہندو مہاسبھا نے، جسے میں ہندو عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت سمجھتا ہوں، بارہا اعلان کیا ہے کہ ہندو اور مسلمان کی متحدہ قومیت کا وجود ہندوستان میں ناممکن ہے۔ ان حالات میں ظاہر ہے کہ ایک پرامن ہندوستان حاصل کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ لسانی، مذہبی اور نسلی میلانات کی بنا پر ملک کو ازسرنو تقسیم کر دیا جائے۔

اکثر برطانوی مدبرین اس حقیقت کو محسوس کرتے ہیں اور ہندو مسلم فسادات جو اس دستور کے جلو میں پوری تیزی سے رونما ہو رہے ہیں، یقین ہے کہ ملک کی صحیح صورت حال کو ان پر واضح کر دیں گے۔ مجھے یاد ہے کہ انگلستان سے میری روانگی سے قبل لارڈ لوتھیان نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہاری اسکیم ہی ہندوستان کی مشکلات کا واحد ممکنہ حل ہے، لیکن اس کے بارآور ہونے کے لیے پچیس سال درکار ہوں گے۔۔۔

میرے خیال میں تو جدید دستور سارے ہندوستان کو ایک ہی وفاق میں مربوط کر لینے کی تجویز کی بنا پر بالکلیہ یاس انگیز ہے۔ ان خطوط پر جن کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے مسلم صوبوں کے ایک علیحدہ وفاق (separate federation ) کی تشکیل ہی وہ واحد طریقہ عمل ہے، جس کے ذریعے ہم ایک پرامن ہندوستان حاصل کر سکتے ہیں اور مسلمانوں کو غیر مسلموں کے تسلط سے بچا سکتے ہیں۔

شمال مغربی ہندوستان اور بنگال کے مسلمانوں کو کیوں نہ ایسی قوم قرار دیا جائے، جنہیں ہندوستان کے اندر اور ہندوستان سے باہر رہنے والی دوسری قوموں کے مانند خود اختیاری کا استحقاق ( right to self-determination) ہے؟

ذاتی طور پر میں یہ رائے رکھتا ہوں کہ شمال مغربی ہندوستان اور بنگال کے مسلمانوں کو فی الحال مسلم اقلیتی صوبوں کو نظر انداز کر دینا پڑے گا۔ مسلم اکثریت اور مسلم اقلیت کے صوبوں کا مفاد اسی طریقہ کار کے اختیار کرنے میں مضمر ہے۔ “ (ایضاً۔ ص 471-73)

اس خط میں اقبال نے دو بہت اہم باتیں کی ہیں جو بہت دوررس نتائج کی حامل ہیں۔ اولاً مسلم صوبوں کے علیحدہ فیڈریشن کی تجویز پیش کی ہے جس میں وہ ایک آزاد ملک کے مطالبے کے بہت قریب آ گئے ہیں لیکن اقبال اس تجویز کو ایک پرامن ہندوستان کے حصول کی شرط قرار دے رہے ہیں۔ بعد کے حالات اور ہندووں کے رویے نے حالات کو اس ڈگر پر ڈال دیا جہاں تقسیم کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا۔

ان کی دوسری تجویز اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے بارے میں ہے کہ فی الحال اکثریتی صوبوں کو انہیں نظر انداز کرنا پڑے گا۔ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں بھی پاسنگ کے تصور کو رد کر کے پنجاب اور بنگال میں ان کی اکثریت کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔ میثاق لکھنﺅ میں بنگال اور پنجاب کے مسلمانوں کی اکثریت کم کر کے یو پی، بہار اور دیگر صوبوں کے مسلمانوں کی نشستوں میں اضافہ کیا گیا تھا جس کا اقلیتی صوبوں کو تو کوئی فائدہ نہ ہوا لیکن اکثریتی صوبوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ چنانچہ اقبال اس پاسنگ کو رد کرکے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اکثریتی صوبوں میں مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی دی جائے۔

خطبہ الہ آباد اور خطوط کے مطالعے سے دو نتائج اخذ ہوتے ہیں۔

(1 ) اقبال نے خطبہ الہ آباد میں ہندوستان کو تقسیم کرکے کسی علیحدہ مملکت کے قیام کا کوئی تصور پیش نہیں کیا تھا۔

(2) جناح کے نام 21 جون1937 کو تحریر کردہ خط میں وہ اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ ”مسلم صوبوں کے ایک علیحدہ وفاق (separate federation ) کی تشکیل ہی وہ واحد طریقہ عمل ہے، جس کے ذریعے ہم ایک پرامن ہندوستان حاصل کر سکتے ہیں اور مسلمانوں کو غیر مسلموں کے تسلط سے بچا سکتے ہیں “۔ یہاں اقبال کے علیحدہ فیڈریشن کے الفاظ کو یہ معنی پہنائے جا سکتے ہیں کہ وہ ایک الگ مملکت کے قیام کا مطالبہ پیش کر رہے ہیں، سیاق کلام اگرچہ اس کی تائید نہیں کرتا۔ اگر یہ بات تسلیم کر بھی لی جائے تو ایک خط میں بیان کردہ رائے کیا اتنی اہم ہو جاتی ہے کہ اقبال کو تصور پاکستان کا خالق قرار دے دیا جائے۔

اب یہاں ایک اہم سوال سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے کہ آیا مسلم لیگ کی قیادت نے تحریک پاکستان کے دوران میں کبھی اس بات کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان کا تصور علامہ اقبال نے پیش کیا تھا اور وہ ان کے تصور کے مطابق ایک نئی مملکت کی تشکیل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم مسلم لیگ کی دستاویزات سے رجوع کریں اور یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ مسلم لیگ کے سالانہ جلسوں کی رودادیں مطبوعہ صورت میں دستیاب ہیں۔ ان کے مطالعے سے تحریک پاکستان کے بارے میں مسلم لیگ کی جدوجہد کو جاننے کے لیے ہمیں بنیادی آگاہی میسر آتی ہے۔

 1938ءکا سال مسلمانان ہند پر بہت بھاری تھا کہ اس برس علامہ اقبال اور مولانا شوکت علی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اسی برس دسمبر میں پٹنہ کے مقام پر مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا اور اس موقع پر مولانا شوکت علی کے انتقال پر 234 الفاظ پر مشتمل قرارداد تعزیت منظور کی گئی جس میں ان کی سیاسی خدمات کو بے پناہ خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی علامہ اقبال کے لیے جو قرارداد تعزیت منظور کی گئی وہ صرف 96 الفاظ پر مشتمل ہے اور اس قرارداد میں انہیں بطور فلسفی اسلام اور ایک عظیم قومی شاعر کی حیثیت سے خراج تہنیت پیش کیا گیا ہے تاہم ان کی سیاسی خدمات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔

اسی اجلاس میں قائد اعظم نے اپنی صدارتی تقریر میں مولانا شوکت علی کا تذکرہ زیادہ تفصیل کے ساتھ کیا اور اس سے مختصر تر الفاظ میں علامہ اقبال کو خراج تحسین پیش کیا جس میں ان کی شاعرانہ عظمت کا ذکر تو کیا مگر ان کی سیاسی خدمات کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ اس کے بعد مارچ 1940ء میں مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا جس میں مشہور زمانہ قرارداد لاہور منظور کی گئی اور مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ اس اجلاس کی پوری کارروائی کے دوران میں کسی مقرر نے اور نہ جناح صاحب نے اپنی تقریر میں اس بات کا کوئی ذکر کیا کہ وہ اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔ حتی کہ مسلم لیگ کے 1947ء تک منعقد ہونے والے سالانہ اجلاسوں میں کبھی اقبال کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا نہ کسی مقرر نے انہیں تصور پاکستان کا خالق قرار دیا۔

البتہ دو مواقع ایسے ہیں جب جناح صاحب نے اقبال کے متعلق اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ انہوں نے بھی ایک علیحدہ مملکت کا خیال ظاہر کیا تھا۔ خطوط اقبال بنام جناح، جو 1942 میں پہلی دفعہ شائع ہوئے، کے پیش لفظ میں انہوں نے لکھا ہے :

”میرے خیال میں یہ خطوط بڑی تاریخی اہمیت کے حامل ہیں، خاص طور پر وہ، جو مسلم ہندوستان کے مستقبل سے متعلق ان کے خیالات کو صاف اور غیر مبہم انداز میں واضح کرتے ہیں۔ میرے خیالات بنیادی طور پر ان کے خیالات سے ہم آہنگ تھے اور ہندوستان کو درپیش دستوری مسائل کے بااحتیاط مطالعے اور بغور چھان پھٹک کے ماحصل نے بالآخر مجھے بھی اسی نتیجے تک پہنچا دیا اور یہی خیالات کچھ عرصہ بعد، مسلم ہند کے متحدہ ارادے کی صورت میں کل ہند مسلم لیگ کی قرارداد لاہور میں ظاہر ہوئے،جس کو عام طور پر قرارداد پاکستان کہا جاتا ہے اورجو 24 مارچ 1940ء کو منظور ہوئی۔ “ (Letters of Iqbal to Jinnah,P.6-7 )

دوسری دفعہ 1944 میں یوم اقبال کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا:

”ایک عظیم شاعر اور مفکر ہوتے ہوئے وہ کسی عملی سیاستدان سے کم نہ تھے۔ اسلام کے اصولوں پر ان کے پختہ عقیدے اور ایمان کی بدولت وہ ان چند ہستیوں میں سے ایک تھے جس نے ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی خطوں، جو مسلمانوں کے تاریخی اوطان ہیں، میں ایک اسلامی ریاست کے ممکنہ انعقاد پر غور کیا۔ “ ڈاکٹر جاوید اقبال، زندہ رود، جلد سوم۔ ص 423)

کیا مندرجہ بالا دونوں اقتباسات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا ممکن ہے کہ اقبال تنہا تصور پاکستان کے خالق تھے؟ محمد احمد خان نے اپنی ضخیم کتاب، اقبال کا سیاسی کارنامہ، میں اس بات کو بالاصرار بیان کیا ہے کہ صرف اقبال ہی ہیں جنہیں تصور پاکستان کا خالق کہنا سزاوار ہے۔ بیسویں صدی میں جب ہندوستان میں جمہوری اداروں کا قیام عمل میں آنا شروع ہوا تو صاحبان بصیرت پر یہ بات مخفی نہیں تھی کہ ہندوستان جیسے متنوع ملک میں برطانوی طرز کی جمہوریت کا قیام اتنا آسان نہ ہو گا۔ اس لیے مختلف لوگ مختلف اوقات میں اس طرح کے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ مسلمانوں اور ہندووں کے مابین توازن کا کوئی فارمولا دریافت کرنا پڑے گا۔ ہندوستان کو جن دستوری اور آئینی مسائل کا سامنا تھا ان کے حل کے لیے جہاں اور بہت سے لوگوں نے، جن میں انگریز، ہندو اور مسلمان سبھی شامل ہیں، اپنی آرا کا اظہار کیا ہے، ان میں ایک رائے اقبال کی بھی ہے اور یہی قائد اعظم کا کہنا ہے۔

اس پس منظر کے ساتھ تحریک پاکستان کے ایک نامور رہنما اور قائد اعظم کے دست راست، ایم۔ اے۔ ایچ۔ اصفہانی، کا یہ بیان بہت اہمیت کا حامل ہے جسے ڈاکٹر جاوید اقبال نے احسان فراموشی کی مثال قرار دیا ہے:

”اس بات سے بلاشبہ انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ڈاکٹر اقبال کا فکر، شاعری اور خطبات بھی اسی سمت میں اشارہ کرتے تھے (یعنی مسلم ریاست کے قیام کی طرف) لیکن یہ کہنا کہ وہ مسلم ریاست کے تصور کے خالق تھے، تاریخ کو مسخ کرنا ہے۔ “ (زندہ رود، جلد سوم، ص 389)

ان تمام شواہد کی روشنی میں یہ سوال بہت اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ علامہ اقبال کو کب اور کن لوگوں نے تصور پاکستان کا خالق قرار دیا اور اس کی وجوہ کیا ہیں۔

میرا خیال ہے کہ اس تصور کا پرچار کرنے میں پنجاب کے بعض صحافیوں اور مذہبی طبقے نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پنجاب کے بعض صحافی جو علامہ اقبال سے قرب رکھتے تھے وہ بوجوہ جناح کی قیادت کو ناپسند کرتے تھے اور اس کے بارے میں تحفظات کا شکار تھے۔ مذہبی طبقے کے لیے جناح کی قیادت کو تسلیم کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا کیونکہ جناح اپنے حلیے، لباس اور طرز بود و باش میں مذہبی طبقے سے کوسوں کے فاصلے پر تھے اور نہ کسی طرح اسے مولانا محمد علی جناح بنانا ممکن تھا۔

 بیسویں صدی کے آغاز سے مسلمانوں کی قیادت زیادہ تر مذہبی طبقے کے ہاتھ میں تھی یا اس میں وہ صحافی نمایاں تھے جو مذہبی رجحان رکھتے تھے۔ حتی کہ علی برادران کو سیاست میں آنے کے لیے اور قیادت کی صف اول میں کھڑا ہونے کے لیے مولویوں کی شباہت اور لباس اختیار کرنا پڑا۔ اسی دوران میں ہندوستان میں خلافت کے نام پر ایک انتہائی بے مقصد اور جذباتی تحریک شروع کر دی گئی۔ اس سے پہلے ریشمی رومال تحریک اور مولانا ابو الکلام آزاد نے ہندوستان سے ہجرت کا تباہ کن فتویٰ بھی دے دیا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان خاندان تباہ و برباد ہو گئے۔ خلافت کی تحریک میں مسلمانوں نے بے پناہ مالی قربانی دی حالانکہ اس وقت مسلمانوں کی اقتصادی حالت بہت خوار و خستہ تھی۔ اس کے باوجود اس زمانے میں لاکھوں روپے کا چندہ جمع کیا گیا۔ بالآخر ایک دن یہ جذباتی تحریک اپنی موت آپ مر گئی۔ اس تحریک کا ایک اچھا اور پائیدار نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اس کے بعد مسلمانان ہند نے کبھی بھی مولویوں کی سیاسی بصیرت پر اعتماد نہیں کیا اور ان کی سیاسی قیادت کو ہمیشہ کے لیے رد کر دیا۔

اس مایوسی کے عالم میں مسلمانان ہند کو جناح کی صورت میں ایک ایسا لیڈر نظر آیا جو جدید زمانے کے تقاضوں کو خوب سمجھتا تھا، جو انگریزوں اور ہندووں کی چالوں کو سمجھنے اور ان کا توڑ کر نے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ دیانت و امانت میں بے مثال کردار کا مالک تھا کیونکہ اس سے قبل جو بھی قیادت تھی اس پر تحریک کے بعد چندے کھانے کا الزام عائد کیا جاتا تھا۔ جو مذہبی طبقہ کانگرس کے جارحانہ رویے سے دل برداشتہ ہوا اس کے لیے جناح کی قیادت کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا۔ تاہم وہ اس باب میں نفسیاتی الجھن کا شکار رہے اس لیے انہیں اپنے فیصلے کے جواز میں کبھی خوابوں کا سہارا لینا پڑتا تھا اور کبھی دیگر عذر تراشنے پڑتے تھے۔

خورشید ندیم نے اپنے ( 30 اپریل، 2016 روزنامہ دنیا) کالم میں لکھا تھا :

”اگر اہل مذہب کے ایک بڑے طبقے نے قائد اعظم کو اپنی سیاسی قیادت کے لیے منتخب کیا تو کیوں؟ اس کا جواب جماعت علی شاہ صاحب نے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مسلمان قوم کو ایک مقدمہ درپیش ہے اور اسے ایک وکیل کی ضرورت ہے۔ وکیل میں یہ صفات ہونی چاہییں کہ وہ دیانت دار ہو اور اہل ہو۔ قائداعظم میں یہ دونوں خصوصیات موجود ہیں۔“

پیر جماعت علی شاہ صاحب کا یہ جواب بہت معنی خیز ہے اور زیادہ تر مذہبی طبقے کا شاید یہی رویہ تھا کہ ان کے نزدیک جناح کی حیثیت بس مقدمے کے وکیل کی تھی۔ یہ بات ہر ایک پر عیاں ہے کہ وکیل کا مالِ مقدمہ پر کوئی حق نہیں ہوتا۔ مقدمہ آپ نے جیت لیا اور وکیل کا کردار ختم ہو گیا۔ اب یہ مدعیانِ مقدمہ کا استحقاق ہے کہ وہ مالِ مقدمہ کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔

اسی بات میں اس سوال کا جواب مضمر ہے کہ تصور پاکستان کا خالق علامہ اقبال کو کیوں قرار دیا جا رہا ہے۔ اقبال اگرچہ تمام عمر دین ملا کے خلاف نغمہ سنج رہا تاہم اس کی شاعری کا کچھ حصہ ایسا ہے جسے مولوی لوگ اپنے من پسند معنی پہنا سکتے ہیں اور پہنا رہے ہیں۔ اب یہ اس کی شاعرانہ عظمت کا کمال ہے کہ اس پر کفر کے فتوے لگانے والوں کا بھی اس کے اشعار پڑھے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔

اس ساری گفتگو کا ماحصل یہی ہے کہ اقبال کو تصور پاکستان کا خالق قرار دینے کے دعوے کی کوئی بنیاد نہیں۔ اس سارے افسانے کا اصل مقصد قائد اعظم کے کردار کو کم کرنا ہے اور ایسا کرنے کا سبب اقبال سے محبت نہیں بلکہ جناح سے بغض ہے۔ اگرچہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بعض خوش فہم لوگ، جو اقبال اور جناح دونوں سے عقیدت رکھتے ہیں، نادانستگی میں اس دامِ پر فریب کا شکار ہو گئے ہیں۔

(ادب لطیف۔ فروری 2021)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *