آپ اپنی سوچ کیوں نہیں بدلتے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت نے کابینہ سے منظوری کے بعد انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم تنظیموں میں شامل کر دیا۔ تحریک لبیک کی بنیاد مرحوم خادم حسین رضوی (مرحوم) نے ستمبر 2017 میں رکھی۔ بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے محکمۂ اوقاف کے سابق ملازم خادم حسین رضوی 2011 میں ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف آواز بلند کرنے سے نظروں میں آئے۔ خادم رضوی کی خطابت پر اعتراض کیا جا سکتا ہے مگر وہ قدامت پسند ارادت مندوں کا ایک وسیع حلقہ رکھتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ ان کے حامی ایک اشارے پر جوق در جوق کھچے چلے آتے ہیں۔ نومنتخب امیر سعد حسین رضوی نے گزشتہ معاہدے پر عمل درآمد نہ کرنے پر حکومت کو 20 اپریل سے احتجاج اور دھرنے کی کال دی ہوئی تھی۔ ممکنہ احتجاج کے پیش نظر حکومت نے سعد رضوی کو گرفتار کر کے صورتحال پر تقریباً قابو پا لیا تھا مگر آج ہونے والے تصادم میں معصوم روزہ داروں کی شہادت نے حکومت کے لئے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان کو شرپسند عناصر کی جماعت کہہ کر پابندی انہی ظاہری اور پوشیدہ حکمرانوں نے لگائی ہے جو چند ماہ پہلے تک انہی مطالبات پر تحریکی قائدین کی بھرپور حمایت کرتے تھے۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ حکومتی اکابرین آج جنہیں شرپسند کہہ رہے ہیں، کل تک انہیں عاشقان رسول ﷺ کہہ کر ان کے دھرنے میں بھی شرکت کرتے رہے ہیں۔

مزید دلچسپی کا پہلو یہ ہے کہ تحریک انصاف بھی اکتوبر 2011 میں بام عروج پر پہنچی اور خادم حسین رضوی بھی اسی دوران نظروں میں آئے۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ تحریک انصاف اور تحریک لبیک کے معمار وہی ہیں جنہوں نے 2014 کا دھرنا کروایا تھا۔ تحریک لبیک پر پابندی لگنے کے باوجود ان عوامل پر غور کرنا بہت ضروری ہے جن سے حالات اس نہج پر پہنچے ہیں۔

بریلوی مسلک اور دیوبندی مکتب فکر کے درمیان اختلافات ڈھکے چھپے نہیں۔ دیوبند تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کا زور توڑنے کے لئے کئی برسوں سے بریلوی مسلک سے وابستہ تنظیموں کو سپانسر کیا جا رہا تھا اور ان کی ٹریننگ بھی کی گئی۔ اس پراجیکٹ کے معمار بھی وہی ہیں جو عشروں سے ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی پر کاربند ہیں۔

اقتدار کے لئے تقسیم کی خواہش نے ہی دراصل اس ملک کو کمزور کیا ہے۔ ”ہم سے بہتر کوئی نہیں“ کی سوچ رکھنے والے طاقتور حلقے ہر دور میں عوامی حمایت کے حصول کے متلاشی رہتے ہیں۔ قد آور سیاسی شخصیات اور عوامی پذیرائی حاصل کرنے والی سیاسی جماعتیں انہیں اپنے لیے خطرہ محسوس ہوتی ہیں۔ اس لیے کبھی پشتون اور مہاجروں کے اختلافات کو لسانیت کا رنگ دے کر اپنا وقت گزارا جاتا ہے اور کبھی دیوبندی اور بریلوی اختلافات کو مذہبی رنگ دے کر اسے عالمی ایجنڈا بنا دیتے ہیں۔ کبھی شیعہ اور سنی اختلافات کو ہوا دے کر فرقہ واریت کی آگ بھڑکائی جاتی ہے اور کبھی مقبول سیاسی جماعتوں کو پراگندہ کر کے اپنی ڈائریکٹ حکمرانی کا سدباب کیا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ”آپ“ کی پالیسی میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو رہی ہے۔ جب آپ کے مفاد میں ہو تو نہ صرف ان کے حق میں ٹویٹ کرتے ہیں بلکہ انہیں ”اپنے لوگ“ کہہ کر گھر جانے کا کرایہ بھی دیتے ہیں۔ جب آپ کو ضرورت ہو تو یہ تمام عناصر آپ کے چہیتے بن جاتے ہیں اور جب آپ پر بوجھ بن جاتے ہیں تو انہیں ملتی ہیں لاٹھیاں، گولیاں اور پابندیاں۔

حالیہ دور میں آپ کا سیاسی پراجیکٹ عمران بری طرح سے ناکام ہوا ہے۔ جیسے ایک عام پتھر کو لیبارٹری میں پالش سے چمکایا تو جا سکتا ہے مگر اس میں اصل ہیرے کی خصوصیات پیدا نہیں کی جا سکتیں۔ اسی طرح آپ نے عمران خان کو اپنی لیبارٹری میں تراش خراش کر کے ایک ایسا قیمتی ہیرا بنا کر پیش کیا جو آپ کے تاج کی چکا چوند بڑھاتا مگر اہلیت کے فقدان کے سبب اس نے آپ کی روشنی منعکس کرنے کی بجائے اسے مزید مدھم کر دیا۔ سیاسی جماعتوں کے ہمنواؤں کو ان پڑھ جاہل کہہ کر ان کے ووٹ کی صلاحیت پر یہ الزام لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں شعور نہیں لیکن آپ جیسے جہاندیدہ بھی غلطی کر جائیں تو پھر آپ کو اپنی پالیسی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مان لیں کہ عمران خان ناکام نہیں ہوا بلکہ آپ ناکام ہوئے ہیں۔ اس ہائبرڈ نظام میں جبر اور فسطائیت کے تمام ہتھکنڈے استعمال کر کے آپ نے ہی عوام پر مسلط کیا ہے تو پھر عوام بھی آپ کو ہی مخاطب کرے گی۔ آپ کو کھلے دل سے تسلیم کر لینا چاہیے کہ آپ سے انتخاب میں غلطی ہو گئی۔

مان لیں کہ اس نظام کو صرف ”آپ“ نہیں چلنے دے رہے۔ کبھی جمہوری قوتوں کو ایبڈو (Elective Bodies Disqualification Order) جیسے قوانین کے ذریعہ راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی مقبول سیاسی قیادت کی غداری جیسے الزامات سے کردار کشی کی جاتی ہے تاکہ انہیں عوام کی نظروں میں ملعون کیا جا سکے۔

آپ کے ففتھ جنریشن واریئرز کی جانب سے کبھی جمہوریت پر تبرا بھیج کر صدارتی نظام کی صدائیں آ رہی ہوتی ہیں یا پھر وہ قومی حکومت کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔ موجودہ حکومت کو لانے کے لئے جو جتن آپ نے کیے ہیں وہ ڈھکے چھپے نہیں اور اسے چلانے کے لئے کوئی حربہ یا ہتھکنڈہ ایسا نہیں بچا جو آپ نے نہ آزمایا ہو مگر حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید دگرگوں ہو رہے ہیں۔

الغرض گزشتہ تہتر برسوں میں مذہبی منافرت، انتہا پسندی اور لسانیت کی ایسی آگ لگا دی گئی جو بجھائے نہیں بجھ رہی۔ آپ یقین تو کر کے دیکھیں عوام اور سیاست دان آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔ تہتر سال آپ نے اپنی مرضی کی ہے، اب پینتیس سال آپ سیاست دانوں کو بھی کھلا موقع دیں۔ یقین جانیے اگر سویلینز پاکستان بنا سکتے ہیں تو اسے چلا بھی سکتے ہیں۔

مشہور کہاوت ہے کہ ہاتھوں سے لگائی گرہیں دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں لیکن سر جی! بصد احترام عرض ہے کہ اگر گرہیں دانتوں سے بھی نہ کھل سکیں تو پھر ان گرہوں پر نہ صرف آپ کے پوشیدہ ہاتھوں کا عکس نظر آتا ہے بلکہ آپ کے چہرے پر پڑا ہوا نقاب بھی اتر جاتا ہے جیسا کہ ابھی ہو رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *