رمضان کی حکمت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جب میں نے قرآن کی یہ آیت ذرا غور سے پڑھی:

ی۔ ٰٓا یھا الذین ء امنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون٭ (سورۃ البقرۃ آیۃ۔ 183 (

(اے ایمان والو (رمضان کے ) روزے تم پر فرض کیے گئے، جیسے کہ ان لوگوں پر، جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، فرض کیے گئے تھے، تا کہ تم تقویٰ (پرہیزگاری) اختیار کرو)

تو اس آیت کے آخری حصے پرغور وفکر کرنے پر یہ سؤال ذہن میں ابھرا کہ رمضان کے روزے رکھنے پر کوئی شخص اتقاء کے راستے کا مسافر کیسے بن جاتا ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں رمضان کے روزوں کے پیچھے حکمت کیا ہے اورایک ماہ، بھوک اورپیاس کی آزمائش سے گزرنے پراس پر خوف خدا کیسے طاری وحاوی ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہی فرمایا ہے : فلا تزکوٓا انفسکم صلے ہو اعلم بمن اتق۔ ٰی٭ سورۃ النجم۔ 32

(تم اپنے آپ کو پاکباز نہ جانو، وہ (ا اللھ) بہتر جانتا کہ (تم میں ) سب سے زیادہ پرہیزگار کون ہے )

مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ اپنی کم عقلی کے طفیل، میں بر خلاف حقیقت، نماز روزوں پر پابندی کے طفیل اپنے آپ کوپاکباز خیال کرتا رہا۔ قصیر البصر (Myopic) (نزدیک کی نظر کمزور) ہونے کی وجہ سے میری نظر دور کی اشیاء کو بڑی واضح انداز میں تودیکھ سکتی تھی لیکن قریب پڑی شے دھندلی دکھائی پڑتی تھیں۔ یعنی مجھے دوسرے لوگوں کی کمزوریاں، کجیاں اور خامیاں تو صاف نظر آتی تھیں لیکن خود اپنے آپ کو دیکھنے کی اہلیت تھی اور نہ ہی فرصت۔

یہ جہالت اورزندگی کے بارے میں منفی رویے کا مظہر تھا۔ جب میری بینائی قدرے بحال ہوئی تو منظرکو قطعاً مختلف پایا۔ میں نے اپنے آپ کو، ایک خود ساختہ خواب و خیال کی، تصوراتی دنیا میں رہائش پذیر پایا۔ جب نگاہ اپنی ذات کے نہاں خانے پر پڑی تو وہاں کچھ بھی پاک، صاف یا خالص نظرنہیں آیا۔ وہاں تو غلاظت کا ایک جہاں آباد تھا۔ ہر سو غلاظت اور تعفن کاراج تھا اوربد بو کے بھبھکے تھے۔ میں اس حقیقت کو دیکھ کرلرز کے رہ گیا۔

حواس بحال ہونے پر، تفکر وتدبر کے کچھ در وا ہوئے تو انکشاف ہوا کہ انسانی زندگی تو محض جانچ پرکھ، آزمائش اورامتحان کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارا، ہر اس چیز پر، جو ہمیں عطا کی گئی یا جس سے محروم رکھا گیا، امتحان لینا مقصود ہے۔ ہمیں صحت، دولت، علم، طاقت اور اختیار و اقتدار دے کر یا ان سے محروم رکھ کر آزمایا جانا ہے۔

اگرہم تھوڑی دیر کے لیے، مادی زندگی کی اقتصادیات سے قطع نظر کر کے، اپنے آپ کو دیکھیں تویہ حقیقت ہم پر عیاں ہوتی ہے کہ ہم وہی کچھ ہوتے ہیں جو کچھ جینیاتی وراثت ہمیں اپنے ماں باپ سے ودیعت ہوتی ہے۔ سائنس یہ ثابت کر چکی ہے کہ ہمارے چہرے کے نقوش یعنی شکل و شباہت، جسم کی ساخت، قد کاٹھ، رنگ روپ، الغرض بیرونی وضع قطع یا ہیئت، جینیاتی ترسیل کا کرشمہ ہے۔ میرا مشاہدہ ہے، (اگر چہ اس ضمن میں لمحہ موجود تک سائنسی بنیادوں پر بہت کم کام ہواہے، لیکن اب کچھ نیورو سائنٹسٹ اس طرف توجہ دے رہے ہیں ) کہ عقل و شعور، فہم وادراک اور فراست کے علاوہ ہماری ایک اندرونی جذباتی یا نفسیاتی دنیا بھی ہے جسے ذہنی میلان و رجحان، طبیعت کی ہیجانی ساخت یا انسانی مزاج کہا جاسکتا ہے۔

ذہنی رجحان کی ساخت، ترتیب و تنظیم بھی اسی جینیاتی ترسیل و انتقال کے تابع ہے۔ ہم سبھی میں دو طرح کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ مثبت جذبات جیسے پیار، محبت، شفقت، ہمدردی، عاجزی، انکساری، خلوص، ایثار، بے نفسی یا بے غرضی اور صبرو تحمل ہیں۔ جب کہ منفی جذبات میں نفرت، دشمنی، حسد و بغض، غصہ، اذیت پسندی، بے صبری، انانیت، تکبر، تفاخر، بے مہار خواہشات اورمال و دولت اور طاقت کا لالچ اور اختیار و اقتدارکی حرص شامل ہیں۔

اگر منفی اور مثبت جذبات کے پلڑوں میں توازن ہو تو ایک معتدل مزاج شخصیت وجودد میں آتی ہے، لیکن ہم میں سے اکثریت کے ساتھ ایسے ہوتا نہیں۔ زیادہ تر لوگوں میں ان پلڑوں کی ڈنڈی میں نصب ’کانٹا‘ یا ’ہتھی‘ عین مرکز میں نہیں ہوتی۔ چناں چہ ہم سبھی ایک خاص مزاج لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ ہماراطبعی رجحان مثبت بھی ہو سکتا اور منفی بھی۔ اس رجحان کی عکاسی ہمارے روز مرہ کے رویے سے ہوتی ہے۔ انسان کی نشو نما کے

دوران، ماں باپ یا ماحول کی تربیت، اساتذہ کی راہ نمائی، اعلیٰ تعلیم کا حصول، دوستوں یا ہم کاروں کی رفاقت، اس ہتھی پراثر انداز نہیں ہوتے۔ یہ اپنی فطری جگہ پر قائم رہتی ہے۔ ہاں البتہ متذکرہ بالا عوامل انسان کی کردار سازی، ذہنی استعداد، فہم و ادراک اور عقل و شعوور میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، جن کی مدد سے انسان اپنی ذات کا تجزیہ کر کے اپنے طرز عمل میں بہتری لا سکتا ہے۔

عام حالات میں ہم اپنے منفی جذبات کوقابومیں رکھ کر مثبت جذبات کے روشن پہلو کواپنے چہروں پر سجائے رکھتے ہیں۔ ہمارا اصلی مزاج تب آشکار ہوتا ہے جب ہم آپے سے باہر ہوتے ہیں۔ جذبات کا غلبہ جب ہمارے ذہن و دماغ کو زیر کر کے ہمیں فہم و فراست سے نہتاکردیتا ہے تو ہماری اصلیت ظاہرہو جاتی ہے۔ کسی کو اشتعال دلانے کا مقصد یہی ہوتا ہے۔ ہم میں سے صرف وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جواپنے اندرونی طبعی رجحان یاطبیعت کی ہیجانی ساخت سے آشنا ہوتے ہیں۔

ایسے لوگ اپنی زندگی کو اپنی جولانی طبع کے آزار سے بچا کر اپنا سفر بحسن و خوبی طے کر لیتے ہیں۔ غالباً اس جامع کلمہ: من عرف نفسہ فقد عرف رب۔ ہ (جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا گویا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ کچھ لوگ اسے حدیث سمجھتے ہیں اور کچھ اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول، لیکن مجھے ان میں سے کسی کی بھی سند نہیں ملی) کا مفہوم یہی ہے۔ وہ شخص بہت دانا ہے اور عرفان نفس کے درجے پر فائز ہے جو سر پر آتش گیر مائع کا ڈرم اٹھائے جا رہا ہے لیکن آگے آگ کا الاؤ دیکھ کر کے راستہ تبدیل کر کے اپنا سفر لمبا کر لیتا ہے۔ لیکن ہم میں سے اکثر، چوں کہ عرفان ذات سے نابلد ہوتے ہیں یا جانتے بوجھتے، نتائج سے بے خبر، اسی راستے پر اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ نتیجتاً ڈرم ایک دھماکے سے پھٹتا ہے اورہم اپنے آپ کا ہی نہیں اطراف میں دوسرے لوگوں کا بھی نقصان کر بیٹھتے ہیں۔

ہم سبھی جانتے ہیں کہ ہمارا وجود، مادی جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔ جسم، آرام پسند ہے ؛ یہ آسائش و تسکین اور راحت طلب ہے۔ یہ مشقت، کلفت، مصیبت اور مشکل سے دور بھاگتا ہے۔ اگر بنظر غائر دیکھیں تو منفی جذبات کا غلبہ اورمعاشرے کی مسلمہ روایات سے بغاوت کا رجحان اورا اللہ کے بتائے ہوئے سیدھے راستے سے انحراف، محض ہماری جسمانی تسکین کی خاطر ہوتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان جذبات اور خیالات کا سر چشمہ، منبع، ماخذیا مخرج کہاں واقع ہے؟

قرآن اور احادیث کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانی جسم میں ایک ایسا مرکزہ ہے، جس میں اپنے طور پرفیصلہ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ مرکزہ ’نفس‘ کہلاتا ہے۔ جیسے قرآن کی ان آیات سے واضح ہے۔ واحضرت الا انفس الشح ج النساء۔ 128 (اورطمع ہر ہر نفس میں ڈال دی گئی ہے ) فطوعت ل۔ ہ نفس۔ ہ قتل اخی۔ ہٖ فقتل۔ ہ فاصبح من الخاسرین٭ المائدۃ۔ 30 (پس اس (قابیل) کے نفس نے اسے اپنے بھائی (ہابیل) کے قتل پر آمادہ کیا) ۔

نفس (ن ف س) کے مادہ سے قرآن میں 298 الفاظ آئے ہیں۔ ایک تنفس اور دو تنافس اورباقی 295 نفس کے مصادر سے مشتق ہیں۔ نفس کے معانی مختلف النوع ہیں۔ نفس کو جان، فرد اور اپنی ذات تک محدود کے معنوں میں بھی استعمال کیا گیا ہے اوراسے جسم کے اس غیر مادی حصے، جیسا کہ مندرجہ بالا دو آیات میں بیان ہواہے، کے معنوں بھی لایا گیا ہے جس میں جسمانی راحت یا آسودگی کے لئے خیالات پلتے ہیں۔ اسی لئے ان خیالات کو نفسانی خیالات کہا جاتا ہے۔

نفس کو جسم کا نمائندہ یا وکیل مانا جاتا ہے ۔ جسم جتنا قوی ہو تا ہے، نفس بھی اتنا ہی طاقت ور ہو تا ہے۔ نفس، بتدریج، جس قدر طاقت ور ہوتا جاتا ہے ، فیصلوں میں بھی اتنا ہی منہ زور ہوتا چلا جاتا ہے۔ قرآن نے نفس کے تین دورجوں کا ذکر کیا ہے۔ نفس امارہ:وہ نفس جو جسم پر پوری طرح غالب وحاوی ہو جاتا ہے اور من مانے فیصلے کرتا ہے اور ایسے فیصلوں پر اسے کوئی پشیمانی نہیں ہوتی۔ نفس لوامہ:وہ نفس جو اپنے غلط فیصلوں پر عمل پیرا ہونے کے بعد خجالت محسوس کرتاہے۔ نفس مطمئنہ: ایسا نفس جو سوچ سمجھ کرا اللہ کی رضا کو مد نظررکھتے ہوئے فیصلے کرتا ہے اور اس کے فیصلے اطمنان بخش ہوتے ہیں۔

دوسری طرف ’روح‘ جو اللہ تعالیٰ نے خود انسان کے اندر پھونکی، ﴿جیسے کہ فرشتوں سے خطاب کرتے ہوئے اس آیت میں فرمایا: اذا سویت۔ ہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا ل۔ ہ ساجدین٭ الحجر۔ 29 جب میں اسے (آدم علیہ السلام کو) درست شکل دے ڈالوں اور اس میں اپنی

روح پھونک دوں تو تم اس کے لئے سجدے میں گرپڑنا﴾، مثبت سوچ اور جذبات کی آماجگاہ ہے، لہذا یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت شعاری کا جبلی مرکز ہے۔ ’روح‘ کیا ہے؟ اس کے بارے میں ہمارا علم محدود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنا حکم قرار دیا ہے : قل الروح من امر ربی (الاسراء۔ 85۔ آپ یہ کہہ دیں کہ روح میرے رب کا حکم ہے ) ۔ ’روح‘ چوں کہ غیر مادی اور لطیف ہے، اس لئے اسے حواس خمسہ سے محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا اس کا طبعی تجزیہ یا تحلیل بھی ممکن نہیں۔ روح کی جسم میں نمائندگی ’ضمیر‘ کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا غیر مرئی آلہ ہے جوایک خود کار نظام کے تحت ہمارے اقوال، اعمال اور افعال کی چھان پھٹک کر کے، ہمیں ان کی راستی یا ناقص پن سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔

ہم انسانی جسم کی بقاء کے دواہم مراکز، مرکز حرکت قلب (Cardiac Centre) اور مرکز تنفس (Respiratory Centre) کی دماغ کے نچلے حصوں میں موجودگی سے آگاہ ہیں اور ان کا خورد بینی جائزہ لے سکتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس، ضمیر (روح) اور نفس کا خورد بینی جائزہ ممکن نہیں کہ یہ دونوں ہی غیر مادی ہونے کی وجہ سے حسی ادراک میں نہیں آسکتے۔ ہم وثوق سے تو نہیں کہہ سکتے کہ نفس اور ضمیر کے مراکز جسم کے کس حصے میں وقوع پذیر ہیں لیکن قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ ان دونوں کا محل وقوع، دل ہے۔

اس حدیث سے ’نفس‘ کی دل میں موجودگی کا اشارہ ملتا ہے :وان فی الجسد مضغۃً اذا صلحت صلح الجسد واذا فسدت فسد الجسد کلہ الآ وہی القلب۔ البخاری، المسلم، الترمذی، النسائی، ابن ماجہ (اوربے شک جسم کے اندر گوشت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جب یہ درست ہو تو پورا جسم درست ہوتا ہے اور جب یہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے، خبر داروہ (گوشت کا ٹکڑا) دل ہے۔ اسی طرح قرآن کی یہ آیت ’ضمیر‘ اور دل کے تعلق کی نشاندہی کرتی ہے : الذین ء امنواو تطمئن قلوبھم بذکر اللہ قلے ا لا بذکر اللہ تطمئن القلوب٭ الرعد۔

28 (یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کے ذکر سے اطمنان حاصل کرتے ہیں، بے شک اللہ کا ذکر دلوں کو اطمنان بخشتا ہے ) ایک اور حدیث بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے : عن النواس بن سمعان الانصاریرضی اللہ تعال۔ ٰی عنہ قال: سالت رسول اللہﷺعن البر والاثم فقال:البرحسن الخلق والاثم ماحاک فی صدرک، وکرہت ان یطلع علیہ الناس (رواہ مسلم) وعن وابصۃ بن معبدٍرضی اللہ تعال۔ ٰی عنہ قال اتیت رسول اللہ ﷺ فقال جئت تسال عن البر؟ قلت: نعم، فقال:استفت قلبک، البرما اطمانت الیہ النفس واطمان الیہ القلب، والاثم ماحاک فی النفس وتردد فی الصدر وان افتاک الناس افتوک (مسنداحمد بن حنبل، والدارمیٌ)

﴿نواس بن سمعان الانصاریؓ سے روایت ہے : انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اچھائی اور برائی (نیکی اوربدی) کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے ﷺ فرمایا : نیکی کا اصل جوہر اچھے اخلاق میں ہے اور بدی وہ ہے جو تمہارے سینے میں کھٹکتی رہے اورتو یہ نہ چاہے کہ دوسرے لوگ اس سے آگاہ ہوں۔ اور وابصہ بن معید ؓسے مروی ہے : انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیاتو آپ ﷺنے فرمایا : تم (میرے پاس) اس لئے آئے ہو کہ تم (مجھ سے ) نیکی کے بارے میں سؤال کرو۔ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ ﷺنے فرمایا: اپنے دل سے پوچھو۔ نیکی وہ ہے جس پر تمہارا نفس مطمئن اور دل پر سکون ہو۔ اوربدی وہ ہے جوتمہارے نفس میں کھٹکے اور تمہارا سینہ بے چین و قرار ہو جائے، باوجود اس کے کہ لوگوں سے پوچھنے پر (جو کچھ تم نے کیا ہے ) وہ اسے درست قرار دیں ﴾

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نفس اور ضمیر (روح) دونوں کا ٹھکانادل ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے ضمیر کے فطری رجحان کے خلاف کوئی کام کر بیٹھنے پر اپنے سینے (دل) پر ایک بوجھ سا محسوس کرتے ہے۔ ہمارے فطری رجحان کی نشان دہی بڑے واضح انداز میں قرآن کی یہ آیت کرتی ہے : فاقم وجھک للدین حنیفاًج فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا ج لا تبدیل لخلق اللہ ج ٭ الروم۔ 30 ﴿اپنی توجہ کو سیدھے (ا اللہ کے ) دین پر قائم رکھیں، وہ فطری دین (طبعی رجحان) جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو پیدا کیا۔

اللہ تعالیٰ نے جو (انسان میں فطری رجحان) پیدا کیاہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے ﴾۔ اس فطری رجحان کی مزید صراحت اس آیت سے ہوتی ہے : واذ اخذ من م بنیٓ آدم من ظھورہم ذریتھم واشھدھم عل۔ ٰٓی انفسھم الست بربکمصلیقالوا بل۔ ٰی شھدنآان تقولوا یوم القیامۃ انا کنا عن ہذا غافلین٭ الاعراف۔ 172 ﴿اورآپ کے رب نے اولاد آدم کی آل اولادکوان کی پشتوں سے نکالا اور ان سے انہی کے بارے میں شہادت طلب کی

کہ: ’کیا میں تمہارا رب نہیں؟‘ تو ان سب نے کہا: کیوں نہیں (ہم سبھی اس کی گواہی دیتے ہیں ) ۔ (یہ اس لئے کیا گیا) کہ قیامت کے دن کہیں تم یہ نہ کہہ بیٹھو کہ ہم تو اس (ا اللہ کے وجود ) سے بے خبر تھے ﴾۔ اسی موضوع پر یہ حدیث بڑے احسن طریقے سے روشنی ڈالتی ہے : عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعال۔ ٰی عنہ قال:قال رسول اللہ ﷺ مامن مولودٍ یولد الا عل۔ ی الفطرۃ فا بوا ہ یھودانہ اوینصرانہ اویمجسانہ کما تنتج البھیمۃ بھیمۃً جمعاء، ہل تحسون فیھا من جدعاء ٭ (رواہ المسلم) ﴿ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا مگر (ا اللہ کی) فطرت پر، پس اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے ایک جانور کے بچہ پیدا ہوتا ہے، جو بالکل بے نقص یا بے عیب ہوتا ہے۔ کیا تم نے کبھی اس میں نقص (کان کاکٹاہونا یا دم کا کٹاہونا) دیکھا﴾

مندرجہ بالا آیات اور احادیث کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان میں پیدائشی طورپرایک خود کارآلہ یعنی سمت نما نصب ہوتا ہے۔ اگر اس فطری قطب نما کے قدرتی رخ یازاویے کو تبدیل نہ کیا جائے تو یہ انسان کی اپنے خالق (ا اللہ تعالیٰ) کی جانب صحیح راہنمائی کرتا ہے۔ روح کا، اپنے نمائندے ’ضمیر‘ کی وساطت سے فطری رجحان، اللہ کی طرف ہوتا ہے، جو ہمیں اپنے رب کے متعین راستے پر گامزن رکھتاہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں ’نفس‘ جو جسم کی نمائندگی کرتا ہے، کا میلان یا رغبت جسم کی آسائش کی جانب ہوتی ہے، بے شک جسم کی آسودگی کی خاطر، ہم اپنے قدرتی رجحان سے انحراف اور اللہ کے احکام سے سر کشی ہی کیوں نہ اختیار کر بیٹھیں۔

دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’نفس‘ فطری قطب نما میں پہلے سے متعین منزل یا راستے کی سمت کو تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ چناں چہ نفس (جسم) اور ضمیر (روح) میں ایک تنازع پیدا ہوتا ہے اوربنابریں ان میں تصادم کی صورت جنم لیتی ہے۔ وہ ایک دوسرے پر غلبہ پانے کی کشمکش میں مبتلاء نظر آتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا دوسرے کو مغلوب کر لینا، ہمارے راست بازی یا برائی کی جانب رویے سے ظاہر ہوتا ہے۔

رمضان کا مہینہ جسم کی طاقت کو پست کرتا ہے۔ چناں چہ جسم کی ناطاقتی، نفس، جس میں بے لگام خواہشات، ہوا و ہوس، غذائی اشتہاء اورشہوت نشو نما پاتی ہیں، کو کمزور کرتی ہے۔ جب کہ عبادات اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری، جوروح کی طراوت اور آسودگی کا باعث ہوتی ہیں، روح کو مستحکم کرتی ہیں۔ اس طرح روح کو نفس پر غلبہ پانے اور اپنی سمت کو درست کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ذیل میں دی گئی حدیث سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ رمضان میں ’روح‘ کے ’نفس‘ (جسم) پر تسلط اور اسے مطیع بنانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے : عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعال۔

ٰی عنہ قال:قال رسول اللہ :اذا دخل شہر رمضان فتحت ابواب السماء (و فی روایۃٍ ابوا ب الجنۃ۔ ابوا ب الرحمۃ) وغلقت ابواب جھنم و سلسلت (صفدت) الشیاطین ٭ (متفقٌ علیہ۔ بخاری و مسلم) (حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ س نے فرمایا : جب رمضان داخل (شروع) ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں (دوسری روایات میں آسمان کی بجائے جنت اور رحمت کے دروازے بیان کیے گئے ہیں ) اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے ) ۔ جب جنت کے دروازے کھول دیے گئے، جہنم کے دروازے بند کر دیے گئے اور شیطان، جس کا حملہ انسانی نفس پر ہوتا ہے، کو پابند سلاسل کر دیا گیا تو ایسی صورت میں وہ کوئی بد نصیب ہی ہو گا جس پر پھر بھی نفس کا غلبہ طاری، جاری اور ساری رہے۔

مجھے ایسے محسوس ہو تا ہے کہ اللہ تعا الیٰ اپنے بندوں کے لئے، ماہ رمضان کی صورت میں، سابقہ روش پر نظر ثانی کے لئے ایک جامع مگر مختصرتربیتی کورس کا بندو بست کرتا ہے۔ اس سے نفس کی ناطاقتی اور روحانی ارتقاء مقصودہوتی ہے تاکہ نفس امارہ کے تنزل سے اگر اسے نفس مطمئنہ پر نہ لایا جاسکے تو کم ازکم نفس لوامہ تک تو پہنچ جائے۔ اس سے ہمارے لئے باقی کے گیارہ ماہ کی تشکیل نو میں آسانی پیداہو سکتی ہے۔ اگر ہم چاہیں تو رمضان کے مہینے میں پورے سال کے گناہوں، جن کا ارتکاب ہم سے جانتے بوجھتے یا انجانے میں، دانستگی یانادانستگی میں ہوا، سے اپنے آپ کو پاک صاف کر سکتے ہیں۔ ہم اگر چاہیں تورمضان کی تربیت کے بعد اپنے زندگی کو ایک نیا رخ دے سکتے ہیں۔ اپنی زندگی کوہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی موجودگی کا احساس رکھتے ہوئے اس کے احکامات اور اس کے رسول کے ارشادات کے مطابق ڈھال سکتے ہیں اور اسی کا دوسرا نام تقویٰ ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments