دو نہیں ایک پاکستان


قوم ایک نظریے، ایک یقین، ایک اصول اور ایک نعرہ پر قائم رہتی ہے۔ جس وقت نظریے بدلنے لگیں، دو اصول بن جائیں اور ہر طرف سے مختلف نعرے لگنے لگیں تو پھر زوال شروع ہو جاتا ہے اور قوم تباہی کی طرف چل نکلتی ہے۔ تاریخ کے اوراق اگر پلٹے جائیں تو ہندوستان کی تاریخ بولتی ہے کہ پاکستان کا وجود میں آنا ممکن نہیں تھا لیکن اس مقصد کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں اہم کردار ایک نظریے کا تھا اور وہ نظریہ تھا نظریۂ اسلام۔

مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی ہم ایک قوم نہیں بن سکے۔ ایک طرف ایچیسن میں پڑھنے والے کا پاکستان ہے تو دوسری طرف ایچیسن کے سامنے مال روڈ پر گاڑیاں صاف کرنے والے بچے کا پاکستان ہے۔ ایک طرف بیکن ہاؤس کا بابو ہے تو دوسری طرف ٹاٹ سکول کا رحیم بخش۔ ایک طرف افسر شاہی ہے تو دوسری طرف دن بھر پسینے میں شرابور رہنے والا مزدور ہے۔ ایک طرف سیاست دان ہیں تو دوسری طرف مہنگائی سے لٹے پٹے عوام ہیں اور پھر ایک دلاسا ملتا ہے کہ گھبرانا آپ نے کسی صورت نہیں ہے۔

کیا اس صورت حال میں ایک پاکستان ہو سکتا ہے؟ کیا طبقاتی گروہوں میں ڈوبی قوم ایک قوم بن سکتی ہے؟ یہ لمحۂ فکریہ ہے، تاریخ کہتی ہے کہ یہ دو پاکستان آج نہیں بنے ، یہ 1947 سے موجود ہیں۔ یہ ملک ہمیشہ سے ہی ان وڈیروں، زمینداروں اور جاگیرداروں کی میراث رہا ہے اور جلتا رہا ہے۔ ان لوگوں نے اپنے فائدے کے لئے ہمیشہ سے ہی عوام اور وسائل کو استعمال کیا ہے۔ 1947 سے اب تک یہی لوگ ہی حکومت کرتے آئے ہیں اور ان کی من پسند پالسیوں کی وجہ سے طبقاتی فرق نے جنم لیا۔

پاکستان زبان، نسل، علاقے اور فرقوں کی بنیاد پر تقسیم ہو گیا۔ ہر طرف نفرت اور فرقہ واریت پروان چڑھ رہی ہے۔ اس وقت ملک میں ہم بلوچ، سندھی، سرائیکی، پنجابی، مہاجر، کشمیری اور پٹھان کے لسانی گروہوں میں تو تقسیم ہیں مگر ہم میں سے کوئی پاکستانی نہیں ہے اور نہ پاکستانی بننے کے لئے تیار ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کبھی ہم دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں اور کبھی ہماری کمزوریاں دیکھ کر عالمی طاقتیں ہمارے مقاصد اور مذہب پر شب خون مارتی ہیں اور ہم ان نفرتوں اور طبقاتی فرق کی وجہ سے کبھی بھی کسی کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔

ہمیں ان نفرتوں کو ، ان طبقاتی تضادات کو ختم کرنا ہو گا اور پاکستان کو مضبوط بنانا ہو گا ، مزید دیر ہو گئی تو حالات بگڑ جائیں گے ، بعد میں یہ دو پاکستان کئی اور پاکستان میں تقسیم نہ ہو جائے۔

دعا ہے کہ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور عوام کو ایک قوم اور ملت بننے کی سوچ اور سمجھ عطا فرمائے۔ آمین

Facebook Comments HS