نئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین سے تین اہم گزارشات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے شدید معاشی بحران کی حالت میں آپ کو حکومت پاکستان کا وزیر خزانہ مقرر کرنا یقیناً آپ کی صلاحیتوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔ اللہ پاک آپ کو کامیاب کرے۔

اسی ماہ کے شروع میں آپ کا نام جب وزیر خزانہ کے لیے میڈیا میں زیر گردش ہوا تو آپ نے ایک پرائیویٹ چینل کے پروگرام میں پاکستان کی معاشی گراوٹ و بدتری کا جو پوسٹ مارٹم کیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے مرض کی صحیح تشخیص کی ہے اور جب معالج صحیح تشخیص کر لے تو مرض دور ہونے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔

اسی امید اور تیقن کے ساتھ میں چند بنیادی قسم کی اصلاحات کی تجاویز جناب کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں جن پر عمل پیرا ہو کر ملک معاشی بہتری کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

1۔ڈیجلٹلائزیشن آف ٹرانزیکشنز

سب سے پہلے ہر قسم کی خریدو فروخت کو ڈیجیٹلائزد کیا جائے۔ اس سلسلہ میں بینکوں کا کردار انتہائی اہم ہو گا۔ تمام شہریوں کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنا لازمی قرار دیا جائے جبکہ بینکوں کو پابند کیا جائے کہ عام صارف پر کم ازکم بیلنس کی حد ختم کی جائے۔ دو ہزار سے زائد کی خریداری کی ادائیگی بذریعہ ڈیبٹ کارڈ کی جائے تاکہ انفرادی طور پر ہر شہری کی آمدن و اخراجات ریکارڈ ہو سکیں۔ اس کا نتیجہ ٹیکس کولیکشن کے لیے درست ڈیٹا کی دستیابی کی صورت میں نکلے گا جس سے ملک کو ٹیکس کولیکشن کے اہداف حاصل کرنے میں بہت مدد ملے گی۔ یہ کام اتنا آسان نہیں ہو گا کیونکہ اس سے عام آدمی متاثر نہیں ہو گا لیکن اشرافیہ ٹیکس نیٹ میں آ جائے گی۔ اور یہ اشرافیہ اس کی بے حد مخالفت کرے گی لیکن اگر آپ یہ کام کر گئے تو آنے والی نسلیں آپ کے لیے دعا گو رہیں گی اور یہ ملک درست سمت چل پڑے گا۔

2۔ مائیکرو اکنامکس مینجمنٹ

ہر دور میں حکومت نے صنعت کاری اور سرمایہ کاری کو ترغیب دلانے کے لیے بہت سی رعایتیں اور سہولتیں دی ہیں جن میں بینکوں سے قرضوں کے اجراء سے لے کر جی ایس ٹی ریفنڈ شامل ہیں۔ ان تمام اقدامات سے ایک مخصوص طبقہ فائدہ اٹھاتا رہا مگر ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری نہ ہوئی۔ کسی نے صنعت لگانے کے لیے ایک ارب قرض لیا تو اس کا دس فیصد لگایا اور نوے فیصد ٹیکنیکل طریقہ سے بیرون ملک منتقل کر دیا۔ بعد ازاں اس یونٹ کو دیوالیہ ڈیکلیئر کروا کر قرضے رائٹ آف کرا لیے۔ یہ باتیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔

آپ اس تجربہ کو مزید دہرانے کی بجائے نیا کام کریں ، عام آدمی کی قوت خرید میں اضافہ کریں جن میں کم ازکم تنخواہ کی شرح میں پچاس فیصد اضافہ، ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ، کم آمدنی طبقہ جو تین صد سے چار صد یونٹس یا مساوی بجلی گیس و دیگر یوٹیلٹی استعمال کرتا ہے، کے لیے 300 یونٹس تک کے انراخ انتہائی کم رکھے جائیں اور اس حد کے بعد شرح میں مناسب اضافہ کے ساتھ نرخ مقرر کیے جائیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کم آمدنی والے و تنخواہ دار طبقہ کی قوت خرید میں اضافہ ہو گا کیونکہ یہ تمام پیسہ انہیں اضافی حاصل ہو گا۔ اب یہ اضافی پیسہ یہ لوگ بیرون ملک منتقل کرنے سے تو رہے مگر اس اضافی پیسہ سے یہ طبقہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے کپڑے ، جوتے ، فریج ، ٹی وی ، سائیکل ، موٹر سائیکل ، چھوٹی گاڑی وغیرہ کی خرید کرے گا جس سے ملک گیر سطح پر معاشی تیزی آئے گی۔ یہ تمام خرید و فروخت ڈیجیٹلائزد ہونے کی وجہ سے اندرون ملک تیار اشیاء یا بیرون ملک سے درآمد اشیاء ریکارڈ پر آئیں گی جس سے ملک کے خزانے کو جی ایس ٹی کی صورت میں سترہ فیصد فوری طور پر ریکور ہو گا جو مختلف صنعتوں سے پیداواری لاگت کی صورت میں کئی گنا ہو گا۔

اس سے ملک کے اندر قائم صنعتوں کو جہاں فروغ ملے گا ، وہاں پر ازخود نئی صنعتوں کے قیام کے لیے سرمایہ دار طبقہ کو ترغیب ملے گی۔

3۔ تعمیراتی انڈسٹری کے فروغ کے لیے سود سے پاک بینک و صارف کی پارٹنرشپ

اس وقت موجودہ حکومت تعمیراتی انڈسٹری کو بھرپور اہمیت دے رہی ہے جس میں مکان کی تعمیر یا خرید کے لیے کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ مگر اس کا کوئی خاطر خواہ رسپانس نظر نہیں ارہا۔ راقم خود ایک ملازم ہے مگر قوت خرید نہ ہونے کے باعث بینکوں سے قرض نہیں لے رہا کہ یہ قسطیں کیسے ادا ہوں گی ۔

اگر بالا تجاویز پر عمل ہوتا ہے تو مجھ جیسے لاکھوں لوگوں کے پاس اضافی پیسہ آئے گا جسے گھر کی تعمیر کے لیے قرض کی ادائیگی میں بخوبی استعمال کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس ضمن میں سود کو ختم کیا جائے۔ بینک قرض کی ادائیگی تک مکان کا کرایہ اصل رقم کے ساتھ اقساط میں وصول کریں۔

یہ ایسے اقدامات ہیں جن پر عمل کرنے سے معاشی عمل میں فوری طور پر تیزی آئے گی اور ریونیو بڑھے گا ، مزید صنعتوں کا قیام عمل میں آئے گا۔ مجھے امید ہے کہ آپ ان تجاویز کو زیر غور لائیں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ضیا اللہ جوشی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments