خوشحال پاکستان دیکھنے کے منتظر عوام


تحریک انصاف حکومت کے تمام تر کامیابیوں کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود وفاقی کابینہ میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کئی گئی ہے، محض اٹھارہ دن بعد تیسرے وزیر خزانہ کی چھٹی اور چوتھے کی تقرری ظاہر کرتی ہے کہ معاملات ابھی تک حکومت کے قابو میں نہیں آ سکے ہیں، جبکہ اس کے اقتدار کی آئینی مدت ختم ہونے میں اب صرف دو سال باقی رہ گئے ہیں۔ اس دور میں وفاقی کابینہ میں کم از کم چار بار رد و بدل ہو چکی ہے، اس کے باوجود نئے وزیر اطلاعات و نشریات نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ آئندہ دنوں میں ایک اور تبدیلی متوقع ہے، جس کے نتیجے میں کابینہ میں مزید نئے چہرے شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

حزب اختلاف نے کابینہ میں حالیہ تبدیلی کو نئی بوتل میں پرانی شراب قرار دیا ہے، حکومت کابینہ میں جو بھی تبدیلیاں کر رہی ہے یا آنے والے دنوں میں کرے گی، ان کا مقصد ملک کی فلاح و بہبود اور عوام کی خوشحالی ہونا چاہیے، اسی صورت حکومت کے اقدامات مقبول ہوں گے اور عوام میں حکومت کی ساکھ بہتر بنانے کا باعث بھی بنیں گے۔

اس میں شک نہیں کہ وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ میں رد و بدل ملک و عوام کے حالات میں بہتری لانے کے لئے ہی کرتے ہیں، تاہم اب تک کی تبدیلیوں کے نتائیج بہت حوصلہ افزا نہیں رہے ہیں، اس کے باوجود وزیر اعظم کی جانب سے وفاقی کابینہ میں بار بار تبدیلی بے یقینی کی کیفیت کی نشاندہی کرتی ہے، اس بار جن وزارتوں میں تبدیلی کی گئی ہے، ان میں اطلاعات و نشریات، خزانہ، توانائی، اقتصادی امور، صنعت و پیداوار اور سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت شامل ہیں۔

اس وفاقی کابینہ کی تبدیلی کے تحت زیادہ تر وزارتوں کی واپسی ہوئی ہے، فواد چودھری سے سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت لے کر انہیں دوبارہ اطلاعات و نشریات کی وزارت سونپ دی گئی ہے، جبکہ ان کی چھوڑی ہوئی وزارت شبلی فراز کے سپرد کر دی گئی ہے۔ ، خزانہ کی وزارت حماد اظہر سے لے کر شوکت ترین کو دے دی گئی ہے، جو کہ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں بھی وفاقی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں، عمر ایوب کو توانائی کی وزارت سے ہٹا کر اقتصادی امور کا وفاقی وزیر بنا دیا گیا ہے اور وزارت توانائی حماد اظہر کے سپرد کر دی گئی ہے، اسی طرح خسرو بختیار سے اقتصادی امور کی وزارت لے کر انہیں صنعت و پیداوار کا قلم دان سونپ دیا گیا ہے، اس طرح کی وفاقی کابینہ میں آئے دن کی تبدیلیاں حکومت کے نقادوں کو ہی نکتہ چینی کا موقع فراہم نہیں کرتی، بلکہ اس سے دلی لگاؤ اور ہمدردی رکھنے والوں کے لیے بھی پریشان کن ہے۔

تحریک انصاف کا انتخابات سے پہلے دعویٰ تھا کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ان کے پاس تعلیم، تجربے اور اہلیت کے اعتبار سے کہیں زیادہ بہتر افراد کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے، سابقہ حکومتوں کی معاشی حکمت عملی کو مسترد کرتے ہوئے ایسے اقدامات کی یقین دہانیاں کرائی جاتی تھیں کہ جو برسوں میں نہیں دنوں اور ہفتوں میں ملک کی کایا پلٹ دیں گے، مگر حکومت کا نصف عرصہ گزرنے کے بعد بھی وفاقی وزارتوں میں تبدیلی کے علاوہ کوئی حوصلہ افزا تبدیلی نہیں لائی جا سکی ہے، حکومت جن وزرا کو تعریف و ستائش سے نوازتی ہے، انہیں ہی بعد ازاں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

حفیظ شیخ کے ہاتھوں معیشت کے میدان میں کامیابیوں کے دعوے، ان کی رخصتی سے ایک دن پہلے تک کیے جاتے رہے ہیں، حماد اظہر کی چند روزہ وزارت بھی داد و تحسین سے خالی نہیں تھی، جبکہ شوکت ترین کی شکل میں چوتھے وزیر خزانہ کی تقرری سے چند روز پہلے ہی گورنر اسٹیٹ بینک کا بیان منظر عام پر آ چکا ہے کہ معیشت کی گاڑی بالکل درست سمت میں رواں دواں ہے۔

حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے تضاد کے شکار بیانیے نے عوام کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے، ایک طرف گورنر اسٹیٹ بینک جن کے اختیارات میں ان کے ادارے کی مکمل خودمختاری کے لیے زیر تکمیل قانون سازی کے بعد بے پناہ اضافہ متوقع ہے، معاشی سمت اور کارکردگی کے پوری طرح اطمینان بخش ہونے کی یقین دہانی کروا رہے تھے تو دوسری جانب وزیر خزانہ بننے سے قبل شوکت ترین کا کہنا تھا کہ معیشت کی سمت کا کچھ پتہ نہیں، ہم نے اڑھائی سال میں اپنا گھر ٹھیک نہیں کیا، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں غلطی کی گئی، صرف ٹیرف بڑھانے سے کرپشن میں اضافہ ہوتا ہے، ایکسچینج ریٹ اور شرح سود بڑھانے سے معیشت کا بیڑہ غرق ہوا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ معاشی حکمت کاری کے کلیدی مناصب پر فائز یہ دونوں اقتصادی ماہرین ساتھ ساتھ کیسے چلیں گے۔

وزیراعظم وفاقی کابینہ میں جتنی بار مرضی تبدیلی کریں، عوام کو کوئی اعتراض نہیں، تاہم ان تبدیلیوں کے مثبت اثرات تو نظر  آنے چاہیے، اگر پانچ سو ارکان پارلیمنٹ میں ایک بھی وزارت خزانہ چلانے کا اہل نہیں اور اس کے لیے باہر ہی سے لوگ لانا پڑتے ہیں تو پھر یہ نظام کی ناکامی ہی ہو سکتی ہے، لیکن نظام کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے تحریک انصاف کو صورت حال کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے جو دو عشروں کی جدوجہد کے دوران حکومت چلانے کے لیے ہر شعبہ زندگی سے متعلق بہترین رجال کار پر مشتمل ٹیم کی تیاری اور دستیابی کا عوام کو یقین دلایا کرتی تھی۔ عوام نیا خوش حال پاکستان بنتے دیکھنے کے منتظر ہیں، مگر انہیں آئے روز بدلتی وزارتوں کے ساتھ کہیں نیا خوشحال پاکستان بنتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

Facebook Comments HS