زندگی خوبصورت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

باغ کے قریب پہنچتے ہی وہ تیز تیز قدموں سے چلنے لگا ایسا لگ رہا تھا کسی کے تعاقب کے خوف سے باغ کے گیٹ کے سامنے سے نظریں چرا کر تیزی سے گزرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہو۔ ایسا نہ کرتا تو کیا کرتا ہر دفعہ باغ کے گیٹ پر وہ اس کے انتظار میں کھڑی ہوتی ہے۔ اور وہ ہر دفعہ کل کا بہانہ لگا کر جان چھڑا کر گزر جاتا ہے اور وہ بے چاری اس کے بہانے پر آس لگائے روز باغ کے گیٹ پر اس کی منتظر ہوتی ہے آج بھی ایسا ہی ہوا باغ کے گیٹ کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ تیز تیز قدموں سے چل پڑا لیکن زندگی جو اس کے انتظار میں وہاں پہلے سے ہی موجود تھی آج وہ بھی اس کے پیچھے چل پڑی اسے اپنے پیچھے آتا دیکھ کر وہ اور تیز چلنے لگا تھا۔

راستے سے گزرنے والے لوگ بھی اسے تیز چلتا اور کسی سے نظریں چراتا محسوس کر رہے تھے۔ وہ زندگی کو اپنے پیچھے آتا محسوس کر رہا تھا آخر آج بھی روز کی طرح کل کا بہانہ لگا کر اس نے جان چھڑائی اور گھر کی راہ لی۔ اگلے دن دفتر سے واپسی پر سوچا کوئی دوسرا راستہ اپنا لیا جائے تاکہ نہ باغ کے گیٹ کے سامنے سے گزرا جائے اور نہ ہی زندگی کا سامنا کرنا پڑے اور پھر کوئی بہانہ ڈھونڈ نا پڑے وہ چاہتے ہوئے بھی ایسا نہ کر سکا شاید اب اسے بھی اچھا لگتا تھا کہ وہ اس کے انتظار میں گیٹ کے پاس اس کی منتظر ہوتی ہے۔

یہ اور بات ہے کہ وہ ہر دفعہ اسے اگلے دن کا بہانہ لگا کر نکل آتا تھا لیکن کسی کو اپنے لیے منتظر دیکھ کر اسے سکون محسوس ہونے لگا تھا۔ دفتر سے چھٹی ہوئی اور وہ حسب معمول گھر کی طرف روانہ ہو گیا باغ کے گیٹ کے پاس سے گزرتے اس کی نظر باغ میں کھلے گلاب کے پھولوں پر پڑی رنگ برنگے گلاب کے پھولوں کی کیاری بہت حسین منظر پیش کر رہی تھی۔ زندگی نے اسے دیکھ لیا اور ہاتھ سے اسے باغ کے اندر آنے کا اشارہ کیا وہ گھر کے لئے تیزی سے مڑا کیوں کہ آج گھر پر مہمان آنے والے تھے اور بیوی نے گھر جلدی پہنچنے کی تاکید کی تھی زندگی نے جب دیکھا کہ وہ اس کا اشارہ دیکھ کر بھی انجان ہو کر جانے لگا ہے تو وہ اس کے پاس آ گئی اس کا ہاتھ تھاما اور اسے تقریباً کھینچتے ہوئے باغ میں جانے کی ضد کرنے لگی۔

وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح ضد کرتے ہوئے بولی۔ اپنا وعدہ یاد ہے ناں کل کیا کہا تھا کہ میرے ساتھ باغ کی سیر کو چلو گے یہ کیا آج پھر جلدی میں ہوجلدی میں تو تم روز ہوتے ہو میں روز تمہارے انتظار میں یہاں تمہاری منتظر ہوتی ہوں اور تم مجھے نظر انداز کرتے ہوئے گزر جاتے ہو۔ آج تو جانے نہیں دوں گی۔ زندگی نے اس کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا اور اس کے ساتھ باغ کی سیر کے لیے تقریباً گھسیٹتے ہوئے اندر لے جانے کی کوشش کرنے لگی اچانک اسے بیوی کی بات یاد آئی کہ آج مہمان آئیں گے گھر جلدی آئیے گا وہ زندگی کے نرم و نازک ہاتھوں سے اپنا ہاتھ چھڑا کر بے دلی سے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔

وہ کافی دیر اس کے پیچھے پیچھے چلتی رہی لیکن وہ بے حس پلٹ کر دیکھنے کی بھی ہمت نہ کر سکا گھر پہنچا تو بے دلی سے گھر میں داخل ہوا مہمان پہنچ چکے تھے بیوی نے بازار سے کچھ کھانے پینے کی چیزیں لانے کے لیے کہا وہ بازار گیا اور رات کے کھانے کے لئے کچھ لے آیا مہمان رات کا کھانا کھا کر جانے کی تیاری کرنے لگے وہ آج بجھا بجھا سا تھا اسے زندگی کا اپنے پیچھے آنا اور اس کا اسے نظر انداز کر کے وہاں راستے میں چھوڑ آنا بار بار یاد آ رہا تھا آج اسے زندگی پر ترس آ رہا تھا وہ خود پر غصہ ہو رہا تھا دل ہی دل میں اس نے فیصلہ کیا کہ کل کچھ بھی ہو جائے وہ زندگی کو مایوس نہیں کرے گا اور اس کی خواہش پوری کرے گا۔

اس کے ساتھ باغ کی سیر پر جائے گا۔ اگلے دن بیوی بچوں سے مل کر دفتر کے لیے روانہ ہونے ہی والا تھا کہ بیوی نے لنچ بکس پکڑاتے ہوئے کہا کہ آج ذرا جلدی آ جائے گا واپسی پر بازار جانا ہے بچوں کے اسکول کے یونیفارم اور جوتے خریدنے ہیں۔ وہ گھر سے دفتر کے لئے چل پڑا آج ایک گھنٹہ پہلے دفتر سے نکلا۔ باغ کے گیٹ کے پاس پہنچا اور زندگی معمول کے مطابق اس کے انتظار میں تھی۔ اس نے نظریں چرا کر وہاں سے تیزی سے نکل جانے کی کوشش کی۔

لیکن آج بچ کر نکلنا مشکل تھا اب تو سارے بہانے بھی ختم ہو گئے تھے۔ زندگی نے باہر گیٹ پر پہنچتے ہی اپنے نرم ہاتھوں سے اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا اور گھسیٹتے ہوئے اسے باغ میں لے گیی۔ باغ باہر سے جتنا خوبصورت لگتا تھا اندر کا منظر کسی جنت سے کم نہ تھا۔ باغ کے چاروں اطراف پھول ہی پھول تھے کیاریاں رنگ برنگے پھولوں سے لدی ہوئی تھیں۔ باغ کے اندر چلنے کے راستے کے اطراف بڑے بڑے صنوبر کے درخت تھے جن کے بڑے بڑے پھول راستے میں گرے ہوئے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے مخمل کا فرش بچھا دیا ہو۔

بڑے بڑے گھنے صنوبر کے درختوں کے بیچ بنے راستے پر دونوں چل رہے تھے کہ اچانک اسے یاد آیا کہ آج بچوں کے یونیفارم کے لیے بازار جانا ہے اور بیوی نے گھر جلدی پہنچنے کی تاکید کی تھی۔ زندگی نے اس کے چہرے پر پریشانی دیکھی پوچھتے ہوئے بولی۔ کہاں کھو گئے ہو؟ زندگی اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے رنگ برنگے پھولوں کے پاس لے گئی اور اسے مجبور کیا کہ وہ پھولوں کو چھو کر دیکھے۔ پھولوں کی خوشبو محسوس کرے۔ سیر کرتے کسی چھوٹے بچے کی طرح زندگی اسے باغ میں لگے پھولوں کے بارے میں بتا رہی تھی۔

لیکن اسے تو بچوں کے یونیفارم اور جوتے لینے کی فکر نے گھیر رکھا تھا۔ وہ باغ میں ہو کر بھی باغ میں نہیں تھا۔ وہ اپنی سوچوں میں گم تھا زندگی باغ کی سیر کرتے کبھی ضد کرتی کہ ایس کریم لے کر کھاتے ہیں کبھی ضد کرتی کہ تھوڑی دیر پھولوں کی کیاری کے پاس بیٹھ کر چنا چاٹ کھاتے ہیں۔ لیکن وہ صدیوں کا بیزار زندگی کے ساتھ چل تو رہا تھا لیکن دماغ کہیں اور سوچوں میں گم تھا۔ آخر زندگی کو خوش کرنے کے لیے کسی اور وقت باغ کی سیر کرنے ایس کریم اور چنا چاٹ کھانے کا بہانہ کر کے جلدی سے باغ کے باہر جانے والے گیٹ سے باہر جانے لگا۔

زندگی نے ابھی تک اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ ابھی باغ سے باہر جایا جائے۔ وہ تیزی سے باغ سے باہر نکلا سامنے فٹ پاتھ پار کر کے سڑک کے دوسری جانب ہونے لگا تو پیچھے سے تیز رفتار گاڑی نے دونوں کو ٹکر ماری اور تیزی سے گزر گیی۔ وہ سڑک کے پیچ و بیچ پڑا تھا۔ لوگ اس کے گرد جمع تھے۔ اس نے زندگی کا ہاتھ زور سے تھام لیا وہ نہیں چاہتا تھا کہ زندگی کا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے چھوٹے۔ اس نے زندگی کو غور سے دیکھا جس کا ہاتھ آہستہ آہستہ اس کے ہاتھوں سے چھوٹ رہا تھا۔

اس کے گرد جمع لوگ کہہ رہے تھے ”لگتا ہے مر گیا ہے“ زندگی بہت خوبصورت اور مختصر ہے۔ روزمرہ کے معمولات میں اپنے لئے اور اپنی خوشی کے لئے تھوڑا وقت نکال لیا کریں۔ ذمہ داریاں اور کام بھی ضروری ہیں۔ لیکن تب تک ضروری ہیں جب تک آپ کے ساتھ زندگی ہے اپنی زندگی کو ذمہ داریوں میں اتنا نہ الجھائیے کہ زندگی کی مسرت اور خوشیاں حاصل کرنے کا آپ کے پاس وقت ہی نہ ہو۔ کبھی اپنی سالگرہ پر خود کو برتھ ڈے گفٹ دے دیا کریں، اپنے آپ کو کسی ہوٹل میں کھانا کھلانے لے جایا کریں۔

کبھی خوبصورت باغ میں خود سے ملنے کی تیاری کیا کریں۔ سڑک کے پاس بکتے گول گپے ایس کریم خود کو لے کر کھلایا کریں۔ یقین جانیں خود سے مل کر اور خود کو وقت دے کر آپ کو بہت اچھا لگے گا۔ اپں ی زندگی سے مل کر آپ کو یقیناً خوشی ہو گی۔ روز مرہ معمولات سے کبھی کبھار اپنے لیے وقت نکال کر کھلتے پھولوں اڑتی رنگ برنگی تتلیوں، لہلہاتے درختوں چڑیوں کی چہچہاہٹ سن لیا کریں کیونکہ یہ سب کچھ تب تک ہے جب تک زندگی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ جب آپ زندگی کا ہاتھ تھا منا چاہیں تب زندگی کا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں نہ ہو۔

Latest posts by فوزیہ محمود فروا (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فوزیہ محمود فروا کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *