ڈاکٹر فرتاش سید: ملاقاتیں اور یادیں
مجھ ایسے مضافات کے باسی پہلی بار مرکز میں جا کر ایک عجیب قسم کی حیرت میں ضرور مبتلا ہوتے ہیں۔ عموماً اس میں ہماری نامکمل معلومات کا ہاتھ ہوتا ہے جسے ہم تجسس کا نام دے سکتے ہیں۔ لاہور میں تعلیمی سلسلے کی خاطر قیام کے ابتدائی دن زیادہ تر نت نئی جگہوں پر جانے اور نئے نئے لوگوں سے ملنے میں صرف ہوئے۔
گلیوں اور سڑکوں کی خاک اڑائی اور مختلف مقامات پر چائے فروشوں اور ناشتہ لگانے والوں کے ٹھکانے دریافت کیے۔ میں اس حوالے سے خود کو انتہائی خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ ان دنوں ایسے ایسے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں جن کا اثر دیر تک میری شخصیت پر موجود رہے گا۔
لاہور کے ابتدائی دنوں کے ملنے والوں میں سب سے الگ اور اچھوتی شخصیت ڈاکٹر فرتاش سید کی تھی۔ ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات لاہور انارکلی میں ہوئی۔ اپنی خوش گفتاری اور ملنسار طبیعت کے سبب وہ دل میں اترتے گئے۔ پہلی ملاقات پر ہی یہ تأثر تھا کہ ہمارا رشتہ بہت پرانا ہے۔ پھر تو ان کے ساتھ ملاقاتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ چل نکلا۔
اس وقت وہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی (ملتان) اور لاہور لیڈز یونیورسٹی (لاہور) میں تدریسی فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ ہفتے کے کچھ دن ملتان اور باقی لاہور میں ٹھہرتے۔ ہمارا ہاسٹل انارکلی کے بالکل قریب تھا، اس لیے شام کی چائے ہم اکثر اکٹھی پیتے۔
ان کی شخصیت حقیقی معنوں میں ہمہ جہت تھی۔ ہمارے ساتھ وہ بہ یک وقت ایک مشفق استاد، سینئر، مصلح اور ہم عمر دوست بن کر پیش آتے۔ جب کبھی ادب پر گفتگو کرتے تو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ مختلف مسائل کی گرہیں کھولتے جاتے۔ میر، غالب، داغ اور فیض کے مصرعوں کی ایسی ایسی پرتیں دریافت کرتے کہ ہم ششدر رہ جاتے۔
ہمیں اکثر جانی اور یار کہہ کر مخاطب کرتے۔ بات سے بات نکالنے کا ہنر جانتے تھے۔ جتنی بھی ملول طبیعت لے کر ان کے پاس بیٹھے انھوں نے فوراً ہی اپنے قہقہوں اور لطیف گفتگو کے ساتھ طبیعت اور ماحول کو خوشگوار بنا دیا۔
جونیئرز کی حوصلہ افزائی جس انداز میں وہ کرتے آج تک کسی اور کو ایسے کرتے نہیں دیکھا۔ اکثر یہی کہا کرتے
”یار ہم تو بزرگ ہو گئے ہیں اپنی گزار چکے، آپ نوجوان ہی ادب کا مستقبل اور اثاثہ ہو ، خوب پڑھو اور اچھے سے اچھا لکھو“ ۔
ان کے ساتھ بیٹھ کر کبھی اپنے جونیئر ہونے کا احساس نہیں ہوا۔
پچھلے ایک برس سے وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور اور سیالکوٹ یونیورسٹی میں پڑھا رہے تھے۔

جس دن ان کا جی سی میں انٹرویو ہوا ، اس دن انتہائی خوش تھے ۔ آتے ہی کہنے لگے بھئی دو خوشیاں ہیں، ایک تو میں آپ کے بالکل ہمسائے میں آ گیا ہوں اور دوسرا انٹرویو انتہائی خوشگوار رہا کہ سب مجھے پہلے ہی سے جانتے تھے۔ اس دن کے بعد ان کا یہی معمول رہا کہ چھٹی کے بعد سیدھا ہمارے ہاسٹل آ جاتے ، کچھ دیر آرام کرتے اور اس کے بعد ہمیں ہمراہ لیتے اور لاہور کی سیر پر روانہ ہو جاتے۔
ایک دن مجھے اور حمزہ یعقوب کو لے کر مال روڈ پر واقع ماورا بکس پر گئے۔ خالد شریف صاحب کے دفتر میں بیٹھے ، ان سے کہنے لگے:
”خالد صاحب آپ سے آج دو نوجوانوں کو ملوانے آیا ہوں، ان سے ملیں اور دیکھیں کہ اردو ادب کی نوجوان نسل کتنی زرخیز ہے“
اس کے بعد ایک مختصر سی شعری نشست ہوئی، فرتاش صاحب نے کچھ کتابیں خریدیں اور وہاں سے روانہ ہوئے۔
کسی بھی دوست سے ملنے جاتے تو مجھے اور حمزہ کو ضرور ساتھ لے کر جاتے اور کہتے یار ان لوگوں سے ملو، محفلوں مشاعروں میں جاؤ، وہاں سے سیکھو اور انھیں اپنا ٹیلنٹ دکھاؤ۔ بلاشبہ لاہور کے بیشتر ادبی حلقوں میں ہمارا تعارف انھیں کے توسل سے ہوا ہے۔
عجیب اتفاق ہے کہ ہماری آخری ملاقات بھی انارکلی میں ہی ہوئی۔ حمزہ، میں اور ڈاکٹر صاحب مکتبہ جدیدیہ کے دفتر سے واپس آئے تو سجاول اور حسن کو انتظار کرتے پایا۔ آتے ہی کہتے ہیں نوجوانو! آج میری طرف سے دعوت ہو گی ہم نے کھانا کھایا، چائے پی باوجود اس کے کہ ہمارا اگلی صبح سالانہ امتحان تھا، ہم رات گئے تک انارکلی بیٹھے رہے۔
چائے پیتے ہوئے پوچھنے لگے یار! تمھارے پیپر کب ختم ہو رہے ہیں میں نے کہا 15 تاریخ کو آخری پیپر ہو گا۔ اس پر کہنے لگے یار میں نے سیالکوٹ یونیورسٹی میں بیاد فیض ایک مشاعرے کا اہتمام کر رکھا ہے تو اب تمھارے امتحانات کی وجہ سے اسے کچھ دن آگے لے جاتا ہوں۔
شومئی قسمت کہ امتحان ابھی ختم بھی نہ ہونے پائے تھے کہ کورونا کے باعث ایک بار پھر یونیورسٹی بند ہو گئی۔ امتحان ختم ہونے تک ہم لوگ جیسے تیسے ہاسٹل میں رکے اور آخری پیپر کے فوراً بعد ہمیں مجبوراً اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہونا پڑا اور سارے پروگرام دھرے کے دھرے رہ گئے۔
گھر آنے پر میں خود شدید بخار میں مبتلا ہو گیا جس کی وجہ سے دوستوں سے رابطہ منقطع رہا۔ 16 اپریل کر حمزہ نے بتایا کہ فرتاش صاحب کی طبیعت ناساز ہے اور وہ ہسپتال میں مصنوعی آکسیجن پر ہیں۔ میں ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر ہو نہیں پایا۔
18 اپریل کو صبح صبح حمزہ نے فون کیا اور فرتاش صاحب کے انتقال کی خبر سنائی۔ ایک دم تو ایسے لگا جیسے پوری کائنات سکتے میں آ گئی ہو یا کسی نے ناخن کو گوشت سے جدا کر دیا ہو۔ عجیب صدمہ تھا کہ اندر سے کاٹے جا رہا تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہوں اور کیا نہ کہوں۔
فرتاش سید کی آواز کانوں میں اب بھی سنائی دے رہی ہے۔
وہ فون کرتے اور کہتے، او یار میں ہاسٹل کے گیٹ پر کھڑا ہوں، جلدی باہر آؤ، یار میں جی سی سے نکل رہا ہوں جلدی گیٹ پر آ جاؤ، یار جلدی جلدی انارکلی آ جاؤ۔ یار میں مال روڈ کے انارکلی والے اشارے پر کھڑا ہوں جلدی جلدی آ جاؤ۔
کسے خبر تھی کہ ہر کام میں اتنی جلدی کرنے والا ہمیں چھوڑنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرے گا۔
تمہیں فرتاش بس ہر کام کر جانے کی جلدی ہے
ادھر آنے کی جلدی تھی ادھر جانے کی جلدی ہے
پیارے فرتاش! آپ کی جدائی ایک ایسا گھاؤ ہے جو تمام عمر رستا رہے گا، جس کے مندمل ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
مجھے یقین ہے آپ جہاں کہیں بھی ہوں گے ، محفل سجائے ہوئے قہقہے بکھیر رہے ہوں گے اور اپنے مخصوص انداز میں بلند آواز کے ساتھ اپنا یہ شعر سنا رہے ہوں گے۔
دنیائے منور کے میں سینے میں رہوں گا
ہجرت کروں گا اور مدینے میں رہوں گا


