مذہبی جماعتیں اور یرغمال حکومتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کا یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ مذہبی جماعتیں دین کی خدمت کم اور سیاست زیادہ کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی کم نہیں ہوتی اور حکومت عوامی فلاحی پالیسیز بنانے کی بجائے مذہبی ریاست بنانے کا راگ آلاپتی آ رہی ہے یا اقتدار کو بچانے میں اپنی ساری انرجی استعمال کر رہی ہے۔ حکومت مذہبی جماعتوں سے ایسے خوفزدہ نظر آتی ہے کہ اگر وہ کوئی سخت ایکشن لے لے تو جلد خطرات کو بھانپتے ہوئے مذاکرات کا بہانہ بنا کر یوٹرن لے لیتی ہے۔

واضح رہے ایسی حکومتیں مذہبی انتہاپسندی کا خاتمہ کرنے کی بجائے ایک طرح سے ان کی پشت پناہی کر رہی ہوتی ہیں۔ جناب وزیراعظم کو جب بھی اقوام متحدہ سے خطاب کرنے کا موقع ملے تو تقریر کا زیادہ وقت اسلامو فوبیا کو ثابت کرنے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اب یورپین ممالک کو توہین رسالت کا قانون بنانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ مقامی مذہبی انتہا پسندوں کو ان کی اس سوچ سے کافی شہ مل رہی ہے۔ پہلے ہی ملک میں 295 C کا غلط استعمال بہت بڑھ گیا ہے ۔

نیم سیاسی و مذہبی جماعتیں، جو دراصل مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہیں۔ وہ بین الاقوامی مذہبی ایشوز پر حکومت کا ساتھ دینے یا ہاتھ مضبوط کرنے کی بجائے احتجاج اور لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بنا کر دھرنوں اور توڑ پھوڑ کا راستہ اختیار کرتے ہوئے عوام کو سڑکوں پر لے آتی ہیں۔ جس سے سوائے خون خرابے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور عوام کی مشکلات میں اضافے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

غریب عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ حکومت کو یہ مذہبی جماعتیں یرغمال بنانے کی کوشش کرتی ہیں اور حکومت بن بھی جاتی ہے، جو جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے۔ سول سوسائٹی، صحافی اور سیاست دان بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر مذکرات ہی کرنے تھے اور شرائط ہی ماننا تھیں تو ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اور کیا گارنٹی ہے یہ تحریک کسی اور نام سے پھر منظم نہ ہو جائے۔

وزیراعظم کا قوم سے بے موقع خطاب کرنا بھی ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ سلمان رشدی کی کتاب کا واقعہ 1988 میں ہوا تھا جب کہ نواز شریف 1990 میں وزیراعظم بنا تھا۔ دونوں واقعوں کو ایک دوسرے سے نتھی کر کے دوسروں کو یہ موقع فراہم کیا گیا ہے کہ وہ آپ کا مذاق ارائیں،  بغیر تحقیق کے کوئی بات کرنا یا دوسروں پر الزام لگانا اچھی بات نہیں مگر انہیں کون سمجھائے۔ وہ تو ٹھہرے کپتان۔ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے کے معاملے پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کے بعد اگر قومی اسمبلی کا اجلاس بلاتے تو شاید اجلاس ہنگامی آرائی سے بچ جاتا۔

گو کہ ٹی ایل پی جو تحریک لبیک نامی جماعت کے سربراہ خادم حسین رضوی کی زیر قیادت قائم ہوئی۔ 26 جولائی 2017ء کو الیکشن کمیشن پاکستان میں رجسٹر ہوئی۔ اس تحریک کی بنیاد کا سبب 29 فروری 2016ء کو حکومت پاکستان کی طرف سے ممتاز قادری کو دی جانے والی پھانسی کی سزا کے بعد اگلے دن یکم مارچ کو لیاقت باغ، راولپنڈی میں ہونے والی نمازجنازہ میں کثیر عوامی اجتماع بنا۔ جیسا کہ تحریک لبیک کے نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک سیاسی تحریک نہیں۔

اس کا مقصد 295 C کا دفاع کرنا اوراحمدیوں کی مخالفت کرنا بھی ہے۔ اس نے پچھلی حکومت کے ناک میں دم کیے رکھا۔ دھرنے کے ذریعے اپنے جائز و ناجائز مطالبات منوانے کی کوشش کی۔ ملک میں غیر مسلموں کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھیں۔ 2020 میں فرانس میں توہین رسالت کے خاکے بنانے کے واقعے پر فیض آباد میں دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکال دیا جائے اور اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ حکومت کی یقین دہانی پر یہ دھرنا ختم کر دیا گیا۔

تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے سعد رضوی کو جانشین بنا دیا گیا۔ اور ایک بار پھر تحریک لبیک نے فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک تیز کر دی۔ جس کے نتیجے میں حکومتی املاک کو نقصان ہونے کے ساتھ ساتھ جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

سعد رضوی کو گرفتار کر لیا گیا اورملکی صورتحال تشویش ناک حد تک پہنچ گئی۔ جمعیت علماء اسلام ( ف) سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی اس کے ساتھ شامل ہو گئے اور ملک گیر ہڑتال کی کال دے دی جو جزوی طور پر کامیاب رہی۔ پولیس کے اور سول ہلاکتوں کے بعد حکومت کو مجبوراً تحریک لبیک کو کالعدم قرار دنیا پڑ گیا۔

شنید میں آیا ہے کہ تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لیا جا سکتا ہے۔ یہ لمحۂ فکر یہ ہے کہ پاکستان میں حکومتیں کب تک مذہبی انتہا پسند جماعتوں کے ہاتھوں یرغمال بنتی رہیں گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments