بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں عوام کے مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جدید سائنسی دور میں ریاستوں کو اپنے عوام کو علمی و سائنسی ہنر سے لیس کرنے کا مقابلہ جاری ہے کیونکہ دنیا سمجھتی ہے کہ ان کی افرادی قوت جتنی زیادہ علم و ہنر سے لیس ہو گی، اتنا ہی باقی دنیا سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت ان میں پیدا ہو گی اور اپنی ذاتی زندگی کو وہ خوشحالی سے ہمکنار کر سکیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ نجی و حکومتی اداروں کے لئے سود مند ثابت ہوں گے۔

مہذب قوموں نے علم و سائنس کا فائدہ بھی خوب اٹھایا اور آج دنیا میں زیادہ شرح خواندگی رکھنے والے ممالک راج کر رہے ہیں۔ جہاں آج ہم کھڑے ہیں دنیا ہم سے کہیں میلوں آگے کا سفر طے کر چکی ہے اور اپنے لیے نئی منزل و منصوبہ بندی کا پلان بنا چکی ہے اور ہم یہاں ایک ہاتھ میں پانی کا کٹورہ اور دوسرے میں نوالہ لے کر اپیلیں کر رہے ہیں۔ سننا اور تسلی دینا اپنی جگہ، ہم اپنے ان معصوم مطالبات پر سزا ہی بھگت رہے ہیں۔

ہم جتنے بے بس ہیں، ہمارے مطالبات بھی ایسے ہی مضحکہ خیز ہیں۔ مجبوری اور غربت نے اتنے زخم ہمارے معاشرے کے لوگوں کو دیے ہیں کہ وہ ابھی تک بنیادی ضروریات کے لئے تڑپ رہے ہیں لیکن ان مطالبات کو کوئی سننے کو تیار نہیں۔ اگر کوئی شور شرابے سے حکمرانوں کو اپنے زندہ رہنے کے لیے یہ مطالبات پیش کرے اور انہیں سنائے تو وہ سنی ان سنی کر دیتے ہیں۔

یہ بنیادی ضروریات کے مطالبے بھی پاکستان جیسی ریاست میں بڑے بڑے شہروں میں ہی کیے جاتے ہیں اور بلوچستان کے معصوم لوگوں کو اس قدر دیوار سے لگایا گیا کہ وہ سانس بھی اچھی طرح نہیں لے سکتے اور ان کو خاموش کرنے کے لئے ان پر خوف کی چادر تان دی گئی ہے۔ اب ہماری حالت یہ ہے کہ ہم صاف شفاف پانی طلب کرتے ہیں نہ بجلی و ہسپتال کی مانگ کرتے ہیں۔ کشادہ سڑک کے طلب گار ہیں اور نہ سرکاری نوکری کی مانگ کرتے ہیں۔ ہمیں اگر اپنی سرحدی حدود پر چھوٹے کاروباروں تیل، اشیائے خور و نوش اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیا کی ترسیل کی اجازت دی جائے، یہی ہمارے لئے غنمیت ہو گی۔

لیکن پاکستان کی سرکار ہے کہ مانتی ہی نہیں، وہ عوام کی مجبوری کو سمجھتی ہی نہیں، زامران کی طویل سرحدی حدود کو باڑ لگا کر اس طرح سیل کر دیا گیا ہے جیسے یہاں سے دہشت گرد سرحد پار وادی بلیدہ زامران میں دہشت گردی پھیلا رہے ہوں حالانکہ صدیوں سے آباد بلوچ اس نام نہاد گولڈ سمتھ نامی لکیر سے انکاری ہیں۔ وہ اپنی رشتہ داریوں اور صدیوں کے تعلق کو کیسے اتنی جلدی بھول جانے پر تیار ہوں گے۔ ایران و پاکستان نے بارڈر کی لکیر کھینچ کر دونوں طرف کی بلوچ آبادیوں کو ایک دوسرے سے جدا کر کے یہ فرمان جاری کیا کہ اب یہاں سے آنا جانا بند ہو گا۔ اگر کوئی اپنے گھر کے عقب میں موجود لکیر کے اس پار باغ میں زمین داری کے لیے جائے تو پہلے اجازت لینے کے ساتھ دو منٹ پیدل جانے کے بجائے کئی کلومیٹر دور قائم چیک پوسٹ سے ہو کر ہی جا سکے گا۔

دوسری جانب انڈیا پاکستان کا بھی سرحدی تنازعہ شروع دن سے عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکے کے لئے استعمال ہو رہا ہے لیکن وہاں باب دوستی، تجارتی مراکز، لاہور دہلی دوستی بس و ٹرین سروس، گرو نانک کا گردوارہ وغیرہ وغیرہ بڑی شان و شوکت سے قائم اور آباد ہیں۔ تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن اس کے برعکس یہاں آمد و رفت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ برادر اسلامی ملک سے دوستانہ تعلقات کی بہت بات کی جاتی ہے لیکن اس سرحدی باڑ سے بلوچوں کو زندگی اور معیشت کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔

یہاں کا غریب دہاڑی دار طبقہ ریاست کے بے حسی کا نشانہ بن رہا ہے ۔ بارڈر ٹریڈ پر قدغنوں کی وجہ سے یہاں کے باسیوں کی زندگیاں اجیرن ہو گئی ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے کے لیے پریشان ہیں، چھوٹے کاروباری لوگ اب نہایت بے بسی اور کسمپرسی کا شکار ہیں۔ بلیدہ زامران جیسے چھوٹے سے علاقے میں چیک پوسٹوں اتنی زیادہ ہیں کہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں آنے جانے والوں کو بھی روک ٹوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ انہیں معمول کے سوالات کے رٹے رٹائے جوابات دینا ہوتے ہیں۔ لوگوں کی عزت نفس کا کسی کو خیال نہیں ہے۔

ان چیک پوسٹوں پر ہونے والے مکالمے یہاں بیان کیے جائیں تو بہت سے لوگوں کو عجیب لگے گا۔ اگر آپ وہ مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا۔ یہاں کے لوگوں کی میڈیا تک رسائی نہیں ہے کہ وہ اپنے مسائل کی جانب سرکار کو متوجہ کر سکیں۔

خدارا بلیدہ زامران سمیت بلوچستان کے لوگوں کے معاشی مسائل کے حل کی فکر کی جائے، بارڈر کو باڑ لگانے اور گیٹوں میں بند کرنے اور لوگوں کی تذلیل کے اقدامات پر نظرثانی کیجیے ۔ یہاں کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے لفاظی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ بارڈر کے ساتھ آباد لوگ خود انحصاری سے اپنی زندگی کی گاڑی کھینچ سکیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments