عمران خان کے لب کون سی دیتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک لبیک پر پابندی کے حوالے سے حکومت بدستور بے یقینی کا شکار ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کے پارلیمانی اجلاس کو بتایا ہے کہ حکومت پابندی ٹی ایل پی پر سے اٹھانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ اس کے لئے تحریک لبیک کو عدالتوں سے ریلیف لینا پڑے گا۔ اس کے برعکس وزیر داخلہ شیخ رشید نے آج ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ٹی ایل پی، پابندی کےخلاف وزارت داخلہ سے اپیل کر سکتی ہے۔ ایسی درخواست آنے پر وزارتی کمیٹی اس معاملہ پر غور کرے گی۔

ان بظاہر متضاد بیانات کے ذریعے حکومت دراصل یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ ایک کالعدم تنظیم کے ساتھ بات چیت اور معاہدہ کے دوران اس نے اپنا مؤقف تبدیل نہیں کیا۔ وزیر داخلہ کے بقول ’ملک کی بھلائی اور ناموس رسالت کی وجہ سے ہم نے ایک بار پھر بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے کی کوشش کی جو کامیاب ہوئی‘۔ تاہم معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا شیخ رشید اور حکومت کے دیگر نمائندے بتانے کی کوشش کررہے ہیں۔ تحریک لبیک کے ساتھ اتوار کو لاہور کے یتیم خانہ چوک پر ہونے والے تصادم کے بعد مذاکرات کے تین ادوار ہوئے۔ اس طویل بات چیت میں صرف یہ تو طے نہیں کیا گیا ہوگا کہ کوئی گروہ خارجہ پالیسی کے معاملے میں حکومت پر دباؤ نہیں ڈال سکتاکیوں کہ حکومت ملکی مفاد میں خارجہ تعلقات کے حوالے سے فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔ بلاشبہ شیخ رشید کی یہ توجیہ اس قرار داد میں بھی شامل ہے جو تحریک لبیک کے ساتھ مصالحت کو حتمی شکل دینے کے لئے قومی اسمبلی کے عجلت میں طلب کئے گئے اجلاس سے منظور کروائی گئی ہے۔ لیکن اس کے بدلے حکومت نے بھی تحریک لبیک کو کچھ ضمانتیں تو دی ہوں گی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس معاہدہ طے پانے کے چند گھنٹے بعد ہی طلب کیا گیا اور اس میں پیش کی گئی قرار داد میں فرانسیسی سفیر کی واپسی کے معاملہ پر غور کرنے اور کمیٹی بنانے کی قرار داد منظور کی گئی۔ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مجبور تھی۔ ایک چھوٹے سے انتہا پسند گروہ کو مطمئن کرنے کے لئے قرار داد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا معاملہ شامل کیا گیا کیوں کہ ان الفاظ کے بغیر تحریک لبیک کوئی معاہدہ کرنے پر راضی نہیں تھی۔ اب یہ اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ امن و امان اور احتجاج کی صورت حال اس تصویر سے مختلف تھی جو حکومت مکمل طور سے کنٹرول کئے جانے والے میڈیا کے ذریعے پیش کرتی رہی ہے۔ اگر حالات حکومت کے کنٹرول میں ہوتے اور سیکورٹی فورسز کو عملی طور سے احتجاج ختم کرنے میں کسی دشواری کا سامنا نہ ہوتا تو حکومت اتوار کے سانحہ کے بعد یتیم خانہ چوک میں تحریک لبیک کے خلاف پولیس ایکشن روکنے اور مذاکرات کرنے پر مجبور نہ ہوتی۔ اب اس کمزوری کو ’ملکی مفاد یا ناموس رسالت‘ کے نام سے کی جانے والی بات چیت کہہ کر حقائق چھپانے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے پیر کی شام قوم کے نام خطاب میں ملکی صورت حال کی خرابی کی ذمہ داری سوشل میڈیا پر بھارتی سرگرمیوں پر عائد کی تھی۔ اب وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ ہم اتوار کو بہت بہتر پوزیشن میں تھے۔ لیکن بیرون ملک سے کچھ ملک دشمن عناصر پروپیگنڈا میں مصروف تھے اور ایسی ویڈیوز دکھائی جارہی تھیں جن میں شریک لوگوں کے بارے میں بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو زندہ ہیں۔ بھارت کے دو لاکھ سے زائد لوگ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے میں مصروف تھے‘۔ وزیر داخلہ کے اس بیان سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت نے حالات پر قابو پالیا تھا لیکن بھارتی پروپیگنڈا کی وجہ سے حالات قابو سے باہر ہوگئے جس کی وجہ سے حکومت کو پولیس ایکشن روک کر تحریک لبیک سے مذاکرات کرنے پڑے۔

یہ بیان کسی سوال کا جواب دینے کی بجائے کئی نئے سوال سامنے لاتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بیان شیخ رشید کے پیر کی صبح دیے گئے اس بیان سے برعکس ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تنظیم نے ملک میں 192 مقامات پر سڑکوں کو بلاک کیا تھا تاہم ان میں سے 191 جگہوں کو کلئیر کروا لیا گیا ہے، صرف یتیم خانہ چوک میں کچھ گڑ بڑ ہے جو ٹھیک ہوجائے گی۔ اس وقت تحریک لبیک کے مرکز پر 12 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا تھا اور پولیس نے بتایا تھا کہ تحریک لبیک نے کم از کم ایک آئل ٹینکر پر قبضہ کرکے اسے مرکز میں پہنچایا ہے۔ اس ٹینکر پر پچاس ہزار لیٹر پیٹرول تھا۔ حکام کا خیال تھا تصادم کی صورت میں یہ ٹینکر پھٹنے سے بہت جانی و مالی نقصان ہوسکتا تھا۔ بظاہر اسی وجہ سے پولیس ایکشن روکا گیا تھا۔ زمینی صورت حال کسی پروپیگنڈا یا سوشل میڈیا پر کی جانی والی جھوٹی گپ شپ سے تبدیل نہیں ہوسکتی۔

یہ بات درست ہے کہ پاکستان جب بھی مشکل میں ہوگا تو بھارت دشمنی نبھانے کی کوشش کرے گا۔ دونوں ملک روایتی طور سے ایک دوسرے کو ہزیمت پہنچانے اور نیچا دکھانے کے لئے ہر ہتھکنڈا استعمال کرتے ہیں۔ آج کل یہ کام سوشل میڈیا سے لیا جاتا ہے۔ اسے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ففتھ جنریشن وار یا ہائبرڈ وار قرار دیتے ہیں۔ کسی بھی بدامنی، احتجاج یا بحران میں حکومت وقت کو ایسے چیلنج سے باخبر بھی ہونا چاہئے اور اس کے پاس اس سے نمٹنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہئے۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ جس انداز میں تحریک لبیک کے احتجاج اور بھارتی پروپیگنڈے کا تعلق جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں، اس سے تو صرف یہی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حکومت اس خطرہ سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ حکومتی زعما کی باتوں سے تو شبہ ہوتاہے کہ کوئی بھی دشمن ملک صرف سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے پاکستان کے زمینی حالات کو تبدیل کرنے اور حکومت کو ایک کالعدم تنظیم سے مذاکرات و مصالحت پر مجبور کرسکتا ہے۔ غور کیا جائے تو یہ بیان ملکی نظام کی سنگین کوتاہیوں کا اعتراف ہے۔

اسی تصویر کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت نے بزعم خویش حالت پر قابو پانے اور معاملات کی صرف سرکاری طور سے درست قرار دی گئی تصویر دکھانے کی کوشش میں ملکی میڈیا پر نت نئی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کو خاص ڈھب سے فراہم کردہ معلومات شائع و نشر کرنے کا پابند کیا گیاہے۔ مباحث میں ذرا سی مختلف بات کو ملک دشمنی قرار دینے میں دیر نہیں کی جاتی۔ ملک کے فعال اور متحرک میڈیا کو نت نئی پابندیوں کی وجہ سے مجبور اور غیر مؤثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حکومت جب ملکی مفاد کے خلاف بھارتی پرپیگنڈا مشینری کو ایک ’ناقابل تسخیر‘ قوت بنا کر پیش کررہی ہو تو پوچھا جا سکتا ہے کہ اس یلغار کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستانی میڈیا کے ہاتھ پاؤں کیوں کھول نہیں دیے جاتے۔ حکومت کیوں اس بداعتمادی کا شکار ہے کہ ملک کے صحافی قومی مفادات کا شعور نہیں رکھتے یا ان کی حفاظت کے اہل نہیں ہیں؟ پاکستان کے خلاف اگر دشمن پروپیگنڈا کے ذریعے سبقت لے جانے کی کوشش کررہا ہے تو حکمرانوں کو تسلیم کرنا چاہئے کہ اس کا مقابلہ ایک آزاد اور با اعتماد میڈیا ہی کرسکتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ آزاد میڈیا ضرور حکومتی کمزوری یا غلطیوں کی نشاندہی بھی کرے گا لیکن عوام کو طاقت کا سرچشمہ سمجھنے والی کسی حکومت کو جائز تنقید سے گھبرانے کی بجائے اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے۔ دنیا بھر کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ صرف وہی حکومتیں آزاد میڈیا کو ’فیک نیوز‘ قرار دیتی ہیں جو جھوٹ اور گمراہ کن نعروں کی بنیاد پر اپنے لوگوں کو دھوکے میں رکھنے کی خواہش پالتی ہیں۔

تحریک لبیک کے ساتھ تصادم کے دوران میڈیا کو آزادانہ رپورٹنگ سے روکا گیا۔ موبائل اور انٹر نیٹ سروس بند کرکے بظاہر عوام تک خبروں کی رسائی کو ناممکن بنایا گیا لیکن اب حکومت کو اندازہ ہوجانا چاہئے کہ اس طرح درحقیقت اس نے اپنی مشکلات میں اضافہ کیا۔ وزیر داخلہ جن جعلی ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہیں اور وزیر اعظم سوشل میڈیا پر جن جھوٹی خبروں اور گمراہ کن مباحث و معلومات کو مہلک قرار دے رہے ہیں، ان کا جواب پابندیوں کی بجائے آزادی سے ہی دیا جاسکتا ہے۔ آزادی صرف خبر کی درست ترسیل کو ہی ممکن نہیں بناتی بلکہ یہ لوگوں میں خبر اور رائے کو پرکھنے کی صلاحیت بھی پیداکرتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ حکومت پاکستان اس رجحان کی حوصلہ شکنی کو ہی بہترین پالیسی سمجھتی ہے۔ ملک اس وقت جس فکری بحران اور نظریاتی کنفیوژن کا شکار ہے، اس میں آزادانہ تبادلہ خیال ہی حالات کو معمول پر لاسکتا ہے۔ حکومت کی پیدا کی ہوئی گھٹن سے ایک طرف عوام سرکاری معلومات کے بارے میں شبہات کا شکار ہوں گے، دوسرے بروقت درست خبر سامنے نہ آنے سے سماجی انتشار اور ٹکراؤ کی کیفیت میں اضافہ ہوگا۔

وزیر داخلہ نے آج پریس کانفرنس میں یہ تاثر دیا ہے کہ تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے اور قومی اسمبلی میں ایک ناخوشگوار قرار داد جیسے اقدام کے باوجود حکومت تحریک لبیک کے مقابلے میں پسپا نہیں ہوئی۔ شیخ رشید سیاسی میدان کے پرانے کھلاڑی ہیں۔ وہ دل پر ہاتھ رکھ کر خود ہی بتادیں کہ کیاایسے دعوؤں سے کسی حکومت کے اعتبار میں اضافہ ممکن ہے؟ عوام کو حقیقی صورت حال سے بے خبر رکھ کر اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کی بجائے دشمن کے پروپیگنڈا اور اپوزیشن کی سیاسی مہم جوئی کو الزام دے کر حکومت کب تک سچ سے اپنا دامن بچاتی رہے گی۔

اس پوری تصویر کا سب سے المناک پہلو البتہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی کے اس اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی جہاں ایک ایسا مسئلہ زیر غور تھا جس کے سبب حکومت کا وقار اور قوم و ملک کا مفاد داؤ پر لگا ہؤا تھا۔ اس سے عمران خان کے حوصلہ اور سیاسی فہم و فراست کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اگر وہ واقعی اپنے اس بیان پر قائم ہیں کہ انہیں کام نہ کرنے دیا گیا تو وہ حکومت چھوڑ دیں گے، تو اب وہ وقت تھا کہ وہ قومی اسمبلی میں آتے اور بلاول بھٹو زرداری کے اس سوال کا جواب دیتے کہ تحریک لبیک کا فساد کن عناصر نے پیدا کیا اور حکومت کیوں اس کے سامنے بے بس ہوگئی۔

حکومت نے صرف تحریک لبیک کے سامنے ہی ہتھیار نہیں پھینکے بلکہ اس نے جھوٹ میں پناہ لے کر اپنے ووٹرز کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ آخر پاکستان کو کب وہ وزیر اعظم نصیب ہوگا جو قوم سے خطاب کرے تو صرف سچ بیان کرے اور سچ کے سوا کچھ نہ کہے۔ سچ سے گریز اس حقیقت کی علامت ہے کہ اقتدار کی ہوس صاحبان اقتدار کے لب سی دیتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1840 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *